جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت 50 لاکھ سے زائد گھروں پر روف ٹاپ سولر نظام نصب کرنے کا تاریخی سنگِ میل حاصل


پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت ہر 6 دن میں ایک لاکھ نئے مستفید گھرانے شامل ہونے لگے

جولائی 2026 میں اس اسکیم کے تحت ایک ماہ میں سب سے زیادہ روف ٹاپ سولر نظام نصب کیے گئے

تقریباً 19 لاکھ گھرانوں کے بجلی کے بل اب صفر ہو چکے ہیں؛ اب تک 14.8 گیگاواٹ روف ٹاپ سولر صلاحیت نصب کی جا چکی ہے

پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت 25 ہزار سے زائد مرکزی سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی سے آراستہ کیا جا چکا ہے

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 2:26PM by PIB Delhi

پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت ملک بھر میں 50.06 لاکھ سے زائد گھرانے اب روف ٹاپ سولر نظام سے مستفید ہو رہے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی اس اسکیم نے ایک اہم تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

اسکیم کے آغاز کے صرف دو سال سے کچھ زیادہ عرصے میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی گزشتہ دس برسوں کے دوران نصب کیے گئے 7.94 لاکھ روف ٹاپ سولر نظاموں کے مقابلے میں غیر معمولی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ 75,021 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری یہ منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا روف ٹاپ سولر پروگرام بن چکا ہے۔ جدید و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے تحت چلائی جانے والی پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا حکومتِ ہند کی ایک اہم فلیگ شپ اسکیم ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں یہ اسکیم اس وقت ہر 6 دن میں ایک لاکھ نئے گھرانوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے صاف توانائی کے پروگراموں میں شمار کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 9 ماہ کے دوران تنصیبات کی رفتار میں 3.2 گنا اضافہ ہوا ہے، جو اکتوبر 2025 میں یومیہ 5,038 تنصیبات سے بڑھ کر جولائی 2026 میں تقریباً 16,328 تنصیبات یومیہ تک پہنچ گئی۔

صرف جولائی 2026 کے دوران 5.06 لاکھ گھرانے اس اسکیم سے مستفید ہوئے، جو اسکیم کے آغاز کے بعد کسی بھی ایک ماہ کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اس تیز رفتار پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے 28,024 کروڑ روپے کی سبسڈی براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے مستحقین کے کھاتوں میں منتقل کی جا چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 19 لاکھ گھرانوں کے بجلی کے بل صفر ہو گئے ہیں، جس سے ان کے مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے۔اس کے علاوہ، مالی سال 2024-25 کے دوران 12 لاکھ سے زائد گھرانوں نے اضافی بجلی گرڈ کو فروخت کرکے مجموعی طور پر 421 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جس کے تحت گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے ہر گھرانے کو اوسطاً 3,500 روپے سالانہ اضافی آمدنی حاصل ہوئی۔

یوٹیلٹی لیڈ ایگریگیشن ماڈل کے تحت پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی)، خطِ افلاس سے نیچے (بی پی ایل) زندگی گزارنے والے اور ایس سی/ایس ٹی طبقوں سے تعلق رکھنے والے 1.6 لاکھ گھرانوں میں چار ریاستوں کے اندر روف ٹاپ سولر نظام نصب کیے جا چکے ہیں، جبکہ اس ماڈل کو 12 ریاستوں میں نافذ کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ یہ ماڈل کم آمدنی والے گھرانوں کو روف ٹاپ سولر کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے بجلی سبسڈی کے مالی بوجھ میں بھی کمی لانے میں مدد دے رہا ہے۔ریپو ریٹ سے 50 بیسس پوائنٹس زیادہ، یعنی 5.75 فیصد رعایتی شرحِ سود پر 21.87 لاکھ درخواست دہندگان کے لیے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ ان میں سے 17.5 لاکھ روف ٹاپ سولر تنصیبات قرض کے ذریعے مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ جن سمرتھ پلیٹ فارم سے انضمام کی بدولت قرضوں کی کارروائی مکمل طور پر بغیر کاغذی کارروائی کے انجام دی جا رہی ہے۔

اس اسکیم نے ملک بھر میں سپلائرز اور روزگار کا ایک مضبوط نظام بھی تشکیل دیا ہے۔ اس وقت 34,219 رجسٹرڈ وینڈرز موجود ہیں، جن میں سے 29,469 فعال طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ روف ٹاپ سولر سے متعلق ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے صلاحیت سازی کے پروگراموں کے تحت 2.32 لاکھ سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔ اب تک اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 14.8 گیگاواٹ روف ٹاپ سولر صلاحیت نصب کی جا چکی ہے۔

یہ اسکیم سو فیصد آن لائن اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی ہے، جس میں درخواست دینے سے لے کر سبسڈی کے اجرا تک تمام مراحل آن لائن مکمل ہوتے ہیں اور صارفین کو نہ تو کسی قسم کی کاغذی کارروائی کرنا پڑتی ہے اور نہ ہی کسی دفتر کے چکر لگانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ سہولت جن سمرتھ کے ذریعے بغیر کاغذی قرضوں، پی ایف ایم ایس کے انضمام کے ذریعے 15 دن کے اندر سبسڈی کی ادائیگی، 80 سے زائد ڈسکام کے ساتھ اے پی آئی انضمام، قومی پورٹل پر ڈیجیٹل نیٹ میٹرنگ معاہدہ اور صارفین کے لیے نمایاں اسٹار ریٹنگ والے وینڈر ریٹنگ نظام کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈی سی آر پورٹل سے انضمام کے ذریعے مقامی طور پر تیار کردہ پرزوں کے استعمال سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

روف ٹاپ سولر کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے 10 کلوواٹ تک کے روف ٹاپ سولر نظاموں کے لیے ڈیمڈ منظوری  اور تکنیکی موزونیت (فزیبلیٹی) کی لازمی منظوری سے استثنا فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے روف ٹاپ سولر سے متعلق درخواست اور نیٹ میٹرنگ کی فیس ختم کر دی ہیں۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامز) کو 3,807.6 کروڑ روپے بطور ترغیبی رقم جبکہ شہری بلدیاتی اداروں کو تقریباً 104 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، 46 شہروں میں سٹی ایکسیلیریٹر پروگرام شروع کیا گیا ہے اور وینڈرز کی جوابدہی کے نظام کے تحت تقریباً 23 ہزار آزادانہ معیار جانچ (تھرڈ پارٹی کوالٹی انسپیکشن) بھی مکمل کی جا چکی ہے۔

مرکزی وزارتوں نے تقریباً 41,542 ایسے سرکاری عمارتوں کی نشاندہی کی ہے جہاں مجموعی طور پر 1,418 میگاواٹ صلاحیت کے روف ٹاپ سولر نظام نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے 25,255 عمارتوں پر 872 میگاواٹ صلاحیت کے سولر نظام پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح ریاستوں نے تقریباً 3.20 لاکھ موزوں سرکاری عمارتوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں 4,400 میگاواٹ صلاحیت کے سولر نظام لگانے کی گنجائش موجود ہے۔ ان میں سے 81,329 عمارتوں پر 1,450 میگاواٹ صلاحیت کے سولر نظام نصب کیے جا چکے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر اب تک 1.06 لاکھ سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی سے آراستہ کیا جا چکا ہے۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سولر منصوبوں کے لیے ریسکو (آر ای ایس سی او) ماڈل کے تحت بولی لگانے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ادائیگی کے تحفظ کا نظام (پیمنٹ سیکورٹی میکانزم) بھی متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ ادائیگیوں کے خطرات کم ہوں اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

50 لاکھ سے زائد گھرانوں کو اس اسکیم سے فائدہ پہنچنے اور روف ٹاپ سولر تنصیبات کی رفتار مسلسل بڑھنے کے ساتھ، پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا بھارت کو شہری شراکت پر مبنی غیر مرکزی صاف توانائی کو اپنانے میں عالمی رہنما کے طور پر مزید مستحکم کر رہی ہے، جبکہ یہ اسکیم ملک کے گھرانوں کے لیے توانائی کے تحفظ اور توانائی میں خود کفالت کے دوہرے ہدف کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔

******

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-1274


(रिलीज़ आईडी: 2294263) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Kannada , English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Gujarati , Tamil , Telugu , Malayalam