وزیراعظم کا دفتر
تبدیلی کے 12 سال: یوم آزادی کے خطاب میں وزیراعظم مودی نے ہندوستان کی ترقی کو اجاگر کیا
प्रविष्टि तिथि:
15 AUG 2026 1:18PM by PIB Delhi
یوم آزادی کے خطاب میں وزیراعظم جناب نریندر مودی نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مینوفیکچرنگ، ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے، بنیادی سہولیات، توانائی کے تحفظ، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، اختراع، سماجی تحفظ اور دیگر اہم شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا۔
وزیراعظم کے خطاب کی اہم جھلکیاں:
1- مینوفیکچرنگ: وسعت اور خود انحصاری
گزشتہ 12 برسوں کے دوران:
- دفاعی پیداوار میں تقریباً 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- کھادی اور دیہی صنعتوں کی پیداوار میں تقریباً 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- الیکٹرانکس کی مینوفیکچرنگ میں تقریباً 7 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- جدید ریلوے کوچوں کی پیداوار میں 21 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- موبائل فون کی پیداوار میں 35 گنا اضافہ ہوا ہے۔
2- ڈجیٹل انڈیا اور اختراع
وزیرِ اعظم نے ہندوستان کے ڈجیٹل اور اختراعی نظام کی تیز رفتار توسیع کو اجاگر کیا:
- انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں تقریباً 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- پیٹنٹ کے اجرا میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- ڈجیٹل لین دین میں تقریباً 100 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- ہندوستان نے ڈجیٹل اور اختراعی شعبے کا ایک بہت بڑا اور مضبوط نظام تشکیل دیا ہے۔
3۔ بنیادی سہولیات کی تیز تر فراہمی
وزیر اعظم نے اس رفتار کو اجاگر کیا جس سے عام شہریوں تک بنیادی سہولیات پہنچ رہی ہیں:
- نل کے ذریعے پانی کے کنکشن فراہم کرنے کی سالانہ رفتار میں تقریباً 15 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- ایل پی جی کنکشن فراہم کرنے کی سالانہ رفتار میں تقریباً 6 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- غریبوں کے لیے بیت الخلاؤں کی تعمیر کی سالانہ رفتار میں تقریباً 4 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- غریبوں کو پکے مکانات فراہم کرنے کی سالانہ رفتار میں تقریباً 3 گنا اضافہ ہوا ہے۔
- سینکڑوں فرسودہ قوانین ختم کیے جا چکے ہیں۔
- میٹرو نظام سمیت جدید عوامی نقل و حمل کئی مزید شہروں تک پہنچ چکی ہے۔
4-سیمی کنڈکٹر کا ماحولیاتی نظام تشکیل دینا
وزیرِ اعظم نے ملک میں سیمی کنڈکٹر کی مقامی صلاحیتیں پیدا کرنے کے حوالے سے ہندوستان کی پیش رفت کو اجاگر کیا:
- پہلے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کی کوئی بڑی مینوفیکچرنگ فیکٹری نہیں تھی۔
- اب ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کا ایک مکمل ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔
- سیمی کنڈکٹر کے تین پلانٹس شروع کیے جا چکے ہیں۔
- ہندوستان نے چپس کی برآمد بھی شروع کر دی ہے۔
5- اہم معدنیات کا تحفظ
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے اہم معدنیات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس شعبے میں ہندوستان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا:
- نیشنل کریٹیکل منرل مشن شروع کیا گیا ہے۔
- بجٹ میں کریٹیکل منرل کوریڈور کا اعلان کیا گیا ہے۔
- اہم معدنیات کی فراہمی کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
6- توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے توانائی کا تحفظ ایک بنیادی شرط ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چپس، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز جیسی ٹیکنالوجیز کو بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔
جوہری توانائی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا:
- شانتی ایکٹ(ایس ایچ اے این ٹی آئی-شانتی) ایکٹ جوہری توانائی کے شعبے میں ایک اہم اصلاح ہے۔
- ہندوستان نے فاسٹ بریڈر نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔
- اس ٹیکنالوجی میں ہندوستان کو جوہری ایندھن کے معاملہ میں خود انحصار بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہے۔
7- تیل اور گیس کی تلاش میں توسیع
وزیرِ اعظم نے سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے ہندوستان کے نقطۂ نظر میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کیا:
- پہلے ہندوستان کے تقریباً 99 فیصد سمندری علاقے کو ’نو گو ایریا‘ قرار دیا گیا تھا۔
- اب اس پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے ’نو گو ایریا‘ سے ’گو اہیڈ ایریا‘ کی طرف پیش رفت کی گئی ہے۔
- پہلے محدود کیے گئے علاقوں کو تلاش اور دریافت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
- اس سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
8- توانائی کے ذرائع میں تنوع
وزیرِ اعظم نے توانائی کے مختلف ذرائع میں تیزی سے ہونے والی توسیع کو اجاگر کیا۔
سٹی گیس ڈسٹری بیوشن
- 2014: 70سے بھی کم شہروں میں دستیاب تھی۔
- آج: تقریباً 700 شہروں میں دستیاب ہے۔
پائپ کے ذریعے کھانا پکانے کی گیس
- 2014 :تقریباً 20 سے 22 لاکھ گھرانے۔
- آج: تقریباً 1.75 کروڑ گھرانے۔
شمسی توانائی
- 2014:تقریباً 2 گیگاواٹ۔
- آج: تقریباً 160 گیگاواٹ۔
پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا
- اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے گھرانوں کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
- لاکھوں خاندان کم یا صفر بجلی بل کے ذریعے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
- خاندان اضافی پیدا ہونے والی بجلی فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
- فی گھرانا تقریباً 80 ہزار روپے تک کی مالی معاونت دستیاب ہے۔
9- ریلوے: برقی کاری اور مستقبل کے ایندھن
وزیرِ اعظم نے ہندوستانی ریلوے میں ہونے والی تبدیلی کو اجاگر کیا:
- 2014 میں: تقریباً 90 برس گزرنے کے بعد بھی ریلوے نیٹ ورک کا صرف تقریباً 30 فیصد حصہ بجلی سے منسلک تھا۔
- آج: ہندوستانی ریلوے تقریباً مکمل برقی کاری کی جانب بڑھ چکی ہے۔
- ہندوستان نے اپنی پہلی میک ان انڈیا ہائیڈروجن ٹرین پر کام شروع کر دیا ہے۔
- اسے دنیا کی سب سے طویل اور طاقتور ہائیڈروجن ٹرین کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
10- عالمی بحرانوں کے دوران ہندوستان کی مضبوطی
وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران ملک میں پیدا کی گئی صلاحیتوں کا امتحان درج ذیل عالمی بحرانوں کے دوران ہوا:
- کووڈ-19 کی عالمی وبا۔
- روس-یوکرین جنگ۔
- مغربی ایشیا میں تنازعات۔
11- کسانوں کے لیے سستی کھاد
عالمی منڈی میں کھاد کی بلند قیمتوں سے کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا:
- یوریا: عالمی سطح پر تقریباً 3,000 روپے فی بوری، جبکہ ہندوستانی کسانوں کو یہ 300 روپے سے بھی کم میں ملتی ہے۔
- ڈی اے پی: عالمی سطح پر 5,000 روپے سے زیادہ، جبکہ ہندوستانی کسانوں کو یہ 1,350 روپے میں ملتی ہے۔
12- تجارت اور برآمدات کے مواقع
وزیراعظم نے ہندوستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کو اجاگر کیا:
- 2014 سے اب تک ہندوستان نے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے)کیے ہیں۔
- زراعت، ماہی گیری، ایم ایس ایم ایز، ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
6- توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا
وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے توانائی کا تحفظ ایک بنیادی شرط ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چپس، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا سینٹرز جیسی ٹیکنالوجیز کو بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔
جوہری توانائی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے بتایا:
- شانتی ایکٹ (SHANTI Act) جوہری توانائی کے شعبے میں ایک اہم اصلاح ہے۔
- ہندوستان نے فاسٹ بریڈر نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
