PIB Headquarters

کووڈ 19پر پی آئی بی کی روزمرہ بلیٹن

Posted On: 10 MAY 2020 6:23PM by PIB Delhi


http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image0015L3Z.png http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image002N97X.jpg

(کووڈ 19 پر مشتمل پریس ریلیزز، جو گذشتہ 24 گھنٹوں میں جاری کیا گیا ہے، فیلڈ افسران سے حاصل کردہ معلومات اور پی آئی بی کے ذریعہ کئے گئے صحیح تجزیات)

 

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image0031E32.png

نئی دہلی ،10مئی2020:


کووڈ۔ 19 کی روک تھام کے لئے مناسب صحت انفراسٹرکچر اور صحت سہولتوں کا قیام

ملک میں کووڈ۔ 19 کی روک تھام کے لئے صحت کے مناسب بنیادی ڈھانچے اور صحت سہولیات کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ کووڈ۔ 19معاملے کی روک تھام کے لئے وقف صحت عامہ کی سہولیات کو ذیل میں تین زمروں میں درجہ بندی کی گئی ہے۔

زمرہ اول وقف کووڈ اسپتال (ڈی سی ایچ) – وقف کووڈ اسپتال وہ اسپتال ہیں جو بنیادی طور پر ان لوگوں کے لئے جامع دیکھ بھال پیش کرتے ہیں جنہیں طبی طور پر سنگین کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ ان اسپتالوں میں یقینی آکسیجن معاونت کے ساتھ آئی سی یو ، وینٹی لیٹرز اور بیڈ ہوں گے۔ ان اسپتالوں میں مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسوں کے لئے الگ الگ شعبے ہوں گے۔ وقف کوویڈ اسپتال، وقف کوویڈ صحت مراکز اور کوویڈ کیئر سنٹرز کے لئے ریفرل مراکز کے طور پر کام کریں گے۔

زمرہ دوم وقف کووڈ ہیلتھ سینٹر (ڈی سی ایچ سی) - وقف کوویڈ ہیلتھ سینٹرز ایسے اسپتال ہیں جو ان سبھی معاملوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں جنہیں طبی لحاظ سے معتدل مانا جاتا ہے۔ وقف کوویڈ ہیلتھ سینٹرز میں مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسوں کے لئے الگ الگ شعبے ہیں۔ ان اسپتالوں میں آکسیجن کی معاونت کے ساتھ بیڈ ہوں گے۔ ہر ایک وقف کوویڈ ہیلتھ سینٹرکو ایک یا ایک سے زیادہ وقف کوویڈ اسپتالوں سے جوڑا گیا ہے۔

زمرہ سوم وقف کوویڈ کیئر سنٹر (ڈی سی سی سی) - کوویڈ کیئر سینٹرز صرف ایسے معاملات کی دیکھ بھال کریں گے جنہیں طبی لحاظ سے ہلکے یا بہت ہلکے معاملوں یا کووڈ مشتبہ معاملوں کے طور پر مانا جاتا ہے۔ یہ عارضی سہولیات ہیں جنہیں ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام خطوں کے ذریعہ ہاسٹلوں، ہوٹلوں ، اسکولوں ، اسٹیڈیموں وغیرہ سرکاری اور نجی دونوں سطحوں پر قائم کی جاسکتی ہیں۔ ان سہولیات میں مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسوں کے لئے الگ الگ شعبے ہوں گے۔ ہر ایک وقف شدہ کووڈ کئیر سینٹر کو ایک یا زیادہ وقف کووڈ ہیلتھ سینٹرز اور کم از کم ایک وقف کووڈ اسپتال سے ریفرل مقصد کے لئے جوڑا جاتا ہے۔

10 مئی 2020 تک تمام ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں کے 483 اضلاع میں 7740 سہولیات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے اسپتال اور سہولیات بھی شامل ہیں۔ یہاں 656769 آئیسولیشن بستر ، تصدیق شدہ معاملات کے لئے 305567 بستر ، مشتبہ معاملات کے لئے 351204 بستر ، 99492 آکسیجن سہارے والے بیڈ ، آکسیجن کے ساتھ 1696 سہولیات اور 34076 آئی سی یو بیڈ موجود ہیں۔

حکومت ہند کی طرف سے تمام ریاستوں ؍ مرکز کے زیر انتظام خطوں سے درخواست کی گئی ہے کہ معلومات عامہ کے لئے وہ اپنی ویب سائٹوں پر ان تین طرح کے کووڈ وقف شدہ سہولتوں کو اپ لوڈ کر دیں۔ 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں نے اپنی ویب سائٹوں پر پہلے سے ہی معلومات اپ لوڈ کر رکھی ہیں اور بقیہ ایسا کرنے والی ہیں۔

امراض پر قابو پانے کے قومی مرکز (این سی ڈی سی) میں کووڈ۔19 کے لئے جانچ کی گنجائش کو مزید بڑھانے کی ضرورت کے پیش نظر بااختیار گروپ 2 کی سفارشات کے مطابق ایک اعلی تھروپٹ مشین کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے۔ این سی ڈی سی میں اب کوباس 6800 ٹیسٹنگ مشین کامیابی کے ساتھ نصب کردی گئی ہے۔ ضرورت کے مطابق این سی ڈی سی دہلی ، این سی آر ، لداخ ، جموں و کشمیر اور مختلف دیگر ریاستوں سے نمونوں کی جانچ کے لئے مدد فراہم کررہا ہے۔ فی الحال این سی ڈی سی میں جانچ کی گنجائش روزانہ تقریبا 300 سے 350 ٹیسٹ ہے۔

