وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے کولکاتہ ، ممبئی اور نوئیڈا میں کووڈ ٹسٹنگ کی جدید ترین سہولیات کا آغاز کیا

ملک میں 5 لاکھ سے زیادہ ٹسٹ یومیہ کئے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اِس صلاحیت کو بڑھا کر 10 لاکھ یومیہ کیا جائے : وزیر اعظم

Posted On: 27 JUL 2020 5:56PM by PIB Delhi

 

نئی دلّی  ، 27 جولائی  / وزیر اعظم  جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے  کووڈ -  19 کی ٹسٹنگ کے لئے تین جدید ترین سہولیات کا آغاز کیا  ۔ یہ سہولیات  کولکاتہ ، ممبئی اور نوئیڈا میں  طبی تحقیق کی بھارتی کونسل کے قومی اداروں  میں  واقع ہیں ۔

          وزیر اعظم نے کہا کہ  یہ جدید ترین   ٹسٹنگ کی سہولیات  تینوں شہروں میں ہر ایک میں  یومیہ   ٹسٹنگ کی صلاحیت  میں  10000 کا اضافہ کر دیں گی ۔  زیادہ تعداد میں ٹسٹ ہونے سے  جلد تشخیص  اور علاج میں مدد ملے گی  اور اِس طرح  وائرس کو پھیلنے سے  روکنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے مزید  کہا کہ یہ لیبس  صرف کووڈ کے ٹسٹ  تک  محدود نہیں رہیں گی بلکہ مستقبل میں اِن میں  ہیپی ٹائٹس بی اور سی ، ایچ آئی وی ، ڈینگو اور کئی دیگر بیاریوں  کے بھی ٹسٹ کئے جائیں گے ۔

بر وقت فیصلے

          وزیر اعظم نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ حکومت کے ذریعے  کئے گئے بر وقت فیصلوں کی وجہ سے  بھارت  کووڈ  سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے کئی دیگر ملکوں کے مقابلے بہتر حالت میں ہے  ۔ صحت یابی کی شرح بھی دوسرے ملکوں سے زیادہ ہے اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔  وائرس سے  صحت یاب ہونے والے افراد کی کل تعداد 10 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے ۔

کورونا کے  لئے  مخصوص  صحت کا بنیادی ڈھانچہ

          وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کے لئے مخصوص صحت کے بنیادی ڈھانچے  کو  تیز رفتاری سے ترقی دینا ملک کے لئے ناگزیر تھا ۔   انہوں نے کہا کہ مرکز  نے  اِس لڑائی کے آغاز میں ہی 15000 کروڑ روپئے کے پیکیج کا اعلان کر دیا تھا ۔  ملک میں اب  11 ہزار کووڈ سہولیات اور  11 لاکھ سے زیادہ الگ تھلگ بستر ہیں ۔

          ملک میں جہاں جنوری میں   ہمارے پاس کورونا کے ٹسٹ کے لئے  صرف ایک سینٹر تھا ، آج تقریباً 1300 لیبس پورے ملک میں کام کر رہی ہیں ۔ آج بھارت میں 5 لاکھ سے زیادہ ٹسٹ  یومیہ ہو رہے ہیں ۔ آنے والے ہفتوں میں اِس کو  10 لاکھ یومیہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔  

          انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ملک  پی پی ای  کٹ تیار کرنے والا دوسرا  سب سے بڑا ملک  بن گیا ہے ۔  صرف 6 مہینے پہلے ہی ملک میں پی پی ای کٹ تیار کرنے والا  ایک بھی مینو فیکچرر نہیں تھا لیکن  اس سے ترقی کرتے ہوئے آج ملک میں  1200 سے زیادہ مینو فیکچرر ہیں  ، جو  5 لاکھ سے زیادہ کٹ یومیہ تیار  کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ  در آمدات پر  انحصار  کرنے کے بعد  اب  ملک میں روزانہ  3 لاکھ سے زیادہ این 95 ماسک تیار کئے جا رہے ہیں اور  وینٹی لیٹرس  تیار کرنے کی سالانہ صلاحیت 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور  طبی آکسیجن سلینڈروں کی پیداوار میں بھی  قابل قدر اضافہ ہوا ہے ۔  اس سے نہ صرف زندگیاں بچانے میں مدد ملی ہے بلکہ  بھارت   درآمد  کار سے بر آمد کار بن گیا ہے ۔

           وائرس  کو دیہی علاقوں میں پھیلنے  سے روکنے کی کوششوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گاؤوں میں  صحت کے نئے بنیادی ڈھانچے تیار  کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پہلے سے موجود  صحت   کی سہولیات  کو فروغ دینے  کی ضرورت  پر زور دیا ۔

