ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
کابینہ نے کرناٹک اور آندھرا پردیش کے تین اضلاع کو محیط ایک ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ کی منظوری دی ہے، جس سے انڈین ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 46 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا
اس پروجیکٹ کی کل تخمینی لاگت 1,264 کروڑ روپے ہے اور یہ 2028-29 تک مکمل ہوگا
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 4:05PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی زیرِ صدارت اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج کرناٹک اور آندھرا پردیش میں بالاری - گنٹاکال سیکشن کی تیسری اور چوتھی لائن کو 1,264 کروڑ روپے (تقریباًًً) کی کل لاگت سے منظور کر لیا ہے۔
یہ پروجیکٹ پی ایم-گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان پر مبنی ہے جس میں مربوط منصوبہ بندی اور اسٹیک ہولڈر مشاورت کے ذریعے کثیرجہتی رابطے اور لاجسٹک کارکردگی کو بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ پروجیکٹ لوگوں، سامان اور خدمات کی نقل و حمل کے لیے ہم وار رابطہ فراہم کرے گا۔
کرناٹک اور آندھرا پردیش کی ریاستوں کے 03 اضلاع کو محیط یہ پروجیکٹ انڈین ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 46 کلومیٹر کا اضافہ کرے گا۔
تجویز کردہ ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹ تقریباً 99 دیہاتوں تک رسائی کو بہتر بنائے گا، جن کی آبادی تقریباً سات لاکھ ہے۔
صلاحیت میں اضافہ ملک بھر میں کئی اہم سیاحتی مقامات، جن میں بالاری قلعہ، سری کمار سوامی مندر وغیرہ شامل ہیں، کے لیے ریل رابطے کو بہتر بنائے گا۔
تجویز کردہ پروجیکٹ لوہے کی کچ دھات، ڈولومائٹ، چونے کے پتھر، لوہے اور اسٹیل، کوئلہ، کھاد، اناج وغیرہ جیسے اجناس کی نقل و حمل کے لیے ایک ضروری راستہ ہے۔ صلاحیت میں اضافے کے کاموں کے نتیجے میں 16.22 ایم ٹی پی اے (ملین ٹن فی سال) مال بردار ٹریفک میں اضافہ ہوگا۔ ریلوے، جو کہ نقل و حمل کا ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے موثر ذریعہ ہے، ماحولیاتی اہداف کے حصول اور ملک کی لاجسٹک لاگت کو کم کرنے، تیل کی درآمد (1.32 کروڑ لیٹر) کو کم کرنے اور CO2 کے اخراج (6.67 کروڑ کلوگرام) کو کم کرنے میں مدد کرے گا، جو کہ 0.27 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔
بڑھی ہوئی لائن کی صلاحیت نقل و حرکت کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گی، جس کے نتیجے میں انڈین ریلوے کے لیے آپریشنل کارکردگی اور سروس کی وشوسنییتا میں بہتری آئے گی۔ یہ ملٹی ٹریکنگ تجویز آپریشنز کو ہم وار کرنے اور بھیڑ کو کم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پروجیکٹ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کے نئے بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہےجو علاقے کے لوگوں کو اس علاقے میں جامع ترقی کے ذریعے ’آتمِ نربھر‘ بنائے گا جس سے ان کے روزگار/خود روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 514
(रिलीज़ आईडी: 2289011)
आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Manipuri
,
Bengali
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam