پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 2:43PM by PIB Delhi
بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی غیر معمولی پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی عہد و پابندیاں معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ ملک کی ترقی کے سفر میں معاون محرک ہیں۔
نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی کامیابیوں، پائیدار ترقی کے تئیں اس کے عزم اور ملک بھر میں گھرانوں، کسانوں اور برادریوں کو بااختیار بنانے میں صاف توانائی کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔
اس شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہ آیا بھارت جیسا وسیع آبادی والا ترقی پذیر ملک فوسل ایندھن پر اپنا انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ تیز رفتار معاشی ترقی کو برقرار رکھ سکتا ہے، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت نے اپنی کامیابیوں کے ذریعے ان تمام خدشات کا مؤثر جواب دیا ہے۔
انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ توانائی کی صلاحیت 300 گیگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے اور ملک نے 2025 میں اپنی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 50 فیصد غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل کر لیا، جو اس کے مقررہ ہدف سے پانچ سال پہلے کی کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شمسی توانائی کی صلاحیت 3 گیگاواٹ سے بھی کم سے بڑھ کر 170 گیگاواٹ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ شمسی توانائی، جو کبھی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی تھی، اب بھارت میں بجلی کے سب سے کفائتی ذرائع میں شامل ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی مؤثر پالیسیوں، نجی شعبے کی کاروباری سرگرمیوں اور ریاستوں و شہریوں کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے مشاہدہ کیا کہ بھارت میں ہائیڈروجن توانائی کے شعبے میں حوصلہ افزا پیش رفت ہو رہی ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی آنے والے برسوں میں ہائیڈروجن توانائی کو مزید کفائتی اور قابلِ استطاعت بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی تبدیلی نہ صرف ملک کے لیے ایک مثالی کامیابی ہے بلکہ گلوبل ساؤتھ کے لیے بھی ایک نمونہ ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والی پیش رفت وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن کی توثیق کرتی ہے کہ ماحولیاتی عہد و پابندیاں ترقی کے محرک ہیں، جن کے نتیجے میں توانائی تک بہتر رسائی، صنعتوں کی کم لاگت، روزگار کے مواقع اور درآمدات پر انحصار میں کمی ممکن ہوتی ہے۔ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اشتراک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’2040 کی ٹیکنالوجیز آج کی تجربہ گاہوں اور اسٹارٹ اپس سے جنم لیں گی۔‘‘ اس طرح انہوں نے تحقیق، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت 65 لاکھ سے زائد گھرانے شمسی توانائی کی تحریک میں شامل ہو چکے ہیں اور انہیں سستی صاف توانائی تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایم-کسُم کے تحت تقریباً 30 لاکھ کسان مستفید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمسی پمپ کسانوں کو ڈیزل کے اخراجات بچانے، اضافی آمدنی حاصل کرنے اور خوراک کے ساتھ توانائی فراہم کرنے والے ’اُرجا داتا‘ بننے میں مدد کرتے ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے اجاگر کیا کہ پی ایم-جن من اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان کے تحت کیے جانے والے اقدامات کے ذریعے دور دراز قبائلی علاقوں تک بجلی کی رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے، جہاں روایتی گرڈ کے ذریعے بجلی پہنچانا ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی تک رسائی سے تعلیم، صحت، مواصلات اور روزگار کے شعبوں میں مواقع بڑھتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے حل تیار کرتے وقت شہروں، دیہاتوں اور دور دراز آبادیوں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
وزیر اعظم کے تصور کے مطابق قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کو ’جن آندولن‘ (عوامی تحریک) قرار دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایسی تحریک صرف حکومت کے ذریعے آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ انہوں نے اساتذہ، طلبہ، صنعت کاروں اور شہریوں سے اس میں فعال طور پر حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں عوام کی شمولیت سے نہ صرف قابلِ تجدید توانائی کو اپنانے کے عمل میں تیزی آئے گی بلکہ نئے معاشی مواقع پیدا ہوں گے، روزگار کے ذرائع میں اضافہ ہوگا اور گھرانوں کی خوشحالی کو فروغ ملے گا۔
مشن لائف کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے توانائی کی بچت کے طریقے اپنانے، سوچ سمجھ کر وسائل استعمال کرنے اور کچرے کو ذمہ داری کے ساتھ ٹھکانے لگانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب افراد کی جانب سے کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے انفرادی اقدامات پائیداری کے فروغ میں اتنا ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جتنا کہ ایک نیا بجلی گھر۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آنے والی دہائی عالمی ماحولیاتی اہداف کے حصول کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگی۔ انہوں نے 2047 تک ’وکست بھارت‘ اور 2070 تک خالص صفر کاربن اخراج کے بھارت کے وژن کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2070 تک بھارت میں بجلی کی طلب تقریباً سات گنا بڑھ سکتی ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو صاف، قابلِ اعتماد اور سستی بجلی کے ذریعے پورا کرنا ضروری ہے۔
سمٹ میں ہونے والے مباحثوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا، ’’مباحثوں کو منصوبوں میں اور منصوبوں کو بجلی کی پیداوار میں تبدیل کریں۔‘‘ انہوں نے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’اگر دنیا کو سورج کی روشنی سے روشن کرنا ہے تو اسے ایسے ہاتھوں سے روشن ہونے دیں جو مل کر کام کرتے ہیں۔‘‘
اس موقع پر نائب صدر جمہوریہ نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں، سرکاری محکموں، وینڈرز، برانڈ مالکان اور سرکاری شعبے کے بینکوں کو ’ایکس لینس اِن رینیوایبل انرجی ایوارڈز‘ اور ’پی ایم سوریہ گھر ایوارڈز‘ پیش کیے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی جناب پرہلاد جوشی، وزیر مملکت برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی جناب شری پد یسو نائک، حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر ڈاکٹر اجے کمار سود اور وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی کے سکریٹری جناب سنتوش کمار سارنگی بھی موجود تھے۔ شراکت دار ممالک کے نمائندوں، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، صنعتی شعبے کے رہنماؤں، علمی شراکت داروں، نمائش کنندگان اور دیگر مندوبین نے بھی سمٹ میں شرکت کی۔
*****
ش ح – ض ر–ا ک م
UR No. 7268