کابینہ

کابینہ کو  قومی صحت مشن  ( این ایچ ایم ) 20-2019 ء کی پیشرفت سے  مطلع کرایا گیا   

Posted On: 23 MAR 2021 3:21PM by PIB Delhi

                                                                       

نئی دلّی ، 23 مارچ /وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں  مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں  مالی سال 20-2019 ء میں قومی صحت مشن  (این ایچ ایم ) کی پیش رفت کے بارے میں  جانکاری دی گئی  ، جس میں ماؤں کی شرح اموات   ( ایم ایم آر )  ، بچوں کی شرح اموات ( آئی ایم آر ) ، 5 سال سے کم عمر کے بچوں   کی شرح اموات ( یو  5 ایم آر ) اور   پیدائش   کی کل شرح  ( ٹی ایف آر ) میں آئی کمی کے بارے میں  مطلع کیا گیا ۔  اس میں  مختلف بیماریوں   سے متعلق پروگرام  جیسے ٹی بی  ، ملیریا  ، کالا آزار   ، ڈینگو  ،  تپ دق  اور جزام  ، وائرل ہیپا ٹائٹس  سے متعلق  پیش رفت  سے بھی مطلع کیا گیا ۔

تفصیلات :

کابینہ کو ، اِس بات کی جانکاری دی گئی کہ این ایچ ایم نے 20-2019 ء میں نئی کوششوں کے امکانات  پر  زور دیا ہے ۔

  • بچوں میں دمے  سے ہونے والی  اموات کی تعداد میں کمی  لانے کے لئے سماجی بیداری اور  کارروائی سے متعلق پروگرام   ( ایس اے اے این ایس  ) پہل کو شروع کیا گیا ۔
  • محفوظ  زچگی  کی  یقین دہانی  ( سُمن ) پہل کو حاملہ  خواتین کے لئے شروع کیا گیا تاکہ انہیں   با وقار اور  معیاری مفت  صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں اور  اس میں کسی طرح کی  کوئی کوتاہی نہ برتی جائے ۔ اس اسکیم میں  ماں اور  نو زائیدہ بچے سے متعلق  موجودہ  اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے ۔
  • دائیوں کی خدمات   پہل کا مقصد پیدائش کرانے کے لئے بہتر  تربیت  یافتہ نرسوں کو تیار کرنا ہے   ، جس میں  انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف مِڈوائف  ( آئی سی ایم )  کے رہنما  خطوط پر عمل کیا گیا ہے ۔   اس طرح سے تربیت یافتہ دائیاں  صحت مند ، تولیدی ، زچگی  اور نو زائیدہ بچوں کی صحت کی دیکھ بھال  کی خدمات  فراہم کرنے  کی اہل  ہوتی ہیں ۔
  • تعلیم کی وزارت کی مدد سے اے بی – ایچ ڈبلیو سی پروگرام کے تحت   اسکولی صحت   اور صحت  امبیسیڈر  پہل شروع کی گئی   تاکہ  اسکولی  بچوں میں  سرگرم  طرز زندگی  کی ہمت افزائی  کرتے ہوئے بہتر صحت کے لئے    ترغیب دی جا سکے ۔

 

 

عمل در آمد کی  حکمتِ عملی اور  اہداف :

عمل در آمد کی حکمتِ عملی :

          قومی صحت مشن کے تحت صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت  کی عمل در آمد کی حکمتِ عملی کا مقصد سبھی ریاستوں  اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنا ہے  تاکہ وہ ضلع کی سطح پر  ، خاص طور سے غریبوں اور  دیگر طبقوں کو   آسانی سے قابلِ رسائی ،  سستی  اور  جوابدہ اور موثر  صحت خدمات  فراہم کرا سکیں  ۔ اس پہل کا مقصد  دیہی علاقوں میں حفظانِ صحت  خدمات میں   کمی کے فرق کو  صحت پر مبنی ڈھانچے میں بہتری  ، انسانی وسائل   کی صلاحیتوں میں اضافے  اور دیہی علاقوں میں خدمات کی فراہمی میں    بہتری لانا  ہے ۔ اس میں ضرورت پر مبنی  مختلف شعبوں میں  تعاون اور  وسائل  کے موثر استعمال  پر زور دیا گیا ہے ۔

