صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کے 80 ویں یوم آزادی کے موقع پر قوم کے نام خطاب

प्रविष्टि तिथि: 14 AUG 2026 7:53PM by PIB Delhi

میرے پیارے ہم وطنو،

نمسکار!

یومِ آزادی کی ما قبل شام آپ سب کو میں اس قومی تہوار کی دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں۔ اب سے چند ہی گھنٹوں بعد، ہمارے ملک کی آزادی کے 80ویں سال کا مبارک آغاز ہوگا۔ ملک و بیرونِ ملک میں مقیم تمام ہندوستانی   اس تہوار کو جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ ہمارا ترنگا ہماری آزادی کی علامت ہے۔ ہم اسے پورے فخر و شان کے ساتھ لہراتے ہیں۔

پندرہ اگست 1947 کے دن بھارت ماتا  غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوئی۔ تمام اہلِ وطن آزاد بھارت کی تقدیر کے معمار بنے۔ ہم بھارت کے لوگ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں اور بھارت کو بہترین ملک بنانے کے جذبے کے ساتھ کام کریں، اسی میں آزادی کی معنویت ہے۔

فرض شناس طلبہ اور اساتذہ، ترقی کے لیے کوشاں سائنس داں اور انجینئر، صحت  کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر اور طبی کارکن، محنتی مزدور اور اناج اُگانے والے کسان، اپنی کوششوں سے قوم کی تعمیر کر رہے ہیں۔ باصلاحیت کھلاڑی، ہنرمند اور فنکار، رہنمائی کرنے والے دانشو ر، نجی اور سرکاری شعبوں کی ٹیموں کے محنتی ارکان، عوامی مفاد میں خدمات انجام دینے والے عوامی نمائندگان، انصاف کے نظام  سے وابستہ عدالتی اہلکار، فرض شناس سول سروینٹس، معیشت میں تعاون دینے والے چھوٹے بڑے تمام سرمایہ کار، بے لوث سماجی کارکن اور صفائی مہم سے منسلک سرکردہ کارکن، ہمارے سبھی صفائی متر، ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیگر شعبوں میں سرگرم بے شمار ہم وطن، نیز آئین میں درج بنیادی فرائض کی پابندی کرنے والے تمام شہری، قوم کی تعمیر میں اہم شراکت دار ہیں۔ میں ان سب کی دل کی گہرائیوں سے ستائش کرتی ہوں۔ تینوں افواج کے جوانوں، تمام مسلح پولیس دستوں اور پولیس اہلکاروں کی فرض شناسی کے لیے میں ان کی خاص طور پر تعریف کرتی ہوں۔ عالمی سطح پر بھارت کا وقار اور عزت بڑھانے والے غیر مقیم بھارتیوں اور سفارت خانوں میں خدمات انجام دینے والے اپنے ہم وطنوں کو بھی میں خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔

پیارے ہم وطنو،

 آزادی کی صد سالہ سالگرہ، یعنی 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انتودَیہ کے جذبے کے ساتھ ہمارا عزم ہے کہ ترقی کا فائدہ ہر فرد تک پہنچے۔ اپنی شاندار وراثت اور تحریکِ آزادی کے نظریات کو اپناتے ہوئے ہم جدید ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ’وَیَم راشٹرے جاگِریام‘ویدکا یہ منتر ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم ملک کے لیے ہمیشہ بیدار رہیں۔

 ہماری تحریکِ آزادی میں جدوجہد کرنے والے مختلف نظریات کے حامل لوگوں کا مقصد ایک ہی تھا—بھارت کی آزادی۔ ’سودیشی تحریک‘ کے دوران ’وندے ماترم‘ ہر شخص کا گیت بن گیا۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی قیادت میں بے شمار ہم وطن تحریکِ آزادی سے وابستہ ہو گئے۔ باباصاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سماجی اصلاح اور وطن سے وفاداری کے اعلیٰ اصول پیش کئے۔ بھارت ماتا کےان سبھی عظیم سپوتوں کو میں عقیدت کے ساتھ سلام پیش کرتی ہوں، جن کے اصولوں پر چلتے ہوئے ہمارا ملک آزاد ہوا اور آگے بڑھا۔

 آج 14 اگست کے دن ہم اسے ’تقسیم کی ہولناکی کی یاد کا دن‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ ہم ان لاکھوں ہم وطنوں کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متعلق تشدد میں مارے گئے یا نقل مکانی کے المیے کو جھیلنے پر مجبور ہوئے۔ فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو پناہ گزین بننا پڑا اور تقسیم کی ہولناکی برداشت کرنی پڑی۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنی شناخت نہیں چھوڑی۔

