امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے احمد آباد کے سابرمتی ریلوے اسٹیشن سے 1,472 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور ملک کی پہلی ایل این جی سے چلنے والی ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا


مرکزی وزیر داخلہ جناب امیت شاہ نے سابرمتی سے ملک کی پہلی ایل این جی سے چلنے والی ٹرین قوم کے نام وقف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہل قدمی ماحولیاتی تحفظ کی سمت میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی

مودی جی کے وزیر اعظم بننے کے بعد، ریلوے میں کئی نئی سہولیات متعارف کرائی گئیں جس سے ریلوے نیٹ ورک مزید جدید ہو گیا، نیز خصوصی مال بردار راہداری، ریپڈ ریل سسٹم اور پریمیم ریلوے اسٹیشن بھی متعارف کرائے گئے

بھارت کی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا افتتاح کر کے، مودی جی نے بھارت کو دنیا کے ان چار ممالک کے زمرے  میں شامل کر دیا ہے جن کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے

ستیہ گرہ، سادہ طرزِ زندگی، دیہی ترقی اور کھادی—ان تمام تجربات کو عملی جامہ پہنانے کا سفر خود سابرمتی سے ہی شروع ہوا تھا

ممبئی سے وڈودرا تک پہلی لانگ ہال ڈبل اسٹیک کنٹینر ٹرین کا کامیاب آزمائشی چکر ہماری مال برداری کی صلاحیت میں دُگنا اضافہ کر دے گا

مودی جی کے تصور کردہ 'میک ان انڈیا' اور 'آتم نربھر بھارت' کے نظریے کے نتیجے میں، ملک نے انجن جیسی بڑی مشینری و آلات کو بڑے پیمانے پر مقامی سطح پر تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے

ریلوے کی جانب سے ڈیزل کی کھپت جو 2015-16 میں 293 کروڑ لیٹر کے بقدر تھی، کم ہو کر 2024-25 میں 108 کروڑ لیٹر رہ گئی ہے

مودی حکومت کے تحت، 98 فیصد ریلوے ڈبوں کو بائیو ٹوائلٹ سے لیس کر دیا گیا ہے، جبکہ ایل ایچ بی ڈبوں کی پیداوار میں 57 فیصد اور انجن کی پیداواری صلاحیت میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے، نیز ریلوے کی حفاظت کے بجٹ میں بھی 67 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے

سال2014  سے پہلے، ریلوے کی برق کاری صرف 30 فیصد تھی، جو مودی حکومت کے تحت بڑھ کر 99.6 فیصد ہو چکی ہے، اور ہم جلد ہی بقیہ 0.4 فیصد کو بھی مکمل کر لیں گے

سابقہ حکومت نے 12 لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالوں اور بدعنوانی کے علاوہ کچھ نہیں کیا، جبکہ 12 برسوں میں مودی جی پر بدعنوانی کا معمولی سا الزام بھی نہیں لگا ہے

وزیر داخلہ نے ریلوے انجنوں کی دیکھ بھال کے لیے 700 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے ڈبلیو اے جی-12 مینٹیننس شیڈ کا بھی افتتاح کیا

سابرمتی–کالول–سابرمتی، احمد آباد–پالن پور اور احمد آباد–سمکھیالی ریلوے سیکشنوں پر 'کوَچ'  متعارف کرایا گیا، اور اس کے ساتھ ہی سابرمتی–سرکھیج ریلوے روٹ پر لائن دوہر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 SEP 2026 3:33PM by PIB Delhi