اب تک مجموعی طور پر 19،357 افراد ٹھیک ہوچکے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 1511 مریض ٹھیک ہوئے ہیں۔ اس سے بحالی کی کل شرح 30.76فیصد ہوجاتی ہے۔ تصدیق شدہ کیسوں کی کل تعداد اب 62،939 ہے۔

کووڈ۔ انیس سے منسلک تکنیکی مسائل، رہنما خطوط اور مشوروں سے متعلق تمام مستند اور تازہ ترین معلومات کے لئے برائے مہربانی مستقل طور پر درج ذیل لنک دیکھیں۔

https://www.mohfw.gov.in/ and @MoHFW_INDIA .

کووڈ۔ 19 سے متعلق تکنیکی سوالات

technicalquery.covid19@gov.in

پر اور دیگر سوالات

ncov2019@gov.in and @CovidIndiaSeva .

پر بھیجے جا سکتے ہیں۔

کووڈ۔19 سے متعلق کوئی سوال ہونے کی صورت میں سے براہ کرم وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کریں۔ : + 91-11-23978046 یا 1075 (ٹول فری)۔

کووڈ۔ 19 سے متعلق ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام خطوں کے ہیلپ لائن نمبر کی فہرست درج ذیل لنک پر دستیاب ہے:

https://www.mohfw.gov.in/pdf/coronvavirushelplinenumber.pdf

کووڈ-19 کے بندوبست میں مدد دینے کے لیے مرکزی ٹیمیں ریاستوں کو بھیجی جارہی ہیں

صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کی وزارت نے ا ن 10 ریاستوں، جہاں کورونا وائرس تیزی سے پھیلا ہے؍ پھیل رہا ہے، مرکزی ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹیمیں متعلقہ ریاستوں کے صحت کے محکموں کو کووڈ-19 کے پھیلاؤکے بندبست میں آسانیاں فراہم کریں گی۔

یہ ٹیمیں صحت وخاندانی فلاح وبہبود کی وزارت کے ایک سینئر اہلکار، جوائنٹ سکریٹری سطح کے نوڈل افسر اور ایک عوامی صحت کے ماہر پر مشتمل ہوں گی۔ یہ ٹیم متعلقہ ریاستوں کے اضلاع؍ شہروں کے اندر متاثرہ علاقوں میں کووڈ-19 کے پھیلاؤکی روک تھام کے اقدامات پر عمل درا?مد کے معاملے میں ریاستوں کے صحت کے محکمے کی مدد کریں گی۔ یہ ٹیمیں مندرجہ ذیل ریاستوں کو بھیجی جارہی ہیں:۔

1۔ گجرات، 2۔ تمل ناڈو، 3۔ اترپردیش، 4۔ دہلی، 5۔ راجستھان، 6۔ مدھیہ پردیش، 7۔ پنجاب، 8۔ مغربی بنگال، 9۔ آندھرا پردیش، 10۔ تلنگانہ۔

یہ ٹیمیں عوامی صحت کے ماہرین کی ا ن 20 مرکزی ٹیموں کے علاوہ ہیں جو پہلےا ن اضلاع میں بھیجی جاچکی ہیں جہاں کووڈ-19 کے زیادہ کیس ہوئے ہیں۔

اعلیٰ سطح کی ایک ٹیم کو حال ہی میں ممبئی بھیجا گیا ہے تاکہ وہ کووڈ-19 کے بندوبست کے سلسلے میں ریاستی کوششوں میں مدد کرے۔

کابینی سیکریٹری نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں اور صحت سکریٹریوں کے ساتھ میٹنگ کی سربراہی کی تاکہ کووڈ-19 انتظامیہ کی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے

کابینی سکریٹری ، جناب راجیو گوبا کی سربراہی میں تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور صحت سیکریٹریوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس میٹنگ کا مقصد کووڈ-19 کے ان کے انتظام کا جائزہ لینا تھا۔

آغاز میں کابینی سکریٹری نے کہا کہ ریلوے کے ذریعہ 3.5 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن مزدوروں کو لے کر 360 سے زیادہ شرمک اسپیشل ٹرینیں چلائی گئی ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں سے درخواست کی کہ مزید شرمک اسپیشل ٹرینیں چلانے میں ریلوے کو تعاون دیں۔ انہوں نے وندے بھارت مشن کے تحت غیر ممالک سے ہندستانیوں کی واپسی یا لوٹنے پر ریاستوں کے تعاون کو بھی اجاگر کیا۔

کابینی سکیریٹری نے زور دے کر کہا کہ ڈاکٹروں، نرسوں، اور پرا میڈیکل کی نقل و حرکت مکمل طور پر بغیر کسی رکاوٹ کے ہونا چاہے اور کورونا وائرس کی سہولت اور حفاظت کے لئے تمام اقدام اٹھائے جانے چاہئیں۔

ریاستی چیف سکریٹریوں نے اپنی ریاستوں کی صورتحال کے بارے میں جانکاری دی اور یہ بھی کہا کہ جہاں ایک طرف کووڈ-19 سے تحفظ ضروری ہے، وہیں دوسری جانب معاشی سرگرمیوں کو ہدف پر مبنی (کیلبریٹیڈ طریقے سے) طریقے سے آگے بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔

وزیراعظم ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ میٹنگ کریں گے

وزیراعظم جناب نریندر مودی ، ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ 11 مئی 2020 کو دوپہر 3 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنی پانچویں میٹنگ کا انعقاد کریں گے۔

وزیراعظم کے دفتر سے ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا :پی ایم نریندر مودی کل دوپہر 3 بجے ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ پانچویں میٹنگ کا انعقاد کریں گے۔

بھارتی ریلوے نے 10 مئی 2020 تک ملک بھر میں چلائیں 366 شرمک اسپیشل ٹرینیں

مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے تارکین وطن مزدوروں ،تیرتھ یاتریوں ، طلبا اور دیگر افراد کی آمدورفت خصوصی ریل گاڑیوں سے یقینی بنانے کے لئے وزارت داخلہ کی ہدایات حاصل ہونے کے بعد بھارتی ریلوے نے شرمک اسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ لیا تھا۔

10 مئی 2020 (1500 بجے) تک ملک بھر کی مختلف ریاستوں سےکل 366 شرمک اسپیشل ٹرینیں چلائی گئی ہیں جن میں سے 287 ٹرینیں اپنی منزل مقصود تک پہنچ بھی چکی ہیں جبکہ 79 ریل گاڑیاں فی الحال اپنی اپنی منزلوں کی جانب تیز رفتار سے گامزن ہیں۔

ان خصوصی ریل گاڑیوں کا سفر، مختلف ریاستوں جیسے ا?ندھراپردیش (1 ٹرین) بہار (87 ریل گاڑیاں)ہماچل پردیش (1 ٹرین) جھارکھنڈ (16 ٹرینیں)مدھیہ پردیش (24 ریل گاڑیاں) مہاراشٹر (3 ریل گاڑیاں) اڈیشہ (20 ریل گاڑیاں) راجستھان (4 ریل گاڑیاں) تلنگانہ (2 ریل گاڑیاں) اترپردیش (127 ٹرینیں) مغربی بنگال (2 ریل گاڑیاں) میں جاکر ختم ہوا۔ ان ریل گاڑیوں کے تارکین کو کئی شہروں تک پہنچایا ہے جن میں تروچراپلی، ٹٹلاگڑھ، برونی، کھنڈوا، جگن ناتھ پور، کھردا روڈ، پریا گ راج، چھپرا، بلیا، گیا، پورنیا، ورانسی، دربھنگا، گورکھپور، لکھنو ¿، جون پور، ہیتیا، بستی، کٹیہار، دانا پور، مظفر نگر، سہرسا وغیرہ شامل ہیں۔

ان شرمک اسپیشل ٹرینوں سے زیادہ سے زیادہ تقریباً 200 مسافر ہی سماجی فاصلہ بنائے رکھنے کے اصول کی باقاعدہ تعمیل کرتے ہوئے سفر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ٹرین میں چڑھنے سے پہلے مسافروں کی مجموعی طور پر اسکریننگ یا جانچ کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ بھی ہے کہ ان شرمک اسپیشل ٹرینوں سے سفر کے دوران مسافروں کو مفت کھانا اور پانی بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ نے سی بی ایس ای سے منسلک 3000 اسکولوں کو ، سی بی ایس ای بورڈ کے امتحانات کی جوابات کی کاپیوں کا جائزہ لینے کے پورے بھارت جائزہ مرکزوں کے طور پر کھولنے کی اجازت دی

اس اجازت سے جوابات کی ڈیڑھ کروڑ کاپیوں کو فوری طور پر جانچنے میں مدد ملے گی – جناب رمیش پوکھریال نشنک

وزارت داخلہ نے آج سی بی ایس ای سے منسلک 3000 اسکولوں کو کھولے جانے کی اجازت دی۔ پورے بھارت میں ان اسکولوں میں سی بی ایس ای بورڈ امتحانات کی جوابات کی کاپیوں کو جانچنےمیں مدد ملے گی۔ ایچ ا?ر ڈی کے مرکزی وزیر جناب رمیش پوکھریال نشنک نے اجازت دینے پر امور داخلہ کی وزارت کے تئیں اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے بھارت میں جائزہ مرکزوں کے طور پر سی بی ایس ای سے وابستہ 3000 اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور امتحانات کی کاپیاں جانچنے کے واحد مرکز کے طور پر ان اسکولوں کو اجازت دے دی جائے گی۔

جناب نشنک نے امید ظاہر کی کہ اس سے جوابات کی ڈیڑھ کروڑ کاپیوں کو جلد جانچنے میں مدد ملے گی۔ نتائج کا اعلان بورڈ کے بقیہ امتحانات کرائے جانے کے بعد کیا جائے گا (جو یکم جولائی سے 15 جولائی 2020 کے درمیان کرائے جائیں گے

وزیر قانون نے اٹارنی جنرل ، سالیسیٹر جنرل اور حکومت ہند کے تمام لائ آفیسرز کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی

آئیے انصاف کی فراہمی میں ڈیجیٹل سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے ایک موقع کے طور پر لاک ڈاو ¿ن کو لیں: روی شنکر پرساد

مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف جناب روی شنکر پرساد نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اٹارنی جنرل آف انڈیا کی سربراہی میں لا افسران کی ٹیم کے ساتھ بات چیت کی۔ اٹارنی جنرل ا?ف انڈیا ، شری کے کے وینوگوپال ، سالیسیٹر جنرل شری تشار مہتا ، تمام ایڈیشنل سالیسیٹرز جنرل اور اسسٹنٹ سالیسیٹرز جنرل ، سیکرٹری برائے قانونی امور کے محکمہ اور محکمہ انصاف کے سکریٹری نے شرکت کی۔ کورونا وائرس پھیلنے کو روکنے کے لئے نافذ لاک ڈاؤن کے دوران یہ اپنی نوعیت کی پہلی ورچول میٹنگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔

وزیر قانون نے اپنے افتتاحی ریمارکس میں کہا کہ ہم مشکل وقت میں جی رہے ہیں اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی ٹیم انڈیا کی حیثیت سے ملک کی قیادت کر رہے ہیں جہاں حکومت ہند اور تمام ریاستی حکومتیں چیلنج سے نمٹنے کے لئے کثرت سے بات چیت کررہی ہیں۔ جناب پرساد نے لائ آفیسرز کو بتایا کہ وزیر اعظم نے خود وزرائے اعلیٰ کے ساتھ لاک ڈاؤن کی ضرورت اور اس کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے کسی متفقہ نظریہ پر پہنچنے کے لئے متعدد ورچول ملاقاتیں کیں۔ کابینہ سکریٹری اور صحت سکریٹری مختلف چیف سیکرٹریوں اور صحت سیکرٹریوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ وسیع تاثرات کی بنیاد پر وزارت داخلہ ، وزارت صحت اور دیگر متعلقہ وزارتیں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت رہنما اصول جاری کرتی ہیں۔

وزیر موصوف نے خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے وبائی مرض سے نمٹنے سے چیلنجوں کی پیچیدہ اور حساس نوعیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور یہ مناسب ہوگا کہ حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں کے اس فیصلہ سازی کے عمل پر اعتماد کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے بھی اس نظریہ کی حمایت کی اور خاص طور پر روشنی ڈالی کہ عدالتوں کو اس کی ستائش کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر قانون نے خاص طور پر روشنی ڈالی کہ ان مشکل وقتوں میں جذباتی پی آئی ایل سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ کوئی بھی کسی کو مقدمہ درج کرنے سے نہیں روک سکتا لیکن اس قسم کی کوششوں کا موثر جواب ہونا چاہئے۔ اٹارنی جنرل اور دیگر تمام لا افسروں نے اس کی تعریف کی۔ سکریٹری ، محکمہ انصاف نے ای عدالتوں اور دیگر پیشرفتوں سے متعلق امور کو اجاگر کیا جن کو مزید موثر بنانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ان ایڈوکیٹ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جنہوں نے مقدمات کی ای فائلنگ کے لئے اندراج کیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران 1282 وکلا نے درخواستوں کی ای فائلنگ کے لئے اندراج کیا ہے جن میں سے صرف گذشتہ ایک ہفتہ میں 543 وکلا نے اپنا اندراج کیا ہے۔

اٹارنی جنرل اور دوسرے بہت سے لا افسروں نے اس بات پر زور دیا کہ رابطوں کے معاملات کو حل کر کے اور ای کورٹس مینجمنٹ میں وکلائ کی تربیت کے ذریعہ ای- عدالتوں کے نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر قانون نے سکریٹری جسٹس کو ہدایت کی جو سپریم کورٹ کی ای کورٹ کمیٹی کے ممبر بھی ہیں کہ وہ ان چیلنجوں کو کمیٹی کے سامنے لائیں اور این آئی سی اور دیگر ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کر کے نظام کو بہتر بنائیں۔ ایسا محسوس کیا گیا تھا کہ وبا کی سنگینی کے پیش نظر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالتی کارروائی آنے والے کچھ عرصے تک ایک معمول بن سکتی ہے۔ وزیر قانون نے خاص طور پر اس چیلنج کو انصاف کی فراہمی میں ڈیجیٹل نظام کو مزید مضبوط بنانے کے موقع کے طور پر لینے پر زور دیا۔

مشن ساگر 10 مئی 2020

کووڈ -19 وبائی مرض کے جاری رہنے کے باوجود، حکومت ہند نے بھارتی آؤٹ ریچ کے ایک حصے کے طور پر ہندستانی بحری جہاز کیسری کو مالدیپ، ماریشیس ،سیلشلز، میڈگاسکر اور کوموروس کے لئےکھانے کا سامان ، کووڈ سے متعلق دوائیں، ایچ سی کیو گولیوں، خصوصی آیورویدک دوائیں اور میڈیکل امدادی ٹیموں کے ساتھ، 10 مئی 2020 کو روانہ کیا۔ مشن ساگر کے طو ر پر اس مشن کا آغاز ہندستان نے اس علاقے میں اولین ریسپونڈر کی حیثیت سے ان ملکوں کے ساتھ کووڈ-19 وبائی مرض سے پیدا شدہ پریشانیوں اور دشواریوں سے نمٹنے کےلئے تعاون کرکے اپنے رول کو شاندار طریقے سے نبھا رہا ہے جس سے موجودہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ تعیناتی وزیراعظم کے ’ساگر‘ خطے میں سب کے لئے سلامتی اور ترقی کے نظریے کے تحت ہے اور ہندستان کے ذریعہ اس کے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ مشن وزارت دفاع، وزارت خارجہ اور حکومت ہند کی دیگر ایجنسیوں کے ساتھ نزدیکی تال میل میں جاری ہے۔

مشن ساگر کے حصے کے طور پر ہندستانی بحریہ کا جہاز کیسری مالدیپ، جمہوریہ کے پورٹ ا?ف مالے میں 600 ٹن اشیا خوردنی اور کھانے کا سامان مہیا کرانے کے لئے داخل ہوگا۔ ہندستان اور مالدیپ، مضبوط اور انتہائی خوشگوار حفاظتی اور سیاسی تعلقات کے ساتھ قریبی سمندری پڑوسی ہیں۔

خردہ فروشوں اور عمارتوں نیز تعمیراتی پیشہ ور افراد کو ایم ایس ایم ایز کے طور پر رجسٹر کرنے کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا: جناب گڈکری

جناب گڈکری نے خردہ فروشوں کی ایسوسی ایشنوں، انجینئروں، آرکیٹیکٹووں اور شہر کے منصوبہ سازوں سے کہا ہے کہ وہ درآمدات کے متبادل کے طور پر کام کریں اور بہت زیادہ بھیڑ والے شہروں کی بھیڑ کم کریں

ایم ایس ایم ای اور سڑک ٹرانسپورٹ نیز شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے آج خردہ فروشوں کی بھارت کی ایسوسی ایشن اور پریکٹس کرنے والے انجینئروں، آرکیٹیکٹوں اور شہری منصوبہ سازی کی ایسوسی ایشن (بھارت) کو یقین دلایا ہے کہ ایم ایس ایم ایز کے طور پر رجسٹر کرنے کی ا ن کی درخواست کا تیزی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس درخواست کا جائزہ اس نقطہ نظر سے لیا جانا چاہیے کہ یہ روزگار دینے والے ادارے ہیں۔اور اس پر بھی غور کیا جائے کہ بعض فوائد مثلاً انشورینس، طبی سہولت اور پنشن وغیرہ کارکنوں کو فراہم کیے جاسکتے ہیں یا نہیں۔

انھوں نے خردہ فروشوں پر زور دیا کہ وہ گھر پر سامان فراہم کرنے کے امکانات تلاش کرنا شروع کریں اور ایسا کرتے وقت ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں۔ صارفین؍ ملازمین کو سینی ٹائزروں کی فراہمی اور ماسک تمام خردہ مراکز میں استعمال کرنے کو یقینی بنائیں۔

وزیر موصوف آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بھارت کے خردہ فرشوں کی ایسوسی ایشن اور پریکٹس کرنے والے انجینئروں اور آرکیٹیکوں کے نمائندوں نیز شہری منصوبہ سازی کرنے والوں کی ایسوسی ایشن (بھارت)سے ان کے اپنے اپنے شعبوں میں کووڈ-19 کے اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ ا س بات چیت کے دوران نمائندوں نے کووڈ-19 کے دوران درپیش مختلف چیلنجوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور کچھ تجویزیں بھی پیش کیں۔ انھوں نے اس شعبے کو جاری رکھنے کے سلسلے میں حکومت سے مدد کی درخواست کی۔

جناب گڈکری نے انجینئروں، آرکیٹیکٹوں اور شہری منصوبہ سازوں پر یہ زور بھی دیا کہ وہ بہت زیادہ بھیڑ بھاڑ والے شہروں کی بھیڑ کو کم کرنے کے امکانات تلاش کریں اور نئی دہلی، ممبئی ایکسپریس وے جیسے گرین ایکسپریس ویز کے ساتھ ساتھ خاص طور پر دیہی ، قبائلی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی میں شرکت کریں جن علاقوں سے یہ ایکسپریس وے گزر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تحت بہت سے کلسٹرلاجسٹکس پارکس ابھر کر سامنے آئیں گے جن سے روزگار کے زبردست مواقع پیدا ہوں گے۔

جن اہم مسائل کو اجاگر کیا گیا اور جو تجویزیں پیش کی گئیں وہ اس طرح ہیں: خردہ فروشوں/ ریستورانوں / آرکیٹیکچرل فرموں کو ایم ایس ایم ایز کے طور پر رجسٹر کرنا، کووڈ-19 سے متعلق حفاظتی تدابیر کے تحت مال شروع کرنا، غیر ضروری اشیاکے لیے ای- کامرس کمپنیوں کا کام شروع کرنا، خردہ فروشوں کے کرایے میں کمی کرنا، پابندی کو 9 ماہ تک توسیع دینا، بینک کی شرح سود میں 10 فیصد سے کمی کرکے ا سے ساڑھے چار فیصد کرنا، پرائیویٹ بینکوں کی طرف سے آر بی آئی کے رہنما خطوط کی پابندی کرنا، صرف ان چیزوں کیلئے جن سے منافع حاصل ہو جی ایس ٹی کی درخواست دینا، جو بلڈر پہلے ہی آر ای آر اے ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہیں ان کا ایم ایس ایم ای کے طور پر رجسٹریشن کرانا۔

