تعاون کی وزارت
کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز میں شفافیت، جواب دہی اور بہتر حکمرانی کو مضبوط بنانے کیلئےامداد باہمی کی وزارت نے آڈٹ رپورٹنگ کا نیا نظام لازمی قرار دیا
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے سہکار سے سمردھی کے وژن اورداخلی اموروامدادباہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کی قیادت میں امداد باہمی کی وزارت نے کثیر ریاستی تعاونی اداروں میں شفافیت، مالیاتی نظم و ضبط، جواب دہی اور بہتر طرزحکمرانی کو مستحکم کرنے کی سمت میں ایک اور اہم پہل کی ہے
کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز)آڈیٹر کی رپورٹ(آرڈر، 2026)ایم ایس سی اے آر او، (2026کے ذریعے قانونی آڈٹ رپورٹنگ کا ایک یکساں، منظم اور خطرات پر مبنی نظام قائم کیا جائے گا
نئے نظام سے مالیاتی دباؤ کی ابتدائی علامات کی نشاندہی، اراکین کی رقم کے تحفظ اور قانونی و انتظامی ضوابط کی تعمیل کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی
آڈٹ رپورٹنگ کو معیاری بنانے سے سی آر سی ایس پورٹل کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی ضابطہ جاتی نگرانی، خودکار جانچ پڑتال اور خطرات کی بنیاد پر نگرانی ممکن ہو سکے گی
کثیر ریاستی تعاونی اداروں کو اپنے نظام اور طریقۂ کار کو مضبوط بنانے کیلئے مناسب وقت فراہم کرنے کے مقصد سے اس نظام کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے
اس نظام کو مرحلہ وار نافذ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہےتاکہ کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو اپنے نظام اور طریقۂ کار کو مضبوط بنانے کیلئے مناسب وقت مل سکے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 OCT 2026 4:47PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اور مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون جناب امت شاہ کی قیادت میں، وزارتِ تعاون ایک شفاف، جواب دہ، مالیاتی طور پر مستحکم اور پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے کوآپریٹو شعبے کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں وزارتِ تعاون نے کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز (آڈیٹر کی رپورٹ) حکم نامہ، 2026 (ایم ایس سی اے آر او، 2026 ) کو لازمی قرار دیا ہے، جس کا مقصد کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز (ایم ایس سی ایس) میں شفافیت، جواب دہی، مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر حکمرانی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ لازمی نظام کوآپریٹو اراکین کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ایک زیادہ شفاف، پیشہ ورانہ طور پر منظم اور جواب دہ کوآپریٹو نظام تشکیل دینے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔
کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) ایکٹ، 2023 نے دفعہ 73(6) کے تحت مرکزی حکومت کو کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز کے لیے آڈٹ اور حسابات کے معیارات مقرر کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس دفعہ کے تحت وزارتِ تعاون نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا (آئی سی اے آئی)، کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (سی اے جی) اور کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز سے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر ایم ایس سی اے آر او، 2026 تیار کیا ہے۔
کارپوریٹ شعبے پر لاگو کمپنیز (آڈیٹر کی رپورٹ)حکم نامے (سی اے آر او) کی طرز پر تیار کردہ ایم ایس سی اے آر او کا مقصد کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز میں قانونی آڈٹ رپورٹنگ کیلئے ایک یکساں، منظم اور خطرات پر مبنی نظام قائم کرنا ہے۔ اس لازمی نظام کے تحت آڈیٹرز کو ایک معیاری طریقۂ کار کے ذریعے اہم مالیاتی، انتظامی، حکمرانی اور قانونی تعمیل سے متعلق پہلوؤں پر رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس میں متعلقہ وضاحتوں کے ساتھ واضح طور پر ہاں یا نہیں میں جواب دینا ہوگا۔ اس سے آڈٹ رپورٹنگ میں یکسانیت بڑھے گی، بے ضابطگیوں کی نشاندہی میں سہولت ہوگی اور ضابطہ جاتی نگرانی مزید مضبوط ہوگی۔
اس لازمی نظام کی ایک اہم خصوصیت خطرات کی بنیاد پر ضابطہ جاتی نگرانی کا آغاز ہے، جس کے تحت کوآپریٹو سوسائٹیز کے آڈٹ سے متعلق مشاہدات کی بنیاد پر کوآپریٹو سوسائٹیز کے مرکزی رجسٹرار (سی آر سی ایس) ان سوسائٹیز کی نشاندہی کر سکیں گے جنہیں مالیاتی یا حکمرانی کے حوالے سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ اس سے زیادہ توجہ کے ساتھ معائنہ، تحقیقات اور ضابطہ جاتی کارروائی کرنے میں سہولت ملے گی، جس کے نتیجے میں نگرانی کی مؤثریت بڑھے گی اور بروقت اصلاحی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں گے۔
