وزیراعظم کا دفتر

پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن

Posted On: 10 DEC 2020 4:57PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  10 /دسمبر  2020 ۔

لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا جی، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین جناب ہریونش جی، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی جناب پرہلاد جوشی جی، جناب ہردیپ سنگھ پوری جی، دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندگان، ورچول طریقے سے جڑے متعدد ملکوں کی پارلیمنٹ کے اسپیکرس، یہاں موجود متعدد ملکوں کے سفراء، بین پارلیمانی اتحاد کے اراکین، دیگر معززین اور میرے پیارے اہل وطن! آج کا دن بہت ہی تاریخی ہے۔ آج کا دن بھارت کی جمہوری تاریخ میں سنگ میل کی طرح ہے۔ بھارتیوں کے ذریعے، بھارتیتا کے تصور سے شرابور، بھارت کے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کا آغاز ہماری جمہوری روایات کے سب سے اہم پڑاؤ میں سے ایک ہے۔ ہم بھارت کے لوگ مل کر اپنی پارلیمنٹ کی اس نئی عمارت کی تعمیر کریں گے۔

ساتھیو، اس سے خوبصورت کیا ہوگا، اس سے پاکیزہ کیا ہوگا کہ جب بھارت اپنی آزادی کی 75ویں سال گرہ کا جشن منائے، تو اس جشن کی مجسم تحریک، ہماری پارلیمنٹ کی نئی عمارت بنے۔ آج 130 کروڑ سے زیادہ بھارتیوں کے لئے بڑی خوش بختی کا دن ہے، فخر کا دن ہے جب ہم اس تاریخی لمحے کے گواہ بن رہے ہیں۔

ساتھیو، نئی پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر، جدید و قدیم کی ہم آمیزی کی مثال ہے۔ یہ وقت اور ضرورتوں کے مطابق خود میں تبدیلی لانے کی کوشش ہے۔ میں اپنی زندگی میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب 2014 میں پہلی مرتبہ ایک رکن پارلیمنٹ کے طور پر مجھے پارلیمنٹ ہاؤس  آنے کا موقع ملا تھا۔ تب جمہوریت کی اس مندر میں قدم رکھنے سے پہلے، میں نے سر جھکاکر، ماتھا ٹیک کر جمہوریت کی اس مندر کو سلام کیا تھا۔ ہمارے موجودہ پارلیمنٹ ہاؤس نے آزادی کی تحریک اور پھر آزاد بھارت کو گڑھنے میں اپنا اہم رول ادا کیا ہے۔ آزاد بھارت کی پہلی حکومت کی تشکیل بھی یہیں ہوئی اور پہلی پارلیمنٹ بھی یہیں بیٹھی۔ اسی پارلیمنٹ ہاؤس میں ہمارا آئین بنا، ہماری جمہوریت کی بازیابی ہوئی۔ بابا صاحب امبیڈکر اور دیگر سینئر لوگوں نے سینٹرل ہال میں گہرے غور و فکر کے بعد ہمیں اپنا آئین دیا۔ پارلیمنٹ کی موجودہ عمارت، آزاد بھارت کے ہر نشیب و فراز، ہمیں درپیش ہر چیلنج، ہمارے حل، ہماری امیدوں، امنگوں، ہماری کامیابی کی علامت رہی ہے۔ اس عمارت میں بنا ہر قانون، ان قانونوں کے بننے کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس میں کہی گئی متعدد گہری باتیں، یہ سب ہماری جمہوریت کی وراثت ہیں۔

ساتھیو، پارلیمنٹ کی مضبوط تاریخ کے ساتھ ہی سچائی کو بھی تسلیم قبول کرنا ہی ضروری ہے۔ یہ عمارت اب تقریباً سو سال کی ہورہی ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں اسے فوری ضرورتوں کے پیش نظر مسلسل اَپ گریڈ کیا گیا۔ اس عمل میں کتنی ہی مرتبہ دیواروں کو توڑا گیا ہے۔ کبھی نیا ساؤنڈ سسٹم، کبھی فائر سیفٹی سسٹم، کبھی آئی ٹی سسٹم۔ لوک سبھا میں بیٹھنے کی جگہ بڑھانے کے لئے تو دیواروں کو بھی ہٹایا گیا ہے۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد پارلیمنٹ کی یہ عمارت اب آرام مانگ رہی ہے۔ ابھی لوک سبھا کے اسپیکر جی بھی بتارہے تھے کہ کس طرح برسوں سے مشکل صورت حال رہی ہے، برسوں سے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ ایسے میں یہ ہم سبھی کا فرض بنتا ہے کہ اکیسویں صدی کے بھارت کو اب ایک نیا پارلیمنٹ ہاؤس ملے۔ اسی سمت میں آج یہ سنگ بنیاد ہورہا ہے۔ اور اس لئے، آج جب ہم ایک نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کا کام شروع کررہے ہیں، تو موجودہ پارلیمنٹ احاطے کی زندگی میں نیا سال بھی جوڑرہے ہیں۔