جب ہمارا ملک آزاد ہوا، اس وقت ملک کی تقسیم کے سنگین نتائج کے ساتھ ساتھ 550 سے زیادہ ریاستوں کو نو آزاد بھارت کے ساتھ جوڑنا بھی ایک غیر معمولی چیلنج تھا۔ سردار پٹیل نےراج شاہی نظاموں کا خاتمہ کرکے انہیں ہماری آزاد جمہوریت میں ضم کیا۔ایک ممنون قوم کی جانب سے، جدید بھارت کے اتحاد کے معمار، مردِ آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مقدس یاد کو میں عقیدت کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔

پیارے ہم وطنو،

’بھارت کے لوگوں‘ کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہمارا آئین شہریوں کی شراکت داری پر مبنی ہے۔ جمہوریت کی جنم بھومی بھارت کے باشندوں میں عوامی شراکت داری کا جذبہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اسی جذبے کو نئی توانائی کے ساتھ ہمارے ہم وطن آگے بڑھا رہے ہیں۔ قومی مہمات کو عوامی شراکت داری کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کی ایک حوصلہ افزا کامیابی ہے۔

 وقار اور مواقع کی برابری ، نیز فرد کی عظمت ہمارے آئین کے اہم اصول ہیں۔ آج عام پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے میرا یہ یقین مزید پختہ ہوتا ہے کہ آج کے بھارت میں ہر شخص بڑے خواب دیکھ بھی سکتا ہے اور انہیں پورا بھی کر سکتا ہے۔

 ہمارے آئین میں انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کی ذمہ داریوں کا واضح ذکر ہے۔ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ مقننہ میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کریں۔ انتظامیہ کا فرض ہے کہ عوامی مفاد اور قومی مفاد کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنائے۔  انصاف کے نظام  سے وابستہ ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث کوئی شخص انصاف سے محروم نہ رہے۔ ہر شہری کو، خصوصاً محروم طبقات کے لوگوں کو، مساوات کی بنیاد پر، عزت و وقار کے ساتھ، بروقت انصاف ملنا چاہیے۔

پیارے ہم وطنو،

 گزشتہ ایک دہائی سے کچھ زیادہ عرصے میں ہمارے ملک نے تیز رفتاری کے ساتھ جامع اور ہمہ گیر ترقی کی ہے۔وراثت  اور ترقی کے امتزاج کو ترجیح دی ہے، نیزترقی کی راہ میں حائل ہونے والی کئی دہائیوں پرانی رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔

ہمارے ہم وطن، مہاتما جیوتیبا  پھولے کی 200ویں جینتی منا رہے ہیں۔ مہاتما پھولے اور کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھولے نے سماجی انصاف، تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور مساوات کے شعبوں میں تاریخی خدمات انجام دی ہیں۔ اُن کے اصولوں کے مطابق، گزشتہ چند برسوں کے دوران محروم طبقات کو آگے بڑھانے کے مقصد کو قومی ترجیح دی گئی ہے۔ خواتین کی تعلیم کے میدان میں کامیابی کے نئے معیارات قائم ہوئے ہیں۔ 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غریبی سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے مالی شمولیت کے منصوبے—پردھان منتری جن دھن یوجنا—کے تحت تقریباً 59 کروڑ کھاتہ دار بینکاری نظام سے منسلک ہو چکے ہیں۔ ان میں 32 کروڑ سے زیادہ خواتین کھاتہ دار شامل ہیں۔ 80 کروڑ لوگوں کے لیے مفت راشن کی فراہمی کے ذریعے ان کی غذائی سلامتی یقینی بنائی گئی ہے۔ ’آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا‘ کے تحت 60 کروڑ لوگوں کو ہر سال پانچ لاکھ روپے تک کی مفت طبی سہولت فراہم کرائی گئی ہے۔ ’کسان سمان ندھی‘ اور ’کسان کریڈٹ کارڈ‘ کے ذریعے کھیتی باڑی، ڈیری، مرغی پروری، ماہی پروری اور شہد کی مکھیوں کی پرورش جیسی سرگرمیوں سے وابستہ کسان بھائی بہنوں کو سہارا ملا ہے۔

دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ثقافتی خود اعتمادی پر مبنی ترقی تیز رفتار اور پائیدار ہوتی ہے۔ آج ملک میں یہ شعور مضبوط ہو رہا ہے کہ ثقافتی فخر کا جذبہ ملک کی خودمختاری کو روحانی طاقت عطا کرتا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے علم و سائنس، فن و ثقافت، روحانیت اور اعلیٰ اخلاق کی انمول میراث ہمارے سپرد کی ہے۔ ہم وراثت  اور ترقی کے امتزاج کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں دنیا کا سب سے بڑا اور بہترین ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔ گاؤں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں اور ریہڑی پٹریوں  پر بھی ڈیجیٹل ادائیگیاں ہو رہی ہیں۔ دنیا میں ہونے والے  نصف سے زیادہ ریئل ٹائم ڈیجیٹل لین دین بھارت میں ہو رہے ہیں۔ ہمارے ہم وطنوں اور حکومت نے مل کر ڈیجیٹل انقلاب کی ایک مثال عالمی برادری کے سامنے پیش کی ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کی سہولیات کو شفاف طریقے سے ہر فرد تک پہنچایا ہے۔

ہمارے ملک میں شاہراہوں، آبی گزرگاہوں، ریلوے اور فضائی راستوں کی شکل میں جدید بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع ہوئی ہے۔ اس سے نئے کاروباری منصوبوں کے لیے گنجائش پیدا ہو ررہی ہے، نئے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

پیارے ہم وطنو،

 دنیا کے متعدد خطوں میں جنگ اور عدمِ استحکام کے اثرات تمام ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں بھی ہمارے ملک کی معیشت، دنیا کی سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ اقتصادی اندازوں کے مطابق بھارت کی شرحِ نمو دنیا کی اوسط شرحِ نمو کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ رہے گی۔ 'آتم نربھر بھارت' مہم سے ہماری اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کی بنیاد مزید مضبوط ہوئی ہے۔

جدید ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ، ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں بھی بھارت عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف 2030 کے بعض مقاصد ہمارے ملک نے مقررہ وقت سے پہلے ہی حاصل کر لیے ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کی ترقی کو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی رفتار حاصل ہوئی ہے۔

ہماری خارجہ پالیسی قومی مفاد پر مبنی ہے۔ امن، تعاون، مکالمہ اور ’وسودھیو کٹمبکم‘ کے اصول ہماری خارجہ پالیسی کے ستون ہیں۔ اقتصادی تعاون بڑھانے اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہم نے متعدد ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں ہم قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ہمارے ملک کا احترام بڑھا ہے۔ ہم قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت کثیرجہتی اداروں میں عالمی برادری کی مناسب نمائندگی ہو۔ ہماری اس کوشش کو متعدد ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

پیارے ہم وطنو،

 قدرتی وسائل پر ہماری آنے والی نسلوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا ہے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ ہمارے کسی بھی عمل سے آنے والی نسلوں کے ذریعے اس حق کے استعمال میں ذرّہ برابر بھی کمی نہ ہو۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم ان کے لیے اس سے بھی زیادہ مالا مال قدرتی وسائل چھوڑ کر جائیں۔ ماحول کے تحفظ کے تئیں ہماری وابستگی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ سنتھالی زبان کے ایک سادہ سے گیت میں ہمیں ایک گہرا پیغام ملتا ہے۔ پنڈت رگھوناتھ مُرمو کے تخلیق کردہ اس گیت کے چند الفاظ اس طرح ہیں:

دارے گُجُگ کان نیل تے
ِمرو چےنے راگ بَیہا  دایا  ہایا  گے
گُجُگ کان آبُوا جاتی دھرم دارے
چےداگ بابون راگ بَیہا آبو  اَنا ں نیل تے

اس گیت میں، ایک درخت کے پوری طرح سوکھ جانے پر غم زدہ ایک طوطے کا ذکر کرتے ہوئے شاعر کہہ رہے ہیں— ’اے میرے بھائیو! مرتے ہوئے درخت کو دیکھ کر طوطا دکھ بھری آواز میں رو رہا ہے۔ اے میرے بھائیو! انسانی تہذیب کی مانند درخت کو تباہ ہوتے دیکھ کر ہم، انسانی معاشرے کے لوگ، آخر کیوں ماتم نہیں کر رہے ہیں؟‘ اس گیت کا پیغام یہ ہے کہ تمام انسانوں کو انسانی اقدار اور قدرت کے تحفظ کے لیے مستعد رہنا چاہیے۔ ایک ہرا بھرا درخت، انسانی معاشرے کے اخلاقی اور صحت مند رہنے کی علامت ہے۔ ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ اور ’لائف اسٹائل فار دی انوائرمنٹ‘ یعنی لائف جیسی مہمات کے جذبے کے مطابق سبھی کو ماحولیات کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوشش کرنی چاہیے۔

