وزارت خزانہ

بھارتی  زراعتی شعبہ نے  کووڈ – 19 وبا کے باوجود ،3.4 فیصد  اضافے کی شرح کے ساتھ  بھارتی معیشت کو  بلندی پر  پہنچایا ہے

اقتصادی  جائزے کے مطابق  حالیہ زرعی اصلاحات  کا مقصد،  رکاوٹ پیدا کرنا نہیں بلکہ  حالت کو بہتر بنانا ہے

Posted On: 29 JAN 2021 3:39PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مالیات  و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں اقصادی جائزہ 21- 2020  پیش کرتے ہوئے کہا کہ  بھارتی  زراعتی شعبہ نے  کووڈ – 19  کی وجہ سے  لگائے گئے  لاک ڈاؤن کے  دور میں بھی  اپنی اہمیت  اور  اپنے لچیلے پن  کو  ثابت کیا ہے۔ اقتصادی  جائزے کے مطابق   زراعی شعبہ اور  متعلقہ  سرگرمیوں  نے  سال 21- 2020  (پہلا ابتدائی اندازہ ) کے  دوران  مستحکم  قیمتوں پر  3.4  فیصد  کا اضافہ درج کیا۔

عبوری  تخمینہ  برائے  قومی  آمدنی  سے متعلق ، جو کہ  29  مئی 2020  کو  سی ایس او  کی طرف سے  جاری  ہوا ہے، اعداد وشمار  پر مبنی  اقتصادی سروے کے مطابق 20-2019 میں ملک کے مجموعی  قیمت  کلیکشن (جی وی اے)  میں   زراعت  اور متعلقہ  سرگرمیوں کا تعاون 17.8  فیصد رہا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001AVCA.jpg

 

ریکارڈ  غذائی پیداوار:

سال  20-2019  میں  زراعی شعبے کے  اقتصادی جائزے  (چوتھا عبوری  تخمینہ) کے مطابق  ملک میں  296.65  ملین ٹن  غذا ئی اجناس  کی پیدا وار ہوئی ہے۔ جب کہ  19-2018  میں  285.21 ملین ٹن  غذائی اجناس  کی پیداوار  ہوئی تھی۔ اس طرح  موجودہ  سیزن میں  11.44 ملین ٹن  زیادہ غذائی اجناس کی  پیداوار ہوئی ہے۔


https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002763J.jpg

 

زراعتی برآمدات:

سال 20-2019  کے اقتصادی جائزے کے مطابق  بھارت کی  زراعتی اور  متعلقہ  اشیاء کی  بر آمدات  تقریبا 252 ہزار کروڑ  روپے کی ہوئی۔ بھارت سے سب سے زیادہ  بر آمد  امریکہ ، سعودی عرب، ایران،  نیپال اور  بنگلہ دیش کو  ہوئی۔ بھارت کی طرف سے  دوسرے ملکوں کو  بھیجی جانے والی  اہم اشیاء میں  مچھلیاں اور  سمندری اشیاء،  باسمتی  چاول، بھینس کا  گوشت ، مسالحے، عام چاول،  کچی  کپاس، تیل، چینی،  آرنڈی  کا تیل،  اور چائے کی پتی شامل ہیں۔ زراعت پر مبنی  اور  اس سے  متعلقہ  اشیاء  کی بر آمدات میں  بھارت کی  حیثیت  عالمی سطح پر  سرفہرست رہی ہے۔ اس شعبے میں  دنیا کا تقریبا 2.5 فیصد  بر آمد  بھارت سے ہی کی جاتی ہے۔

کم از کم  معاون قیمت:

اقتصادی  سروے کے مطابق  سال 19-2018  کے بجٹ میں  فصلوں کی  کم سے کم  سپورٹ  قیمت  فصل کی  حقیقی  لاگت کا  ڈیڑھ گنا رکھنے  کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسی  اصول پر  کام کرتے ہوئے  بھارت سرکار کے ذریعے  21-2020  سیزن میں  خریف  اور  ربیع  کی فصلوں کے لئے  کم از کم  سپورٹ  قیمت میں  اضافہ  کیا گیا ہے۔

زرعی  اصلاحات:

حالیہ  زرعی اصلاحات پر  اقتصادی  جائزے میں کہا گیا ہے کہ  تین نئے  قوانین    چھوٹے  اور حاشئے پر پڑے ہوئے  کسانوں کو  زیادہ سے زیادہ  فائدہ پہنچانے کو  یقینی بنانے کے لئے  لائے گئے ہیں۔ ایسے کسانوں کی  تعداد  ملک کے  کُل کسانوں میں تقریبا  85  فیصد  ہے اور ان کی  فصلیں ا ے پی ایم سی  پر مبنی  بازاروں میں فروخت کی جاتی ہیں۔  نئے  زرعی  قوانین کے  نفاذ سے  کسانوں کو  بازار  کی  رکاوٹوں سے  آزادی ملے گی اور  زراعتی شعبے میں  ایک نئے عہد کا  آغاز ہوگا۔ اس سے بھارت کے کسانوں کو زیادہ فائدہ ہوگا اور ان کے  معیار زندگی میں  بہتری آئے گی۔