امورِ داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج احمد آباد، گجرات کے سابرمتی ریلوے اسٹیشن سے 1,472 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور ملک کی پہلی ایل این جی سے چلنے والی ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ انہوں نے ریلوے انجنوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیے جا رہے ڈبلیو اے جی-12 مینٹیننس شیڈ کا بھی افتتاح کیا۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے، امورِ داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ آج سابرمتی ڈویژن میں ماحولیاتی پائیداری، مسافروں کی سہولیات اور ریل مسافروں کی حفاظت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کئی ریلوے پروجیکٹوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستیاگرہ، سادہ طرزِ زندگی، دیہی ترقی اور کھادی—ان تمام تجربات کو عملی جامہ پہنانے کا سفر خود سابرمتی سے ہی شروع ہوا تھا۔ جناب امیت شاہ نے کہا کہ سابرمتی ریلوے اسٹیشن اب بڑے پیمانے پر ترقی کر چکا ہے، لیکن 1980 کی دہائی میں مسافروں کو اسٹیشن سے رکشہ تک حاصل کرنے کے لیے تقریباً دو کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابرمتی ریلوے اسٹیشن مسافروں کی سہولیات، حفاظت اور کنیکٹیویٹی کے معاملے میں ایک بڑی تبدیلی کا گواہ بنا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج 1,472 کروڑ روپے کی لاگت سے جن ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے، وہ آنے والے دنوں میں اس خطے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریل کے انجنوں کی دیکھ بھال کے لیے یہاں 700 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ڈبلیو اے جی-12 مینٹیننس شیڈ تعمیر کیا گیا ہے۔ حفاظت کو بڑھانے کے لیے سابرمتی–کالول–سابرمتی ریل سیکشن پر 48 کروڑ روپے کی لاگت سے 'کوَچ'  ٹرین پروٹیکشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، احمد آباد–پالن پور اور احمد آباد–سمکھیالی ریل سیکشنز پر 'کوَچ' کے نفاذ اور سابرمتی–سرکھیج ریلوے لائن کو دوہرا کرنے کے کاموں کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج 12,000 ہارس پاور کی دوہرے سیکشن کی صلاحیت کے حامل ایک انجن کو کام پر لگایا گیا ہے، جو اکیلے ہی تقریباً 600 ٹرکوں کے برابر مال برداری کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے، اس مقصد کے لیے دو انجنوں کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن اب ایک اکیلا ڈبلیو اے جی-12 یہی کام انجام دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی ریلوے کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج ایک ایل این جی سے چلنے والی ٹرین کا بھی افتتاح کیا گیا ہے، جو آنے والے برسوں میں ماحولیاتی تحفظ میں اہم تعاون پیش کرے گی۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ 2014 میں جناب نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد، ریلوے میں کئی نئی سہولیات متعارف کرائی گئیں اور ریلوے نیٹ ورک کو جدید بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی کے جواہر لال نہرو پورٹ ٹرسٹ (جے این پی ٹی) سے وڈودرا تک ملک کی پہلی ڈبل اسٹیک لانگ ہال کنٹینر ٹرین کی کامیاب آزمائش مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مال برداری کے لیے ریلوے ٹریکس محدود ہیں، لیکن اگر ڈبل اسٹیک مال بردار ٹرینوں کا یہ تصور کامیاب رہتا ہے، تو مال برداری کی صلاحیت تقریباً دگنی ہو جائے گی۔ انہوں بھی بتایا کہ اب 11,000 کلومیٹر طویل کوریڈور کو چار لینوں والے نیٹ ورک میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے دہلی–ہاوڑہ اور دہلی–گوہاٹی کی طرف ٹریفک کی آمد و رفت میں نمایاں سہولت ملے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں خصوصی مال بردار راہداریاں، ریپڈ ریل سسٹم اور پریمیم ریلوے اسٹیشن متعارف کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں، وزیر اعظم مودی نے ایک ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا افتتاح کیا، جس سے بھارت دنیا کے ان صرف چار ممالک میں شامل ہو گیا ہے جن کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مودی حکومت کے دورِ اقتدار کے دوران 97 فیصد بائیو ٹوائلٹ نصب کیے گئے۔ مودی حکومت کے دور میں ہی بھارت میں 87 فیصد ایل ایچ بی کوچز تیار کی گئیں۔ وزیر اعظم مودی کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ریلوے کی برق کاری صرف 30 فیصد تھی، جبکہ بقیہ 70 فیصد ان کے دورِ اقتدار میں مکمل کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے تحت ریلوے کی حفاظت کے بجٹ میں 67 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ انجن کی پیداواری صلاحیت میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 'میک ان انڈیا' اور 'آتم نربھر بھارت' کے تصورات کا آغاز کیا، اور اسی کے نتیجے میں ملک نے اب ریل انجن جیسے آلات مقامی سطح پر تیار کرنے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2015-16 میں ریلوے نے 293 کروڑ لیٹر ڈیزل استعمال کیا تھا، لیکن 2024-25 میں یہ کم ہو کر 108 کروڑ لیٹر رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جس کی طرف نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ 2010-11 میں پورے ایک سال میں ریلوے کی برق کاری صرف 75 کلومیٹر ہوئی تھی، جبکہ 2023-24 میں ایک ہی سال کے اندر 7,188 کلومیٹر ریلوے لائن کی برقی کاری کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب ریلوے نیٹ ورک کا 99.6 فیصد حصہ برقی ہو چکا ہے، اور بقیہ 0.4 فیصد بھی جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کی برق کاری چین میں 92 فیصد، اسپین میں 68 فیصد، فرانس میں 60 فیصد اور برطانیہ جیسے نسبتاً چھوٹے ملک میں 49 فیصد ہے۔ بھارت 100 فیصد برقی کاری کا ہدف حاصل کر کے ان ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سویڈن دنیا کا واحد ملک ہے جس نے 100 فیصد ریلوے برقی کاری حاصل کی ہے، لیکن سویڈن میں ریلوے لائنوں کی کل لمبائی بھارت کے مقابلے میں تقریباً دس گنا کم ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ اگر ریلوے بجٹ کے معاملے میں گجرات کو ایک مثال کے طور پر لیا جائے، تو 2009 سے 2014 تک کا ریل بجٹ محض 589 کروڑ روپے تھا۔ اس کے برعکس، صرف ایک سال یعنی 2026-27 کا بجٹ 17,366 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی رفتار میں فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو اپوزیشن پارٹی کے ان رہنماؤں کو، جو لاپرواہ اور بے بنیاد بیانات دیتے ہیں، یہ بتانا چاہیے کہ وہ حقائق اور اعداد و شمار کے ساتھ مسائل پر بات کریں۔ جناب شاہ نے اپوزیشن پارٹی سے سوال کیا کہ اس نے اپنے دورِ اقتدار میں کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ 10 برسوں میں 12 لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالوں، اسکینڈلز اور بدعنوانی کے علاوہ اپوزیشن پارٹی نے کچھ نہیں کیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ 12 برسوں میں مودی جی پر بدعنوانی کا معمولی سا الزام بھی نہیں لگا ہے۔

***

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4180


(ریلیز آئی ڈی: 2315569) وزیٹر کاؤنٹر : 7