امور داخلہ کی وزارت

لاک ڈاؤن میں 31 مئی 2020 تک توسیع

ریاستیں مختلف زونوں اور ان زونوں میں جن سرگرمیوں کی اجازت دی جائے گی ان کے بارے میں خود فیصلہ کریں گی؛ بعض سرگرمیاں پورے ملک میں ممنوع رہیں گی
کووڈ-19 کے بندوبست کے لیے قومی ہدایات پورے ملک میں نافذ رہیں گی
رات کے کرفیو پر عمل درآمد جاری رہے گا

Posted On: 17 MAY 2020 8:13PM by PIB Delhi

نئی دہلی،17 مئی، 2020،          24 مارچ 2020 سے لاک ڈاؤن کے جن اقدامات پر عمل کیا جارہا ہے، انھوں نے کووڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ مدد کی ہے۔ اس لیے لاک ڈاؤن کو 31 مئی 2020 تک  بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بھارت سرکار (جی او آئی) کی امور داخلہ کی وزارت (ایم ایچ اے) نے اس سلسلے میں قدرتی آفات کے بندوبست (ڈی ایم) ایکٹ 2005 کے تحت آج ایک حکم جاری کیا ہے۔ نئے رہنما خطوط کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

مختلف زونوں کے بارے میں ریاستیں فیصلہ کریں گی۔

نئے رہنما خطوط کے تحت ریاستیں اور مرکزکے زیر انتظام علاقے ریڈ، گرین اور اورینج زونوں  کے بارے میں طے کریں گی جس کا انحصار وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات  پر ہوگا۔ زون کوئی ضلع بھی ہوسکتا ہے، میونسپل کارپوریشن، یا میونسپلٹی ہوسکتی ہے اور اس سے چھوٹا انتظامیہ یونٹ بھی ہوسکتا ہے۔مثلاً سب ڈویژن وغیرہ۔ اس کے بارے میں فیصلہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کرنا ہے۔

ریڈ اور اورینج زونوں کے اندر گھیرا بندی والے اور بفر زونوں  کا فیصلہ مقامی حکام کریں گے اور یہ کام وزارت صحت کے رہنما خطوط کی پابندی کرتے ہوئے کیا جائے گا۔

گھیرا بندی والے زونوں میں صرف لازمی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔ کنٹرول کے سخت ضابطوں پر عمل ہوگا اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہوگی سوائے طبی ایمرجنسی اور ضروری سامان اور خدمات کی بحالی کے لیے۔ گھیرا بندی والے زون کے قریب میں بفرزون ہوں گے جہاں نئے کیسوں کے ظاہر ہونے کا امکان ہوگا۔ ان بفر زونوں میں مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔

پورے ملک میں جن سرگرمیوں پر پابندی ہے

پورے ملک میں محدود تعداد میں سرگرمیوں پر  پابندی برقرار رہے گی ان میں یہ چیزیں شامل ہیں۔

  • مسافروں کے لیے اندرون ملک اور بین الاقوامی سفر کی پروازیں سوائے اندرون ملک میڈیکل خدمات کے لیے وزارت داخلہ کی طرف سے اجازت شدہ مقاصد کے لیے یا سکیورٹی مقاصد کے لیے اندرون ملک  فضائی ایمبولینس ۔
  • میٹرو ریل خدمات ۔
  • اسکول، کالج ، تعلیمی  اور تربیتی / کوچنگ ادارے چلانا۔
  • ہوٹل، ریستوراں اور میزبانی کی دیگر خدمات سوائے بس ڈپو، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر کینٹین کھلا رکھنا۔
  • عوامی اجتماعات کی بڑی جگہیں مثلاً سنیما، شاپنگ مالس، جمنازیم اور تفریحی پارک وغیرہ۔
  • سماجی ، سیاسی ، ثقافتی اور اسی طرح کے اجتماعات اور دیگر اجتماعات اور عوام کے لیے مذہبی مقامات/عبادتگاہوں تک رسائی۔

البتہ آن لائن اور فاصلاتی تعلیم کی اجازت دی جائے گی اور اس کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ریستورانوں کو  خوراک کی اشیا کی گھر پر سپلائی کے لیے باورچی خانے چلانے کی اجازت ہوگی۔

کھیل کود کی سرگرمیوں کی شروعات

کھیل کود کے کمپلیکس اور اسٹیڈیم صرف کھیل کود کی سرگرمیو ں کے لیے کھولنے کی اجازت ہوگی۔ ان کمپلیکسوں میں تماش بینوں کو جانے  کی اجازت نہیں ہوگی۔

پابندیوں کے ساتھ جن سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔

لوگوں کی نقل وحرکت میں آسانی کے لیے ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع کو پہلے ہی کھول دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے 11 مئی 2020 کے ایک حکم کے تحت ٹرینوں کے ذریعے افراد کی نقل وحرکت کی پہلے ہی اجازت دے دی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت سے غیر ملکیوں کو لے جانے ، دوسرے ملکوں میں پھنسے ہوئے بھارتی باشندوں کو لانے ، بھارت کے ماہی گیروں کے آنے جانے اور پھنسے ہوئے لوگوں کے بس ا ور ٹرین کے ذریعے ریاست کے اندر اور ایک ریاست سے دوسری ریاست میں جانے کی اجازت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

موٹر گاڑیوں اور بسوں کی بین ریاستی نقل حرکت، متعلقہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی باہمی رضامندی سے اس کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں  گاڑیوں اور بسوں کے آنے جانے کا فیصلہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کریں گے۔

کووڈ-19 کے بندوبست کے لیے قومی ہدایات

کووڈ-19 کے بندوبست کے لیے قومی ہدایات میں رہنما خطوط کی وضاحت کی گئی ہے  جن کا اطلاق عام پبلک مقامات اور کام  کی جگہوں پر ہوگا۔