 

ہدف  :

  • ایم ایم آر میں  کمی کرتے ہوئے ، اِسے  1 / 1000 زندہ ولادت تک لانا ۔
  • آئی ایم آر  میں  کمی کرتے ہوئے ، اسے  25 / 1000 زندہ ولادت تک لانا ۔
  • ٹی ایف آر   کو کم کرتے ہوئے 2.1 کی سطح تک لانا ۔
  • جزام  کے مرض   کو پھیلنے سے روکتے ہوئے  ، اِسے  1 / 10000 افراد سے کم کرنا  اور سبھی اضلاع میں  صفر سطح پر لانا ۔
  • ملیریا سے  سالانہ ہونے والی اموات کو  1 / 1000 سے کم کرنا ۔
  • متعدی اور  غیر متعدی امراض ، مختلف   قسم کی چوٹوں اور  دوسرے ابھرتے ہوئے   امراض کی وجہ سے ہونے والی  اموات اور  صحت سے متعلق  دیگر مسائل کو کم کرنے کی کوشش کرنا ۔
  •  حفظانِ صحت پر ہونے والے اخراجات کو  فی خاندان  کے تناسب میں کم کرنا ۔
  • ملک میں سال 2025 ء تک تپ دق  ( ٹی بی ) کے مرض کو ختم کرنا ۔

 

روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق صلاحیتوں سمیت دیگر  اثرات :

  • سال 20-2019 ء میں  این ایچ ایم  کے نفاذ  سے   18779 اضافی  انسانی وسائل کو  ، اِس میں جوڑا گیا  ، جس میں  جی ڈی ایم او ،  ماہرین  ، اے این ایم   ، اسٹاف نرس   ، آیوش   کے ڈاکٹر  ، نیم طبی عملہ  ، آیوش  کا نیم طبی عملہ ،  پروگرام کے بندوبست  کا عملہ اور  عوامی صحت بندوبست  کے لئے بھرتی کیا گیا   ۔
  • قومی صحت مشن کے 20-2019 ء میں نفاذ سے   عوامی صحت نظام کو اور مضبوطی  ملی ہے اور اس میں کووڈ وباء سے نمٹنے  میں موثر اور  جامع طریقے سے کام کیا ہے ۔
  • ہندوستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں ( یو 5 ایم آر  ) کی شرح اموات 2012 ء کے 52 کے مقابلے 2018 ء میں 36 پر آگئی ہے  اور یو 5 ایم آر میں  سالانہ شرح میں کمی کا فی صد ، جو سال 2012-1990 ء میں  3.9 فی صد تھا  2018-2013 ء کی مدت میں بڑھ کر 6.0 فی صد ہو گیا ہے ۔
  • ہندوستان میں ماؤں کی شرح اموات   ( ایم ایم آر ) ، جو 1990 ء میں ایک لاکھ زندہ پیدائش میں  556 تھی ، 2018-2016 ء میں کم ہوکر  فی لاکھ 443 ہو گئی ہے ۔ 1990 ء سے  ایم ایم آر میں 80 فی صد کی کمی درج کی گئی ہے ، جو عالمی سطح پر 45 فی صد کی کمی سے کافی زیادہ ہے ۔ پچھلے پانچ برسوں میں ماؤں کی شرح اموات ( ایم ایم آر ) ، جو2013-2011 ء میں  167 تھی ، سیمپل رجسٹریشن سسٹم کے مطابق  ( ایس آر ایس ) کم ہوکر 2018-2016 ء میں 113 ہو گئی ہے  ( ایس آر ایس ) ۔
  •  ایم آر میں ، جو 1990 ء میں  80 تھی  ، 2018 ء میں کم ہوکر  32 ہو گئی ہے ۔  آئی ایم آر میں سالانہ   کمی کا فی صد پچھلے پانچ برسوں میں ، جو 1990 ء سے 2012 ء کے درمیان 2.9 فی صد درج کیا گیا تھا ،  2013 ء سے 2018 ء کے درمیان بڑھ کر 4.4 فی صد ہوگیا ہے ۔
  • سیمپل  رجسٹریشن سسٹم ( ایس آر ایس ) کے مطابق  ،  ہندوستان میں  ٹی ایف آر ، جو 2013 ء میں  2.3 تھا ، سال 2018 ء میں کم ہوکر 2.2 ہو گیا ہے ۔ قومی خاندانی  صحت سروے – 4 ( این ایف ایچ ایس – 4 ، 16-2015 ء ) میں بھی ٹی ایف آر  2.2 درج کیا گیا ہے ۔ سال 18-2013 ء کے دوران  ٹی ایف آر میں کمی کی شرح 0.89 فی صد درج کی گئی ہے ۔
  • سال 2019 ء میں 2018 ء کے مقابلے  ملیریا کے معاملات اور اموات میں  بالترتیب 21.27 فی صد اور 20 فی صد کی کمی آئی ہے ۔
  • ایک لاکھ کی آبادی میں  ٹی بی کے مریضوں کی تعداد ، جو 2012 ء میں 234 تھی ، 2019 ء میں کم ہوکر 193 ہو گئی ہے ۔ ٹی بی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد  ایک لاکھ کی آبادی میں 2012 ء میں 42 تھی ،  جو 2019 ء میں کم ہوکر 33 ہو گئی ہے ۔
  • کالا آزار  وباء کے خاتمے کے بلاک کا  ہدف  ، جو  10000 کی آبادی پر  1 کے اے کے مطابق  2014 ء میں 74.2 فی صد تھا ، 20-2019 ء میں بڑھ کر 94 فی صد ہو گیا ہے ۔
  • سی آر ایف  کے قومی ہدف کو  ایک فی صد  سے کم کر لیا گیا ہے اور   ڈینگو میں  2019 ء میں  اموات کی شرح   0.1 فی صد رہی ۔

اخراجات :  27989.00 کروڑ   روپئے  ( مرکزی حصہ ) ۔

 

فائدہ پانے والے :

          این ایچ ایم کو سبھی کے فائدے کے لئے نافذ کیا جا رہا ہے یعنی   پوری آبادی   کے لئے  اور  یہ خدمات  سرکاری حفظانِ صحت  تنصیبات میں  آنے والے  ہر شخص کو فراہم کی جاتی ہیں ، جس میں  سماج کے   محروم  طبقے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔

 

20-2019 ء کے دوران این ایچ ایم کے تحت  پیش رفت کی تفصیلات  مندرجہ ذیل ہیں :

  • 31 مارچ ، 2020 ء تک آیوشمان بھارت کے صحت اور ویلنیس  کے 63761 سینٹروں کو منظوری دی گئی  ، 31 مارچ ، 2020 ء تک 38595 صحت اور ویلنیس سینٹر  کام کرنے لگے تھے  ، جب کہ  اس کے لئے ہدف  40000 تھا ۔ 31 مارچ ، 2020 ء کے آخر تک  کل  308410 صحت ورکر  کام کر رہے تھے ، جن میں  آشا  ، کثیر مقصدی ورکر (  ایم پی ڈبلیو  - ایف ) / نرس مڈ وائف ( اے این ایم) ، اسٹاف نرسیں اور بنیادی  صحت مرکز  ( پی ایچ سی ) کے میڈیکل افسران  شامل ہیں ۔
  • این آر ایچ ایم /  این ایچ ایم کے آغاز کے بعد سے ماؤں کی شرح اموات  ( ایم ایم آر ) ، پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات (یو 5 ایم آر ) اور آئی ایم آر میں کمی   میں تیزی آئی ہے  ۔   کمی کی موجودہ شرح  پر  ہندوستان  2030 ء سے پہلے ہی ایس ڈی جی اہداف (ایم ایم آر – 70 ، یو 5 ایم آر  - 25 )  کو  کافی پہلے ہی حاصل  کرلے گا ۔
  • 20-2019 ء میں ، اُن افراد تک پہنچنے کے لئے  ، جہاں پہلے  پہنچ  نہیں ہو سکی تھی  اور  29 ریاستوں / یو ٹی کے 381 اضلاع میں جزوی طور پر ٹیکہ پانے والے بچوں تک پہنچنے کے لئے ایک جامع مشن  اندر دھنش 2.0  کا انعقاد کیا گیا ۔ 
  • 20-2019 ء کے دوران تمام ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں  میں تقریباً 529.98 لاکھ روٹا وائرس  کی خوراکیں اور 463.88 لاکھ چیچک  - روبیلا  ویکسین کی خوراکیں  دی گئیں ۔
  • سال 20-2019 ء میں 6 ریاستوں یعنی بہار ، ہماچل پردیش ، مدھیہ پردیش ، راجستھان ، اتر پردیش اور ہریانہ میں  نمونیے کی ویکسین   کی 164.18 لاکھ خوراکیں دی گئیں ۔
  • 20-2019 ء کے دوران  25.27 لاکھ بالغ افراد کو  جاپانی بخار   کی ویکسین   دی گئی  ( مغربی بنگال  کے 9 اضلاع  کے 25 بلاکوں میں ) ۔
  • 20-2019 ء کے دوران پردھان منتری  سرکشت  میتریتو  ابھیان ( پی ایم ایس ایم اے ) پروگرام کے تحت تمام ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 16900 سے زیادہ صحت مراکزمیں  45.45 لاکھ اے این سی چیک اَپ کئے گئے ۔