          وزیر اعظم نے  کہا کہ ٹھوس بنیادی ڈھانچے  میں اضافہ کرنے کے علاوہ ملک  نیم طبی عملے  ، آشا ورکروں ، آنگن واڑی وغیرہ سمیت انسانی وسائل  میں بھی  تیزی سے اضافہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے ، جنہوں نے عالمی وباء کو پھیلنے سے روکنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔  انہوں نے  صحت نظام میں نئے اور ریٹائرڈ صحت ماہرین کو مسلسل  شامل کرنے  اور  ہمارے کورونا  کے جانبازوں   میں مایوسی  کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دینے   کی ضرورت پر بھی بات کی ۔ 

تہواروں میں محفوظ رہیں

انہوں نے لوگوں کو پیشگی  خبر دار کیا کہ وہ وائرس کو قابو میں رکھنے کی خاطر آنے والے تہواروں میں تقریبات کے دوران چوکس رہیں ۔ انہوں نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ  پی ایم غریب کلیان اَنّ یوجنا کے فائدے  غریبوں  کو وقت   پر پہنچنے چاہئیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ویکسین تیار نہ ہو  دو گز  دوری  ، ماسک  پہننا اور ہاتھوں کو صاف رکھنا  لوگوں کو  اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے سب سے موثر طریقے ہیں ۔

مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ  کووڈ – 19 کے ٹسٹ کے لئے اب پورے ملک میں لیبس دستیاب ہیں ۔  انہوں نے   یہ بھی کہا کہ قومی دار الحکومت میں وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر مرکزی وزیر داخلہ ، دلّی کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔

وزرائے اعلیٰ کا اظہارِ خیال

          وزرائے اعلیٰ نے  ٹسٹنگ کی سہولیات  لانچ کرنے کے لئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا ۔  مہاراشٹر  کے وزیر اعلیٰ جناب ادھو ٹھاکرے نے مشکل حالات میں   وزیر اعظم کی قیادت  کی  ستائش کی ۔ انہوں نے ممبئی میں ‘‘ وائرس کا پیچھا  کرنے   ’’ کی پہل کا ذکر کیا اور انفیکشن کے مستقل اسپتال قائم کرنے   پر تبادلۂ خیال کیا ۔

          مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ  محترمہ ممتا بنرجی نے ریاستوں کے تئیں وزیر اعظم کے  امدادِ باہمی  کے رویہ  کی ستائش کی  ، معاملات    کو شناخت کرنے کی کوششوں ، ٹیلی میڈیسن کے استعمال    اور ریاست میں موجود کچھ لیبس  کی سہولیات میں اضافہ کرنے کی ضرورت کے بارے میں بھی  بات کی ۔ 

          اترپردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ نے  وائرس کے خلاف لڑائی میں  اَنتھک  کوششوں کے لئے وزیر  اعظم  کے تئیں شکریہ  کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ  آج  جن لیبس کا آغاز کیا گیا ہے  ، وہ ٹسٹنگ  میں لگنے والے وقت  کو بہت  حد تک کم  کر دیں گی ۔   انہوں نے ریاست میں ٹسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور یومیہ اینٹیجن  ٹسٹ  کی تعداد میں اضافہ کرنے کے منصوبے کا بھی ذکر کیا ۔

پس منظر

          یہ تین جدید ترین ٹسٹنگ سہولیات  نوئیڈا میں آئی سی ایم آر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کینسر   پریونشن اینڈ ریسرچ ، ممبئی میں آئی سی ایم آر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ  فار ریسرچ اِن ری پروڈکٹیو ہیلتھ  اور  کولکاتہ میں آئی سی ایم آر کے   نیشنل انسٹی ٹیوٹ  آف کولیرا اینڈ  اینٹیرک  ڈیزیز  میں قائم  کی گئی ہیں  اور  یومیہ  10000 سے زیادہ  نمونوں  کا ٹسٹ کر سکیں گی  ۔ یہ لیبس  ٹسٹنگ کے ٹائم میں بھی کمی کریں گے اور  لیب کے عملے کے   کلینکل  مٹیریل کے انفیکشن سے بھی بچاؤ کریں گی ۔ یہ لیبس  کووڈ کے علاوہ  دیگر امراض کا بھی  ٹسٹ کر سکیں گی اور  عالمی وباء کے بعد یہ ہیپی ٹائٹس بی اور سی ، ایچ آئی وی ، مائیکو بیکٹیریم  ٹیوبر کلوسس ، سائیٹو میگالو وائرس  ، کلیمیڈیا  ، نسیریا ، ڈینگو  وغیرہ کا بھی ٹسٹ کر سکیں گی ۔

 

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا  ) 

 U.No. 4177

 



(Release ID: 1641712) Visitor Counter : 10