آتم نربھر بھارت ابھیان:

 اقتصادی جائزہ  کہتا ہے کہ  آتم نربھر  بھارت ابھیان  کے تحت  زراعتی اور  غذائی   انتظام  شعبے میں  متعدد  بڑے اعلانات  کئے گئے ہیں۔ زرعی  بنیادی ڈھانچے  کی تعمیر کے لئے  ایک لاکھ کروڑ روپے کی رقم  مختص کی گئی ہے۔ مائیکرو فوڈ  انٹر پرائسز  (ایم ایف ای)  کے قیام کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے  کے  منصوبے کا  اعلان کیا گیا۔ پردھان منتری  متسیہ سمپدا یوجنا  ( پی ایم ایم ایس وائی)  کے لئے  20  ہزار کروڑ روپے  مختص کئے گئے۔ نیشنل اینیمل ڈسیز کنٹرول پروگرام  اور  اینیمل ہسبینڈری  بنیادی ڈھانچے  کی ترقی کے لئے 15 ہزار کروڑ روپے کا  اعلان کیا گیا۔ ان کے علاوہ  ضروری اشیاء  قانون  زرعی  مارکیٹنگ  اور  زرعی  پیدا وار  کی قیمت  اور  کوالٹی  کی یقین دہانی ،  پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا،  ایک ملک ایک راشن کارڈ جیسے  منصوبے  شروع  کئے گئے۔

زراعتی  قرض:

اقتصادی  جائزے کے مطابق  بھارت میں  چھوٹے  اور  حاشئے  پر رہنے والے کسانوں کو  بڑے پیمانے پر  مالی امداد  مہیا کرائی گئی ہے۔ کسانوں کی  زراعت سے  متعلق  سرگرمیوں کو  با آسانی  چلانے کے لئے  وقت پر  قرض کی  دستیابی کو  اولیت دی گئی۔ سال 20-2019  میں  13 لاکھ50 ہزار کروڑ  روپے  کا زرعی  قرض  مقرر کیا گیا تھا۔ جب کہ  کسانوں کو  1392469.81 کروڑ روپے  کا قرض  مہیا کیا گیا، جو کہ  مقررہ حد سے  کافی زیادہ تھا۔ 21- 2020  میں  15 لاکھ کروڑ روپے کا  قرض  مہیا کرنے کا  ہدف رکھا گیا تھا۔ 30  نومبر  2020  تک  973517.80  کروڑ روپے  کا قرض  کسانوں کو  مہیا کرایا گیا۔ اقتصادی جائزے میں  کہا گیا ہے کہ  آتم نربھر بھارت  ابھیان کے  ایک حصے کی شکل میں  زرعی  بنیادی ڈھانچہ  فنڈ  کے تحت  دیا جانے والا قرض  زراعتی شعبے کو  اور زیادہ  فائدہ پہنچائے گا۔

اقتصادی  جائزے کے مطابق  فروری  2020  میں  بجٹ کے  اعلانات کے مطابق  کسان کریڈٹ کارڈ کو  بڑھاوا دینے پر زور دیا گیا۔ پردھان منتری  آتم نربھر  بھارت پیکج کے  حصے کی شکل میں  ڈیڑھ کروڑ  دودھ  کو آپریٹو  کے ڈیری  کسانوں اور  دودھ تیار کرنے والی کمپنیوں کو  کسان کریڈٹ کارڈ   (کے سی سی)  مہیا کرنے کا  نشانہ رکھا گیا۔ اعداد وشمار کے مطابق  وسط جنوری  2021  تک  کُل 44673 کسان کریڈٹ کارڈ  ماہی گیروں اور  مچھلی  پالنے والوں کو  مہیا کرائے گئے تھے ، جب کہ ان کے علاوہ  ماہی  گیروں  اور مچھلی پالنے والوں کی   4.04  لاکھ  درخواستیں  بینکوں میں  کارڈ  حاصل کرنے کے عمل کے  مختلف مرحلوں میں ہیں۔

پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا:

اقتصادی جائزے کے مطابق  پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا  (پی ایم ایف  بی وائی)  میل کا پتھر  ثابت ہوئی ہے۔ اس میں  ملک کے کسانوں کو  کم از کم  پریمیم رقم پر  فصلوں کا  بیمہ  مہیا کیا جاتا ہے۔ پی ایم  ایف بی وائی  کے تحت   سال در سال  5.5  کروڑ سے زیادہ  درخواستوں کو قبول کرکے کسانوں کو  منصوبے کا فائدہ  پہنچا یا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت  12  جنوری 2021 تک  90  ہزار کروڑ  روپے کے  کلیم  کی ادائیگی  کی گئی ہے۔ آدھار کی وجہ سے  کسانوں کو  تیزی سے آدائیگی  ہوئی ہے اور کلیم کی رقم  براہ راست  ان کے بینک اکاؤنٹ میں پہنچائی گئی ہے۔ موجودہ کووڈ – 19  وبا کی وجہ سے  لگائے گئے  لاک ڈاؤن کے باوجود  70  لاکھ  کسانوں کو  اس منصوبے کا  فائدہ ملا ہے اور  مستفیدین  کے  بینک کھاتوں میں  8741.30  کروڑ روپے کے  کلیم  کی ادائیگی کی گئی ہے۔

