وزارت اطلاعات ونشریات

وزارت اطلاعات و نشریات نے ہندوستان کی قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور امن عامہ سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کے لیے آٹھ یوٹیوب چینلز کو بلاک کردیا


آئی ٹی  ضوابط ، 2021 کے تحت سات ہندوستانی چینلز اور ایک  پاکستانی یوٹیوب نیوز چینل کو بلاک کر دیا گیا ہے

بلاک کئے گئے یوٹیوب چینلز کو 114 کروڑ سے زیادہ  لوگوں نے ملاحظہ کیا تھا اور اس کے صارفین کی تعداد 85 لاکھ 73 ہزار تھی

یوٹیوب پر بلاک شدہ چینلز کے ذریعے بھارت مخالف جعلی مواد سے مالی فائدہ حاصل کیاجارہا تھا

Posted On: 18 AUG 2022 11:27AM by PIB Delhi

 

اطلاعات و نشریات کی وزارت نے آئی ٹی ضوابط 2021 کے تحت ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 16.08.2022 کو آٹھ (8) یوٹیوب پر مبنی نیوز چینلز، ایک (1) فیس بک اکاؤنٹ اور دو فیس بک پوسٹس کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بلاک کیے گئے یوٹیوب چینلز کی مجموعی ویورشپ 114 کروڑ سے زیادہ تھی،  ان چینلوں کو 85 لاکھ سے زیادہ صارفین نے سبسکرائب کیا تھا۔

مواد کا تجزیہ

ان میں سے کچھ یوٹیوب چینلز کے ذریعہ شائع کردہ مواد کا مقصد ہندوستان میں مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت پھیلانا تھا۔ بلاک کیے گئے یوٹیوب چینلز کی مختلف ویڈیوز میں جھوٹے دعوے کیے گئے۔ مثال کے طور پر  ان  جعلی خبروں کو پیش کیا جاسکتا ہے،جیسے یہ خبر حکومت ہند نے مذہبی ڈھانچے کو مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔یا یہ کہ حکومت ہند نے مذہبی تہوار منانے، ہندوستان میں مذہبی جنگ کے اعلان وغیرہ پر پابندی عائد کردی۔ اس طرح کے مواد سے ملک میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے اور امن عامہ کو خراب کرنے کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

یوٹیوب چینلز کو مختلف موضوعات پر جعلی خبریں پوسٹ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا جیسے کہ ہندوستانی مسلح افواج، جموں و کشمیر وغیرہ۔ قومی سلامتی اور غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ ہندوستان کے دوستانہ تعلقات کے تناظر میں مواد کو مکمل طور پر غلط اور حساس پایا گیا۔

وزارت کی طرف سے بلاک کیا گیا مواد ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت، ریاست کی سلامتی، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ ہندوستان کے دوستانہ تعلقات اور ملک میں امن عامہ کے لیے نقصان دہ پایا گیا۔ اس صورت حال  کے مطابق، مواد کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کے سیکشن 69A کے تحت  کارروائی کی گئی ۔

طریقہ کار

بلاک کیے گئے انڈین یوٹیوب چینلز  کے حوالے سے یہ پایا گیا  کہ وہ جعلی اور سنسنی خیز تھمب نیلز، نیوز اینکرز کی تصاویر اور کچھ ٹی وی نیوز چینلز کے لوگو کا استعمال کرتے ہوئے ناظرین کو گمراہ کر رہے ہیں  اور یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ خبریں مستند ہیں۔

وزارت کی طرف سے بلاک کیے گئے تمام یوٹیوب چینلز اپنی ویڈیوز پر ایسے اشتہارات دکھا رہے تھے جن میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن عامہ اور ہندوستان کے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والا جھوٹا مواد  موجود تھا۔

اس کارروائی کے ساتھ، دسمبر 2021 سے، وزارت نے 102 یوٹیوب پر مبنی نیوز چینلز اور کئی دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکومت ہند ایک مستند، قابل اعتماد، اور محفوظ آن لائن نیوز میڈیا ماحول کو یقینی بنانے اور ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت، قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور امن عامہ کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

 بلاک کئے گئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یو آر ایلز کی تفصیلات :

یوٹیوب چینلز

نمبرشمار

l یو ٹیوب چینل  کا نام

میڈیا اعداد وشمار

  1.  

 لوک تنتر ٹی وی

ملاحظات 23,72,27,331

لاکھ صارفین12.90

  1.  

یو اینڈ وی ٹی وی

ملاحظات 14,40,03,291

لاکھ صارفین 10.20

  1.  

اے ایم رضوی

ملاحظات 1,22,78,194

صارفین 95, 900

  1.  

گورو شالی پون متھیلانچل

ملاحظات 15,99,32,594

لاکھ صارفین 7

  1.  

سی ٹاپ5 ٹی ایچ

ملاحظات 24,83,64,997

لاکھ صارفین 33.50

  1.  

سرکاری اپ ڈیٹ

ملاحظات 70,41,723

صارفین 80,900

  1.  

سب کچھ دیکھو

 

ملاحظات 32,86,03,227

لاکھ صارفین 19.40

  1.  

نیوز کی دنیا(پاکستان میں قائم)

ملاحظات 61,69,439

صارفین 97,000

مجموعی

کروڑ سے زیادہ ملاحظات 114

 صارفین  ہزار73 لاکھ85

 

فیس بک پیج

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نمبرشمار

فیس بک اکاؤنٹ

فالوورز کی تعداد

  1.  

لوک تنتر ٹی وی

فالووزر3,62,495

 

 

 

 

بلاک کئے گئے مواد کے نمونے:

لوک تنتر ٹی وی

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001G2H2.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002XMMG.jpg

یو اینڈ وی ٹی وی

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003OCM3.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004FM34.jpg

اے ایم رضوی

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005VMPS.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006L5CO.jpg

گوروشالی پون متھیلانچل

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007HZQW.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image008GY33.jpg

سی ٹاپ5 ٹی ایچ

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0096YSE.jpg

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image010DF3N.jpg

سرکاری اپڈیٹ

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0096YSE.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image010DF3N.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0115ZOR.jpg

خبروں کی دنیا (پاکستان میں مقیم)

اسکرین شاٹ جیسا کہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 100 کروڑ ہندو 40 کروڑ مسلمانوں کو ماریں گے اور مسلمانوں کو پاکستان یا بنگلہ دیش چلے جانا چاہیے ورنہ ان کا قتل عام کیا جائے گا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0122E9K.jpg

نیچے دیے گئے اسکرین شاٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی قطب مینار مسجد کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0131XNC.jpg

*************

 

 

ش ح۔ س ب۔ رض

U. No.9278



(Release ID: 1852815) Visitor Counter : 252