  • لکشے :31 مارچ ، 2020 ء تک  543 لیبر روم  اور 491 زچگی آپریشن تھیٹر  اور ریاستی سطح پر لکشے کے مستند  موجود  تھے ، جب کہ قومی سطح پر  لکشے کے سرٹیفکیٹ والے  220 لیبر روم  اور 190 زچگی آپریشن تھیٹر موجود تھے ۔
  • 20-2019 ء میں ملک میں  کولڈ چین نظام کومستحکم کرنے کے لئے کولڈ چین کے ساز و سامان   جیسے آئی ایل آر – 283 ، ڈی ایف – 187 ، کولڈ باکس ( بڑا ) – 13609 ، کولڈ باکس ( چھوٹا ) 11010 ، ویکسین کیریئر – 270 ، 230 اور آئس پیک 1094650 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سپلائی کئے گئے ہیں ۔
  • 31 مارچ ، 2020 ء تک آیوشمان بھارت کے 63761 ہیلتھ اور ویلنیس سینٹر کو منظوری دی گئی  ۔ 31 مارچ ، 2020 ء تک 38595 ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر چالو کئے گئے ، جب کہ اس کا ہدف  40000 تھا ۔ آشاؤں ، کثیر مقصدی ورکروں  ، اضافی نرس دائیوں  ( اے این ایم ) ، اسٹاف نرسیں ،  بنیادی ہیلتھ سینٹر   ( پی ایچ سی ) کے میڈیکل افسران سمیت  کل  308410 صحت ورکر کام کر رہے تھے ۔
  • 20-2019 ء کے دوران 16795 آشاؤں کا انتخاب کیا گیا ۔ اس طرح مارچ ، 2020 ء تک پورے ملک میں  کل آشاؤں کی تعداد 10.56 لاکھ تھی ۔
  • قومی ایمبولنس سروس ( این اے ایس ) : مارچ ، 2020 ء تک 33 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں   یہ سہولت  تھی کہ لوگ  108 یا 102 ڈائل کرکے  ایمبولنس طلب کر سکتے ہیں ۔ 20-2019 ء میں ایمرجنسی ریسپونس سروس کی اضافی  1096 گاڑیوں کا اضافہ کیا گیا ۔
  • 20-2019 ء کے دوران 187 اضافی موبائل میڈیکل یونٹ ( ایم ایم یو ) کا اضافہ کیا گیا ۔
  • 24x7 خدمات اور ابتدائی  طبی سہولیات  : 20-2019 ء کے دوران ایف آر یو کے طور پر  53 مراکز کا اضافہ کیا گیا ۔
  • کایاکلپ :20-2019 ء 25 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 293 ڈی ایچ  ، 1201 سی ایچ سی / ایس ڈی ایس  ، 2802 پی ایچ سی ، 668 یو ایچ سی اور 305 ایچ ڈبلیو سی نے 70 فی صد سے زیادہ اسکور حاصل کیا ۔  20-2019 ء میں ، اِس اسکیم کے تحت 5269 سرکاری صحت مراکز کو  ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
  • ملیریا : 2014 ء میں ملیریا کے 1102205 معاملات درج کئے گئے اور 561 اموات ہوئیں ، جب کہ 2018 ء میں ملیریا کے مریضوں کی تعداد 429928 رہی ، جب کہ مرنے والوں کی تعداد 96 درج کی گئی ۔ اس سے 2014 ء کے بعد ملیریا کے معاملات میں 61 فی صد کی کمی اور ملیریا سے ہونے والی اموات میں 83 فی صد کی کمی ظاہرہوتی ہے ۔