ساتھیو، نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں متعدد ایسی نئی چیزیں کی جارہی ہیں جس سے اراکین پارلیمنٹ کی حسن کارکردگی میں اضافہ ہوگا، ان کے ورک کلچر میں جدید طور طریقے آئیں گے۔ اب جیسے اپنے اراکین پارلیمنٹ سے ملنے کے لئے ان کے پارلیمنٹ حلقے سے لوگ آتے ہیں تو ابھی جو پارلیمنٹ ہاؤس ہے، اس میں لوگوں کو بہت دقت ہوتی ہے۔ عوام الناس کو دقت ہوتی ہے، شہریوں کو دقت ہوتی ہے، عوام کو اپنی کوئی پریشانی اپنے رکن پارلیمنٹ کو بتانی ہے، کوئی سکھ دکھ بانٹنا ہے تو اس کے لئے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں جگہ کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔مستقبل میں ہر ایک رکن پارلیمنٹ کے پاس یہ سہولت ہوگی کہ وہ اپنے حلقے کے لوگوں سے یہیں قریب میں ہی اسی وسیع و عریض احاطے کے درمیان ان کو ایک سہولت ملے گی تاکہ وہ اپنے پارلیمانی حلقہ سے آئے لوگوں کے ساتھ ان کے سکھ دکھ بانٹ سکیں۔

ساتھیو، پرانے پارلیمنٹ ہاؤس نے آزاد کے بعد کے بھارت کو سمت دی تو نئی عمارت خودکفیل بھارت کی تعمیر کی گواہ بنے گی۔ پرانے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے کام ہوا تو نئی عمارت میں اکیسویں صدی کے بھارت کی توقعات کی تکمیل کی جائے گی۔ جیسے آج انڈیا گیٹ سے آگے نیشنل وار میموریل نے قومی شناخت بنائی ہے، ویسے ہی پارلیمنٹ کی نئی عمارت اپنی شناخت قائم کرے گی۔ ملک کے لوگ، آنے والی نسلیں نئی عمارت کو دیکھ کر فخر محسوس کریں گی کہ یہ آزاد بھارت میں تعمیر ہوئی ہے، آزادی کے 75 برسوں کو یاد کرتے ہوئے اس کی تعمیر ہوئی ہے۔

ساتھیو، پارلیمنٹ ہاؤس کی طاقت کا منبع، اس کی توانائی کا ذریعہ، ہماری جمہوریت ہے۔ آزادی کے وقت کس طرح سے ایک جمہوری قوم کی شکل میں بھارت کے وجود پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا، یہ تاریخ کا حصہ ہے۔  ناخواندگی، غریبی، سماجی تنوع اور تجربے سے محرومی جیسے متعدد دلائل کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی کردی گئی تھی کہ عمارت میں جمہوریت ناکام ہوجائے گی۔ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک نے ان خدشات کو نہ صرف غلط ثابت کیا ہے بلکہ اکیسویں صدی کی دنیا بھارت کو ایک اہم جمہوری طاقت کی شکل میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھ بھی رہی ہے۔