- اس ٹیکنالوجی میں ہندوستان کو جوہری ایندھن کے معاملے میں خود انحصار بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت ہے۔
7- تیل اور گیس کی تلاش میں توسیع
وزیرِ اعظم نے سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے ہندوستان کے نقطۂ نظر میں آنے والی تبدیلی کو اجاگر کیا:
- پہلے ہندوستان کے تقریباً 99 فیصد سمندری علاقے کو ’نو گو ایریا‘ قرار دیا گیا تھا۔
- اب اس پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے ’نو گو ایریا‘ سے ’گو اہیڈ ایریا‘ کی طرف پیش رفت کی گئی ہے۔
- پہلے محدود کیے گئے علاقوں کو تلاش اور دریافت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
- اس سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
8- توانائی کے ذرائع میں تنوع
وزیرِ اعظم نے توانائی کے مختلف ذرائع میں تیزی سے ہونے والی توسیع کو اجاگر کیا۔
سٹی گیس ڈسٹری بیوشن
- 2014: 70 سے بھی کم شہروں میں دستیاب تھی۔
- آج: تقریباً 700 شہروں میں دستیاب ہے۔
پائپ کے ذریعے کھانا پکانے کی گیس
- 2014: تقریباً 20 سے 22 لاکھ گھرانے۔
- آج: تقریباً 1.75 کروڑ گھرانے۔
شمسی توانائی
- 2014: تقریباً 2 گیگاواٹ۔
- آج: تقریباً 160 گیگاواٹ۔
پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا
- اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے گھرانوں کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
- لاکھوں خاندان کم یا صفر بجلی بل کے ذریعے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
- خاندان اضافی پیدا ہونے والی بجلی فروخت کرکے آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
- فی گھرانہ تقریباً 80 ہزار روپے تک کی مالی معاونت دستیاب ہے۔
9- ریلوے: برقی کاری اور مستقبل کے ایندھن
وزیرِ اعظم نے ہندوستانی ریلوے میں ہونے والی تبدیلی کو اجاگر کیا:
- 2014 میں: تقریباً 90 برس گزرنے کے بعد بھی ریلوے نیٹ ورک کا صرف تقریباً 30 فیصد حصہ بجلی سے منسلک تھا۔
- آج: ہندوستانی ریلوے تقریباً مکمل برقی کاری کی جانب بڑھ چکی ہے۔
- ہندوستان نے اپنی پہلی میک اِن انڈیا ہائیڈروجن ٹرین پر کام شروع کر دیا ہے۔
- اسے دنیا کی سب سے طویل اور طاقتور ہائیڈروجن ٹرین کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
10۔ عالمی بحرانوں کے دوران ہندوستان کی مضبوطی
وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران ملک میں پیدا کی گئی صلاحیتوں کا امتحان درج ذیل عالمی بحرانوں کے دوران ہوا:
- کووڈ-19 کی عالمی وبا۔
- روس-یوکرین جنگ۔
- مغربی ایشیا میں تنازعات۔
11-کسانوں کے لیے سستی کھاد
عالمی منڈی میں کھاد کی بلند قیمتوں سے کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا:
- یوریا: عالمی سطح پر تقریباً 3,000 روپے فی بوری، جبکہ ہندوستانی کسانوں کو یہ 300 روپے سے بھی کم میں ملتی ہے۔
- ڈی اے پی: عالمی سطح پر 5,000 روپے سے زیادہ، جبکہ ہندوستانی کسانوں کو یہ 1,350 روپے میں ملتی ہے۔
12- تجارت اور برآمدات کے مواقع
وزیرِ اعظم نے ہندوستانی صنعت کاروں اور برآمد کنندگان کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کو اجاگر کیا:
- 2014 سے اب تک ہندوستان نے تقریباً 40 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے(ایف ٹی ایز)کیے ہیں۔
- زراعت، ماہی گیری، ایم ایس ایم ایز، ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
13- وکست بھارت میں نوجوانوں کا کلیدی کردار
وزیراعظم نے کہا کہ وکست بھارت کی تعمیر میں ہندوستان کے نوجوانوں کا اہم کردار ہے اور ان کے لیے کھلنے والے نئے راستوں کو اجاگر کیا:
- اسٹارٹ اپ انڈیا: اختراع اور کاروبار کے لیے نئے مواقع۔
- ایک لاکھ کروڑ روپے کا تحقیقی فنڈ: نوجوان محققین کے لیے نئے مواقع۔
- ڈجیٹل انڈیا: سستے ڈیٹا کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا۔
- اسکل انڈیا: قومی سطح پر ہنرمندی کا مضبوط نظام۔
- خلائی شعبہ: نجی شعبے کی شرکت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
- نیشنل ڈرون پالیسی: نوجوان کاروباری افراد اور اختراع کاروں کے لیے نئے مواقع۔
- کھیلو انڈیا: کھیلوں کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
