وزارت خزانہ

وزیر خزانہ نے آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت 7 شعبوں میں سرکاری اصلاحات اور امدادی اقدامات کا اعلان کیا

Posted On: 17 MAY 2020 3:11PM by PIB Delhi

        

اہم خصوصیات

  • روزگار کو بڑھانے کے لیے ایم جی نریگا کے لیے مختص رقم میں 40 ہزار کروڑ روپئے کا اضافہ۔
  • بھارت کو مستقبل کی آفات کے لیے تیار کرنے کی خاطر عوامی صحت  اور دیگر صحت اصلاحات کے لیے اضافہ شدہ سرمایہ کاری۔
  • کووڈ کے بعد یکسانیت کے ساتھ ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم۔
  • آئی بی سی  سے متعلق اقدامات کے ذریعے کاروبار میں آسانی کے لیے مزید اضافہ۔
  • کمپنی قانون میں ڈفالٹ کو فوجداری کی تعریف سے ہٹایا جائے گا۔
  • کاروپوریٹ اداروں کے لیے کاروبار میں آسانی۔
  • ایک نئے خود کفیل بھارت کے لیے پبلک سیکٹر انٹر پرائز پالیسی۔
  • ریاستوں کے لیے قرضہ لینے کی حد  صرف 2020-21 کے لیے 3 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کی جائے گی۔ اور سرکاری سطح کی اصلاحات کو فروغ دیا جائے گا۔

عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 12 مئی 2020 کو 20 لاکھ کروڑ روپئے کے ایک خصوصی اقتصادی اور جامع پیکیج کا اعلان کیا تھا جو بھارت کی جی ڈی پی کے 10 فیصد کے برابر ہے۔ انھوں نے آتم نربھر بھارت ابھیان  یا خود کفیل بھارت تحریک کا نعرہ دیا تھا۔ انھوں نے  آتم نربھر بھارت کے پانچ ستونوں کو بھی اجاگر کیا تھا۔ یعنی معیشت، بنیادی ڈھانچہ، سسٹم، نوجوانوں کی متحرک آبادی اور مانگ۔

آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے متحرک اقتصادی پیکیج کے بارے میں پانچویں پریس کانفرنس میں اپنے ابتدائی کلمات میں خزانے اور کارپوریٹ امور کی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے اس وژن کا ذکر کیا  جس کی تفصیل وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 12 مئی 2020 کو قوم کے نام اپنے خطاب میں اجاگر کی تھی۔ وزیر اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہم اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ وبائی بیماری کووڈ-19 نے ایک پیغام دیا ہے اور ایک موقع فراہم کیا ہے۔ہمیں ایک آتم نربھر بھارت کی تعمیر کرنی ہے۔

محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ آتم نربھر بھارت کے عزم کو ثابت کرنے کے لیے آتم نربھر بھارت پیکیج میں زمین ، مزدوری، نقدی اور قوانین کی پابندی  پر زور دیا گیا ہے۔ بحران اور چیلنج ایک خود کفیل بھارت کی تعمیر کے لیے ایک موقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آج کا اعلان اقتصادی اصلاحات کے  سلسلے کا ایک حصہ ہے۔ لاک ڈاؤن کے فوراً بعد پرائمنسٹر غریب کلیان پیکیج (پی ایم جی کے پی) شروع کیا گیا تھا۔ پی ایم جی کے پی کے 1.70 لاکھ کروڑ کے ایک حصے کے طور پر حکومت نے مفت غذائی اناج ، خواتین، بزرگ شہریوں اور کسانوں وغیرہ  کو نقد ادائیگی  کا اعلان کیا تھا۔اس پیکیج پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔۔ پی ایم جی کے پی کے تحت تقریباً 41 کروڑ غریب لوگوں کو52608 کروڑ روپئے کی مالی امداد مل چکی ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں کو براہِ راست فائدوں کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے لیے  پی ایم جی کے پی میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ہم یہ سب کچھ ان اقدامات کے بعد کرسکے جو ہم نے پچھلے چند برسوں میں کیے تھے۔

اس کے علاوہ ریاستیں  84 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ غذائی اناج اٹھا چکی ہیں اور 3.5 لاکھ  میٹرک ٹن سے زیادہ دالیں مختلف ریاستوں کو بھیجی گئی ہیں۔ محترمہ سیتا رمن نے اس کے لیے ایف سی آئی ، این اے ایف اے ڈی اور ریاستوں کی ستائش کی کہ راستوں کی پریشانیوں کے باوجود  دالیں اور اناج فراہم کیا گیا۔