میرے پیارے ہم وطنو،

 مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہماری بیٹیاں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، زرعی پیداوار بڑھانے میں تعاون کرنے والی ڈرون دیدی سے لے کر فضائیہ میں فائٹر کامبیٹ لیڈر بننے تک، مختلف شعبوں میں خواتین کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ حال ہی میں گلاسگو میں منعقد ہوئے دولت مشترکہ کھیلوں میں بھارت کے مجموعی 13 طلائی تمغوں میں سے 8 طلائی تمغے ہماری بیٹیوں نے جیتے ہیں۔ خواتین کی اقتصادی خود انحصاری بڑھ رہی ہے۔ خود امدادی گروپوں کی 10 کروڑ سے زیادہ خواتین ارکان ہیں۔ تین کروڑ خواتین کو لکھ پتی دیدی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ اب ہمارا ملک مزید تین کروڑ خواتین کو نئی لکھ پتی دیدی بنانے کے ہدف کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ 'مدرا یوجنا' کے تحت امداد حاصل کرنے والے کاروباری افراد میں تقریباً دو تہائی مستفیدین خواتین ہیں۔

خواتین کی معاشی خود انحصاری کی کوششوں کے ساتھ ساتھ، ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ مختلف شعبوں میں قیادت فراہم کر رہی ہیں۔ انتخابات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ہماری جمہوریہ کی ایک نمایاں کامیابی ہے۔ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نمائندگی محفوظ کرنے کے لیے، سال 2023 میں ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ منظور کیا جا چکا ہے۔ اس قانون کے مقصد کو حاصل کرنے سے خواتین کی قیادت میں اضافہ ہوگا اور ہماری جمہوریت مزید جامع بنے گی۔

 ملک کی کل آبادی میں 65 فیصد لوگوں کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ یہ نوجوان آبادی ہماری سب سے قیمتی دولت ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوان باصلاحیت، پُرعزم اور ہنرمند ہیں۔ زمینی سطح پر نوجوانوں کی جانب سے مختلف مسائل کے اختراعی اور عملی حل دیکھ کر مجھے معاشرے اور ملک کے لیے ان کی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ صرف 28 سال کی اوسط عمر رکھنے والی ایک نوجوان ٹیم نے حال ہی میں راکٹ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کرکے خلائی تحقیق کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا ہے۔

ہمارے بہت سے نوجوان خود روزگاری کی راہ اختیار کرتے ہوئے روزگار فراہم کرنے کے کلچرکو اپنا رہے ہیں۔ نوجوان کاروباری افراد کی شرکت سے ہمارے ملک میں ایک مضبوط اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم تشکیل پایا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے کاروباری ادارے بھارت کے نوجوانوں کی صلاحیت اور لگن سے متاثر رہتے ہیں اور انہیں قیادت کے عہدوں پر فائز کرتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں نے عالمی برادری میں بھارت کی نوجوان طاقت کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ہماری نوجوان نسل بھارت کے سنہرے مستقبل کے تئیں میرے یقین کو مزید پختہ کرتی ہے۔

ہمارے طلبہ، بھارت کے مستقبل کے معمار ہیں۔ جس طرح قومی سلامتی کے لیے حکومت اور معاشرے کا متحد رہنا ضروری ہے، اسی طرح طلبہ کے حال اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی سب کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ عوامی امتحانات طلبہ کے لیے مواقع کے دروازے کھولتے ہیں۔ اسی لیے حکومت ان امتحانات میں اصلاح کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد یہ ہے کہ عوامی امتحانات میں غیر مناسب ذرائع کے استعمال پر مکمل طور پر روک لگائی جائے، امتحانی نظام مزید شفاف ہو اور نوجوانوں کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد بنے۔

حکومت کی کوششوں اور نئی معاشی سرگرمیوں سے نوجوانوں کے لیے مختلف نوعیت کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسے مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ہمارے نوجوان کامیابی کی نئی راہیں اختیار کر سکتے ہیں۔

ہمارے نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت ملک کے مستقبل کی بنیاد ہے۔ خاندان اور معاشرے کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ہمارے نوجوان جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں۔

کھیل کود کو نوجوانوں کی ترقی اور قوم کی تعمیر کے وسیلے کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ ’کھیلو انڈیا‘ پروگرام کے تحت مقامی سطح سے لے کر قومی سطح تک ملک کے تمام خطوں کے لیے کھیلوں کا ماحولیاتی نظام فراہم کیا جا رہا ہے۔ کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت غیر معمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان کوششوں کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں ہمارے کھلاڑی کارکردگی اور کامیابیوں کی نئی بلندیوں تک پہنچ رہے ہیں۔

