کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

سال 2020 کے لئے کاروباری اصلاحی عملی منصوبہ  کے نفاذ پر مبنی ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تشخیص کا اعلان کیا  گیا


آندھراپردیش ، گجرات، ہریانہ، کرناٹک،پنجاب، تمل ناڈو اور تلنگانہ سرفہرست فاتحین ہیں

ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش،  مہاراشٹر، اوڈیشہ، اتراکھنڈ اور اترپردیش    فاتحین کے زمرے میں شامل ہیں

ہم ریاستوں اور مرکز  کے زیر انتظام علاقوں  کو اعتماد میں لے کر اثرپذیراصلاحات کا نفاذ کررہے ہیں:محترمہ نرملا سیتارمن

ایز آف ڈوئنگ بزنس کو اب ملک بھر میں مسابقت اور تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کے طور پر دیکھا جارہا ہے:جناب پیوئش گوئل

Posted On: 30 JUN 2022 1:27PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 30 جون

آندھراپردیش، ہریانہ، گجرات، کرناٹک، پنجاب، تمل ناڈو اور تلنگانہ   کاروباری اصلاحی منصوبہ کے نفاذ کی بنیاد پر مبنی   سرفہرست فاتحین ہیں۔ ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش،  اوڈیشہ،  اتراکھنڈ،  اور اترپردیش   کو  فاتحین کے  زمرے میں شامل کیاگیا ہے۔  جبکہ آسام ،چندی گڑھ، گوا ، جھارکھنڈ،کیرالہ ، راجستھان  اور مغربی بنگال کو توقعاتی زمرے میں  رکھا گیا ہے ۔انڈومان نکو بار  ،بہار، چندی گڑھ، دمن اور دیو ، دادر اور ناگر حویلی   ، دہلی ،جموں و کشمیر، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ اور تریپورہ کو ابھرتے ہوئے  کاروباری ماحولیاتی نظام کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔

خزانہ اور کارپوریٹ امور کی  مرکزی وزیر خزانہ   محترمہ نرملا سیتا رمن  نے  آج نئی دہلی میں بی آر اے پی مشق  کے پانچویں ایڈیشن   کاروباری اصلاحاتی عملی منصوبہ   (بی آر اے پی)2020  کے تحت ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کی تشخیص  کا اعلان کیا ہے۔  یہ اعلانات    کامرس، اور صنعت ،امور صارفین، خوراک او ر سرکاری نظام تقسیم  اور ٹیکسٹائل  کے مرکزی وزیر   جناب پیوئش گوئل ،  ڈی پی آئی آئی ٹی  کے سکریٹری جناب انوراگ جین اور ریاست  اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتظامیہ  کے سینئر سرکاری افسران    کی باوقارموموجودگی میں  کئے گئے۔

تشخیصی رپورٹ کے اجرا کے بعد پروگرام سے  خطاب کرتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نےکہا کہ   اصلاحات کی نوعیت   نے  1991 کے بعد سے  اہم  تبدیلیاں لائی ہیں۔   اصلاحات اثر پذیر  اصلاحات میں تبدیل ہورہے ہیں۔   1991 کے اصلاحات جو ہمیں نفاذ کے لئے فراہم کئے گئے تھےوہ اب   جبری نہیں  ہیں۔  ان اصلاحات کے  مقاصد یہ دیکھنے کے لئے ہیں کہ نظام میں کس طرح کی بہتری آئے گی اور ہم لوگوں کےلئے  بہتر زندگی کو کس طرح یقینی بنائیں گی۔  وزیر خزانہ نے کہا کہ  کسی بھی اصلاحات کے نفاذ کے لئے حکومت  اور صنعتوں کی رضامندی بھی ضروری ہے  ۔ انہوں نے    سالوں سے کاروباری اصلاحی  عملی منصوبے کے  تحت نفاذ کے  تشخیصی فریم ورک میں تبدیلی لانے کی ستائش کی۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کامرس اور صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل نےکہا کہ    تشخیص میں کثیر لسانی  شکل میں سو فی صد شواہد پر مبنی آرا کو  شامل کیاگیا ہے۔   انہوں نے کہاکہ بی آر اے پی  مشق کا مقصد ایک دوسرے کے بہترین طور طریقوں سے  سیکھنے کے کلچر کو فروغ دینا ہے اور   دنیا بھر میں  سب سے بہترین  اور پسندیدہ  سرمایہ کاری کے مقام کے طور پر  ہندوستان کو  آگے لے جانے کے متحدہ مقصد کے ساتھ ہر ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

  جب وزیراعظم نے 2014 میں کاروبار کرنے میں آسانی میں بہتری لانے پر زور دیا تھا   تو ان  کا  سب سے اہم زور  شعبوں کی ترقی  پر تھا   جبکہ ہم   اپنی درجہ بندی کو بہتر بنانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر کام کررہے ہیں۔  ہمیں اسے حاصل کرنے کے لئے   ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقو ں سمیت تمام  شراکت داروں کو شامل کرنا ہوگا تا کہ  لوگ حقیقی معنوں میں  اپنے ماحولیاتی نظام میں فرق اور تبدیلی کو محسوس کرسکیں   جس سے زندگی گزارنے میں آسانی پیدا ہوگی۔

