ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے بہار میں مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن کو ہائبرڈ اینوٹی موڈ (ایچ اے ایم) کے تحت 3,590.73 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ جاتی لاگت سے قومی شاہراہ-22 کو چار لین معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی ہے

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 3:22PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج بہار میں قومی شاہراہ-22 کے مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن کو چار لین معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی منظوری دے دی  ہے۔ یہ منصوبہ ہائبرڈ اینوٹی موڈ (ایچ اے ایم) کے تحت 3,590.73 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ جاتی لاگت سے تیار کیا جائے گا اور اس کی مجموعی لمبائی 82.578 کلومیٹر ہوگی۔

مجوزہ منصوبہ بہار کے وسعت پاتے قومی شاہراہ نیٹ ورک سے منسلک ہونے کے باعث اسٹریٹجک اور اقتصادی اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک اہم رابطہ راہداری کے طور پر کام کرے گا، جو سونبرسا میں بھارت۔نیپال سرحد کو قومی شاہراہ-27 (مشرق-مغربی راہداری) پر واقع مظفرپور جیسے اقتصادی مراکز سے جوڑے گی۔ اس منصوبے سے مظفرپور، مقصودپور، رونی سیدپور، تھمّا، ڈمرا، بھتہی اور سونبرسا جیسے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ اور آمدورفت کی بھیڑ میں نمایاں کمی آئے گی۔

اس منصوبے سے مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کی زیادہ تیز رفتار اور محفوظ آمدورفت ممکن ہونے، سفر کی کارکردگی بہتر بنانے اور علاقائی رابطے کو مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ اسے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار اور 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس شاہراہ پر درمیان میں کوئی راستہ نہیں ہوگا، جس سے تیز رفتار اور محفوظ سفر یقینی بنایا جا سکے گا۔

پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے اصولوں کے مطابق منصوبہ بندی کیے گئے اس منصوبے سے اہم اقتصادی، سماجی اور لاجسٹکس مراکز، بشمول صنعتی علاقوں اور بڑے ریلوے اسٹیشنوں تک بہتر رابطہ قائم کرکے کثیر جہتی ذرائع نقل و حمل فروغ ملے گا۔ بہتر رابطے سے اشیا اور زرعی سپلائی چین کی مؤثر نقل و حمل میں سہولت ہوگی، علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا اور بدھ مت کے سرکٹ اور سیتامڑھی کے تاریخی جانکی پونورا دھام مندر جیسے اہم ثقافتی اور مذہبی مقامات تک رسائی بہتر ہوگی۔

قومی شاہراہ-22 کا مظفرپور–سیتامڑھی–سونبرسا کاحصہ اسٹریٹجک اور اقتصادی اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل ہے اور قومی مال برداری کے نیٹ ورک سے بلا تعطل رابطہ یقینی بناتا ہے۔ یہ قومی شاہراہ-31 اور قومی شاہراہ-122 جیسی موجودہ راہداریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر برونی جیسے صنعتی علاقوں اور گنگا کے کنارے واقع دریائی لاجسٹکس مراکز سے رابطے کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھیٹھاموڑ میں واقع قریبی لینڈ پورٹ کے ذریعے سرحد پار مسافروں اور مال برداری کی آمدورفت میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اس منصوبے میں سات بڑے پل بھی شامل ہیں، جن میں سال بھر بہنے والے باگمتی دریا پر 340 میٹر طویل بڑا پل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ٹریفک کی باہمی آمدورفت کو برقرار رکھنے اور محفوظ و تیز رفتار سفر کو یقینی بنانے کے لیے تین ریلوے اوور برج (آر او بی) اور دو فلائی اوور(1,170 میٹر اور 270 میٹر )تعمیر کیے جائیں گے۔

اس منصوبے سے گاڑیوں کی اوسط رفتار میں اضافہ، سفر کے وقت میں کمی اور مجموعی طور پر سڑک کی سلامتی، ایندھن کی بچت اور گاڑیوں کے آپریشنل اخراجات میں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں علاقائی نقل و حمل اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

یہ منصوبہ بہار بھر میں اہم اقتصادی، سماجی اور لاجسٹکس مراکز کے لیے بلا تعطل رابطہ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، اپ گریڈ کیے گئے اس راہداری سے پانچ پی ایم گتی شکتی اقتصادی مراکز(چار صنعتی اسٹیٹ اور ایک میگا فوڈ پارک )، چار سماجی مراکز( بابا غریب ناتھ مندر، ماتا جانکی مندر، پونورا دھام اور مظفرپور و سیتامڑھی جیسے امنگوں والے اضلاع) اور دو لاجسٹکس مراکز(مظفرپور اور سیتامڑھی ریلوے اسٹیشن)، تک رابطہ مزید بہتر ہوگا۔ اس سے خطے میں اشیا اور مسافروں کی تیز رفتار آمدورفت میں سہولت حاصل ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/CCEA119082026O0IH.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/CCEA2190820263PRH.jpg

****

ش ح۔ م ش  ۔ ص ج

U. No-2318


(रिलीज़ आईडी: 2301165) आगंतुक पटल : 20
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia , Tamil , Kannada , Malayalam