وزیراعظم کا دفتر

کٹک میں انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبیونل (آئی ٹی اے ٹی) کے جدید آفس اور رہائشی کامپلیکس کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن

Posted On: 11 NOV 2020 7:01PM by PIB Delhi

جے جگن ناتھ !

اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ، ہمارے سینئر ساتھی جناب نوین پٹنائک جی، مرکزی کابینہ کے میرے معاون روی شنکر پرساد جی، اڈیشہ کی سرزمین کی ہی سنتان اور وزراء کونسل کے میرےساتھی جناب دھرمیندر پردھان جی، انکم ٹیکس اپلیٹ ٹریبیونل کے صدر عزت مآب جسٹس پی پی بھٹ جی، اڈیشہ کے اراکین پارلیمنٹ، اراکین اسمبلی، پروگرام میں موجود دیگر تمام معزز حضرات اور ساتھیو،

بھگوان جگن ناتھ کے آشیرواد کے ساتھ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹربیونل یعنی آئی ٹی اے ٹی کی کٹک بینچ آج اپنے نئے اور جدید کامپلیکس میں منتقل ہو رہی ہے۔ اتنے طویل عرصے تک کرائے کی عمارت میں کام کرنے کے بعد، اپنے گھر میں جانے کی خوشی کتنی ہوتی ہے، اس کا اندازہ آپ سبھی کے پرمسرت چہروں کو دیکھ کر بھی ہوتا ہے۔ خوشی کے اس لمحے میں آپ کے شامل جڑتے ہوئے، میں آئی ٹی اپیلیٹ ٹربیونل کے سبھی عہدیداران۔ملازمین کو بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ کٹک کی یہ بینچ اب اڈیشہ ہی نہیں، بلکہ مشرقی اور شمال مشرقی بھارت کے لاکھوں ٹیکس دہندگان کو جدید سہولیات بہم پہنچائے گی۔ نئی سہولیات کے بعد یہ بینچ کولکاتا زون کی دوسری بینچوں کی بھی زیر التوا اپیلوں کا نپٹارہ کرنے کی بھی اہل بن پائے گی۔ اس لیے ان سبھی ٹیکس دہندگان کو بھی بہت بہت نیک خواہشات، جن کو اس جدید کامپلیکس سے نئی سہولت حاصل ہوگی، تیزی سے سنوائی کا راستہ ہموار ہوگا۔

ساتھیو،

آج کا یہ دن ایک اور پاک روح کو یاد کرنے کا دن ہے، جن کی کوششوں کے بغیر آئی ٹی اپیلیٹ ٹربیونل کٹک بینچ کو نئی شکل دینا ممکن نہیں تھا۔ اڈیشہ کے لئے، اڈیشہ کے عوام کی خدمت کے لئے وقف رہے، بیجو پٹنائک جی، بیجو بابو کو بھی میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹربیونل کی ایک قابل فخر تاریخ رہی ہے۔ میں موجودہ ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، جو ملک بھر میں اپنا جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں مصروف ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کٹک سے پہلے بنگلورو اور جے پور میں پہلے ہی آپ کے اپنے کامپلیکس تیار ہو چکے ہیں۔ وہیں دوسرے شہروں میں بھی نئے کامپلیکس بنانے یا پرانوں کو اپ گریڈ کرنے کا کام آپ تیزی سے کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

آج ہم تکنالوجی کے جس دور میں پہنچ رہے ہیں، وہاں پورے نظام کی تجدیدکاری بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر ہمارے عدالتی نظام میں جدیدت، تکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال نے ملک کے شہریوں کو نئی سہولیات بہم پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ غیر جانبدار، قابل رسائی اور تیزی کے ساتھ انصاف فراہم کرانے کے جس اصول کو لے کر آپ چلے ہیں، وہ جدید سہولتوں اور تکنیکی حل سے مزید مضبوط ہوگا۔ یہ بات قابل اطمینان ہے کہ آئی ٹی اپیلیٹ ٹربیونل، ملک بھر کی اپنی بینچوں کو ورچووَل سنوائی کے لئے بھی اپ گریڈ کر رہا ہے اور جیسا کہ ابھی جناب پی پی بھٹ نے بتایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام کورونا کے دور میں بھی ہوا، ورچووَل طریقے سے انجام دیا گیا اور روی شنکر جی تو پورے ملک کا ایک بڑا بیورا دے رہے ہیں۔