کامرس اور صنعت کے وزیر نے آج کہا کہ  اس عمل کی شروعات 2014 میں ہوئی تھی جس نے اب پھل دینا شروع کردیا ہے  ۔ کاروبار کرنے میں آسانی  کو کچھ شعبوں، کچھ شہروں  اور چند کمپنیوں تک  محدود رکھنے کے بجائے   ہمیں  اسے  مسابقتی وفاقیت اور تعاون کے جذبے سے ملک بھر میں  پھیلانا ہے۔

 ڈی پی آئی آئی کے سکریٹری جناب انوراگ جین نے کہا کہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے  زیر انتظام علاقوں کے  درمیان فرق    انتہائی کم ہے   اور انہیں رینک  میں   رکھنے کا کوئی  معنی نہیں رکھتا ۔بلکہ ان کو  مختلف زمروں میں ڈالنا زیادہ مناسب ہے۔

بی آر اے پی 2020 میں 301 اصلاحات نکات کو شامل کیا گیا ہے اور اس میں  15 تجارتی ریگولیٹری شعبے اطلاعات تک رسائی ، سنگل ونڈو سسٹم، مزدور، ماحولیات،  اراضی   سے متعلق  انتظامیہ  اور  زمین  اور عملہ  کے منتقلی    ، یوٹیلیٹی پرمٹ اور دیگر   امور کا احاطہ کیا گیا ہے۔  118 نئے اصلاحات  کو اصلاحی عمل میں مزید شامل  کیا گیا ہے ۔  72 عملی  نکات کے ساتھ ساتھ شعبہ  جاتی اصلاحات نو شعبوں یعنی  تجارت ، تجارتی لائسنس، صحت کی دیکھ ریکھ، قانونی  میٹرولوجی ، سنیما ہال، ہاسپٹلٹی (میزبانی ) فائر این او سی  ، ٹیلی کام، فلم کی شوٹنگ او رٹورزم   کے تعلق سے ہیں۔  جنہیں پہلی مرتبہ اصلاحاتی ایجنڈے کے دائرے کی توسیع کے لئے متعارف کرایا گیا۔    

ان اصلاحات کا اہم مقصد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ، ساز گار ماحولیاتی کاروبار کوفروغ دینا ہے۔ نیز  تجارتی اصلاحی  منصوبوں کے نفاذ میں کارکردگی پر مبنی ریاستوں کے تجزیہ  کے نظام کے ذریعہ   صحت مندانہ مسابقت کے عنصر کو متعارف کراکے  ملک بھر میں  کاروبار کرنے میں آسانی    میں  اضافہ کرنا ہے۔ اس تشخیص میں  زمینی سطح پر  اصل صارفین /جواب دہندگان کی آرا کو مکمل  اہمیت دی گئی ہےجنہوں نے اصلاحات کے  موثر نفاذ کے بار ے میں اپنی رائے پیش کی ہے۔   ڈی پی آئی   آئی  ٹی 2014 سے تجارتی اصلاحاتی عملی منصوبہ (بی  آر اے پی )مشق میں بتائے گئے  اصلاحات کے نفاذ میں  ان کی کارکردگی    پر مبنی ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا  تجزیہ کررہا ہے    ۔ آج کی تاریخ تک   ریاستوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تشخیص کو  سال 2015، 2016، 18-2017 اور 2019 کے لئے  جاری  کیاجاچکا ہے۔

 اصلاحات کے نفاذ میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششیں  قابل ستائش ہیں ۔ ڈی پی آئی آئی ٹی نے کاروبار   کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی طرف سےکئے گئے مثالی اصلاحی  اقدام کی شناخت کے لئے  زمرےکے لحاظ سے تشخیص کی ہے۔

بی آر اے پی 2020 میں سرفہرست فاتحین کے زمرے کے تحت  ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی فہرست  اس طرح ہے۔

آندھرا پردیش

گجرات

ہریانہ

کرناٹک

پنجاب

تمل ناڈو

تلنگانہ

 

 

 

 

 

 

 

 

بی آر اے پی 2020 میں فاتحین کے زمرے کے تحت ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کی فہرست  اس طرح ہے۔

ہماچل پردیش

مدھیہ پردیش

مہاراشٹر

اوڈیشہ

اتراکھنڈ

اتر پردیش

 

 

 

 

 

 

 

بی آر اے پی 2020 میں توقعاتی زمرے کے تحت ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کے نام  اس طرح ہے۔

آسام

چھتیس گڑھ

گوا

جھارکھنڈ

کیرالہ

راجستھان

مغربی بنگال

 

 

 

 

 

 

 

 

بی آر اے پی 2020 میں ابھرتے ہوئے تجارتی ماحولیاتی نظام کے  زمرے کے تحت ریاستوں /مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کے نام کی فہرست   اس طرح ہے۔

انڈمان اور نکوبار

بہار

چندی گڑھ

دامن اور دیو، دادرا اور نگر حویلی

دہلی

جموں و کشمیر

منی پور

میگھالیہ

ناگالینڈ

پڈوچیری

تریپورہ

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سکم ،میزروم ، اروناچل پردیش، لکشدیپ اور لداخ سے صارفین کے ڈیٹا کا عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی آرا حاصل نہیں کئے جاسکے۔

****

ش ح۔ ع ح- ج

Uno-7072



(Release ID: 1838194) Visitor Counter : 63