جناب گڈکری نے صنعت سے کہا کہ صنعتوں کو یہ یقینی بنانا ہے کہ کووڈ-19 کے پھیلا[ؤکو روکنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی اقدامات پرعمل کیا جائے۔ انھوں نے کاروباری کام کاج کے دوران پی پی ای (ماسک، سینی ٹائزر وغیرہ) کے استعمال پر زور دیا اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کے طریقے کو اپنانے کا مشورہ دیا۔

انھوں نے کہاکہ تمام ساجھے داروں کو اس بحران پر قابو پانے کے لیے ایک مربوط عمل حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اور لوگوں کی زندگی نیز روزی روٹی کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔ جناب گڈکری نے صنعت پر یہ زور بھی دیا کہ وہ اس بحران پر قابو پانے کے زمانے میں مثبت رویہ اختیار کرے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ سامان کو برآمد کرنے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے اور بجلی کی لاگت، لاجسٹک لاگت اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کے ضروری طریقے اپنائے جانے چاہئیں تاکہ عالمی منڈی میں مسابقت کا رویہ اختیار کیا جاسکے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اندرون ملک پیداوار کے ذریعے غیر ملکوں کی درآمدات کی جگہ ان جیسی چیزیں تیار کرنے پر زور دیا جانا چاہیے۔

انھوں نے بتایا کہ گرین ایکسپریس ہائی وے پر کام پہلے ہی شروع کیاجاچکا ہے اور یہ صنعت کیلئے ایک موقع ہے کہ وہ صنعتی کلسٹروں/ لاجسٹکس پارکوں میں جو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوں، مستقبل کی سرمایہ کاری کرے۔ ا نھوں نے رائے ظاہر کی کہ میٹروں شہروں کے علاوہ دوسرے علاقوں میں صنعتی کلسٹر کے امکانات کو بڑھایا جائے۔ انھوں نے صنعتوں پر اس سلسلے میں شرکت کے لیے زور دیا۔

وزیر موصوف نے یاد دلایا کہ جاپان کی حکومت نے چین سے جاپانی سرمایہ کاری کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کے سلسلے میں اپنی صنعتوں کے لیے خصوصی پیکیج کی پیش کش کی ہے۔ انھوں نے رائے ظاہر کہ بھارت کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جناب گڈکری نے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیئے اور انھیں حکومت کی طرف سے ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ان معاملات کو متعلقہ محکموں کے ساتھ اٹھائیں گے۔ انھوں نے زور دیا کہ صنعت کو چاہیے کہ وہ ایک مثبت حکمت عملی اختیار کرے اور ان مواقع سے فائدہ اٹھائے جو کووڈ-19 کے بحران کے بعد پیدا ہوں گے۔

کوویڈ 19 کے باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت پابندیوں کے باوجود نیشنل فرٹیلائزرز لمیٹڈ کی فروخت میں اپریل 2020 میں 71 فیصد تک کا اضافہ

وزارت برائے کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کے تحت ایک پی ایس یو نیشنل فرٹیلائزرز لمیٹڈ نے اپریل 2020 کے مہینے میں کھاد کی فروخت میں 71 فیصد اضافے کا اندراج کیا ہے۔ ملک بھر میں کوویڈ 19 کے باعث لاک ڈاون کی وجہ سے اپریل میں سخت پابندیوں کے باوجود کمپنی کی ماہ اپریل 20 میں کھاد کی فروخت 3.62 لاکھ ایم ٹن ریکارڈ کی گئی جبکہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 2.12 لاکھ میگا ٹن تھی۔

لاک ڈاو ¿ن کی وجہ سے کمپنی کو لاجسٹک سے متعلق بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اس نے اس اہم دور میں کسانوں کو کھاد فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سی اینڈ ایم ڈی ، این ایف ایل ، جناب منوج مشرا نے اپریل 2020 کے مہینے میں فروخت میں اب تک کی سب سے زیادہ نمو حاصل کرنے کے لئے مارکیٹنگ ٹیم کی کوششوں کو سراہا ہے۔

این ایف ایل اپنے 5 پلانٹس پر یوریا پیدا کرتی ہے جو پنجاب میں ننگل اور بھٹنڈا ، ہریانہ میں پانی پت اور ایم پی میں وجے پور میں دو پلانٹ ہیں۔ اگرچہ اس کمپنی کی یوریہ کی پیداواری صلاحیت لاکھ35.68 ایم ٹی یوریہ ہے۔ ان تمام مصنوعات کے ساتھ ، کمپنی نے مسلسل پانچویں بار ، 2019-20 میں سب سے زیادہ ریکارڈ فروخت 57 لاکھ ایم ٹی کی ہے۔ مشکل وقت میں ان پودوں پلانٹس کے زیادہ سے زیادہ کام کو برقرار رکھنا ایک اہم کامیابی ہے جو خاص طور پر ملک کی کاشتکاری برادری کے ساتھ حکومت کی عہد بستگی کو پورا کرتی ہے۔

کووڈ-19 سے لڑنے کے لئے حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنے کے علاوہ،این ایف ایل کے ملازمین نے نہ صرف ایک دن کی تنخواہ 88 لاکھ روپے وزیر اعظم کیئرس فنڈ میں دیئے ہیں بلکہ سی ایس آر کے تحت اسی مقصد کے لئے 63.94 لاکھ روپے کی رقم کا بھی وزیر اعظم کیرس فنڈ میں تعاون دیا ہے۔ اس طرح وزیر اعظم کیرس فنڈ میں این ایف ایل کی طرف سےکل 1.52 کروڑ روپے روپے کی رقم کا تعاون دیا ہے۔

پی آبی فیلڈ دفاتر سے ماخوذ

  • ہماچل پردیش: ریاستی حکومت کی درخواست پر ، مرکزی حکومت نے گوا میں پھنسے ہماچل پردیش کے لوگوں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنے کے لئے تھویم / مارگاؤ؍ کرمالی (گوا) سے اونا تک خصوصی ٹرین چلانے پر اتفاق کیا ہے۔ ہماچالیوں کو گھر واپس لے جانے کے لئے ایک خصوصی ٹرین گوا سے 13 یا 14 مئی کو شروع ہوگی۔
  • پنجاب: پنجاب اسکول ایجوکیشن بورڈ کے تحت دسویں جماعت کے طلباء کو کوئی امتحان نہیں دینا پڑے گا اور انھیں پری بورڈ امتحانات میں کارکردگی کی بنیاد پر ترقی دی جائے گی ، وزیر اعلی نے اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے انکشاف کیا کہ ریاستی حکومت نے غیر متوقع COVID بحران کی روشنی میں پنجاب اسکول ایجوکیشن سسٹم کے تحت کلاس V سے X کے تمام طلبائ کو بغیر کسی امتحان کے اگلی کلاس میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کی وجہ سے طویل بند ؍ کرفیو ہوا ہے ، وزیر اعلی نے انکشاف کیا . بارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کے لئے ریاست مرکزی حکومت کے فیصلے پر عمل کرے گی۔
  • ہریانہ: ہریانہ حکومت نے کوروناویرس کے پھیلاؤپر قابو پانے کے لئے کئے جانے والے حفاظتی اقدامات کے سلسلے میں رہنما اصول جاری کیے ہیں (دیویانجن کے تحفظ اور حفاظت کے لئے۔ تمام محکموں کے سربراہان یا دفاتر کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ڈرائنگ کے دوران روسٹر آف اسٹاف ملازمین جو سخت معذور افراد ہیں انھیں ڈیوٹی کے لئے نہیں بلایا جاسکتا ہے۔ہریانہ حکومت اسکول کے طلبائ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کے لئے کوشاں ہے۔جبکہ ایک طرف ، پانچ ڈی ٹی ایچ چینلز پر تعلیمی نصاب نشر کیا جارہا ہے ، ریاست ، ہریانہ EDUSAT کے چار چینلز ریاست کے تمام کیبل آپریٹرز ٹیلی کاسٹ کر رہے ہیں۔
  • مہاراشٹر: مہاراشٹر میں کیسوں کی مجموعی تعداد 20،228 ہوگئی ، پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 1،165 تازہ انفیکشن کے بعد 48 نئی اموات ہوئیں۔ صرف ممبئی میں اب تک 12،864 واقعات اور 489 اموات ہوئیں۔
  • گجرات: ایمس دہلی کے ڈائریکٹر ، ڈاکٹر رندیپ گلیریہ نے احمد آباد کے دورے پر کہا ہے کہ ذیابیطس ، ہائی بلڈ پریشر ، دل اور گردے کی بیماری جیسے سنگم مرض کی وجہ سے بدنما داغ اور زیادہ پھیل جانے کے خوف سے کوویڈ 19 کے مریضوں کی دیر سے اسپتال میں داخل ہونا اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ گجرات میں اعلی نمبر 19 کی ہلاکتیں۔ ریاستوں میں مثبت معاملات کی تعداد 7،747 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 452 ہے۔
  • راجستھان: راجستھان سے آج کوویڈ 19 میں مزید 33 واقعات کی اطلاع ملی ہے ، جس سے ریاست میں مثبت کیسوں کی مجموعی تعداد 3،741 ہوگئی ہے۔ ریاست نے تقریبا 60 کی متاثر کن بحالی کی شرح ظاہر کی ہے۔ 2،176 افراد پہلے ہی بازیاب ہوچکے ہیں جبکہ 1،917 افراد کو اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔
  • مدھیہ پردیش: رکن پارلیمنٹ میں 273 نئے کورونا وائرس کیس رپورٹ ہوئے ، جن کی رپورٹ ہونے والے کل کیسز 3،614 پر پہنچ گئے۔ آج تک متاثرہ افراد میں سے 1،676 صحت یاب ہوئے ہیں اور 215 فوت ہوگئے ہیں۔
  • گوا: گوا نے 1948 کے فیکٹریز ایکٹ کے تحت لیبر قوانین میں نرمی لانے میں کئی دیگر ریاستوں میں شمولیت اختیار کی ہے اور کوویڈ وبائی امراض کی وجہ سے تین ماہ کے لئے 12 گھنٹے کی روزانہ کام کی شفٹوں کی منظوری دی ہے۔ اضافی گھنٹوں تک مزدوروں کو اوور ٹائم ادا کیا جائے گا۔
