وزیراعظم کا دفتر
ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل کی خودنوشت کے اجرا کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2020 2:33PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 13 /اکتوبر 2020 ۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب ادھو ٹھاکرے جی، مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس جی، جناب چندر کانت پاٹل جی، جناب رادھا کرشن پاٹل جی، سجے وکھے پاٹل جی، پروگرام میں موجود دیگر عوامی نمائندگان، میرے سبھی کسان ساتھی، خواتین و حضرات، چھترپتی شیواجی مہاراج تسیچ ویر – ویرانگنا و کرم یوگ یانچی بھومی اسلیلیا مہاراشٹراس می وندن کرتو!!!
میں رادھا کرشن وکھے پاٹل جی، ان کے اہل خانہ اور احمد نگر کے سبھی ساتھیوں کا دل سے بہت مشکور ہوں، جنھوں نے مجھے اس مبارک موقع سے جڑنے کے لئے مدعو کیا۔ پہلے تو وہاں آنا طے ہوا تھا۔ آپ سب کے درمیان اس موقع پر شریک ہونا تھا، لیکن کورونا کے سبب آج ورچول طریقے سے اس پروگرام کو کرنا پڑرہا ہے۔
ساتھیو، ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل کی خودنوشت کا اجرا آج بھلے ہوا ہو، لیکن ان کی زندگی کی کہانیاں آپ کو مہاراشٹر کے ہر علاقے میں ملیں گی۔ میں نے بھی یہ قریب سے دیکھا ہے کہ کیسے ڈاکٹر وٹھل راؤ وکھے پاٹل جی کے نقوش قدم پر چلتے ہوئے بالا صاحب وکھے پاٹل نے مہاراشٹر کی ترقی کے لئے خود کو وقت کردیا تھا۔ گاؤں، غریب، کسان کی زندگی آسان بنانا، ان کے دکھ، ان کی تکلیف کم کرنا، وکھے پاٹل جی کی زندگی کا بنیادی رہا ہے۔ اپنی خودنوشت میں بھی انھوں نے لکھا ہے – ’’می سوتہ ستوپاسون وا راج کارنا پاسون الپت راہیلو ناہی، ماتر ’سماجا – ساٹھیچ راجکارن آنی ستّا‘ کے پتھیہ می کایم سامبھال لن۔ راجکارن کرتانا ماجھا ستت سماجاچے پرشن سوڈونیاور بھر راہیلا‘‘۔ انھوں نے اقتدار اور سیاست کے ذریعے ہمیشہ سماج کی بھلائی کی کوشش کی۔
انھوں نے ہمیشہ اسی بات پر زور دیا کہ سیاست کو سماج کی بامعنی تبدیلی کا وسیلہ کیسے بنایا جائے، گاؤں اور غریب کے مسائل کا حل کیسے ہو۔ بالا صاحب وکھے پاٹل جی کی یہی سوچ انھیں دوسروں سے الگ کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا ہر پارٹی، ہر جماعت میں بہت احترام ہے۔ گاؤں اور غریب کی ترقی کے لئے، تعلیم کے لئے، ان کا تعاون ہو، مہاراشٹر میں کوآپریٹیو کی کامیابی کی ان کی کوشش ہو، یہ آنے والی نسلوں کو ہمیشہ ترغیب دیں گی۔ اس لئے بالا صاحب وکھے پاٹل کی زندگی پر یہ کتاب ہم سبھی کے لئے بہت اہم ہے۔
ساتھیو، ڈاکٹر بالا صاحب وکے پاٹل نے گاؤں، غریب اور کسانوں کے دکھ کو، درد کو نزدیک سے دیکھا، سمجھا، محسوس کیا۔ اس لئے وہ کسانوں کو ایک ساتھ لائے، انھیں امداد باہمی سے جوڑا۔ یہ انھیں کی کوشش ہے کہ جو علاقہ کبھی محرومی میں جینے پر مجبور تھا، آج اس کی تصویر بدل گئی ہے۔ امداد باہمی کی اہمیت پر انھوں نے لکھا ہے کہ – سہکاری چلول ہی کھری ندھرمی چلول آہے۔ تی کٹھلیا جاتیچی کنوا دھرماچی بٹیک ناہی۔ آتاپرینت سگلیا سماجالا، جاتیں ناہی پرتیندھتو دلے آہے۔ یعنی امداد باہمی کی مہم صحیح معنی میں غیر جانبدار ہوتی ہے۔ اس کا کسی بھی ذات اور فرقے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس میں سماج کے سبھی طبقات کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ایک طرح سے ان کے لئے امداد باہمی سب کے ساتھ سے سب کی فلاح و بہبود کی راہ تھی۔ صرف مہاراشٹر ہی نہیں، اٹل جی کی سرکار میں وزیر رہتے ہوئے انھوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں امداد باہمی کو فروغ دیا، اس کے لئے کوشش کی۔ ایسے میں ان کے ’آتم چرتر‘ کے لئے ’دیہہ ویچاوا کارنی‘ نام موزوں ہے، بالکل درست ہے۔ سنت تکارام جی مہاراج کی ان لائنوں میں بالا صاحب وکھے پاٹل کی زندگی کا نچوڑ ہے۔
ساتھیو، جب ملک میں دیہی تعلیم کا اتنا ذکر بھی نہیں ہوتا تھا، تب پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی کے توسط سے انھوں نے گاؤں کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کا کام کیا۔ اس سوسائٹی کے توسط سے گاؤں کے نوجوانوں کی تعلیم اور فروغ ہنرمندی کو لے کر، گاؤں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے انھوں نے جو کام کیا وہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایسے میں آج سے پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی کے ساتھ بھی بالا صاحب کا نام جڑنا اتنا ہی مناسب ہے۔ وہ گاؤں میں، کھیتی میں تعلیم کی اہمیت سمجھتے تھے۔ انھوں نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے – شیتیچ کوشلیہ اسلیا شیوائے سوشکشت مانوسہی سہج شیتی کرو شکت ناہی۔ کھرن تر شیتیلا انٹرپرائز کا مہنت ناہیت۔ یعنی انسان کتنا ہی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو، اگر اس میں کھیتی کی ہنرمندی نہ ہو تو وہ کبھی کھیتی نہیں کر پائے گا۔ جب ایسی بات ہے تو ہم کھیتی کو انٹرپرائز کیوں نہیں کہتے؟
ساتھیو، بالا صاحب وکھے پاٹل جی کے من میں یہ سوال ایسے ہی نہیں آیا۔ زمین پر دہائیوں تک انھوں نے جو محسوس کیا، اس کی بنیاد پر انھوں نے یہ بات کہی۔ بالا صاحب وکھے پاٹل کے اس سوال کا جواب آج کے تاریخی زرعی اصلاحات میں ہے۔ آج کھیتی کو، کسان کو انیہ داتا کے رول سے آگے بڑھاتے ہوئے، اس کو صنعت کار بنانے، صنعت کاری کی طرف لے جانے کے لئے مواقع تیار کئے جارہے ہیں۔ چینی نے جو مہاراشٹر میں انقلاب بپا کیا ہے، جو انقلاب دودھ نے گجرات میں بپا کیا ہے، جو تبدیلی گیہوں نے پنجاب میں کی ہے، لوکل اکنامی، لوکل انٹرپرائز کے یہی ماڈل ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
ساتھیو، آزادی کے بعد ایک ایسا بھی دور تھا جب ملک کے پاس پیٹ بھرنے کو بھی خاطرخواہ مقدار میں اناج نہیں تھا۔ اس حالت میں حکومت کی ترجیح تھی کہ کیسے فصل کی پیداواریت بڑھے۔ اس لئے ساری توجہ بس اسی بات پر تھی کہ کسان کیا فصل پیدا کرے، کتنا پیدا کرے۔ ہمارے کسانوں نے بھی اپنا پسینہ بنایا، جی توڑ محنت کی اور ملک کی ضرورت کو زیادہ سے زیادہ فصل پیدا کرکے پورا کیا، لیکن پیداواریت کی اس فکر میں حکومتوں کی، پالیسیوں کی توجہ کسان کی منفعت پر گئی ہی نہیں۔ کسان کی آمدنی لوگ بھول ہی گئے، لیکن پہلی بار اب اس فکر کو بدلا گیا ہے۔