حکومت کی اصلاحات اور امدادی اقدامات کے پانچویں اور آخری حصے کا اعلان کرتے ہوئے محترمہ سیتا رمن نے روزگار فراہم کرنے، کاروبار میں امداد دینے، کاروبار میں آسانی پیدا کرنےا ور ریاستی حکومتوں نیز تعلیم اور صحت جیسے 7 اقدامات کا ذکر کیا۔

1۔ روزگار کو فروغ دینے کے لیے ایم جی نریگا کے لیے مختلف رقم میں 40 ہزار کروڑ روپئے کا اضافہ۔

حکومت ایم جی نریگا کے تحت اب مزید 40 ہزار کروڑ روپئے  ا لاٹ کرے گی۔ اس سے تقریباً 300 کروڑ افرادی دن پیدا ہوں گے جس سے مزید کام کی ضرورتیں پوری ہوں گی۔ اس کام میں مانسون کے موسم میں بھی واپس آنے والے مائی گرینٹ کارکنوں کی مدد کی جاسکے گی۔بڑی تعداد میں دیر پا اور روزی روٹی کے مواقع پیدا ہوں گے جن میں پانی کو محفوظ رکھنے کے طریقے بھی شامل ہیں، جن سے زیادہ پیداوار کے ذریعے دیہی معیشت کو بڑھاوا ملے گا۔

2۔ صحت اصلاحات اور اقدامات

دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں صحت مراکز اور شفا خانوں کو بہتر بنا کر بنیادی صحت اداروں میں  سرمایہ کاری میں اضافہ کیاجائے گا۔ تمام اضلاع میں انفیکشن والی بیماریوں سے نمٹنے والے اسپتال بلاک قائم کیے جائیں گے اور  تمام اضلاع نیز بلاک کی سطح کی تجربہ گاہوں اور عوامی صحت یونٹ میں انٹگریٹیڈ پبلک ہیلتھ لیبس کے ذریعے لیب نیٹ ورک اور کڑی نگرانی کو مستحکم بنایاجائے گا۔اس کے علاوہ آئی سی ایم آر کی طرف سے نیشنل انسٹی ٹیوشنل پلیٹ فارم فار ون ہیلتھ سے تحقیق کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس کے علاوہ  نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ مشن کے تحت نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ بلو پرنٹ پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

کووڈ کے بعد یکسانیت کے ساتھ ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم۔

ڈیجیٹل / آن لائن تعلیم تک ہمہ جہت رسائی کے سلسلے میں  پی ایم ای ودّیا کا پروگرام  فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ طلبا ، ٹیچروں  اور کنبوں  کی ذہنی صحت اور جذباتی صحت میں مدد دینے کے لیے ایک نفسیاتی سماجی پروگرام منو درپن بھی فوری طور پر شروع کیا جائے گا ۔اسکولوں کے لیے، بچوں کے لیے اور ٹیچروں کے لیے نیا قومی نصاب اور مدرسانہ فریم ورک بھی شروع کیا جائے گا۔ دسمبر 2020 تک نیشنل فاؤنڈیشنل لیٹریسی اینڈ نیومریسی مشن شروع کیا جائے گا جس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہر بچہ 2025 تک تعلیم حاصل کرے اور گریڈ پانچ تک پہنچ جائے۔

4۔آئی بی سی سے متعلق اقدامات کے ذریعے کاروبار میں مزید آسانی

دیوالیہ پن سے متعلق کارروائی شروع کرنے کے لیے رقم کی کم از کم حد بڑھا کر ایک کروڑ روپئے کردی گئی تھی (پہلے یہ رقم ایک لاکھ روپئے تھی جس سے ایم ایس ایم ایز کو حرارت ملتی تھی) ضابطے کی دفعہ 240 اے کے تحت ایم ایس ایم ایز کے لیےدیوالیہ پن کے خصوصی  حل کا فریم ورک جلد ہی مشتہر کیا جائے گا۔

دیوالیہ پن  کی کارروائی سے متعلق مقدمات کی شروع کا معاملہ ایک سال تک معطل رکھا جائے گا۔ اور اس کا انحصار وبائی بیماری کی صورتحال پر ہوگا۔ دیوالیہ پن سے متعلق کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے مرکزی حکومت کوکووڈ-19 سے متعلق قرضوں کی عدم ادائیگی کو ڈفالٹ کی  تعریف سے ہٹا دیا جائے گا۔

کمپنی قانون میں ڈفالٹ کو فوجداری کی تعریف سے ہٹایا جائے گا۔

چھوٹی تکنیکی اور طریقہ کار کی غلطیوں مثلاً سی ایس آر  کی  رپورٹنگ میں خامیوں، بورڈ کی رپورٹ میں کمیوں، سالانہ عام میٹنگ بلانے میں تاخیر ،  خامیوں کی نشان دہی میں تاخیر وغیرہ،  جیسی غلطیوں کو کمپنیوں کے ڈفالٹ کی فوجداری کی تعریف سے ہٹادیا جائے گا۔

6۔ کاروپوریٹ اداروں کے لیے کاروبار میں آسانی۔

خاص اصلاحات میں مندرجہ ذیل اقدامات شامل ہیں:

  • منظور شدہ غیر ملکی منڈیوں میں ہندوستانی سرکاری کمپنیوں کے ذریعہ سیکیورٹیز کی براہ راست فہرست سازی۔
  • پرائیویٹ کمپنیاں جو اسٹاک ایکسچینجوں میں این سی ڈیز کی فہرست سازی کرتی  ہیں انھیں لسٹیڈ کمپنیوں میں شامل نہیں سمجھا جائے گا۔
  • کمپنی قانون 2013 میں کمپنی قانون 1956 کے  پارٹ  9 اے (پروڈیوسر کمپنیاں کے ضابطوں کو شامل کیا جائے گا)۔
  • این سی ایل اے ٹی کے لیے فاضل /خصوصی  بینچوں کے قیام کا اختیار۔
  • چھوٹی کمپنیوں، ایک نفری کمپنیوں ، پروڈیوسر کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ڈفالٹ کے سلسلےمیں کم جرمانہ۔

7۔ایک نئے خود کفیل بھارت کے لیے پبلک سیکٹر انٹر پرائز پالیسی۔

حکومت ایک نئی پالیسی کا اعلان کرے گی جس کے ذریعے –

  • عوامی مفاد میں پی ایس ایز کی اس کی موجودگی کے لیےاہم سیکٹروں کی فہرست کو مشتہر کیا جائے گا۔
  • اہم سیکٹروں میں  کم از کم ایک کارخانہ سرکاری سیکٹر کا ہوگا لیکن پرائیویٹ سیکٹر کی بھی اجازت دی جائے گی۔
  • دوسرے سیکٹروں میں پی ایس ایز کی نجکاری کی جائے گی (وقت کا انحصار امکانات وغیرہ پر ہوگا)۔
  • فضول انتظامیہ خرچ کو کم سے کم کرنے کے لیے اہم سیکٹروں میں کارخانوں کی تعداد 4 کے مقابلے صرف ایک ہوگی۔ دیگر کی نجکاری کی جائے گی/ ان کو دوسروں میں ضم کیا جائے گا یا انھیں ہولڈنگ کمپنی کے تحت لے آیا جائے گا۔

8۔ریاستی حکومتوں کو امداد

مرکز نے ریاستوں کے لیے قرضہ لینے کی حد  صرف 2020-21 کے لیے 3 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے ریاستوں کو 4.28 لاکھ کروڑ روپئے کے اضافی وسائل دستیاب ہوں گے۔ قرضے کے ایک حصے کو خصوصی اصلاحات (جن میں مالی کمیشن کی سفارشات شامل ہیں) سے منسلک کیا جائے گا۔ اصلاحات کا سلسلہ 4 شعبوں میں ہوگا: ‘ون نیشن ون راشن کارڈ’ کو سبھی کے لیے اپنایا جانا، کاروبار میں آسانی کرنا، بجلی کی تقسیم اور شہری لوکل اداروں کے مالیے، اخراجات کا محکمہ  مندرجہ ذیل طریقے پر ایک خصوصی اسکیم کو مشتہر کرے گا۔

  • صفر اعشاریہ پانچ فیصد کا غیر مشروط اضافہ
  • صفر اعشاریہ دو پانچ فیصد کی چار قسطوں کا ایک فیصد حصہ واضح طور پر  مخصوص کیے گئے اندازہ لگانے کے قابل اور ممکنہ اصلاحی اقدامات سے جوڑا جائے گا۔
  • مزید صفر ا عشاریہ پانچ فیصد اضافہ بشرطیکہ ان چار اصلاحی شعبوں میں سے کم از کم تین  میں نمایاں کامیابی حاصل کی گئی ہو۔

وزیر خزانہ نے  آتم نربھر بھارت کی تعمیر کے لیے فراہم کیے گئے اقدامات کی تفصیل کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی۔

****************

م ن۔ اج ۔ ر ا

U:2595



(Release ID: 1624877) Visitor Counter : 362