ایک طرف ہمارے ملک میں دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے، تو دوسری طرف بزرگ شہریوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت نے بزرگ شہریوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تقریباً چھ کروڑ بزرگ شہریوں کے لیے ہر سال پانچ لاکھ روپے تک کی مفت طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ بزرگ شہریوں کے تئیں اپنائیت کے جذبے اور ان کی عزت نفس کو برقرار رکھنے کے لیے پورے معاشرے کو حساس رہنا چاہیے۔

پیارے ہم وطنو،

سچائی اور انصاف کے حق میں، انسانیت مخالف طاقتوں پر فتح حاصل کرنے کی ہندوستانی روایت پر ہمیں فخر ہے۔ 26 جولائی کو ہم نے ’کارگل وجے دیوس‘ منایا۔ اس سے قبل، 7 مئی کو ’آپریشن سندور‘ کے آغاز کو ایک سال مکمل ہونے پر، ہم نے اپنی افواج کی بے مثال بہادری کو یاد کیا۔ دہشت گردی کے خلاف وہ تاریخی آپریشن ہندوستانی افواج کی اچوک صلاحیت کا ثبوت ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو یہ سخت پیغام دیا گیا کہ وہ چاہے کہیں بھی جا کر چھپ جائیں، لیکن انہیں اپنے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔ دہشت گردی کو تحفظ دینے والے ملک کے ساتھ ماضی میں کئے گئے سندھو آبی معاہدے کو معطل کرنا ہمارے ملک، خاص طور پر کسانوں کے مفاد میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

کئی دہائیوں سے نکسل ازم ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج بنا ہوا تھا۔ بھارت کو نکسل ازم سے پاک بنانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اب نکسل سے متاثرہ علاقوں میں جوش و خروش کا ماحول ہے اور ترقی کی ہمہ گیر لہر رواں دواں ہے۔ ’بستر اولمپکس‘ میں کھلاڑیوں نے، ’بستر پنڈم‘ میں فن کاروں نے اور ان تقریبات میں شائقین نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

قومی وقار کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی مراٹھا فوجی روایت سے وابستہ 12 قلعوں کو گزشتہ سال یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست  میں شامل کیا گیا اور اس سال، بھگوان بدھ کے پہلے خطاب کے مقام سارناتھ کو یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ بھارت کی سرزمین میں ایک طرف بھگوان بدھ سے وابستہ روحانی یادگاریں موجود ہیں، تو دوسری طرف خود اعتمادی اور اپنی شاندار روایات کے تحفظ کے لیے جنگ کرنے کی ہماری مؤثر صلاحیت کی علامتیں بھی موجود ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو،

تمام بھارتیوں کی ترقی اور فلاح ہی ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا حقیقی مقصد ہے۔ تیلگو زبان میں تخلیق کرنے والے عظیم قوم پرست ادیب ُگرجاڑا   اَپّاراؤ نے اپنی ایک نظم میں تمام بھارتیوں کو حب الوطنی کا انمول پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے:

دیس-مُنو  پرے منچو- مَنّامنچی  اَنّدی  پینچو    مَنّا

دیس-منٹے، مَٹّی کادوئے، دیس-منٹے،  منوشو لوئے

ان سطور کا مفہوم ہے:

ملک سے محبت کرو؛ بھلائی کو فروغ دو؛
ملک کا مطلب صرف مٹی ہی  نہیں ہے۔
ملک کا مطلب پورا عوامی معاشرہ ہے۔

 مجھے یقین ہے کہ معاشرے کی شراکت داری اور حکومت کی کوششوں سے گاؤں گاؤ ں میں،  شہر شہرمیں ،  بھارت کے گھر گھر میں رہنے والے تمام لوگ صحت مند، سُکھی اور خوشحال بنیں گے۔

 آئیے، ملک سے محبت کے اسی ہمہ گیر جذبے کے ساتھ ہم سب آزاد بھارت کو وکست بھارت بنانے کی قومی جدوجہد میں خود کو وقف کریں۔

شکریہ!

جے ہند!

جے بھارت!

 


(रिलीज़ आईडी: 2299582) आगंतुक पटल : 28
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , Telugu , Malayalam , Assamese , Bengali , Odia , English , Khasi , हिन्दी , Nepali , Marathi , Punjabi , Gujarati , Kannada