ملک نے پہلی بار کسان کی آمدنی کی فکر کی ہے، اس کی آمدنی بڑھانے کے لئے مسلسل کوشش کی ہے۔ چاہے وہ ایم ایس پی کو نافذ کرنے، اسے بڑھانے کا فیصلہ ہو، یوریا کی نیم کوٹنگ ہو، بہتر فصل بیمہ ہو، حکومت نے کسانوں کی ہر چھوٹی چھوٹی دقتوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ پی ایم – کسان سمان ندھی یوجنا نے کسانوں کو چھوٹے چھوٹے خرچ کے لئے دوسروں کے پاس جانے کی مجبوری سے آزادی دلائی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایک لاکھ کروڑ روپئے، براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کئے جاچکے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کولڈ چین، میگا فوڈ پارکس اور ایگرو – پروسیسنگ انفرااسٹرکچر پر بھی غیرمعمولی کام ہوا ہے۔ گاؤں کے ہاٹوں سے لے کر بڑی منڈیوں کی جدید کاری سے بھی کسانوں کو فائدہ ہونے لگا ہے۔
ساتھیو، بالا صاحب وکھے پاٹل کہتے تھے – شیتی نسرگادھارت کیلی جات ہوتی۔ ہے گیان آج سانبھالون ٹھیولہ پاہیجے۔ تسیچ نوویا آنی جنیاچا میل تری گھاتلا پاہیجے۔ یعنی پہلے کے زمانے میں کھیتی باڑی قدرتی حالات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کی جاتی تھی۔ پہلے کے اس علم کو ہمیں محفوظ کرکے رکھنا چاہئے۔ زراعت میں نئے اور پرانے طور طریقوں کا میل کرنا بہت ضروری ہے۔ نئے اور پرانے طور طریقوں کے میل کی انتہائی درست مثال ہے – گنے کی فصل۔ احمدنگر، پونے اور آس پاس کے علاقوں میں تو یہ اور بھی اہم ہے۔ اب گنے سے چینی کے ساتھ ساتھ ایتھنول نکالنے کے لئے بھی صنعتیں لگائی جارہی ہیں۔ مہاراشٹر میں ابھی 100 کے قریب ایسی صنعتیں چل رہی ہیں اور درجنوں نئی صنعتوں کو ضروری مدد دینے کی منظوری بھی مل چکی ہے۔ جیسے جیسے پٹرول میں ایتھنول کی بلینڈنگ کی صلاحیت بڑھے گی، ویسے ویسے تیل کا جو پیسہ باہر جارہا ہے، وہ کسانوں کی جیب میں آیا کرے گا۔
ساتھیو، ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل مہاراشٹر کے گاؤں کے ایک اور مسئلے کے حل کو لے کر ہمیشہ کوشاں رہے۔ یہ مسئلہ ہے پینے اور سینچائی کے پانی کی دقت۔ مہاراشٹر میں پانی کونسلوں کے توسط سے انھوں نے اس سمت میں ایک عوامی تحریک کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی۔ آج ہم اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ سال 2014 کے بعد ایسی کوششوں کو غیرمعمولی تقویت دی گئی ہے اور دیویندر جی کی حکومت کی پہچان ہی اس پانی کے کام کے سبب گاؤں گاؤں، گھر گھر تک پہنچی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم زرعی سینچائی اسکیم کے تحت مہاراشٹر میں برسوں سے زیر التوا 26 پروجیکٹوں کی تکمیل کے لئے تیزی سے کام کیا گیا۔ ان میں سے 9 پروجیکٹ اب تک مکمل ہوچکے ہیں۔ ان کی تکمیل سے تقریباً 5 لاکھ ہیکٹیئر زمین کو سینچائی کی سہولت ملی ہے۔ اسی طرح جولائی 2018 میں مہاراشٹر کے چھوٹے بڑے 90 اور سینچائی پروجیکٹوں پر کام شروع کیا گیا تھا۔ آئندہ 2 سے 3 سالوں میں جب ان پر کام مکمل ہوگا تو تقریباً 4 لاکھ ہیکٹیئر زمین سینچائی کی سہولت سے جڑے گی۔ ریاست کے 13 اضلاع ایسے بھی ہیں جہاں زیر زمین پانی کی سطح کافی کم ہے۔ ان اضلاع میں اٹل بھوجل یوجنا چلائی جارہی ہے۔