ان رہنما خطوط کے مطابق ماسک پہننا لازمی ہوگا۔تھوکنے پر قانون ریاستوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مقامی حکام کی طرف سے اصولوں ا ور ضابطوں کے مطابق  جرمانہ کیا جائے گا۔ عام جگہوں پر اور ٹرانسپورٹ میں تمام لوگ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کے طریقے کی پابندی کریں گے۔ شادی بیاہ کے اجتماعات میں  پچاس سے زیادہ مہمانوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ جنازے / آخری رسومات میں زیادہ سے زیادہ 20 لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت برقرار رکھی گئی ہے۔ عام جگہوں پر شراب ، پان، کٹکا اور تمباکو وغیرہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

قومی ہدایات میں کام کی جگہوں کے لیے کچھ فاضل اقدامات  طے کیے گئے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوگا گھر سے کام کرنے  کے طریقے کی پابندی کی جائے گی اور دفتروں نیز دیگر اداروں میں مختلف لوگوں کے لیے ، کام کے مختلف اوقات متعین کیے جائیں گے۔داخل ہونے اور واپس ہونے کے تمام پوائنٹ اور عام استعمال کی  جگہوں  پر تھرمل اسکریننگ، ہاتھ دھونے اور سینی ٹائزرس کا استعمال کیا جائے گا۔ کام کی تمام جگہوں اور دیگر حساس مقامات کو باقاعدہ  سینی ٹائز کیا جائے گا۔ کام کی جگہوں پر ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کو یقینی بنایا جائے گا، شفٹوں کے دوران کافی وقفہ ہوگا۔ مختلف لوگوں کے لیے لنچ کا وقفہ مختلف ہوگا۔

دوکانوں اور مارکیٹوں کے بارے میں

مقامی حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دکانیں اور مارکیٹ الگ الگ وقت میں کھلیں تاکہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ تمام دوکانوں  کو کاہگوں کے دوران 6 فٹ کا فاصلہ (2 گز کی دوری) کو یقینی بنانا ہوگا اور ایک وقت میں 5 لوگ سے زیادہ دکان میں داخل نہیں ہوں گے۔

رات کا کرفیو

شام 7 بجے سے صبح کے7 بجے تک تمام غیر ضروری سرگرمیوں کے سلسلےمیں لوگوں کی نقل وحرکت پر رات کے کرفیو کا سلسلہ جاری رہے گا۔

آسانی سے متاثر ہوجانے والے افراد کے لیے تحفظ

آسانی سے متاثر ہوجانے والے افراد مثلاً 65 سال سے زیادہ  عمر کے لوگ، کچھ دیگر بیماریوں کے شکار افراد ، حاملہ خواتین اور 10 سال سے کم عمر کے بچے گھروں پر رہیں گے، سوائے اس کے کہ انھیں لازمی ضرورتوں یا صحت کے مقاصد سے گھر سے باہر نکلنا پڑے۔

کم تعداد میں جن سرگرمیوں کومنع کیا گیا ہے یا  ا نھیں محدود کیا گیا ہے ان کے علاوہ تمام دیگر سرگرمیوں کی اجازت ہوگی

جن سرگرمیوں پر ان رہنما خطوط کے تحت خاص طور پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے علاوہ تمام سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔ البتہ گھیرا بندی والے زونوں میں صرف ضروری سرگرمیوں کی اجازت ہوگی جیساکہ اوپر بتایا گیا ہے۔

مختلف زونوں میں سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ ریاستیں کریں گی

ریاستیں / مرکز کے زیر انتظام علاقے حالات کے اپنے جائزے کے مطابق مختلف زونوں میں بعض سرگرمیوں کوممنوع قرار دے سکتی ہیں یا ضرورت کے مطابق پابندیاں لگا سکتی ہیں۔

آروگیہ سیتو کا استعمال

آروگیہ سیتو موبائل ایپلی کیشن بھارت سرکار کی طرف سے تیار کردہ ایک طاقت ور ذریعہ ہے جس سے کووڈ-19 سے متاثرہ یا متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار  افراد کی آسانی سے  نشان دہی ہوجاتی ہے اور اس طرح یہ موبائل ایپ افراد اور کمیونٹی کے لیے ایک شیلڈ کے طور پر کام کرتاہے۔دفاتر اور کام کی جگہوں پر تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر مالکان کو اپنی پوری کوشش کے ذریعے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے تمام ملازمین اس ایپلی کیشن کو اپنے فون  میں ڈاؤنلوڈ کریں۔

ضلع حکام سے کہا گیاہے کہ وہ  افراد کو یہ ہدایت کریں کہ وہ اپنے موبائل فون میں آروگیہ سیتو ایپلی کیشن کو انسٹال کریں اور اپنی صحت کے بارے میں اس ا یپلی کیشن پر باقاعدہ تازہ اطلاعات فراہم کرتے رہیں۔ اس سے ان لوگوں  کو جو کووڈ کے خطرات سے دوچار ہیں، بروقت طبی توجہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ریاستیں / مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومتیں لاک ڈاؤن کے رہنما خطوط پر سختی سے عملدرآمد کا سلسلہ جاری  رکھیں گی اور بحران کے بندوبست کے قانون 2005 کے تحت جاری کردہ ان رہنما خطوط میں کسی بھی طرح نرمی نہیں کریں گی۔

لاک ڈاؤن کی توسیع کے حکم اور نظر ثانی شدہ قومی رہنما خطوط کے لیے یہاں کلک کیجیے

****************

م ن۔ اج ۔ ر ا

U:2596



(Release ID: 1624878) Visitor Counter : 70