وزارت خزانہ

سود سمیت آمدنی اور پنشن حاصل کرنے والے 75 سال کی عمر سے زیادہ کے سینیئر سٹیزنس کو انکم ٹیکس داخل کرنے پر چھوٹ


سستے اور کرائے کے مکانوں پر زیادہ راحت دینے پر زور

فیس لیس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل کرنے پر غوروخوض

بنیادی ڈھانچے کے سیکٹر میں غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کےلئے ٹیکس میں راحت

اسٹارٹ اپس کے لئے بجٹ میں ٹیکس ترغیبات کا اعلان کیا گیا

پچھلے 6 سالوں میں  ریٹرن ڈاکل کرنے والوں کی تعداد 3.31 کروڑ سے بڑھ کر 6.48 کروڑ ہوئی

Posted On: 01 FEB 2021 1:37PM by PIB Delhi

 

خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر  محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 22-2021 پیش کیا۔ انہوں نے ٹیکس کے انتظام ، مقدمے کے بندوبست کو مزید آسان بنانے اور براہ راست ٹیکس نظام کی تکمیل کو آسان بنانے کے لئے 22-2021 کا یہ مرکزی بجٹ پیش کیا۔اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے میں سینیئر سٹیزنس  یعنی بزرگ شہریوں کو راحت فراہم کی ہے۔

 

اپنی بجٹ تقریر میں مرکزی وزیر خزانہ نے سینیئر سٹیزنس کو آمدنی داخل کرنے سے راحت فراہم کی ہے۔انہوں نے آمدنی داخل کرنے کے عمل میں لگنے والے وقت میں کمی لانے کا ذکر کیا۔ وزیر خزانہ نے  انکم ٹیکس کی کارروائی کے لئے ٹائم کی حد کم کی ہے۔ تنازعہ کے حل سے متعلق کمیٹی،  غیر انفرادی آئی ٹی اے ٹی کے قیام کا اعلان ، غیر مقیم  ہندوستانیوں کو رعایت، منافع کی آمدنی کے لئے راحت اور آڈٹ سے  چھوٹ کی حد میں اضافہ کا اعلان کیا۔ انہوں نے  بنیادی ڈھانچے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے بھی کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ سستے مکان اور کرائے   کے مکان پر زیادہ راحت کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے آئی ایف ایس سی کو ٹیکس ترغیبات دینے کے علاوہ چھوٹے خیراتی ٹرسٹوں کو راحت او ر ملک میں اسٹارٹ اپ کو ترغیب دینے کے لئے بھی اقدامات کا اعلان کیا۔

 

محترمہ نرملا سیتا رمن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ عالمی وبا کے بعد  دنیا میں ایک نیا نظام ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور اُس میں ہندوستان کا کلیدی رول رہے گا۔ انہوں نے اس تناظر میں کہا کہ ہمارا ٹیکس کا نظام شفاف  اور مؤثر ہونا چاہئے، او ر ساتھ ہی ساتھ یہ ملک میں روزگار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے والا ہونا چاہئے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ساتھ ہی ساتھ  ہمارے ٹیکس دہندگان پر  بوجھ کم سے کم ہونے  چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اور معیشت  کے فائدے نیز  کارپوریٹ  ٹیکس شرح میں تخفیف، منافع کی تقسیم کے ٹیکس کو ختم کرنا ا ور چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لئے چھوٹ میں اضافہ کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے بہت سی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ سال 2020 میں انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے والوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا گیا اور یہ اضافہ  6.48 کروڑ روپے تک پہنچا، جو 2014 میں 3.31 کروڑ تھا۔

image0019SIG.jpg

 

سینئر سٹیزن کے لئے راحت

آزادی کے 75 ویں سال  کے بجٹ میں 75 سال کی عمر اور اُس سے زیادہ کی عمر کےسینئر سٹیزن  کو راحت فراہم کی گئی ہے۔ اس طرح کے سینئر سٹیزن جنہیں صرف پنشن اور  سود سمیت آمدنی حاصل ہوتی ہے، انہیں انکم ٹیکس  داخل کرنے سے راحت فراہم کی گئی ہے۔ انہیں ادائیگی کرنے والابینک ہی ان کی آمدنی سے ضروری ٹیکس کی کٹوتی کر ے گا۔

 