ساتھیو، صرف سینچائی ہی نہیں، گاؤں کے ہر کنبے کو پینے کا صاف ستھرا پانی پہنچانے کا کام بھی مہاراشٹر کی سرزمین پر تیز رفتاری سے چل رہا ہے۔ جل جیون مشن کے تحت گزشتہ سال بھر میں مہاراشٹر کے 19 لاکھ کنبوں کو صاف ستھرے پانی کی سہولت فراہم کی جاچکی ہے۔ اس میں سے 13 لاکھ سے زیادہ غریب کنبوں کو تو کورونا کی وبا کے دوران بھی پانی پہنچانے کا کام کیا گیا ہے۔ کوشش یہ ہے کہ جس طرح گھر گھر بیت الخلاء بناکر، جس طرح بہنوں، بیٹیوں کو وقار اور سہولت دی گئی، اسی طرح نل سے پانی پہنچاکر ان کے وقت اور محنت کو بھی بچایا جائے، اور صاف ستھرا پانی صحت کے لئے بھی بہت مفید ہوتا ہے۔
ساتھیو، گاؤں کے اقتصادی اور سماجی نظام میں مائیکرو فائیننس کا خصوصی رول ہے۔ مدرا جیسی اسکیم سے گاؤں میں اپنا روزگار آپ کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی نہیں گزشتہ برسوں میں ملک میں سیلف ہیلپ گروپ سے جڑی تقریباً 7 کروڑ بہنوں کو 3 لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کا قرض دیا گیا ہے۔ کسانوں، مویشی پروری کرنے والوں اور ماہی گیروں، تینوں کو بینکوں سے آسان قرض مل پائے، اس کے لئے سبھی کو کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت دی گئی ہے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ چھوٹے کسان کنبے جو پہلے کسان کریڈٹ کارڈ سے محروم تھے، ان کو اب مہم چلاکر یہ سہولت دی جارہی ہے۔
ساتھیو، گاؤں میں، گاؤں میں رہنے والوں میں، غریبوں میں، جب اعتماد جگے گا، جب ان کی خوداعتمادی مضبوط ہوگی، تو خود کفالت کا عزم بھی پختہ ہوگا۔ گاؤں میں خودکفالت کا یہی اعتماد بالا صاحب وکھے پاٹل جی بھی جگانا چاہتے تھے۔ زندگی بھر جگاتے رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ جو بھی ان کی اس خودنوشت کو پڑھے گا، اس کے اندر نیا شعور بیدار ہوگا۔ ایک بار پھر بالا صاحب وکھے پاٹل کو احترام کے ساتھ سلام کرتے ہوئے آپ سبھی کو بھی بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔
لیکن میری بات ختم کرنے سے پہلے میں ایک بات ضرور درخواست کرنا چاہوں گا اور مہاراشٹر کے لوگوں سے تو خاص طور سے کہنا چاہوں گا۔ کورونا کا خطرہ بنا ہی ہوا ہے۔ مہاراشٹر میں یہ تشویش ذرا اور زیادہ ہے اور اس لئے میری مہاراشٹر کے سبھی شہری بھائی بہنوں سے درخواست ہے کہ چہرے پر ماسک، بار بار ہاتھ کی صاف صفائی رکھنا، دو گز کی دوری، ان ضابطوں میں بالکل لاپروائی نہیں کرنی ہے۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا ہے، جب تک دوائی نہیں، تب تک ڈھلائی نہیں۔ ہم یہ لڑائی ضرور جیتیں گے، جیتنی ہے، جیتیں گے۔
پھر ایک بار بالا صاحب کے پورے خاندان کو بہت احترام کے ساتھ، کیوں کہ چار نسل سماج کی خدمت میں لگی رہی۔ یہ معمولی بات نہیں ہے، مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر نسل زیادہ کررہی ہے، اچھا کررہی ہے، ورنہ ہم جانتے ہیں، کچھ نسلیں ایسی ہیں، ایک نسل کے بعد دوسری نسل تھوڑی کم طاقتور نظر آتی ہے، تیسری نسل اور کمزور نظر آتی ہے اور دھیرے دھیرے زوال دکھائی دیتا ہے۔ جب کہ بالا صاحب کے سنسکار ایسے رہے ہیں کہ ان کی سب نسل یکے بعد دیگرے زیادہ طاقتور، سنسکاروں کے ساتھ عوامی خدمت میں لگی رہتی ہے، ایسے خاندان کو بھی آج سلام کرنے کا موقع ہے۔
آپ سب کا بہت بہت امتنان و تشکر!
شکریہ!!
******
م ن۔ م م۔ م ر
U-NO. 6332
(ریلیز آئی ڈی: 1664080)
وزیٹر کاؤنٹر : 230
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Assamese
,
Bengali
,
Manipuri
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam