دیہی ترقیات کی وزارت

این آر ایل ایم سے وابستہ اپنی مدد آپ کرنے والا خواتین کا گروپ ملک میں کووڈ19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں کمیونٹی جنگجو کے طور پر سامنے آیا ہے

27 ریاستوں کے رورل لیولی ہڈ مشنوں (ایس آر ایل ایم ایس) کے تقریباً 78 ہزار ایس ایچ جی ممبروں نے تقریباً 2 کروڑ ماسک تیار کئے ہیں

مختلف ریاستوں میں ایس ایچ جیز نے 5 ہزار سے زیادہ پی پی ای کٹس تیار کئے ہیں ؛9 ریاستوں کے تقریباً 900 ایس ایچ جی کارخانو ں نے ایک لاکھ لیٹر سے زیادہ ہینڈ سینی ٹائزر تیار کیا ہے ، کچھ ایس ایچ جیز نے رقیق صابن بھی تیار کئے ہیں تاکہ ہاتھوں کی صفائی کو یقینی بنایا جاسکے

Posted On: 12 APR 2020 3:40PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،12,- اپریل 2020/کووڈ-19 کے پھیلاؤ نے  پوری دنیا میں صحت کے اعتبار سے  ایک ایسی ہنگامی صورتحال پیدا کردی ہے  جس کی  پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔  بھارت میں  اس بیماری کی وجہ سے طبی سہولتوں کی ضرورتوں نے  اضافہ کردیا ہے جن میں ماسک،  ذاتی تحفظ کا سامان  (پی پی ای) اور طبی نیز پولیس افراد  اور صفائی کے کام پر مامور عملے کے لئے  فیس شیلڈ کی تیاری  شامل ہے۔ حکومت بیشتر جگہوں پر  شہریوں کے لئے  ماسک کے  استعمال کو  لازمی بھی قرار دے رہی ہے۔

دیہی ترقیات کی وزارت کے تحت  دین دیال انتودیہ   یوجنا  نیشنل رورل   لیولی ہڈ مشن  (ڈی اے وائی –این آر ایل ایم)کی تعداد  تقریباً 690 لاکھ  خواتین ممبروں کی ہے۔ ان کا تعلق پورے ملک میں  اپنی مدد آپ کرنے والے   تقریباً 63 لاکھ  گروپوں (ایس ایچ جیز)  سے ہے۔ ایس  ایچ جیز کے ممبر  کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو  ہر ممکن طریقے پر روکنے کے لئے اپنا رول ادا کرکے  کمیونٹی  جانبازوں کے طورپر سامنے آئے ہیں کیونکہ کووڈ-19 کے خلاف مدافعت کے معاملے میں  ماسکوں کی بڑی اہمیت ہے  اس لئے  ایس ایچ جیز نے  ماسکو ں کی تیاری کا کام  فوری طور پر اپنے ذمہ لے لیا۔  ایس ایچ جیز  مختلف زمروں کے ماسک  تیار کررہے ہیں  ۔ جن میں 2-3 پلائی   بنے ہوئے اور بغیر بنے ہوئے  سرجیکل ماسک ، کپڑے کے ماسک وغیرہ شامل ہیں  ، جو  صحت اور فلاح خاندانی بہبود کی وزارت اور  صارفین کے امور کی وزارت   نیز  ریاستوں کے   صحت کے محکموں کی  ہدایات کے مطابق تیار کئے جارہے ہیں۔   یہ ماسک  صحت کے محکمہ  ، لوکل سیلف  گورنمنٹ  (ایل ایس جی)  مقامی انتظامیہ ، صف اول میں کام کرنے والے کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کو  فراہم کئے جارہے ہیں  اور ساتھ ہی ساتھ   کھلے بازاروں میں بھی بیچے جارہے ہیں۔ یہ بہت سی ریاستوں میں   دیہی گھرانوں میں  بلاقیمت تقسیم کئے گئے ہیں۔  ایس ایچ جی کے ممبروں نے    اب  ذاتی  تحفظ کا سامان  (پی پی ای) بھی تیار کرنا شروع کردیا ہے  جس میں ایپرن  ، گاؤن اور فیس شیلڈ شامل ہیں۔  ایس ایچ جی کے   نیٹ ورک کے ذریعہ  جو ماسک  پی پی ای اور فیس شیلڈ  تیار کئے گئے ہیں ، اور ان کے بارے میں  میڈیا کوریج  ذیل میں دی جارہی ہے۔