ساتھیو،

غلامی کے طویل دور نے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس کلیکٹر، دونوں کے رشتوں کو مظلوم اور استحصال کرنے والے کے طور پر ہی پروان چڑھایا ۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد ہمارا جو ٹیکس نظام رہا اس میں اس تصویر کو تبدیل کرنے کے لئے جو کوشش ہونی چاہئے تھی، وہ ناکافی تھی۔ جبکہ بھارت میں زمانہ قدیم سے ہی ٹیکس کی اہمیت اور لین دین کو لے کر بہت سی صحتی روایات رہی ہیں۔ گوسوامی تلسی داس نے کہا ہے ۔

برست ہرست سب لکھیں، کرست لکھے نہ کوئے تلسی پرجا سبھاگ سے، بھوپ بھانو سو ہوئے

مطلب یہ ہے کہ جب بادل برستے ہیں، تو اس کا فائدہ ہم سبھی کو دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب بادل بنتے ہیں، سورج پانی کو خشک کرتا ہے، تو اس سے کسی کو تکلیف نہیں ہوتی۔ اسی طرح حکومت کو بھی ہونا چاہئے۔ جب عوام سے وہ ٹیکس لے تو کسی کو تکلیف نہ ہو، لیکن جب ملک کا وہی پیسہ شہریوں تک پہنچے، تو لوگوں کو اس کا استعمال اپنی زندگی میں محسوس ہونا چاہئے۔ گذشتہ برسوں میں حکومت اس خواب کو لے کر آگے بڑھی ہے۔

ساتھیو،

آج کا ٹیکس دہندہ پورے ٹیکس نظام میں بہت بڑی تبدیلی اور شفافیت کا گواہ بن رہا ہے۔ جب اسے ریفنڈ کے لئے مہینوں انتظار نہیں کرنا پڑتا، کچھ ہی ہفتوں میں اسے ریفنڈ مل جاتا ہے، تو اسے شفافیت کا تجربہ ہوتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ شعبے نے خود آگے بڑھ کر برسوں پرانے تنازعات کو سلجھا دیا ہے، اسے تنازعہ سے آزادی دلائی ہے، تو اسے شفافیت کا تجربہ ہوتا ہے۔ جب اسے فیس لیس اپیل کی سہولت ملتی ہے، تب وہ ٹیکس شفافیت کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ انکم ٹیکس مسلسل کم ہو رہا ہے، تب اسے ٹیکس شفافیت کا تجربہ ہوتا ہے۔ سابقہ حکومتوں کے دور میں شکایتیں ہوتی تھیں، ٹیکس دہشت گردی، چاروں طرف یہی لفظ سنائی دیتا تھا، ٹیکس دہشت گردی۔ آج ملک اسے پیچھے چھوڑ کر ٹیکس شفافیت کی جانب گامزن ہے۔ ٹیکس دہشت گردی سے ٹیکس شفافیت کی تبدیلی اس لیے آئی ہے کیونکہ ہم اصلاح، کارکردگی اور تغیر کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم اصلاح کر رہے ہیں قواعد میں، طریقہ کار میں اور اس میں تکنالوجی کی بھرپور مدد لے رہے ہیں۔ ہم کارکردگی دکھا رہے ہیں نیک نیتی کے ساتھ، واضح ارادوں کے ساتھ اور ساتھ ہی ہم ٹیکس ایڈمنسٹریشن کی سوچ کو بھی تبدیل کرر ہے ہیں۔

ساتھیو،

آج ملک میں، 5 لاکھ روپئے تک کی آمدنی پر ٹیکس صفر ہے۔ اس کا بہت بڑا فائدہ نچلے متوسط طبقے کے ہمارے نوجوانوں کو حاصل ہو رہا ہے۔ اس برس بجٹ میں انکم ٹیکس کا جو نیا متبادل دیا گیا ہے وہ اور بھی آسان ہے اور ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری تناؤ اور خرچ سے بچاتا ہے۔ اسی طرح ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے، بھارت کو اور زیادہ سرمایہ کار دوست بنانے کے لئے کارپوریٹ ٹیکس میں تاریخی کٹوتی بھی کی گئی ہے۔ ملک میں ہی لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرانے والی موجودہ کمپنیوں کے لئے کارپوریٹ ٹیکس میں تخفیف کی گئی ہے۔ ملک مینوفیکچرنگ میں خودکفیل بنے، اس کے لئے نئی گھریلو مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لئے ٹیکس شرح 15 فیصد کی گئی ہے۔ بھارت کے اکیویٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ڈویڈینڈ ڈسٹری بیوشن ٹیکس کو بھی ختم کیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی سے بھی درجنوں ٹیکس کا جو جال تھا وہ کم ہوا ہے اور زیادہ سامان اور خدمات، ان خدمات میں ٹیکس شرح بھی کم ہوئی ہے۔