غیر مقیم بھارتیوں  کو ٹیکس  میں رعایت اور منافع کے لئے چھوٹ

 ہندوستان واپس آنے  والے غیر مقیم ہندوستانیوں کے لئےانکم ٹیکس سے جڑی مشکل شقوں کو آسان بنانے اور بیرون ملک سے ان کی ریٹائرمنٹ  کے بعد ہندوستان لوٹنے پر آمدنی سے متعلق معاملوں کو آسانی سے سلجھانے کے لئے آسان ضابطوں کی گنجائش بجٹ میں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ٹی ڈی ایس سے مستثنیٰ ادائیگی آر ای آئی ٹی ؍آئی این وی آئی ٹی کو کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کےلئے  بجٹ میں کم معاہدے شرح پر منافع کی آمدنی میں ٹیکس کٹوتی کی تجویز کی گئی ہے۔ بجٹ میں اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ منافع کی آمدنی پر ایڈوانس ٹیکس لائبلٹی  کی ادائیگی یا اس کے اعلان کے بعد ہی پیدا ہوتی ہے۔ وزیر مالیات نے کہا کہ ایسا پایا گیا ہے کہ شیئر ہولڈروں کے ذریعےایڈوانس ٹیکس ادائیگی کرنے کے لئے منافع کی آمدنی کی صحیح گنتی نہیں کی جا سکتی۔

 

سستے اور کرائے کے مکان

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ سستے گھر خریدنے کے لئے ملنے والے قرض کی شرح میں 1.5 لاکھ روپے تک کی چھوٹ کی گنجائش  31 مارچ 2022 تک بڑھا دی جائے گی۔ سرکار کے ذریعے لوگوں کو سستے گھر دستیاب کرانے کے لئے خاص زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سستے مکان کی   اسکیم کے تحت  ٹیکس چھوٹ کا دعویٰ کرنے کے لئے  اہلیت کی مدت ایک سال اور بڑھا کر 30 مارچ 2022 تک کر دی ہے۔ مائگرینٹ مزدوروں کے لئے سستے کرائے کے مکانوں کی فراہمی کو بڑھانے کےلئے وزیر موصوف نے نوٹیفائی کئے گئے سستے کرائے کے مکان پروجیکٹوں  کے لئے نئے  ٹیکس راحت کا اعلان کیا ہے۔

 

اسٹارٹ اپ کے لئے ٹیکس فائدے

ملک میں اسٹارٹ اپ کو بڑھاوا دینے اور انہیں فائدہ پہنچانے کے لئے محترمہ ستیار من نے اسٹارٹ اپ کےلئے ٹیکس چھوٹ کا دعویٰ کرنے کی مدت ایک سا ل اور 31 مارچ 2022 تک بڑھا دی ہے۔ا س حکم کے مطابق اسٹارٹ اپس کے لئے ترغیباتی فنڈ میں سرمایہ کاری کی پونجی پر ضابطے پر مبنی چھوٹ کو حاصل کرنے کے لئے مدت ایک سال بڑھا کر 31 مارچ 2022 تک کر دی گئی ہے۔

 

مزدورفلاحی فنڈز کیلئے ملازمین کے عطیہ کو بروقت جمع کرنا

وزیر خزانہ نے کہا کہ  مختلف فلاح فنڈز کے لئے ملازمین کے عطیہ کو جمع کرنے میں تاخیر سے ملازمین کے لئے شرح ؍ آمدنی کا مستقبل نقصان ہوتا ہے۔ ملازمین کے ذریعے ان فنڈز میں ملازمین کے عطیہ کو بروقت جمع کرنے کو یقینی بنانے کے لئے انہوں نے اعلان کیا کہ ملازمین کا عطیہ دیری سے جمع کرنے کے بارے میں آجر کو بھی کٹوتی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

انکم ٹیکس کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لئے وقت میں کٹوتی

اس سال کا بجٹ تکمیل کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے انکم ٹیکس کارروائی موجودہ 6 سال سے 3 سال کرنے کے لئے وقت میں کٹوتی کی گنجائش کرتا ہے۔ ٹیکس چوری سے بچنے کے سنگین معاملوں میں جہاں ایک سال میں 50 لاکھ یا اس سے زیادہ کی آمدنی کو چھپانے کے ثبوت ملتے ہیں، ایسے معاملوں میں متعلقہ اندازے کو 10 سال تک دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے پرنسپل چیف کمشنر کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

 

تنازعہ کو حل کرنے والی کمیٹی اور نیشنل فیس لیس انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹرائبیونل سنٹر

ٹیکس نظام میں مقدمے بازی کم کرنے کے لئے حکومت کے عزم کا ذکر کرتے ہوئےو زیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اعلان کی گئی راست ٹیکس ، وِواد سے وِشواس اسکیم کو اچھی طرح اپنایا گیا ہے۔ 30 جنوری 2021 تک  1 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ ٹیکس دہندگان نے اس اسکیم کے تحت 85 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے ٹیکس تنازعہ حل کرنے  کا متبادل چنا ہے۔ چھوٹے ٹیکس دہندگان کے مقدمے کو مزید کم کرنے کے لئے محترمہ سیتارمن نے  تنازعہ کے حل سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز رکھی۔ اس کے مطابق 50 لاکھ روپے تک کے ٹیکس اہل آمدنی اور 10 لاکھ روپے تک کی متنازعہ آمدنی کے ساتھ کوئی بھی شخص اس کمیٹی میں پہنچنے کےلئے حقدار ہوگا اور اسے  با صلاحیت، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کےلئے کمیٹی کے سامنے حاضر نہیں ہونا پڑے گا۔ محترمہ سیتا رمن نے نیشنل فیس لیس انکم ٹیکس اپیلیٹ سینٹر کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