ساتھیو، جمہوریت بھارت میں کیوں کامیاب ہوئی، کیوں کامیاب ہے اور کیوں کبھی جمہوریت پر آنچ نہیں آسکتی، یہ بات ہماری ہر نسل کو بھی جاننا – سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہم دیکھتے و سنتے ہیں، دنیا میں تیرہویں صدی میں تخلیق شدہ میگنا کارٹا کا بہت ذکر ہوتا ہے، کچھ اسکالر اسے جمہوریت کی بنیاد بھی بتاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی بات اتنی ہی درست ہے کہ میگنا کارٹا سے بھی پہلے بارہویں صدی میں ہی بھارت میں بھگوان بسویشور کا ’انوبھو منٹپم‘ وجود میں آچکا تھا۔ ’انوبھو منٹپم‘ کی شکل میں انھوں نے عوامی پارلیمنٹ کی نہ صرف تعمیر کی تھی بلکہ اس کے چلنے کو بھی یقینی بنایا تھا۔ اور بھگوان بسیشور جی نے کہا تھا – یی انوبھوا منٹپ جن سبھا، نادنا مٹھو راشٹردھا اُننتیگے ہاگو، ابھیوردھیگے پورکاوگی کیلسا مادتتھادے! یعنی یہ انوبھو منٹپم، ایک ایسا عوامی جلسہ ہے جو ریاست اور قوم کے مفاد میں اور ان کی ترقی کے لئے سبھی کو متحد ہوکر کام کرنے کے لئے راغب کرتا ہے۔ انوبھو منٹپم، جمہوریت کی ہی تو ایک شکل تھی۔

ساتھیو، اس عہد سے بھی اور پہلے جائیں تو تمل ناڈو میں چنئی سے 80-85 کلومیٹر دور اترامیرور نام کے گاؤں میں ایک بہت ہی تاریخی شہادت دکھائی دیتی ہے۔ اس گاؤں میں چول سلطنت کے دوران 10ویں صدی میں پتھروں پر تمل میں تحریر کئے گئے پنچایت نظام کا ذکر ہے۔ اور اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ہر گاؤں کو کوڈمبو میں بانٹا جاتا تھا، جن کو ہم آج وارڈ کہتے ہیں۔ ان کڈمبوؤں سے ایک ایک نمائندہ جنرل اسمبلی میں بھیجا جاتا تھا، اور جیسا کہ آج بھی ہوتا ہے۔ اس گاؤں میں ہزار سال قبل جو مہاسبھا لگتی تھی، وہ آج بھی وہاں موجود ہے۔

ساتھیو، ایک ہزار برس قبل بنے اس جمہوریت نظام میں ایک اور بات بہت اہم تھی۔ اس پتھر پر لکھا ہوا ہے، اس تحریر میں ذکر ہے اس کا اور اس میں کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں کوانتخاب لڑنے کے لئے نااہل قرار دینے کا بھی التزام تھا اس زمانے میں، اور ضابطہ کیا تھا – ضابطہ یہ تھا کہ جو نمائندہ اپنی جائیداد کی تفصیل نہیں دے گا، وہ اور اس کے قریبی رشتے دار انتخاب نہیں لڑ پائیں گے۔ کتنے سالوں پہلے سوچئے، کتنی باریکی سے اس وقت پر ہر پہلو کو سوچا گیا، سمجھا گیا، اپنی جمہوری روایات کا حصہ بنایا گیا۔

ساتھیو، جمہوریت کی ہماری یہ تاریخ ملک کے ہر کونے میں نظر آتی ہے، کونے کونے میں نظر آتی ہے۔ کچھ الفاظ سے تو ہم برابر واقف ہیں – سبھا، سمیتی، گنپتی، گنادھیپتی، یہ الفاظ ہمارے ذہنوں میں صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ صدیوں پہلے شاکیا، ملم اور ویجی جیسی جمہوریتیں ہوں، لچھوی، ملک مرک اور کمبوج جیسی جمہوریاؤں ہوں یا پھر موریہ عہد میں کلنگ، سبھی نے جمہوریت کو ہی حکومت کی بنیاد بنایا تھا۔ ہزاروں سال پہلے تخلیق شدہ ہمارے ویدوں میں سے رگوید میں جمہوریت کے تصور کو سمگیان یعنی سموہ چیتنا، اجتماعی شعور کی شکل میں دیکھا گیا ہے۔

ساتھیو، عام طور پر دیگر مقامات پر جب جمہوریت کا ذکر ہوتا ہے تو زیادہ تر انتخاب، انتخابی عمل، منتخب اراکین، ان کی تشکیل کی ساخت، حکومت و انتظامیہ، جمہوریت کی تعریف انھیں چیزوں کے آس پاس بات رہتی ہے۔ اس طرح کے نظام پر زیادہ زور دینے کو ہی زیادہ تر مقامات پر اسی کو جمہوریت کہتے ہیں۔ لیکن بھارت میں جمہوریت ایک سنسکار ہے۔ بھارت کے لئے جمہوریت زندگی کی ایک قدر ہے، زندگی کا ایک طریقہ ہے، قومی زندگی کی روح ہے۔ بھارت کی جمہوریت، صدیوں کے تجربے سے فروغ پانے والا نظام ہے۔ بھارت کے لئے جمہوریت میں، زندگی کا اصول بھی ہے، زندگی کے عناصر بھی ہیں اور ساتھ ہی نظم و نسق کا نظام بھی ہے۔ وقتاً فوقتاً نظامات تبدیل ہوتے رہے، طریقہ کار میں تبدیلی ہوتی رہی لیکن روح جمہوریت ہی رہی۔ اور المیہ دیکھئے، آج بھارت کی جمہوریت ہمیں مغربی ملکوں سے سمجھائی جاتی ہے۔ جب ہم یقین کے ساتھ اپنی جمہوری تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو وہ دن دور نہیں جب دنیا بھی کہے گی – بھارت جمہوریت کی ماں ہے۔

ساتھیو، بھارت کی جمہوریت میں سموہ لینے کی طاقت ہی ملک کی ترقی کو نئی توانائی دے رہی ہے، اہل وطن کو نیا یقین بخش رہی ہے۔ دنیا کے متعدد ملکوں میں جہاں جمہوری طریقہ کار کے تعلق سے الگ صورت حال بن رہی ہے، وہیں بھارت میں جمہوریت مسلسل نیا ہورہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ہم دیکھا ہے کہ کئی جمہوری ملکوں میں اب ووٹر ٹرن آؤٹ مسلسل گھٹ رہا ہے۔اس کے برعکس بھارت میں ہم انتخابات کے ساتھ ساتھ ووٹر ٹرن آؤٹ کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اس میں بھی خواتین اور نوجوانوں کی حصے داری مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔

ساتھیو، اس یقین کی، اس آستھا کی وجہ ہے۔ بھارت میں جمہوریت، ہمیشہ سے ہی حکمرانی کے ساتھ ہی اختلافات اور تضادات کو سلجھانے کا اہم ذریعہ بھی رہی ہے۔ الگ الگ خیالات، الگ الگ نقطہ نظر، یہ سب باتیں ایک شاندار جمہوریت کو مضبوط بناتی ہیں۔ اختلافات کے لئے ہمیشہ جگہ ہو، لیکن بے رابطگی کبھی نہ ہو، اسی ہدف کو لے کر ہماری جمہوریت آگے بڑھی ہے۔ گرو نانک دیو جی نے بھی کہا ہے –

جب لگو دنیا رہیے نانک        کیچھو سنئے، کچھو کہئے

یعنی جب تک دنیا رہے تب تک بات چیت چلتی رہنی چاہئے۔ کچھ کہنا اور کچھ سننا، یہی تو گفت و شنید کی روح ہے۔ یہی جمہوریت کی روح ہے۔ پالیسیوں میں فرق ہوسکتا ہے، سیاست میں فرق ہوسکتا ہے، لیکن ہم عوام کی خدمت کے لئے ہیں، اس حتمی ہدف میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہونا چاہئے۔ بحث و مباحثہ پارلیمنٹ کے اندر ہو یا پارلیمنٹ کے باہر، قوم کی خدمت کا عہد، ملک کے مفاد کے تئیں خودسپردگی مسلسل جھلکنی چاہئے۔ اور اس لئے، آج جب پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر شروع ہورہی ہے، تو ہمیں یاد رکھنا ہے کہ وہ جمہوریت جو پارلیمنٹ ہاؤس کے وجود کی بنیاد ہے، اس کے تئیں امید کو جگائے رکھنا ہم سبھی کی ذمے داری ہے۔ ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنا ہے کہ پارلیمنٹ پہنچا ہر نمائندہ جواب دہ ہے۔ یہ جواب دہی عوام کے تئیں بھی ہے اور آئین کے تئیں بھی ہے۔ ہمارا ہر فیصلہ ’راشٹر پرتھم‘ یعنی ملک سب سے پہلے کے جذبے سے ہونا چاہئے، ہمارے ہر فیصلے میں قومی مفاد سب سے اوپر رہنا چاہئے۔ قومی عزائم کی تکمیل کے لئے ہم بیک آواز  کھڑے ہوں، یہ بہت ضروری ہے۔

