وزارت خزانہ

اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ – اقتصادی پیمانوں میں بہتری

حکومت اور آر بی آئی کے ذریعے منظم طریقے سے کئے گئے پالیسی اقدامات معیشت میں کم سے کم نقصان کے ساتھ اسے جلد از جلد بحال کریں گے

Posted On: 23 JUN 2020 12:00PM by PIB Delhi

 

نئی دلّی ،23 جون  / " جان ہے تو جہان ہے " کے اصولوں پر  زندگیوں کو بچانے کی فوری ضرورت  کے پیشِ نظر بھارت  نے ملک میں  کووڈ – 19 کو ابتدائی مرحلے میں پھیلنے سے روکنے کے 24 مارچ ، 2020 ء کو 21 دن کا سخت  لاک ڈاؤن شروع کیا تھا ۔  لاک ڈاؤن کی مدت  نے   ملک میں  صحت اور ٹسٹنگ کے بنیادی ڈھانچے  کو بڑھانے میں مدد دی ۔ وقت پر تلاش ، علاج اور رپورٹنگ  کی وجہ سے  ملک میں وائرس سے صحت  یاب ہونے والے لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور  آج تک  سرگرم کیسوں کی تعداد ملک  میں کل تعداد کا 41 فی صد ہے ۔

          سخت لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹینسنگ  کے اقدامات نے معیشت پر منفی اثر بھی ڈالا ہے ۔   " جان بھی جہان بھی  " کے ساتھ ساتھ روزگار  کی حکمتِ عملی کی جانب  رفتہ رفتہ بڑھتے ہوئے بھارت یکم جون  سے اَن لاک انڈیا ( لاک ڈاؤن کا خاتمہ ) کی جانب بڑھا ہے اور مرحلہ وار خدمات اور کاروبار  پھر سے شروع ہو رہے ہیں ۔ حکومت اور آر بی آئی نے فوری طور پر  مختصر مدت کے اور طویل مدتی پالیسی اقدامات کئے ہیں  ، جن کی وجہ سے کم از کم نقصان کے ساتھ معیشت میں  جلد از جلد  نئی جان ڈالنے میں مدد ملی ہے ۔

          زراعت ، بھارتی معیشت  کا بنیادی سیکٹر ہے  اور  معمول کے مطابق  مانسون کی پیش گوئی کے ساتھ  یہ سیکٹر بھارتی معیشت کو  پھر سے ابھرنے میں مدد دے گا ۔ اگرچہ   جی ڈی پی میں اِس سیکٹر کا تعاون بہت زیادہ نہیں ہے ( صنعت اور خدمات کے تناسب سے ) لیکن اس کا فروغ  ایک بڑی آبادی پر مثبت اثر ڈالتا ہے ، جس کا انحصار زراعت پر ہے ۔  اس کے علاوہ ،  اس سیکٹر  کے لئے اعلان کردہ  اہم اصلاحات  موثر ویلیو چین تیار کرنے  اور کسانوں کے لئے  بہتر ریٹرن کو یقینی بنانے  میں  بہت کارآمد ہوں گے ۔

          بھارتی مینو فیکچرنگ کی بحالی  ، اِس حقیقت   سے ظاہر ہوتی ہے کہ دو مہینے کی مدت  کے اندر  بھارت ذاتی تحفظ کے سامان  ( پی پی ای ) تیار کرنے والا دنیا میں  دوسرا سب سے بڑا مینوفیکچرر بن گیا ہے ، جب کہ اس نے  ابھی شروعات کی ہے ۔  اقتصادی بحالی   کے مثبت آثار مئی  اور جون میں ہی نظر  آنے لگے ہیں ، جس میں  سرگرمیوں کے حقیقی  اشاریے  جیسے بجلی اور ایندھن کا استعمال  ، ریاست کے اندر اور   بین ریاستی   اشیاء کی نقل و حمل  ، خردہ مالی لین دین وغیرہ میں  تیزی  دیکھی جا رہی ہے ۔

اقتصادی اشاریوں میں بہتری

زراعت

  • سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے کسانوں سے گندم کی خریداری 16 جون ، 2020 ء کو پچھلے تمام ریکارڈ  توڑتے ہوئے 382 لاکھ میٹرک ٹن  تک پہنچ گئی ہے اور اس نے   13-2012 ء کے دوران  حاصل کئے گئے پہلے 381.48 لاکھ میٹرک ٹن کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔یہ کامیابی کووڈ – 19 عالمی وباء کے دوران  سوشل ڈسٹینسنگ کی پابندیوں پر  عمل کرتے ہوئے حاصل کی گئی ہے ۔  42 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے اور انہیں گندم کے لئے  کم از کم امدادی قیمت ( ایم ایس پی ) کے طور پر 73500  کروڑ روپئے کی ادائیگی کی گئی ہے ۔
  • جنگلات کی چھوٹی  پیداوار ( ایم ایف پی ) کی سرکاری خریداری  ، جو 16 ریاستوں میں  ایم ایس پی پر ایم ایف پی  اسکیم کے تحت کی  گئی ہے ، 79.42 کروڑ روپئے  کی خریداری کے ساتھ  پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں  ۔  یہ کووڈ  - 19 عالمی وباء کے پریشان کن دور میں  بڑی نعمت ثابت ہوئی ہے  کیونکہ  اس وباء سے قبائلیوں کی زندگی اور  روزی روٹی پر زبردست اثر پڑا تھا ۔
  • 19 جون تک  کسانوں نے  13.13 ملین ہیکٹیئر آراضی پر خریف  کی فصلیں بوئی ہیں ، جو  پچھلے سال   کی اسی مدت  کے دوران  بوئی گئی  فصل کی آراضی سے 39 فی صد  زیادہ ہے ۔ اس میں  تلہن  ، اناج ، دالیں اور کپاس  کے رقبے میں  بڑا اضافہ ہوا ہے ۔
  • مئی ، 2020 ء میں سال در سال کی بنیاد پر   فرٹیلائزر کی فروخت  میں  تقریباً 98 فی صد کا اضافہ ہوا  ( 40.02 لاکھ ٹن ) ۔ اس سے زراعت کے سیکٹر میں زبردست اضافے کا اظہار ہوتا ہے ۔  

 

مینو فیکچرنگ

  • بھارت کی پی ایم آئی مینو فیکچرنگ اور  خدمات  میں  مئی میں  بالترتیب 30.8 اور 12.6 فی صد کی کمی ہوئی ہے ۔ ( بالترتیب  27.4 اور 5.4 ) ۔
  • بجلی کے استعمال میں فروغ کی شرحوں میں نسبتاً کم کمی ہوئی ہے ، جو اپریل میں  منفی 24 فی صد  ، جب کہ مئی میں  مفنی 15.2 فی صد   اور جون میں ( 21 جون تک ) منفی 12.5 فی صد رہی ۔  جون میں بجلی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہوا اور پہلے ہفتے میں  منفی 19.8 فی صد سے بڑھ کر  دوسرے ہفتے میں منفی 11.2 فی صد اور تیسرے ہفتے میں منفی 6.2 فی صد ہو گئی ۔
  • ای – وے بلوں کی کل   قدر مئی ، 2020 ء میں 130 فی صد تک بڑھی ( اپریل  ، 2020 ء میں 3.9 لاکھ کروڑ کے مقابلے مئی میں 8.98 لاکھ کروڑ ) ہوئی ہے ۔ اگر چہ یہ پچھلے سال کے لاک ڈاؤن سے پہلے کی سطح سے کم ہے ۔  یکم جون سے 19 جون کے درمیان  ای وے بلوں کی قدر   7.7 لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی ، جب کہ ابھی  اس مہینے  میں 11 دن باقی ہیں ۔
  • پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال ، جو کہ  ملک میں مصنوعات کے استعمال اور مینو فیکچرنگ کی سرگرمیوں  کا ایک اہم اشاریہ ہے ، اپریل میں  9937000 میٹرک ٹن سے 47 فی صد بڑھ کر مئی میں  14646000 میٹرک ٹن  تک پہنچ گیا ہے ۔ سال در سال کی بنیاد پر   پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں کمی مئی کے مہینے میں منفی 23.2 فی صد رہی ، جب کہ اپریل  میں یہ منفی 45.7 فی صد تھی ۔ جون میں  پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال   میں اب  اَن لاک 1.0  کے ایک مہینے بعد مزید اضافہ ہونے کی امید ہے ۔

 

خدمات

  • مئی میں  اپریل کے مقابلے  ریلوے کے مال کی نقل و حمل میں 26 فی صد کا اضافہ ہوا  ۔ اگر چہ  یہ پچھلے سال کی سطح سے اب بھی کم ہے ۔ قومی شاہراہوں پر اشیاء کی نقل و حمل میں اضافے کے ساتھ ساتھ  جون میں  ریلوے کے مال بھاڑے میں بھی اضافہ ہونے کی امید ہے ۔
  • یومیہ ٹول محصول  کی اوسط وصولی   ، جو اپریل ، 2020 ء میں 8.25 کروڑ روپئے تھی ،  مئی میں بڑھ کر 36.84  کروڑ روپئے ہو گئی ہے ۔ جون کے پہلے ہفتے میں  اِس میں مزید  اضافہ ہوا ہے اور یہ 49.8 کروڑ روپئے تک پہنچ گئی ہے ۔
  • این پی سی آئی پلیٹ فارمس کے ذریعے  کل ڈجیٹل خردہ  مالی لین دین   ، جو اپریل میں 6.71 لاکھ کروڑ روپئے تھا ، مئی میں بڑھ کر 9.65 لاکھ کرو ڑ روپئے ہو گیا ہے ۔ امید ہے کہ یہ اضافے کا رجحان جون میں بھی جاری رہے گا ۔

 

مالی اشاریے

  • مناسب  نقد رقم  کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے  آر بی آئی کی کوششوں کے ساتھ  کارپوریٹس بانڈس  میں  مئی میں 94.1 فی صد کا  اضافہ ہوا ہے  ( 0.84  لاکھ کروڑ روپئے ) ، جب کہ اپریل میں اِس میں 22 فی صد کی کمی آئی تھی ( 0.54 لاکھ کروڑ روپئے ) ۔ جون میں اس میں مزید اضافہ ہونے کی امید ہے کیونکہ نظام میں نقد رقم   کافی مقدار میں  دستیاب ہے ۔
  • موچوول فنڈ کے  زیرِ بندوبست اوسط اثاثے ( اے یو ایم )  مئی میں 3.2 فی صد بڑھ کر 24.2 لاکھ کروڑ روپئے ہو گئے ہیں ، جو اپریل میں 23.5 لاکھ کروڑ روپئے تھے ۔
  • بھارت کے بیرونی زرِ مبادلہ کے ذخائر 12 جون کو  507.6  ارب امریکی ڈالر   تک پہنچ گئے تھے ، جو   زیادہ ایف ڈی آئی ، پورٹ فولیو کی آمد اور  تیل کی قیمتوں میں کمی  کے لئے  بڑے مدد گار ہیں ۔ بھارت میں  سال 20-2019 ء میں  73.45 ارب امریکی ڈالر  کی ایف ڈی آئی کی آمد ہوئی ، جو پچھلے مالی سال کے مقابلے  18.5 فی صد زیادہ ہے ۔

 

حکومت کی ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور امدادی سماجی بہبود کے اقدامات کے تئیں   عہد بستگی  ، ان میں تیزی سے اضافہ  کرے گی ۔ آتم نربھر بھارت کے لئے  عہد بستگی  کو   تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں  سے تقویت ملے گی اور ایک مضبوط  اور  وائبرینٹ بھارتی معیشت کی تعمیرِ نو میں تعاون کرے گی ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا ) 

U. No.  3451

 



(Release ID: 1633792) Visitor Counter : 14