 

ڈیجیٹل لین دین کےلئے ٹیکس آڈٹ کی حد میں اضافہ کیاگیا

ڈیجیٹل لین دین کو بڑھاوا دینے اور زیادہ تر لین دین کو ڈیجیٹل توسط سے کرنے والے شخص پر تکمیل کا بوجھ کم کرنے کےلئے بجٹ میں ٹیکس آڈٹ کی حد کو بڑھانے کی گنجائش کی گئی ہے۔ اس سے ایسے شخص  کو فائدہ ہوگا، جو  کروڑ روپے سے لے 10 کروڑ روپے تک کا 95 فیصد تک کا لین دین ڈیجیٹل توسط سے کرتے ہیں۔

 

غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلئے ترغیبات

بنیادی ڈھانچے کے سیکٹر میں  غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کےلئے بجٹ میں  پرائیویٹ فنڈنگ پر روک سے متعلق کچھ شرائط میں چھوٹ کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ کمرشیئل سرگرمیوں پر بندش اور بنیادی ڈھانچے میں براہ راست سرمایہ کاری  سے جڑے ضابطوں کو آسان بنا کر راحت فراہم کی گئی ہے۔ حکم کے مطابق زیر کوپن بانڈس جاری کرکے بنیادی ڈھانچے کے فنڈ کو منظوری دینے کے لئے بجٹ میں ٹیکس کے طور پر ایک فعال زیرو کوپن بانڈ جاری کرکے رقم جٹانے کے تحت نوٹیفائی کئے گئےبنیادی ڈھانچے کے قرض فنڈ کو  اہل بنانے کی تجویز کی گئی ہے۔

 

آئی ایف ایس سی کے لئے ٹیکس ترغیبات

بین الاقوامی مالیاتی خدمات سنٹر آئی ایف ایس سی کو بڑھاوا دینے کے لئے بجٹ میں ٹیکس ترغیبات رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ کے اقدامات میں ایئر کرافٹ لیزنگ کمپنیوں کی آمدنی سے پونجی اکٹھا کرنے میں ٹیکس کی چھوٹ اس شعبے کے غیر ملکی کاروباریوں کو طیاروں کے لئے دیئےجانے والے کرایوں میں ٹیکس کی راحت آئی ایف ایس سی میں غیر ملکی فنڈز پر ترغیباتی رقم اور آئی ایف ایس سی میں واقع بینک کی شاخوں میں سرمایہ کاری کرنے پر ٹیکس راحت فراہم کرنا شامل ہے۔

 

چھوٹے ٹرسٹوں کو راحت

ایسے چھوٹے خیراتی ٹرسٹوں پر جو تعلیمی ادارے اور اسپتال چلا رہے ہیں، تکمیل کا بوجھ کم کرنے کے لئے  بجٹ میں  راحت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایک کروڑ  روپے سے لے کر 5کروڑ روپے تک  کی رسیدوں پر احت کی حد بڑھانے کی گنجائش کی گئی ہے۔

 

فیس لیس آئی ٹی اے ٹی

محترمہ نرملا سیتا رمن نے انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹرائبیونل  کو فیس لیس بنانے کے لئے مزید تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے ایک نیشنل فیس لیس انکم اپیلیٹ ٹرائبیونل سنٹر بنانے کی پیشکش کی ہے، جہاں ٹرائبیونل اور اپیلینٹ کے درمیان تمام بات چیت الیکٹرانک ہوگی۔

 

ریٹرن کو قبل از وقت داخل کرنا

ریٹرن داخل کرنے کے عمل  کو آسان بنانے کے لئے بجٹ میں  تجویز رکھی گئی ہے۔  فہرست بند تمسکات سے حاصل ہونے والے اہم منافع جات  ، ڈیویڈنڈ سے ہونے والی آمدنی اور بینکوں سے حاصل ہونے والا سود، پوسٹ آفس سے حاصل ہونے والے سود کا ذکر ان ریٹرنوں میں کیا جائے گا۔ تنخواہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات، ٹیکس کی ادائیگی، ٹی ڈی  ایس وغیرہ پہلے سے ہی پیشگی کے  طور پر داخل کئے جانے والے ریٹرنوں کا حصہ بن چکے ہیں۔

***

(ش ح   ۔ح ا ۔  ک ا)

U- 1012

 

 



(Release ID: 1694014) Visitor Counter : 299