ٹیکسٹائلز کی وزارت

مہاراشٹر کے 34مراکز پر ایم ایس پی کےتوسط سے کپاس کی حصولیابی کا کام جاری ہے، مجموعی طور پر 36،500کوئنٹل کپاس یا 6900گانٹھیں لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران جمع کی گئی ہیں

مہاراشٹر میں مجموعی کپاس پیداوار کاتقریباً 77.40فیصد حصہ پہلے ہی منڈیوں میں آ چکا ہےاور25مارچ 2020 تک فروخت بھی ہو چکا ہے، کاٹن
کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی)، نے کاشتکاروں سے 91.90لاکھ کوئنٹل کپاس، جو 18.66لاکھ گانٹھوں کی شکل میں ہے، حاصل کی ہیں

اس امر کے اقدامات کئے گئے ہیں کہ حاصل کی گئی کپاس کی بقایہ قیمتیں کاشتکاروں کو ادا کر دی جائیں، حاصل کی گئی مجموعی حصولیابی مالیت میں سے 4987کروڑروپے کی رقم کاشتکاروں کو پہلے ہی پہنچ چکی ہے

Posted On: 04 MAY 2020 12:59PM by PIB Delhi

نئی دہلی،4 ؍مئی، 2020،میڈیا میں اس امر کی رپورٹیں آئی ہیں کہ مہاراشٹر میں اے پی ایم سی میں کاشتکاروں کو کپاس کی فروخت میں مسائل پیش آ رہے ہیں۔

کپڑے کی صنعت کی وزارت نے کاشتکاروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کاٹن کارپوریشن آ ف انڈیا ( سی سی آئی)، اپنے ایجنٹ اور مہاراشٹر کی ریاستی کپاس کاشتکاروں کی مارکیٹنگ فیڈریشن لمیٹیڈ ، ریاست مہاراشٹر میں، حکومت ہند کے ایم ایس پی آپریشنوں کے نفاذ کے لئے کُلی طور پر کمر بستہ اور مستعد ہے۔

 

مہاراشٹر میں اکتوبر 2019 سے ایم ایس پی حصولیابی کا عمل جاری ہے۔ 25مارچ 2020 تک  کاٹن کارپوریشن آف انڈیا (سی سی آئی) نے پہلے ہی 91.90لاکھ کوئنٹل کپاس جو 18.66لاکھ کپاس کی گانٹھوں کی شکل میں ہے، جس کی مالیت 4995کروڑروپے کی بقدر ہے، 83مراکز کے توسط سے مہاراشٹر میں کپاس کاشتکاروں سے  اِن کی خریداری کر لی ہے۔25مارچ 2020 تک مہاراشٹر میں پیدا کی گئی مجموعی کپاس میں سے تقریبا 77.40فیصد حصہ منڈی پہنچ چکا ہے اور سی سی آئی اور نجی تاجروں نے اس کی خریداری بھی کر لی ہے۔ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران ہی 22.60فیصد کپاس ابھی منڈی میں آنی باقی ہے۔ اس بقایہ کپاس میں سے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 2100کروڑ روپے کے بقدر کی 40فیصد تک کی کپاس ایف اے کیو گریڈ کی ہوسکتی ہے اور کاشتکاروں کو اس کی ایم ایس پی کی شرحیں مل سکتی ہیں، کیونکہ وبائی صورتحال کے دوران عام تاجر ہو سکتا ہے کہ ان کی بہتر قیمتیں نہ دیں۔

 

ایم ایس پی آپریشن جاری ہیں اور 34مراکز پر فی الحال سی سی آئی کی حصولیابی  کا عمل جاری ہے اور 6900گانٹھوں کی شکل میں 36500کوئنٹل کپاس ریاست مہاراشٹر میں اس لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران حصولیابی کے تحت آ چکی ہے۔

 

حصولیابی کا عمل ریاستی اے پی ایم سی اور 27مراکز کے ذریعے منظم ہوتا ہےاور چونکہ یہ تمام تر مراکز ضلعی انتظامیہ کے ذریعے ریڈ زون کے طور پر شناخت کئے گئے ہیں۔ لہذا امید کی جاتی ہے کہ 3مئی 2020کے بعد یہاں حصولیابی کے عمل میں تیزی آئے گی۔ بقیہ 22مراکز کے سلسلے میں ریاستی حکومت تک رسائی کا کام سی سی آئی نے کیا ہے اور حکومت سے گزارش کی ہے کہ وہ کاشتکاروں کو کپاس لانے کے لئے پاس ؍ ٹوکن جاری کرے اور کپڑے کی صنعت کی وزارت اے پی ایم سی میں کاشتکاروں اور کپاس کی حصولیابی سے متعلق آمد اور نوعیت پر مبنی رپورٹس کے ذریعے روزانہ اور لگاتار نگرانی بنائے ہوئے ہے۔ 

 

سی سی آئی کی جانب سے کوششیں کی گئی ہیں کہ کاشتکاروں کو حصولیابی شدہ کپاس کی بقایہ ادائیگی کر دی جائے۔ حصولیابی کے تحت آنے والی مجموعی مالیت 4995کروڑروپے کے بقدر بنتی ہے، جس میں 4987کروڑروپے کی رقم پہلے ہی کاشتکاروں تک پہنچ چکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

م ن۔ک ا۔

U-2257                      



(Release ID: 1620877) Visitor Counter : 31