یہ لازمی نظام غیر فعال اثاثوں (این پی اے)، واجب الادا قرضوں، نقدی کی دستیابی کی صورتِ حال، جمع رقوم، پیشگی رقوم، قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اور قرض گیری سے متعلق معلومات کی منظم رپورٹنگ کے ذریعے مالیاتی مشکلات کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی کرنے میں بھی مدد دے گا۔ ان تفصیلات سے ابھرتے ہوئے مالیاتی خطرات کی شناخت میں مدد ملے گی اور ان کے سنگین مالیاتی یا عملی مسائل میں تبدیل ہونے سے پہلے بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں گے۔
ایم ایس سی اے آر او، 2026 کا ایک اور اہم مقصد اراکین کی رقوم اور مالیاتی مفادات کا تحفظ مضبوط بنانا ہے۔ آڈٹ سے متعلق لازمی تقاضوں کے تحت سرمایہ کاری، رقوم کے استعمال، حصص کے سرمایہ، رکنیت کے ریکارڈ اور متعلقہ قانونی منظوریوں کی آزادانہ تصدیق ممکن ہو سکے گی۔ مالیاتی لین دین اور کوآپریٹو وسائل کے استعمال کی زیادہ باریک بینی سے جانچ کو فروغ دے کر اس نظام کا مقصد مالیاتی دیانت داری اور کوآپریٹو اداروں پر اراکین کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
بہتر حکمرانی اور ادارہ جاتی جواب دہی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس حکم نامے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل، ڈائریکٹرز کی اہلیت اور نااہلی، سالانہ عام اجلاسوں اور بورڈ کے اجلاسوں کے انعقاد، قانونی کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کے کام کاج نیز متعلقہ فریقوں کے ساتھ لین دین سے متعلق ضابطوں کی پابندی کا باقاعدہ جائزہ لینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ان دفعات کا مقصد کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز میں شفاف فیصلہ سازی، جمہوری طرزِ عمل اور قانونی تقاضوں کی پابندی کو فروغ دینا ہے۔
ایم ایس سی اے آر او میں معیاری آڈٹ معلومات کو سی آر سی ایس پورٹل کے ساتھ مربوط کرکے ٹیکنالوجی کی مدد سے ضابطہ جاتی نگرانی کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح کے انضمام سے خودکار جانچ، ضابطہ جاتی ڈیش بورڈ، خطرات کی درجہ بندی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیے میں سہولت مل سکتی ہے، جس سے زیادہ مؤثر نگرانی، ضابطوں کی پابندی میں خامیوں کی نشاندہی اور شواہد پر مبنی ضابطہ جاتی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔
اس نظام میں جہاں بھی قابلِ اطلاق ہو، سائبر تحفظ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق ضابطوں کی آڈٹ کی سطح پر تصدیق کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اس میں سائبر تحفظ کے انتظامات کی جانچ، مشتبہ لین دین کی رپورٹنگ، صارفین کی شناخت سے متعلق تقاضوں اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت نامزد ڈائریکٹرز اور اہم افسران کی تقرری سے متعلق ضابطوں کی پابندی کا جائزہ شامل ہے۔ توقع ہے کہ ان اقدامات سے مالیاتی بے ضابطگیوں، سائبر خطرات اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق دیگر کمزوریوں کے خلاف ادارہ جاتی تحفظات مزید مضبوط ہوں گے۔
کوآپریٹو اداروں کو اپنے داخلی نظام اور طریقۂ کار کو بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت دینے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، وزارت نے ایم ایس سی اے آر او، 2026 کو مرحلہ وار نافذ کرنا لازمی قرار دیا ہے۔ طویل مدتی مقصد اس نظام کو ان کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹیز تک توسیع دینا ہے جو متعلقہ مالیاتی پیمانوں میں مقررہ 50 کروڑ روپے کی حد سے تجاوز کرتی ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ایک ہزار کروڑ روپے کی حد سے تجاوز کرنے والی بڑی سوسائٹیز کو شامل کیا جائے گا، تاکہ چھوٹے اداروں کو رپورٹنگ کے بہتر تقاضوں کی تیاری کے لیے اضافی وقت مل سکے۔
ایم ایس سی اے آر او، 2026 ایک زیادہ شفاف، پیشہ ورانہ طور پر منظم اور جواب دہ کوآپریٹو نظام کی تشکیل کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ معیاری قانونی آڈٹ رپورٹنگ کو خطرات پر مبنی نگرانی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی نگرانی کے ساتھ مربوط کرکے، اس پہل کا مقصد ادارہ جاتی ساکھ کو مضبوط بنانا، اراکین کے مفادات کا تحفظ کرنا اور ’سہکار سے سمردھی‘ کے وژن کو آگے بڑھانا ہے۔
**********
ش ح۔ ک ا۔ ش ہ ب
Urdu No. 6076
(ریلیز آئی ڈی: 2323462)
وزیٹر کاؤنٹر : 10