ساتھیو،

آج سے 6۔5 برس قبل ایسی صورتحال تھی کہ اگر انکم ٹیکس کمشنر ٹیکس دہندہ کو 3 لاکھ روپئے تک کی راحت دیتے تھے، تو اسے آئی ٹی اے ٹی میں چیلنج کیا جاتا تھا۔ اس حد کو ہماری حکومت نے 3 لاکھ سے بڑھا کر اب 50 لاکھ کر دیا ہے۔ اسی طرح سپریم کورٹ میں وہی کیس جاتے ہیں جہاں کم سے کم 2 کروڑ روپئے کا ٹیکس اپیل کا معاملہ ہو۔ ان کوششوں سے کاروبار کرنا سہل تو بنا ہی ہے، دیگر اداروں پر بھی متنازعہ مقدمات کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔

ساتھیو،

ٹیکس میں کمی اور طریقہ کار میں آسانی کے ساتھ ساتھ جو سب سے بڑی اصلاحات کی گئی ہیں وہ ایماندار ٹیکس دہندگان کے وقار سے وابستہ ہیں، ان کو پریشانی سے بچانے سے وابستہ ہیں۔ آج بھارت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس دہندگان کے حقوق اور فرائض دونوں کو کوڈیفائی کیا گیا ہے، ان کو قانونی شناخت دی گئی ہے۔ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس جمع کرنے والے کے درمیان اعتماد بحالی کے لئے، شفافیت کے لئے، یہ بہت بڑا قدم رہا ہے۔ جو شخص اپنی محنت اپنا پسینہ، ملک کی ترقی میں لگا رہا ہے۔ متعدد اہل وطن کو روزگار فراہم کر رہا ہے، وہ ہمیشہ عزت کا حقدار ہے اور میں نے 15اگست کو لال قلعہ سے بھی گذارش اور ادب کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا تھا، ملک کے سرمایہ پیدا کرنے والے کی جب مشکلات کم ہوتی ہیں، اسے حفاظت ملتی ہے، تو اس کا یقین ملک کے نظام میں اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی بڑھتے اعتماد کا نتیجہ ہے کہ اب زیادہ سے زیادہ ساتھی ملک کی ترقی کے لئے ٹیکس نظام سے جڑنے کے لئے آگے آ رہے ہیں۔ حکومت کس طرح ٹیکس دہندگان پر بھروسہ کرکے چل رہی ہے، اس کی ایک اور مثال میں آج آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

ساتھیو،

پہلے نظام ایسا تھا کہ ملک میں جتنے بھی لوگ یا کاروباری، انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرتے تھے، ان میں سے بیشتر کو انکم ٹیکس شعبہ کی کڑی نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب حکومت کی سوچ یہ ہے کہ جو انکم ٹیکس ریٹرن داخل ہو رہا ہے، اس پر پہلے پوری طرح یقین کرو۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں جو ریٹرن داخل ہوتے ہیں، ان میں سے 9.75 فیصد بغیر کسی اعتراض کے تسلیم کر لیے جاتے ہیں۔ محض 0.25 فیصد معاملات میں ہی کڑی نگرانی کرائی جا رہی ہے۔ یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جو ملک کے ٹیکس نظام میں رونما ہوئی ہے۔

ساتھیو،

ملک میں ہو رہی ٹیکس اصلاح کے مقاصد کو حاصل کرنے میں آپ جیسے ٹریبیونل کا کردار انتہائی اہم ہے۔ جس طرح سے آپ نے ورچووَل وقت کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو آگے بڑھایا ہے، مجھے یقین ہے جس طرح سے ہم فیس لیس نظام کی طرف جا رہے ہیں، آپ بھی اس پر سوچیں گے کہ، فیس لیس تعین اور اپیل کی طرح ہی آئی ٹی اپیلیٹ ٹریبیونل بھی کیا ہم فیس لیس کی سمت میں قدم رکھ سکتے ہیں کیا؟ فزیکل سنوائی کے بجائے، کیا ای۔ سنوائی کو ترجیح دی جا سکتی ہے؟ کورونا کے دور میں دی گئی ہے، آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔

ساتھیو،

کورونا کے اس دور میں ہم سبھی کا تجربہ ہے کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے بھی سارے کام اتنے ہی شفاف اور مؤثر طریقے سے ہو پا رہے ہیں۔ آج جب آپ ملک بھر کی بینچوں میں جدید سہولیات سے آراستہ کامپلیکسوں کی تعمیر کر رہے ہیں، تو یہ اصلاحات آپ کے لئے مشکل نہیں ہیں۔ اس سے ٹیکس دہندگان کا وقت، دولت اور توانائی بچے گی۔ تنازعات کا نپٹارابھی تیزی سے ہو پائے گا۔

ساتھیو،

بڑے بڑے علماء کہہ گئے ہیں کہ ۔ نیائے مول سوراجیہ سیات، سنگھ مول مہابلم

انصاف خودمختار حکومت کی بنیاد ہوتا ہے اور تنظیم عظیم طاقت کی جڑ ہے۔ اس لیے انصاف اور تنظیم کی طاقت کو آتم نربھر بھارت کی توانائی بنانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارت میں ایک کے بعدایک ہو رہی اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے پس پشت بھی یہی ترغیب ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہم سبھی کی متحدہ کوششوں سے ہماری سبھی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ آئی ٹی اپیلیٹ ٹربیونل سے جڑے سبھی ساتھیوں کو، اڈیشہ کے عوام کو پھر سے جدید کامپلیکس کے لئے میں بہت بہت مبارکبادپیش کرتا ہوں۔آپ سبھی کو دیوالی سمیت آنے والے تمام تیوہاروں کی نیک خواہشات او ر ایک بات میں ضرور کہوں گا کہ کورونا کے دور میں ہمیں کورونا کو ہلکے میں نہیں لینا ہے۔احتیاط برنے کی جو چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، جیسے ماسک پہننا، فاصلہ بنائے رکھنا، صابن سے ہاتھ دھونا، میں اڈیشہ سے اس بات کی ضرور درخواست کروں گا اور اڈیشہ فن ۔ ثقافت کی ایک بڑی سرزمین ہے، تپسیا کی سرزمین ہے۔ آج منتر گونج رہا ہے، ووکل فار لوکل، ہندوستان کے ہر کونے میں، ہندوستان کے ہر کونے کی چیز پر میرے اہل وطن کا پسینہ ہے، جس میں میرے ملک کے نوجوانوں کی صلاحیت شامل ہے، ہم انہیں چیزوں کو خریدنے کی درخواست کرتے ہیں، مقامی اشیاء خریدنے کی اپیل کریں۔ ہندوستان کی مٹی سے، ہندوستان کے پسینے سے شرابور چیزوں کو خریدنے کی اپیل کریں، یہ بات میں بھگوان جگن ناتھ جی کی سرزمین اڈیشہ کو بھی کہنا چاہوں گا، اہل وطن کو بھی کہنا چاہوں گا، ووکل فار لوکل۔ لوکل صرف دیوالی کے لئے نہیں بلکہ ہم تو چاہیں گے 365 دن دیوالی منائی جائے اور 365 دن ہم مقامی اشیاء ہی خریدیں۔ دیکھئے ملک کی معیشت تیز رفتار سے آگے بڑھنا شروع ہو جائے گی۔ ہمارے محنت کش لوگوں کے پسینوں میں وہ طاقت ہے کہ ملک کو نئی بلندیوں پر لے جائے اور اسی یقین کے ساتھ آج کے اس مبارک موقع پر میری جانب سے آپ سب کو ڈھیر ساری نیک خواہشات، نیک تمنائیں۔

بہت بہت شکریہ!

****

م ن۔ ا ب ن

U:7161



(Release ID: 1672149) Visitor Counter : 104