پی ایم کسان:

اقتصادی سروے کے مطابق  پردھان منتری کسان منصوبے کے تحت  دی جانے والی  مالی امداد کی   7 ویں قسط کی شکل میں  دسمبر 2020  میں  ملک کے  9 کروڑ  کسان خاندا نوں کو  بینک کھاتوں میں  18 ہزار کروڑ روپے  کی رقم  تقسیم کی گئی۔

لائیو اسٹاک سیکٹر:

اقتصادی سروے  کا  لائیو اسٹاک سیکٹر کے  متعلق کہنا ہے کہ لائیو سیکٹر میں  15-2014  سے  19-2018  کے دوران  سی اے ڈی آر  پر  8.24  فیصد  کا اضافہ  ہوا۔ نیشنل اکاؤنٹس اسٹیٹکس (این اے ایس)  2020  کے تخمینے کے مطابق  زراعت  اور  اس سے متعلقہ شعبے  اور  پورے زرعی اور  اس کے متعلقہ  شعبے  کے لائیو اسٹاک میں  15-2014  میں  24.32  فیصد  کا اضافہ ہوا، جب کہ  19-2018  میں  28.63  فیصد کا  اضافہ درج  کیا گیا۔

مچھلی پالن:

اقتصادی جائزے میں  دی گئی اطلاع کے مطابق  بھارت میں   مچھلی  کی پیدا وار  اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ 20-2019  میں  14.16 ملین میٹرک ٹن  مچھلی  کی پیداوار ہوئی ۔ اس کے علاوہ قومی  معیشت میں  مچھلی پالن شعبے  نے  212915 کروڑ روپے کی  حصے داری درج کی ہے۔ یہ کُل قومی جی وی اے  کا  1.24 فیصد  اور  زرعی شعبے کے  مجموعی  جی وی اے  کا  7.28  فیصد  ہے۔

پردھان منتری غریب کلیان انّ یوجنا:

اقتصادی  جائزے میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال  21-2020  کے دوران  غذائی اجناس کی تقسیم  دو چیلنجوں کے توسط سے کی گئی ۔ یہ ہے  نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ (این ایف  ایس اے) اور  پردھان منتری  غریب کلیان ان یوجنا (پی ایم- جی کے  اے وائی)  موجودہ وقت میں  قومی  غذائی تحفظ قانون کو  تمام  36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں لاگو کیا جا رہا ہے۔ اور یہ تمام  قومی غذائی  تحفظ قانون کے تحت  ماہانہ  بنیاد پر  غذائی اجناس  حاصل کرر ہی ہیں۔ کووڈ – 19  وبا کی وجہ سے  پردھان  منتری غریب کلیان  پیکج کے تحت  بھارت سرکار نے  پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا  (پی ایم- جی کے اے وائی)  کی  شروعات کی تھی، جس کے تحت  مقررہ  عوامی  تقسیم نظام  ٹی پی ڈی ایس کے تحت آنے والے  تمام  مستفیدین کو  5 کلو  اناج  فی  شخص  مفت  مہیا کرنے کا التزام ہے۔ (ان میں  انتودیہ ان یوجنا اور  اولیت دیئے جانےو الے شہری شامل ہیں)۔ پردھان منتری  غریب کلیان ان یوجنا کے تحت  نومبر 2020 تک  فی شخص 5 کلو  اناج دینے  کے نظم کے تحت  80.96  کروڑ  مستفیدین کو  اضافی  اناج  مہیا کرایا گیا تھا۔ اس دوران  75000 کروڑ روپے  زیادہ  قیمت کے  200 لاکھ میٹرک ٹن سے  زیادہ  اناج کی  تقسیم کی گئی۔ اس کے علاوہ  آتم نربھر بھارت پیکج کے تحت  4 مہینوں تک  (مئی سے  اگست کے درمیان)  فی شخص  5 کلو  اناج  مہیا کرایا گیا، جس سے  اُن   8 کروڑ غیر مقیم مزدوروں کو  فائدہ پہنچا، جو  قومی غذائی تحفظ قانون  یا  پھر  ریاستی  راشن کارڈ  منصوبے کے  تحت نہیں آتے تھے، جس کی سبسڈی لاگت  تقریبا 3109 کروڑ روپے تھی۔

فوڈ پروسیسنگ صنعت:

اقتصادی سروے کے مطابق  19-2018  تک  پچھلے پانچ  سالوں میں  فوڈ  پروسیسنگ صنعت  (ایف پی آئی)  سیکٹر میں  اوسط سالانہ  اضافے کی شرح (اے اے جی آر ) پر  9.99 فیصد  کا اضافہ ہو رہا ہے۔ 12-2011  سے  زرعی شعبے میں  یہ اضافہ  3.12  فیصد  رہا ہے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں  اضافے کی شرح 8.25  فیصد رہی ہے۔

 

*************

( ش ح ۔  ج ق ۔  ق ر(

947U. No



(Release ID: 1693393) Visitor Counter : 70