ساتھیو، ہمارے یہاں جب مندر کی عمارت کی تعمیر ہوتی ہے تو شروع میں اس کی بنیاد صرف اینٹ پتھر ہی ہوتی ہے۔ کاریگر، دستکار، سبھی کی محنت سے اس عمارت کی تعمیر مکمل ہوتی ہے۔ لیکن وہ عمارت ایک مندر تب بنتی ہے، اس میں تکمیلیت تب آتی ہے جب اس میں عقیدت ہوتی ہے۔ عقیدت ہونے تک وہ صرف ایک عمارت ہی رہتی ہے۔

ساتھیو، پارلیمنٹ کی نئی عمارت بھی بن کر تو تیار ہوجائے گی، لیکن وہ تب تک ایک عمارت ہی رہے گی جب تک اس کے تئیں عقیدت نہیں ہوگی۔ لیکن یہ عقیدت کسی ایک مجسمے کی نہیں ہوگی۔ جمہوریت کے اس مندر میں اس کا کوئی قانون بھی نہیں ہے۔ اس مندر کی عزت و وقار کا سبب بنیں گے اس میں منتخب ہوکر آنے والے عوامی نمائندے۔ اس کی خودسپردگی، ان کا جذبۂ خدمت اس مندر کو عزت و وقار عطا کرے گا۔ ان کا طور طریقہ، ان کا عمل اس جمہوریت کے مندر کی عزت و وقار کا باعث ہوگا۔ بھارت کے اتحاد و سالمیت کے تئیں کی گئی ان کی کوشش، اس مندر کی عزت و وقار کے لئے طاقت بنے گی۔ جب ایک ایک نمائندہ، اپنا علم، اپنی ہنرمندی، اپنی ذہانت، اپنی تعلیم، اپنا تجربہ مکمل طور پر یہاں نچوڑ دے گا، قوم کے مفاد میں نچوڑ دے گا، اسی کا ابھیشیک کرے گا، تب پارلیمنٹ کی اس نئی عمارت کا عزت و وقار بڑھے گا۔ یہاں راجیہ سبھا ہے، یہ ایک ایسا نظم ہے جو بھارت کے وفاقی ڈھانچے کو طاقت دیتا ہے۔ قوم کی ترقی کے لئے ریاست کی ترقی، قوم کی مضبوطی کے لئے ریاست کی مضبوطی، قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ریاست کی فلاح و بہبود، اس بنیادی اصول کے ساتھ کام کرنے کا ہمیں عہد کرنا ہے۔ نسل در نسل آنے والے کل میں جو نمائندے یہاں آئیں گے، ان کے حلف لینے کے ساتھ ہی پران – پرتشٹھا کے اس مہایگیہ میں ان کا تعاون شروع ہوجائے گا۔ اس کا فائدہ ملک کے ایک ایک فرد کو ہوگا۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت ریاض کی ایک ایسی جگہ بنے گی جو اہل وطن کی زندگی میں خوش حالی لانے کے لئے کام کرے گی، عوامی بہبود کا کام کرے گی۔

ساتھیو، اکیسویں صدی بھارت کی صدی ہو، یہ ہمارے ملک کی عظیم شخصیتوں اور عظیم خواتین کا خواب رہا ہے۔ طویل عرصہ سے اس کا ذکر ہم سنتے آرہے ہیں۔ اکیسویں صدی بھارت کی صدی تب بنے گی، جب بھارت کا ایک ایک شہری اپنے بھارت کو بہترین بنانے کے لئے اپنا تعاون دے گا۔ بدلتی ہوئی دنیا میں بھارت کے لئے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے جیسے مواقع کا سیلاب آرہا ہے۔ ان مواقع کو ہمیں کسی بھی حالت میں، کسی بھی صورت میں ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے۔ گزشتہ صدی کے تجربات نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ ان تجربات کی سیکھ، ہمیں بار بار یاد دلارہی ہے کہ اب وقت نہیں گنوانا ہے، وقت کا استعمال کرنا ہے۔

