امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
چینی کی قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے اور تہواروں کے موسم میں مناسب دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومت کے اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
21 AUG 2026 5:28PM by PIB Delhi
حالیہ ہفتوں میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 20 جولائی 2026 کو چینی کی قیمت 48.18 روپے فی کلوگرام تھی، جو 20 اگست 2026 کو بڑھ کر 55.70 روپے فی کلوگرام ہو گئی۔ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صارفین کے لیے چینی کی مناسب دستیابی اور قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔
چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایتھنول نہیں ہے
چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ایتھنول کی پیداوار کے لیے چینی کی منتقلی سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ درحقیقت، ایتھنول کی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی چینی کا حصہ 23-2022 میں تقریباً 12 فیصد سے کم ہو کر 26-2025 میں تقریباً 9 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اب ملک میں پیدا ہونے والے ایتھنول کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اناج، خاص طور پر مکئی سے تیار کیا جاتا ہے۔
چینی کی قیمتوں میں موجودہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں ملکی پیداوار کا اندازے سے کم رہنا، تہواروں کے موسم سے پہلے طلب میں اضافہ، موسمی حالات کے باعث گنے کی فصل کو نقصان، عالمی سطح پر چینی کی محدود ہوتی فراہمی، اور صنعت کے بعض حصوں کی جانب سے قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزی شامل ہیں۔
چینی کی پیداوار ابتدائی اندازے سے کم
موجودہ سیزن میں چینی کی پیداوار تقریباً 306 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) رہنے کی توقع ہے، جبکہ گنا پیدا کرنے والی ریاستوں کی جانب سے ابتدائی اندازہ تقریباً 343 لاکھ میٹرک ٹن تھا۔
گنے کی فصل میں ریڈ روٹ اور ٹاپ بورر جیسی بیماریوں کے ساتھ ساتھ زیادہ بارش کے باعث پانی جمع ہونے سے بھی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
اگرچہ پیداوار اندازے سے کم رہی ہے، تاہم ملک میں چینی کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، جو اکتوبر میں نئے کرشنگ سیزن کے آغاز تک ملکی طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
عالمی سطح پر بھی چینی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں
چینی کی فراہمی میں کمی صرف ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سطح کا رجحان ہے۔
مالی سال 27-2026میں عالمی سطح پر چینی کی کمی تقریباً 33 لاکھ میٹرک ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔ موسمی حالات سے متعلق خدشات نے بھی عالمی سطح پر چینی کی فراہمی کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔
اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 30 جون 2026 کو چینی کی قیمت 474 ڈالر فی ٹن تھی، جو 20 اگست 2026 کو بڑھ کر 552 ڈالر فی ٹن ہو گئی۔ یعنی دو ماہ سے بھی کم عرصے میں قیمت میں 16 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
ایتھنول پروگرام سے کسانوں کو فائدہ اور شوگر ملوں کی مالی حالت بہتر ہوئی
ہندوستان میں عام طور پر ہر سال تقریباً 320 سے 340 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہوتی ہے، جبکہ ملک میں چینی کی سالانہ کھپت تقریباً 280 سے 290 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ زیادہ پیداوار والے برسوں میں اضافی چینی کا ذخیرہ چینی ملوں کے سرمائے کو روک دیتا ہے، جس کے باعث گنے کے کسانوں کو ادائیگی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
اضافی چینی کو ایتھنول کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملی ہے اور چینی ملوں کی مالی حالت بھی بہتر ہوئی ہے۔
اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ 20 اگست 2026 تک 26-2025 کے شوگر سیزن کے گنے کے کسانوں کے 97 فیصد واجبات ادا کیے جا چکے ہیں۔
چینی ملوں کی بہتر مالی حالت کے باعث حکومت کی مالی مدد پر ان کا انحصار بھی کم ہوا ہے۔ 2014 سے 2021 کے درمیان چینی کی صنعت کو تقریباً 14,600 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی تھی، جبکہ 22-2021 کے بعد ایسی کوئی سبسڈی نہیں دی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، طویل مدت میں صارفین کے لیے چینی کی قیمتیں بھی بڑی حد تک مستحکم رہی ہیں۔ اگست 2024 سے جولائی 2026 کے درمیان چینی کی قیمتوں میں سالانہ اوسطاً صرف تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
حکومت ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور چینی کی فراہمی بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے
حکومت نے مشاہدہ کیا ہے کہ چینی کی کچھ ملوں اور تاجروں کی جانب سے قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزی نے بھی حالیہ قیمتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں:
- ملک بھر میں چینی کے تاجروں کے لیے 400 ٹن کی ذخیرہ حد مقرر کی گئی ہے، جو یکم اگست سے 30 نومبر 2026 تک نافذ رہے گی۔
- یکم ستمبر 2026 سے بڑی مقدار میں چینی استعمال کرنے والے صارفین کو 15 دن کی کھپت سے زیادہ چینی کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
- مرکزی اور ریاستی حکومت کے افسران کی مشترکہ ٹیمیں شوگر ملوں میں چینی کے ذخیرے کی موقع پر جانچ کر رہی ہیں، تاکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔
- احتیاطی اقدام کے طور پر حکومت نے ملکی سطح پر چینی کی دستیابی بڑھانے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
- ریاستوں اور چینی ملوں کو 15 اکتوبر 2026 سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس سے اکتوبر میں چینی کی پیداوار معمول کی 3 سے 4 لاکھ میٹرک ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 10 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہونے کی توقع ہے، جس سے تہواروں کے موسم میں چینی کی دستیابی مزید بہتر ہوگی۔
حکومت صارفین اور گنے کے کسانوں دونوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت چینی کے ذخیرے، قیمتوں اور مارکیٹ میں ہونے والی سرگرمیوں پر مسلسل کڑی نظر رکھے گی اور ذخیرہ اندوزی اور بلاجواز قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ ساتھ ہی گنے کے کسانوں کو ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
****
ش ح۔ ع و ۔ ش ب ن
U-NO-2445
(रिलीज़ आईडी: 2302047)
आगंतुक पटल : 15