  • کالا آزار : دسمبر ، 2019 ء کے آخر میں کالا آزار وباء کے 94 فی صد بلاکوں میں 10000 کی آبادی میں کالا آزار کا ایک معاملے سے بھی کم کا ہدف حاصل کیا گیا ۔
  • فیل پا : 2019 ء میں فیل پا وباء سے متعلق 257 اضلاع میں سے 98 اضلاع میں ایک فی صد سے بھی کم  مریضوں کی شرح حاصل کر لی گئی  اور اس  کی تصدیق  ماس ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایم ڈی اے ) کے جائزے ( ٹی اے ایس – 1 ) سے ہوتی ہے ۔
  • ڈینگو سے متعلق  قومی ہدف  بیماری سے متاثرہ افراد کی شرح اموات کو  ( سی ایف آر ) ایک فی صد سے کم کرنا تھا ۔ یہ ہدف  حاصل کر لیا گیا ہے  کیونکہ 2014 ء میں شرح اموات  0.3 فی صد تھی  ، جب کہ 2015 ء سے 2018 ء کے درمیان سی ایف آر 0.2  فی صد پر برقرار ہے ۔ 2019 ء میں اس میں مزید کمی ہوئی اور یہ 0.1 فی صد ہو گئی ۔
  • تپ دق کے خاتمے کا  قومی پروگرام ( این ٹی ای پی ) : پورے ملک میں کارٹریج پر مبنی نیو کلک  ایسڈ ایمپلی فکیشن ٹسٹ  ( سی بی این اے اے ٹی ) کی  1264 مشینیں اور  ٹرو نیٹ  کی 2206 مشینیں  ضلعی سطح پر  کام کر رہی ہیں ۔ 2019 ء میں  35.30 لاکھ  مولیکیولر ٹسٹ کرائے گئے ۔  2017 ء میں 7.48 لاکھ کے مقابلے  یہ تعداد پانچ گنا زیادہ ہے ۔ 2019 ء میں  2203895 ٹی بی کے مریضوں کو  یومیہ علاج کی دوائیں فراہم کی گئیں ، جب کہ 2018 ء میں 1971685 مریضوں کو دوا دی جا رہی تھی ۔ 

نئی اینٹی ٹی بی ڈرگ  کا تعارف : کم مدت والی ادویات  اور بیڈا کولن پر مبنی دوائیں  تمام ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شروع کی گئیں ۔ 2019 ء میں 40397 مریضوں کو  ایم ڈی آر / آر آر - ٹی بی  کی کم مدت والی دوائیں دی گئیں ۔

  • این ایچ ایم کے تحت 2016 ء میں  پی پی پی  کے طریقۂ کار پر تمام ضلع اسپتالوں میں ڈائلیسز کی سہولیات  میں مدد کے لئے  پردھان منتری نیشنل ڈائلیسز پروگرام ( پی ایم این ڈی پی ) کا آغاز کیا گیا ۔  مالی سال 20-2019 ء کے دوران پی ایم این ڈی پی تین ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 52 اضلاع میں  105 مراکز میں  نافذ کیا گیا ، جس کے لئے  885 مشینیں لگائی گئیں ۔ 

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

( ش ح  ۔ و ا ۔ ع ا ۔ 23.03.2021  )

U. No. 2935



(Release ID: 1707119) Visitor Counter : 221