امور داخلہ کی وزارت

مرکزی حکومت نے کووڈ-19سے نبردآزما ہونے اور اس کے پھیلاؤ پرقابو حاصل کرنے کی غرض سے صورتحال کا جائزہ لینے اور ریاستوں کی کوششوں کو منظم بنانے کی غرض سے چھ بین وزارتی ٹیموں کی تشکیل کی

Posted On: 20 APR 2020 1:47PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی ،20؍اپریل2020: مرکز نے 6بین وزارتی ٹیمیں(آئی ایم سی ٹی)تشکیل دی ہیں۔ ان میں سے دو ٹیمیں مغربی بنگال اور مہاراشٹر کے لئے اور ایک ایک ٹیمیں مدھیہ پردیش اور راجستھان کے لئے تشکیل دی گئی ہیں، جووسیع تر مفاد عامہ میں صورتحال کا  جائے موقع جائزہ لیں گی اور تمام تر تقاضوں کی تکمیل کے لئے ریاستی حکام کو ضروری ہدایات جاری کریں گی اور مرکزی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کریں گی۔صورتحال بطور خاص اندور(مدھیہ پردیش)، ممبئی اور پنے(مہاراشٹر)، جے پور(راجستھان) اور کولکاتہ، میدنی پور مشرق، 24پرگنہ شمال ، دارجلنگ، کلنگپونگ اور جلپائی گوڑی(مغربی بنگال) میں سنگین ہوگئی ہے۔آئی ایم سی ٹی رہنما خطوط کے مطابق خاص لاک ڈاؤن کے اقدامات کے نفاذ، ضروری اشیاء کی فراہمی، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، صحتی بنیادی ڈھانچے کی کمر بستگی اور مستعدی، صحتی پیشہ ورانہ کی سلامتی اور مزدوروں اور ناداروں کے لئے قائم کئے گئے راحتی کیمپوں کی صورتحال پر بطور خاص توجہ مرکوز کرے گی۔

یہاں اس بات کا ذکر کیا جاسکتا ہے کہ خلاف وزری کے معاملات اور واقعات بلاروک ٹوک جاری رہتے ہیں، یعنی ہاٹ اسپاٹ اضلاع میں یا ابھرتے ہوئے اضلاع میں قرار پانے والے علاقوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف ورزی جاری رہتی ہے، جہاں جھرمٹ کی شکل میں اس مرض کے پھیلنے کے امکانات پائے جاتے ہیں، جو صحت کے لئے مہلک خطرات پیدا کریں گے اور ملک کے دیگر حصوں میں بسنے والے اور اضلاع کے لئے خطرہ پیدا کریں گے ، ان کے سلسلے میں اس طرح کی خلاف ورزیوں کا تجزیہ کرنے کے بعد مرکزی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مذکورہ علاقوں میں صورتحال بطور خاص سنگین ہے اور اس سلسلے میں مرکز کی مہارت کا استعمال کیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔

کمیٹیوں کی تشکیل مرکزی حکومت کی جانب سے تباہ کاری انتظام ایکٹ مجریہ2005، کی دفعات 35(اے)35(2اے)، 35 (2ای) اور 35(2آئی ) کے تحت تفویض کردہ دیگرمنجملہ اختیارات سمیت اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ یہاں یہ بات دہرائی جاسکتی  ہے کہ لاک ڈاؤن کے احکامات اور لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے سے متعلق رہنما خطوط اور مربوط نظر ثانی رہنما خطوط اور دیگر اقدامات کے نفاذ پر زور دیاگیا ہے اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان رہنما خطوط کے تحت سخت اقدامات کرسکتی ہیں اور تباہ کاری انتظام ایکٹ 2005، کے تحت جاری کردہ رہنما خطوط سے مذکورہ احکامات پر کوئی برعکس اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

یہاں اس بات کا ذکر کیا جاسکتا ہے، عدالت عظمیٰ نے عرضی دعویٰ (سول)نمبر468 جس کا تعلق 2020 سے ہے، کے تحت جاری کردہ اپنے احکام مؤرخہ 31مارچ 2020 میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اعتماد رکھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ تمام تر متعلقہ ادارے یعنی ریاستی حکومتیں اس ملک کے عوامی حکام اور شہری پورے خلوص کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات اور رہنما خطوط ہدایات پر حرف بہ حرف عوامی سلامتی کے مفاد میں عمل کریں گے۔اس رائے کو عدالت عظمیٰ کی ہدایت سمجھا جاسکتا ہے اور تمام ریاستوں ؍مرکز کے زیر انتظام  علاقوں کی حکومتوں کو اس سے آگاہ کردیا گیا تھا۔

دوبارہ زور دے کر کہا جاتا ہے کہ مذکورہ آئی ایس سی ٹی لاک ڈاؤن کے احکامات کے نفاذ اور عمل درآمد پر تباہ کاری انتظام ایکٹ 2005، کے مطابق اپنی توجہ مرکوز کریں گی اور لازمی اشیاء کی سپلائی ، سماجی فاصلہ فرقرار رکھنے کی عوامی تحریک، بنیادی ڈھانچے کی مستعدی، اسپتالوں میں فراہم کردہ سہولتوں اور ضلع میں فراہم کردہ نمونہ جاتی اعدادو شمار ، صحتی پیشہ وران کی سلامتی، ٹسٹ کِٹوں کی دستیابی، پی پی ای، ماسک اور دیگر سلامتی سازو سامان اور مزدوروں اور ناداروں کے لئے قائم کئے گئے راحتی کیمپوں کی صورتحال پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔

آئی ایم سی ٹی اپنے دورے جلد از جلد شرورع کرے گی۔

 

*************

م ن۔ ن ع

(U: 1879)



(Release ID: 1616354) Visitor Counter : 228