ساتھیو، ایک بہت پرانی اور اہم بات کا میں آج ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ سال 1897 میں سوامی وویکانند جی نے ملک کے عوام کے سامنے، آئندہ 50 برسوں کے لئے ایک اپیل کی تھی۔ اور سوامی جی نے کہا تھا کہ آنے والے 50 برسوں تک بھارت ماتا کی پوجا ہی سب سے اوپر ہو۔ اہل وطن کے لئے ان کا یہی ایک کام تھا بھارت ماتا کی آرادھنا کرنا۔ اور ہم نے دیکھا اس عظیم شخص کی بات کی طاقت، اس کے ٹھیک 50 سال بعد 1947 میں بھارت کو آزادی مل گئی تھی۔ آج جب پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے تو ملک کو ایک نئے عزم کا بھی سنگ بنیاد رکھنا ہے۔ ہر شہری کو نئے عزم کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔ سوامی وویکانند جی کی اس اپیل کو یاد کرتے ہوئے ہمیں یہ عزم کرنا ہے۔ یہ عزم ہو انڈیا فرسٹ کا، بھارت سرو پری۔ ہم صرف اور صرف بھارت کی ترقی، بھارت کی ترقی کو ہی اپنی آرادھنا (عبارت) بنالیں۔ ہمارا ہر فیصلہ ملک کی طاقت بڑھائے۔ ہمارا ہر فیصلہ، ایک ہی ترازو میں تولا جائے۔ اور وہ ترازو ہے – ملک کا مفاد سب سے اوپر، ملک کا مفاد سب سے پہلے۔ ہمارا ہر فیصلہ، موجودہ اور آئندہ نسل کے مفاد میں ہو۔

ساتھیو، سوامی وویکانند جی نے تو 50 سال کی بات کہی تھی۔ ہمارے سامنے 25-26 سال بعد آنے والی بھارت کی آزادی کی 100ویں سال گرہ ہے۔ جب ملک سال 2047 میں اپنی آزادی کے 100ویں سال میں داخل ہوگا، تب ہمارا ملک کیسا ہو، ہمیں ملک کو کہاں تک لے جانا ہے، یہ 25-26 سال کیسے ہم کھپ جانا ہے، اس کے لئے ہمیں آج عہد کرکے کام شروع کرنا ہے۔ جب ہم آج عہد کرکے ملک کے مفاد کو سب سے اوپر رکھتے ہوئے کام کریں گے تو ملک کا حال ہی نہیں بلکہ ملک کا مستقبل بھی بہتر بنائیں گے۔ خودکفیل بھارت کی تعمیر، خوش حال بھارت کی تعمیر، اب رکنے والی نہیں ہے، کوئی روک ہی نہیں سکتا۔

ساتھیو، ہم بھارت کے لوگ، یہ عہد کریں – ہمارے لئے ملک کے مفاد سے بڑا اور کوئی مفاد کبھی نہیں ہوگا۔ ہم بھارت کے لوگ، یہ عہد کریں – ہمارے لئے ملک کی فکر، اپنی خود کی فکر سے بڑھ کر ہوگی۔ ہم بھارت کے لوگ، یہ عہد کریں – ہمارے لئے ملک کے اتحاد و سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوگا۔ ہم بھارت کے لوگ، یہ عہد کریں – ہمارے لئے ملک کے آئین کی مان مریادا اور اس کی توقعات کی تکمیل، زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوگی۔ ہمیں گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کا یہ جذبہ ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔ اور  گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کا جذبہ کیا تھا، گرودیو کہتے تھے – ایکوتا اتساہو دھارو، جاتیو اناتی کارو، گھشک بھوبانے شابے بھاروتیر جاے! یعنی اتحاد کا جوش تھامے رہنا ہے۔ ہر شہری ترقی کرے، پوری دنیا میں بھارت کی جے جے کار ہو!

مجھے یقین ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کی نئی عمارت، ہم سب کو ایک نیا آدرش پیش کرنے کی ترغیب دے گی۔ ہمارے جمہوری اداروں کی معتبریت ہمیشہ  مزید مضبوط ہوتی رہے۔ اسی خواہش کے ساتھ میں اپنی گفتگو کو ختم کرتا ہوں۔ اور 2047 کے عہد کے ساتھ سبھی اہل وطن کو چل پڑنے کی دعوت دیتا ہوں۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ!!

******

م ن۔ م م۔ م ر

U-NO. 7991



(Release ID: 1679898) Visitor Counter : 743