وزارت خزانہ
آئی ڈی بی آئی میں حکومت کی حصص سے متعلق قانون سازی کی پیش رفت کے بارے میں وضاحت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 OCT 2026 7:41AM by PIB Delhi
مطبوعات اور ذرائع ابلاغ کے بعض حصوں میں ایسی خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں دیگر امور کے علاوہ، آئی ڈی بی آئی میں حکومت کی حصص داری سے متعلق 2003 میں ہونے والی قانون سازی کی پیش رفت کے بارے میں تبصرے اور آرا پیش کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں دوبارہ واضح کیا جاتا ہے کہ مرکزی بجٹ 2003 پر مباحثے اور آئی ڈی بی آئی (تنسیخ) قانون، 2003 پر پارلیمانی بحث کے دوران حکومت کے حصص میں کمی کو محدود کرنے کے مقصد سے ایک ترمیم پیش کی گئی تھی، لیکن بالآخر اسے مسترد کر دیا گیا اور وہ نافذ شدہ قانون کا حصہ نہیں بنی۔
بعد ازاں اس معاملے کا جائزہ دہلی ہائی کورٹ نے مقدمہ آل انڈیا آئی ڈی بی آئی آفیسرز ایسوسی ایشن بنام یونین آف انڈیا و دیگر میں لیا، جس کا فیصلہ 17 دسمبر 2018 کو سنایا گیا۔ عدالت نے رِٹ عرضی خارج کرتے ہوئے پیراگراف 41 اور 42 میں درج ذیل فیصلہ دیا:
پیراگراف 41:
’’یہ عدالت اس رائے کی حامل ہے کہ تقریباً 15 سال قبل قانون سازی سے متعلق ایک سرگرمی پر بحث کے دوران ایوان کے سامنے دیے گئے بیانات، مرکزی حکومت کو آئی ڈی بی آئی لمیٹڈ میں اپنے حصص کم کرنے سے نہیں روک سکتے۔ یہ بات غیر متنازع ہے کہ بحث کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کیے گئے قانون میں وہ ترمیم شامل نہیں تھی، جسے پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایوان کے سامنے دیے گئے بیانات، پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کردہ قانون کا متبادل نہیں بن سکتے اور نہ ہی اس پر غالب آ سکتے ہیں۔ یقیناً پارلیمنٹ اس بات کے مفہوم سے واقف تھی کہ مجوزہ شرط کو قانون میں شامل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ تناظر میں وعدے کے پابند ہونے کا اصول (پرومیسری ایسٹوپل) قطعی طور پر قابل اطلاق نہیں ہے۔ یہ تسلیم کرنا ممکن نہیں کہ پارلیمنٹ میں دیے گئے بیانات ملازمین سے کیے گئے کسی وعدے کے مترادف تھے اور انہوں نے اس وعدے کی بنیاد پر کوئی ایسا قدم اٹھایا جس سے انہیں نقصان پہنچا ہو۔ ایوان کے سامنے دیے گئے بیانات قانون سازی (آئی ڈی بی آئی تنسیخی قانون، 2003) کے تناظر میں تھے اور مذکورہ قانون کی تشریح، قانون کی تشریح کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ہی کی جانی چاہیے۔‘‘
پیراگراف 42:
’’آئی ڈی بی آئی تنسیخی قانون، 2003 کی عبارت میں کوئی ابہام نہیں ہے اور اس قانون میں ایسی کوئی شق شامل کرنے کی گنجائش نہیں ہے، جو حکومت کو آئی ڈی بی آئی لمیٹڈ میں اپنے حصص کم کرنے یا اپنی حصص داری سے دست بردار ہونے سے روکتی ہو۔‘‘
مذکورہ فیصلہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں وعدے کے پابند ہونے کے اصول (پرومیسری ایسٹوپل) پر خاص طور پر غور کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اپنی حصص داری کم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے اسی اصول کا سہارا لیا گیا تھا۔ تاہم، اس اصول کو آئی ڈی بی آئی لمیٹڈ میں حکومت کو اپنے حصص کم کرنے یا اپنی حصص داری سے دست بردار ہونے سے روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا۔
آئی ڈی بی آئی بینک کی تبدیلی اور اس میں حکومت کی حصص داری کی حکمتِ عملی کے تحت تخفیفِ سرمایہ کاری سے متعلق حکومتی پالیسی کا اعادہ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے یکے بعد دیگرے مرکزی بجٹ کی تقریروں میں کیا گیا:
مرکزی بجٹ 2016–17 — اس وقت کے معزز وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی کی تقریر (پیراگراف 93) میں کہا گیا:
’’ہمارے سرکاری شعبے کے بینکوں کو مضبوط اور مسابقتی بننا ہوگا۔ بینک بورڈ بیورو کو 2016–17 کے دوران فعال بنایا جائے گا اور سرکاری شعبے کے بینکوں کو یکجا کرنے کے لیے لائحۂ عمل پیش کیا جائے گا۔ آئی ڈی بی آئی بینک کی تبدیلی کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ حکومت اس عمل کو آگے بڑھائے گی اور اپنے حصص کو 50 فیصد سے کم کرنے کے متبادل پر بھی غور کرے گی۔‘‘
مرکزی بجٹ 2021–22 — اس وقت کی معزز وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن کی تقریر (پیراگراف 84) میں کہا گیا:
’’کووِڈ-19 کے باوجود، ہم نے حکمتِ عملی کے تحت سرمایہ کاری سے دست برداری کے عمل کو جاری رکھا ہے۔ بی پی سی ایل، ایئر انڈیا، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا، کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا، آئی ڈی بی آئی بینک، بی ای ایم ایل، پون ہنس اور نیلاچل اسپات نگم لمیٹڈ سمیت متعدد معاملات کو 2021–22 میں مکمل کیا جائے گا۔ آئی ڈی بی آئی بینک کے علاوہ، ہم 2021–22 میں سرکاری شعبے کے 2 بینکوں اور ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نج کاری کا عمل شروع کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔ اس کے لیے قانون سازی میں ترامیم درکار ہوں گی اور میں اسی اجلاس میں یہ ترامیم پیش کرنے کی تجویز رکھتی ہوں۔‘‘
آئی ڈی بی آئی (تنسیخ) قانون، 2003 کی قانون سازی کی تاریخ، معزز دہلی ہائی کورٹ کے عدالتی فیصلے اور یکے بعد دیگرے مرکزی بجٹ کی تقریریں، اجتماعی طور پر آئی ڈی بی آئی بینک کی حکمتِ عملی کے تحت سرمایہ کاری سے دست برداری کے بارے میں حکومت کی پالیسی کے ارتقا کو ظاہر کرتی ہیں۔ 17 دسمبر 2018 کا فیصلہ اس بات کو بلا شبہ واضح کرتا ہے کہ پارلیمانی مباحثوں کے دوران دیے گئے بیانات کی بنیاد پر وعدے کے پابند ہونے کے اصول (پرومیسری ایسٹوپل) کا سہارا لے کر آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ میں حکومت کے حصص کم کرنے کے اختیار کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ نافذ شدہ قانون میں آئی ڈی بی آئی بینک لمیٹڈ میں حکومت کے حصص کم کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-6244
(ریلیز آئی ڈی: 2324627)
وزیٹر کاؤنٹر : 12