  1. ماسک: جیسا کہ   27 ریاستی  رورل لیولی ہڈ مشن   (ایس  آر ایل ایم ایس) نے اطلاع دی ہے  کہ  ایس  ایچ جی ممبروں نے  تقریباً  1.96 کروڑ  ماسک  تیار کئے ہیں۔(8 اپریل 2020تک)  تقریباً   78373 ایس ایچ جی  ممبران  اس وقت   ماسکوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔ جھارکھنڈ کے    ایس ایچ جیز   ضرورت کا احساس کرنے والے  پہلے لوگوں  میں شامل تھے اور انہوں نے  22 مارچ 2020 سے اب تک تقریباً 78 ہزار ماسک تیار کئے ہیں،۔ ان ماسکو ں کو دس روپے کی کفایتی قیمت پر   ضلع   کلکٹروں کے  مختلف  دفاتر  اور سبسڈی والے  میڈیکل اسٹوروں پر فروخت کیا جارہا ہے۔

jk.jpg

جھارکھنڈ کی   ایس ایچ جی خواتین  ماسک تیار کرتے ہوئے(ذریعہ :ٹوئٹر)

  1. ملک کے   مشرقی خطے  سے جس میں چھتیس  گڑ ھ کی  853  ایس ایچ جیز کی  2516  دیہی خواتین شامل  ہیں،  ریاست کو  ماسک سپلائی کئے ہیں۔  اوڈیشہ کے   سیلف ہیلپ گروپوں نے  عام لوگوں میں تقسیم کرنے کے لئے  ایک  ملین سے زیادہ ماسک  تیار کئے ہیں۔ اروناچل پردیش  ، میونسپل کارپوریشن نے کووڈ19 کے انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایس ایچ جیز سے  10 ہزار فیس ماسک  فراہم کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔
  2. آنداھر پردیش میں ضلع کے   تیرہ ذیلی بلاکوں   کے 2254  گروپوں نے  کپڑے کے فیس ماسک  تیا ر کرنے کے سلسلہ میں  حکومت کے   رہنما خطوط کی پابندی کی ہے۔ اسی طرح کرناٹک کے   دیہی سیلف ہیلپ گروپوں نے   ریاست میں  اس  بیماری کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر   بڑی لگن کے ساتھ   صرف بارہ دنوں میں  1.56 لاکھ فیس ماسک تیارکئے ہیں۔
  3. شمالی گوا ضلع کی  دیہی ترقیاتی ایجنسی  نے ایس ایچ جیز کی مدد سے  پوری  ریاست میں   2 ہزار ماسک سپلائی کئے ہیں۔ماسکوں کی  بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کی خاطر  ہماچل پردیش کے  ایس  ایچ جیز 2 ہزار خاتون ممبروں کے ساتھ حفاظتی ماسک  تیار کرنے میں پوری طرح مصروف ہیں۔

B - پرسنل پروٹکٹیو ایکیوپمنٹ : ایس ایچ جی کے ارکان پی پی ای   بھی  تیار کررہے ہیں  جن میں  ایپرن   ، گاؤن  اور فیس شیلڈ  وغیرہ شامل ہیں۔  مختلف ریاستوں میں جن میں مدھیہ پردیش، ہماچل پردیش  ، پنجاب  اور کرناٹک شامل ہے، ایس ایچ جیز نے   اب تک تقریباً   پانچ ہزار   پی پی ای کٹ تیار کئے  ہیں ۔ معلوم ہوا ہے  کہ   پنجاب  کے   ایس آر ایل ایم نے   کپور تھلہ کے    سول  سرجن   کو 500 ایپرن دستیاب کرائے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ میگھالیہ نے   ضلع میڈیکل   ہیتلتھ افسر کو  200  فیس شیلڈ  فراہم کئے ہیں۔ کرناٹک نے 125 فیس شیلڈ تیار کئے ہیں۔  معلوم ہوا ہے کہ  میگھالیہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، ہماچل پردیش ،  اور پنجاب  کے  ایس آر ایل ایم ایس کو   ایس ایچ جی کے ممبروں نے  فیس شیلڈ تیار کرکے دی ہے۔