14- تعلیم اور اختراع
وزیر اعظم نے تعلیمی اور اختراعی مواقع میں توسیع کو اجاگر کیا:
- قومی تعلیمی پالیسی 2020: 35سال کے وقفے کے بعد متعارف کرائی گئی۔
- یونیورسٹیاں: 2004 2014 کے دوران تعداد 350 سے بھی کم تھی، جبکہ اگلی دہائی میں تقریباً 650 نئی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔
- میڈیکل کالجز: 2014 پہلے یہ تعداد 400 سے بھی کم تھی، جو آج تقریباً 850 ہو گئی ہے۔
- اسکولوں میں 10,000 سے زائد اٹل ٹنکرنگ لیبز قائم کی گئی ہیں۔
- کم عمری ہی سے ٹیکنالوجی اور اختراع کی سوچ کو فروغ دینے پر توجہ دی گئی ہے۔
15- اسٹارٹ اپس، خلائی شعبہ اور مصنوعی ذہانت
وزیر اعظم نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپ اور اختراعی نظام کو اجاگر کیا:
- ایک ہندوستانی خلائی اسٹارٹ اپ نے میک ان انڈیا راکٹ لانچ کیا ہے۔
- ہندوستان میں اب تقریباً 2.5 لاکھ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس ہیں۔
- مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہندوستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
- ہندوستان نے رواں سال اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کی۔
16- نئے شعبے اور نئے مواقع
بایو اکانومی
- 2014 :تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے۔
- آج: تقریباً 20 لاکھ کروڑ روپے۔
- اس شعبے کی توسیع سے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیاں
- گزشتہ دہائی کے اختتام کے آس پاس سالانہ تقریباً 1.5 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوتی تھیں۔
- گزشتہ سال تقریباً 25 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فروخت ہوئیں۔
ہوابازی
- نئے ہوائی اڈے اور نئے فضائی راستے روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
- ایم آر او کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
- ہندوستان میک ان انڈیا طیاروں کی تیاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔
- ہندوستان میں تیار کردہ سی - 295دفاعی ٹرانسپورٹ طیارے نے کامیابی کے ساتھ اپنی آزمائشی پرواز مکمل کر لی ہے۔
17- سوامِتوا کے ذریعے دیہی بااختیاری
وزیرِ اعظم نے سوامِتوا(ایس وی اے ایم آئی ٹی وی اے) اسکیم کے اثرات کو اجاگر کیا:
- تقریباً 3.25 کروڑ خاندانوں کو پراپرٹی کارڈ فراہم کیے جا چکے ہیں۔
- دیہی علاقوں میں تقریباً 140 لاکھ کروڑ روپے کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لایا گیا ہے۔
- پراپرٹی ریکارڈ کے ذریعے دیہاتی اپنی جائیداد کے عوض بینکوں سے قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
- دیہی روزگار، خود روزگاری اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
18- دفاعی برآمدات میں اضافہ
وزیرِ اعظم نے ہندوستان کی دفاعی برآمدات میں ہونے والی توسیع کو اجاگر کیا:
- دفاعی برآمدات میں 50 گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
- ہندوستانی دفاعی سازوسامان اب تقریباً 100 ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔
19- خواتین کی قیادت میں ترقی: لکھ پتی دیدی
ہندوستان کی ترقی میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا:
- 3 کروڑ لکھ پتی دیدیوں کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔
- عام، دلت، پسماندہ اور قبائلی خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین لکھ پتی دیدی بنی ہیں۔
20- سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرنا
وزیرِ اعظم نے سماجی تحفظ کی کوریج میں ہونے والی توسیع کو اجاگر کیا:
- 2014 سے پہلے: تقریباً 25 کروڑ افراد سماجی تحفظ کے دائرے میں شامل تھے۔
- آج: تقریباً 100 کروڑ ہندوستانی کسی نہ کسی سماجی تحفظ کی اسکیم سے مستفید ہو رہے ہیں۔
21- آیوشمان بھارت
وزیرِ اعظم نے آیوشمان بھارت کے ذریعے خاندانوں کو ملنے والی مالی راحت کو اجاگر کیا:
- مستفید خاندانوں نے اندازاً 2 لاکھ کروڑ روپے کے طبی اخراجات سے خود کو محفوظ رکھا ہے۔
*****
2153UR No.
ش ح- ظ الف
(रिलीज़ आईडी: 2299927)
आगंतुक पटल : 7