  • کیرالہ: کیرالہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ کل سے ایک وقت کے طور پر تامل ناڈو کے ساتھ والیار بارڈر چیک پوسٹ پر پھنسے لوگوں کے لئے ای پاس جاری کرے۔ سرحدی علاقوں میں آج بھی بہت سارے کیرلائٹ آئے ہیں جو سرکار کے باوجود گزرے ہیں۔ انتباہ کل 698 افراد ، جنھیں آئی این ایس جلسوہ پر مالدیپ سے نکالا گیا تھا ، آج صبح کوچی پہنچے۔ 698 مسافروں میں سے 440 کا تعلق کیرالا ، 156 تمل ناڈو سے اور باقی کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں سے ہے۔ لکشدیوپ سے دوسرا 121 بھی آج ایم وی بحیرہ عرب پر کوچی پہنچا۔ دوحہ سے 182 مسافروں کے ساتھ ایک پرواز آج رات ترواننت پورم پہنچے گی۔
  • تمل ناڈو: تارکین وطن مزدوروں کی نقل و حمل کے اخراجات ریاستی حکومت ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ سے برداشت کرے گی۔ ایئر انڈیا ایکسپریس کی تمام عملہ کے طیارے میں خواتین کی عملہ کے ذریعے 177 ہندوستانی ملائشیا سے تروچی گئے تھے۔ خصوصی افسر جے رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ چنئی میں رواں ہفتے کوویڈ 19 کے مزید کیسز دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ کوویڈ۔19 لاک ڈاو ¿ن کی پابندیوں کو پیر سے مزید نرمی کا اعلان کریں۔ کل تک کل مقدمات: 6535 ، فعال مقدمات: 4664 ، اموات: 44 ، چھٹکارا: 1824۔ چنئی میں فعال کیسز 3330 ہیں۔
  • کرناٹک: ریاست میں کوویڈ - 19 مریضوں میں 76٪ سے زیادہ مریض غیر مرض ہیں۔ چار شامیک ٹرینیں ریاستہائے متحدہ ، بہار، جھارکھنڈ کے لئے روانہ ہوگئیں۔ کوڈ 19 کے بڑھتے ہوئے معاملات کے تناظر میں بے ترتیب نمونہ سروے کا حکم دیا گیا۔ اب تک کی سب سے بڑی تیزی میں ، ریاست نے 53 نئے معاملات ریکارڈ کیے۔ ریاست کی تعداد 7 84 تک پہنچ گئی۔ ریاست نے بھی اپنی 31 ویں ہلاکت کی اطلاع 56، مئی کو 56 56 سالہ خاتون کی ، جس کا انتقال ہوگیا ، کے بعد انھوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ کوویڈ مثبت تھیں۔
  • آندھرا پردیش: ممبئی اور حیدرآباد کے راستے بیرون ملک پھنسے تلگو لوگوں کو لے جانے والی پہلی ایئر انڈیا کی پرواز پیر کی صبح وجئے واڑہ کے گننارام ہوائی اڈے پر پہنچنے والی ہے۔ آمد پر مسافروں کو ایئر پورٹ پر دکھایا جائے گا اور 14 دن کی نگرانی کے لئے انہیں قرنطین مراکز میں منتقل کردیا جائے گا۔ کوویڈ 19 کے 50 تازہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 38 ڈسچارج اور ایک کی موت کی اطلاع ہے۔ کل مقدمات رسیوٹو 1980۔ فعال مقدمات: 1010 ، بازیافت: 925 ، اموات: 45. اضلاع جن میں سب سے اہم واقعات ہیں: کرنول (566) ، گنٹور (382) کرشنا (339)۔
  • تلنگانہ: گھر واپسی کے انتظار میں تلنگانہ کے لاکھوں تارکین وطن کارکنوں کے لئے ابھی زیادہ وقت درکار ہے ، جبکہ سٹی پولیس نے حیدرآباد کے اس کے کچھ مراکز پر ٹریول رجسٹریشن پر بریک لگائی ہے۔ تلنگانہ میں مجموعی طور پر مثبت کیس 1163 ، فعال مقدمات 382 ، خارج ہوئے 751 ، اموات 30۔
  • آسام: وزیر صحت ، ہمنتا بیسسوسرما نے COVID19 کے لئے آسام کی کمیونٹی سرویلنس پروگرام کے جاری عمل کا جائزہ لینے کے لئے تمام ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ ایک وی سی منعقد کیا۔
  • منی پور: چنئی سے جریبام جانے والی خصوصی ٹرین پھنسے ہوئے منی پوری شہریوں کو آج شام سے شروع ہونے والا ہے۔ واپس آنے والے افراد کے لئے سرکاری طور پر سنگین مراکز کا بندوبست کیا گیا ہے۔
  • میزورم: میزورم میں ، کوویڈ 19 آرڈیننس ، 2020 کے کنٹینمنٹ اور روک تھام کے تحت اب تک 1323 مجرموں پر جرمانہ عائد کیا گیا۔
  • ناگالینڈ: ناگالینڈ میں کھانے پینے کا کافی سامان ، ادویہ کی دیگر اشیائ دستیاب ہیں۔ دیما پور ضلعی انتظامیہ 11 مئی سے صبح 6 بجے اور صبح 9 بجے کے دوران تمام ہارڈ ویئر شاپس کھولنے کی اجازت دیتی ہے۔

 

 

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image0044EQA.jpg

 

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image005Q676.jpg

 

م ن۔ ن ع

 (U: 2437)



(Release ID: 1623210) Visitor Counter : 10


Read this release in: Punjabi , English , Hindi , Marathi , Assamese , Manipuri , Bengali , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam