الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
آدھار ایپ کے ڈاؤن لوڈ کی تعداد 5 کروڑ سے تجاوز، سہل اور شہری مرکزیت پر مبنی ڈیجیٹل شناختی خدمات کو تقویت
آدھار ایپ کے ذریعے 60 لاکھ سے زائد افراد نے موبائل نمبر، جبکہ 15 لاکھ سے زائد افراد نے پتہ اپ ڈیٹ کیا
200 ادارے آف لائن تصدیق کی درخواست کرنے والے اداروں (او وی ایس ایز) کے طور پر شامل
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 1:45PM by PIB Delhi
آدھار ایپ نے 50 ملین (5 کروڑ) ڈاؤن لوڈز کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جو شہریوں میں سہل اور ڈیجیٹل بنیاد پر فراہم کی جانے والی آدھار خدمات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ سنگِ میل شہریوں اور یو آئی ڈی اے آئی کے درمیان ایک ڈیجیٹل رابطے کے طور پر آدھار ایپ کے کردار میں نمایاں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے آدھار نمبر رکھنے والے افراد اپنے اسمارٹ فون سے مختلف خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جن میں موبائل نمبر، پتہ اور ای میل اپ ڈیٹ کرنا، بایومیٹرک لاک یا اَن لاک کرنا اور ای-آدھار ڈاؤن لوڈ کرنا شامل ہے۔
آغاز کے بعد سے آدھار ایپ کا مسلسل اور بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ 60 لاکھ سے زائد افراد نے آدھار ایپ کے ذریعے اپنا موبائل نمبر اپ ڈیٹ کیا، جبکہ 15 لاکھ سے زائد پتوں اور 23 لاکھ سے زیادہ ای میل بھی اسی ایپ کے ذریعے اپ ڈیٹ کیے گئے۔
ان خدمات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری آدھار سے متعلق خدمات حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث انہیں آدھار مرکز جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
آدھار ایپ کو‘‘دکھائیں، شیئر کریں اور تصدیق کریں’’ کے اصول کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے آدھار نمبر رکھنے والے افراد کو اپنی آدھار معلومات کے استعمال پر زیادہ اختیار حاصل ہوتا ہے، جبکہ شناخت کی سہل تصدیق بھی ممکن ہوتی ہے۔
آدھار ایپ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ یو آئی ڈی اے آئی محفوظ اور سہل آف لائن تصدیق کے نظام کو بھی وسعت دے رہا ہے۔ جنوری میں اس نظام کے آغاز کے بعد سے یو آئی ڈی اے آئی نے اب تک 200 سے زائد اداروں کو آف لائن تصدیق کی درخواست کرنے والے اداروں (او وی ایس ایز) کے طور پر شامل کیا ہے۔
یہ سنگِ میل آدھار کے آف لائن طریقۂ کار کے ذریعے محفوظ، رضامندی پر مبنی اور کاغذ کے بغیرتصدیق کو ممکن بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور عوام، دونوں کو فائدہ ہوگا۔
ان او وی ایس ای شراکت دار اداروں کی شمولیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدھار پر مبنی رازداری کو ترجیح دینے والے ڈیجیٹل تصدیقی نظام پر اعتماد بڑھ رہا ہے، جو صارفین کو اپنے ڈیٹا پر اختیار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خدمات تک آسان رسائی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔
آدھار کی آف لائن تصدیق کے طریقوں، مثلاً کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق اور محفوظ ڈیجیٹل دستخط شدہ دستاویزات سے استفادہ کرتے ہوئے، یہ ادارے اب یو آئی ڈی اے آئی کے مرکزی ڈیٹا بیس سے حقیقی وقت میں رابطے کے بغیر بھی شناختی معلومات کی تصدیق کر سکیں گے۔
یہ طریقۂ کار شہری مرکزیت پر مضبوط توجہ مرکوز کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آدھار نمبر رکھنے والے افراد صرف مطلوبہ کم سے کم معلومات ہی شیئر کریں، جس سے رازداری مزید مضبوط ہوتی ہے۔ تصدیق کے اس آسان عمل میں شفافیت اور رضامندی پر مبنی تعامل کے ذریعے اعتماد کو فروغ دیا جاتا ہے۔
یہ اقدامات حکومت کے ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ وژن اور محفوظ، قابلِ رسائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی عوامی خدمات کے ذریعے زندگی کو آسان بنانے کے وسیع تر مقصد سے ہم آہنگ ہیں۔
*****
ش ح۔ا ع خ - ف ر
U-no-2363
(रिलीज़ आईडी: 2301555)
आगंतुक पटल : 8