C۔خواتین نے اپنی  کمیونٹیوں میں  کفایتی  ہینڈ سینی ٹائزرس  کے ذریعہ   صفائی ستھرائی کو فروغ دینے کے لئے مجموعی قدم اٹھایا ہے

ڈی اے وائی  - این آر ایل ایم کی مدد سے بہت چھوٹے کارخانوں نے ہینڈ سینی ٹائزروں  اور ہاتھ دھونے کی اشیا   کی تیاری کا کام  شروع کیا ہے تاکہ دیہی علاقوں میں  یہ سامان دستیاب رہے۔  9 ریاستوں میں  900 ایس ایچ جی    کارخانوں نے   1.15 لاکھ لیٹر  سینی ٹائزرس تیار کئے ہیں۔3 ریاستوں  تمل ناڈو، مدھیہ پردیش اور آندھراپردیش نے فی ریاست  سینی ٹائزرس کی تیاری 25 ہزار لیٹر سے زیادہ رہی۔  آندھرا پردیش، ہماچل پردیش،  جھارکھنڈ  ، کیرالہ  ، منی پور ، مدھیہ پردیش، ناگالینڈ  ، تمل ناڈو  ، اترپردیش اور   میوزرم کی ریاستوں میں  تقریباً 900  ایس ایچ جی کارخانے   سینی ٹائز ر تیار کررہے ہیں تاکہ  تیزی سے بڑھتی ہوئی  مانگ کو  پورا کیا جاسکے۔

Image

 عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او)  کے تجویز  کردہ  رہنما خطوط کے مطابق  جھارکھنڈ میں   ان سینی  ٹائزروإں کو  تیار کرنے کے لئے  ایک خاص مقدار میں   4 اجزا کا  استعمال کیا جارہا ہے۔  سینی ٹائزر کی تیار ی میں  الکوہل  (72 فی صد) ، شفاف پانی(13 فی صد) گلیسرین (13 فی صد)  اور تلسی  (2 فی صد) کا استعمال کیا گیا ہے۔   سینی ٹائزر  کے  اثرات کو بڑھانے کے لئے   لیمو کی مہک والی گھاس  یا  تلسی  کا اضافہ کیا جارہا ہے۔    ان چیزوں کے اضافے سے  اس وائرس کے اثرات کو موثر طور پر تباہ کیا جاسکتاہے۔ 300 ایم ایل  کی سینی ٹائزر کی 30 روپے کی   کفایتی داموں کی بوتل   عام پبلک ، اسپتالوں اور پولیس  تھانوں کو   دستیاب کرائی جارہی ہے۔

ہاتھوں کی   صفائی کی ضمانت کے لئے  بعض ایس ایچ جیز   رقیق صابن بھی تیار کررہی ہیں۔ آندھراپردیش  ،  چھتیس گڑھ  ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، میزورم  ، ناگالینڈ اور  تمل ناڈو کی  ریاستوں میں واقع   ایس ایچ جی    یونٹ 50 ہزار لیٹر   ہاتھ دھونے کی مصنوعات   تیار کرنے  میں اب کامیاب ہوئے ہیں۔

اپنی اپنی کمیونٹیوں میں  صفائی ستھرائی کی کارروائیوں میں فرو غ دینے میں  سماجی اعتبار سے  اپنا رول ادا کرنے کے ذریعہ   اپنی روٹی روزی   کمانے  کے ساتھ ساتھ یہ خواتین    پوری لگن  اور دلجمعئی کے ساتھ کووڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے خلاف   جدوجہد کررہی ہیں۔

 

م ن.ج۔ ج

Uno.1672

 



(Release ID: 1614128) Visitor Counter : 138