امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
حکومت نے ذخیرہ اندوزی روکنے اور تہواروں کے موسم میں صارفین کے لیے شکر کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے شکر کے ذخیرے کی حد سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی ہے
خوردہ شکر کی قیمتوں میں 15 فیصد کی کمی، مل سے باہر فروخت کی قیمت میں تقریباً 28 فیصد کی کمی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 12:54PM by PIB Delhi
یکم اکتوبر سے شکر کے نئے سیزن کے آغاز کے ساتھ حکومت ہند نے تہواروں کے موسم میں صارفین کے لیے مناسب قیمتوں پر شکر کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے سے متعلق اقدامات کو مزید مضبوط کیا ہے۔
حکومت نے شکر کے تاجروں کے لیے ذخیرہ رکھنے کی مدت کم کرکے 15 دن کر دی ہے اور 15 اکتوبر 2026 سے 30 نومبر 2026 تک شکر کے ذخیرے کی حد 1,000 کوئنٹل مقرر کی ہے۔ تاہم، کولکاتا اور اس کے توسیعی میٹروپولیٹن علاقوں اور ریاست آسام کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
نظرثانی شدہ دفعات کے تحت 15 اکتوبر 2026 سے شکر کا تاجر:
- شکر کا ذخیرہ وصول ہونے کی تاریخ سے 15 دن سے زیادہ مدت تک نہیں رکھ سکے گا۔
- ملک میں کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر 1,000 کوئنٹل سے زیادہ شکر کا ذخیرہ نہیں رکھ سکے گا۔
- خطے کی مخصوص مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کولکاتا اور اس کے توسیعی میٹروپولیٹن علاقوں اور ریاست آسام کے لیے ذخیرہ رکھنے کی حد 2,000 کوئنٹل مقرر کی گئی ہے۔
کولکاتا کو اتر پردیش، مہاراشٹر اور کرناٹک سے شکر حاصل ہوتی ہے اور یہاں سے شمال مشرقی خطے سمیت ملک کے مشرقی حصے میں شکر کی سپلائی کی جاتی ہے۔ آسام کے لیے ذخیرہ رکھنے کی زیادہ حد مقرر کرتے وقت شمال مشرقی خطے کی جغرافیائی مشکلات، نقل و حمل سے متعلق مسائل اور صارفین کے مفاد کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
نظرثانی شدہ ضوابط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سپلائی کے نظام میں شکر غیر ضروری طور پر جمع نہ ہو اور شکر ملوں سے تاجروں کے ذریعے بالآخر صارفین تک آسانی سے پہنچتی رہے۔ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر ذخیرہ اندوزی پر مزید قابو پانا، قیاس آرائی پر مبنی تجارت کی حوصلہ شکنی کرنا اور تاجروں کے ذریعے شکر کا ذخیرہ جمع کرنے سے روکنا ہے۔ شکر ذخیرہ کرنے کی مقدار اور مدت محدود کرکے حکومت سپلائی چین میں شکر کی منظم ترسیل کو یقینی بنانا اور صارفین کے لیے مناسب قیمتوں پر اس کی مسلسل دستیابی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
خوردہ شکر کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی
شکر کی اوسط خوردہ قیمتیں اگست میں اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہوئی ہیں اور توقع ہے کہ ان میں مزید کمی آئے گی، کیونکہ مل سے باہر شکر کی کم قیمتوں کا فائدہ سپلائی چین کے ذریعے صارفین تک پہنچے گا۔ مل سے باہر شکر کی قیمتوں میں تقریباً 28 فیصد کمی ہوئی ہے اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یہ قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔
قیمتوں میں یہ کمی حکومت کی جانب سے شکر کی وافر دستیابی یقینی بنانے اور مارکیٹ میں اس کی منظم ترسیل کو آسان بنانے کے لیے کیے گئے مختلف اقدامات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ شکر ملوں، تاجروں، تھوک فروشوں اور مارکیٹ کے دیگر متعلقہ فریقوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سپلائی چین میں شکر کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنائیں اور مصنوعی طور پر ذخیرہ جمع کرنے یا قیاس آرائی پر مبنی ذخیرہ اندوزی کو روکیں۔ تھوک فروشوں اور خوردہ فروشوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مل سے باہر شکر کی قیمتوں میں ہونے والی نمایاں کمی کا فائدہ فوری طور پر صارفین تک منتقل کریں۔
شکر ملوں کو پہلے ہی مشورہ دیا جا چکا ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں موجود زرعی موسمی حالات کے مطابق گنے کی پِرائی کا کام شروع کریں۔ مرکزی حکومت ایل نینو کی صورتحال سے وابستہ غیر یکساں اور کم بارش کے شکر پیدا کرنے والے بعض علاقوں میں گنے پر پڑنے والے اثرات کی مسلسل نگرانی کرے گی اور ملکی سطح پر شکر کی دستیابی، صارفین کے مفاد اور گنے کے کسانوں کے مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اور بروقت اقدامات کرے گی۔
متعلقہ ریاستی حکومتوں کو بھی موجودہ زمینی حالات کی بنیاد پر گنے کی پِرائی کے کام کے سلسلے میں مناسب کارروائی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
حکومت ایک بار پھر واضح کرتی ہے کہ گنے کے کسان اور صارفین بھارت کی شکر پالیسی کے دو مرکزی ستون ہیں۔ حکومت گنے کے کسانوں کو مناسب اور منافع بخش معاوضہ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، وہیں شکر کی قیمتوں میں غیر مناسب اضافے سے صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے اور ملک بھر میں شکر کی وافر دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی یکساں طور پر پُرعزم ہے۔
*******
(ش ح ۔ م م ع ۔ت ا )
U. No.4431
(ریلیز آئی ڈی: 2317667)
وزیٹر کاؤنٹر : 6