امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جموں و کشمیر میں انٹیلی جنس پر مبنی کارروائی کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز نے لشکرِ طیبہ کے سینئر کمانڈر موسیٰ عرف آصف فوجی کو ہلاک کر دیا

سکیورٹی فورسز طویل عرصے سے موسیٰ کی تلاش میں تھیں اور حال ہی میں اسے ہلاک کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے ایک مخصوص منصوبہ تیار کیا گیا تھا


بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں موسیٰ کی ہلاکت جموں و کشمیر میں لشکرِ طیبہ کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے

موسیٰ کی ہلاکت کے ساتھ ہی 2022 سے جموں و کشمیر میں سرگرم لشکرِ طیبہ کے چار سینئر کمانڈروں کا گروپ، جو متعدد بڑے حملوں کا ذمہ دار تھا، ختم کر دیا گیا ہے

سکیورٹی فورسز نے اس گروپ کے دیگر تین ارکان جنید بھٹ، سلیمان اور یاسر کو الگ الگ جھڑپوں میں ہلاک کیا

موسیٰ کو ہلاک کرنے کے لیے موجودہ کارروائی مئی 2026 میں شروع کیے گئے طویل عرصے سے  مسلسل جاری ’’آپریشن شیرووالی‘‘ کا حصہ تھی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 4:09PM by PIB Delhi

انٹیلی جنس پر مبنی مشترکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں لشکرِ طیبہ کے سینئر کمانڈر موسیٰ عرف آصف فوجی کو جموں و کشمیر کے بڈگام ضلع میں خان صاحب تھانے کے علاقے گُروت کلان میں ہلاک کر دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز طویل عرصے سے موسیٰ کی تلاش میں تھیں۔ حال ہی میں اس کی نقل و حرکت اور موجودگی سے متعلق تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس موصول ہونے کے بعد اسے ہلاک کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے ایک مخصوص منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔

بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں موسیٰ کی ہلاکت جموں و کشمیر میں لشکرِ طیبہ کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ موسیٰ کی ہلاکت کے ساتھ ہی 2022 سے جموں و کشمیر میں سرگرم لشکرِ طیبہ کے چاروں سینئر کمانڈروں کا گروپ، جو ہالان حملہ (اگست 2023)، ڈی کے جی حملہ (دسمبر 2023)، کنڈی حملہ (مئی 2023)، شاہ سیتار حملہ (مئی 2024)، شیو کھوری حملہ (جون 2024)، گگن گیر حملہ (اکتوبر 2024)، بوتاپتھری حملہ (اکتوبر 2024) اور بیسران حملہ (اپریل 2025) جیسے متعدد بڑے حملوں کا ذمہ دار تھا، ختم کر دیا گیا ہے۔ اس گروپ کے دیگر تین ارکان کو سکیورٹی فورسز نے الگ الگ جھڑپوں میں ہلاک کیا تھا: جنید بھٹ (3 دسمبر 2024، ڈچی گام)، سلیمان (28 جولائی 2025، آپریشن مہادیو) اور یاسر (4 ستمبر 2026، آپریشن اسدھر)۔ موسیٰ کو ہلاک کرنے کے لیے کی گئی موجودہ جھڑپ بھی ایک طویل عرصے سے جاری مسلسل کارروائی کا حصہ تھی۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران تمام سکیورٹی ایجنسیاں، بشمول جموں و کشمیر پولیس، بھارتی فوج اور مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف)، قریبی تال میل کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دیتی رہی ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

***

ش ح۔ ا ک۔ ر ب

U.NO.4367

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2317150) وزیٹر کاؤنٹر : 16