وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

سائبر ، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز (پی اے سی ٹی ایس) سے متعلق آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان شراکت داری

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2026 11:04AM by PIB Delhi

آسٹریلیا اور بھارت نے اپنے جامع اسٹریٹجک شراکت داری،2020 کے سائبر اور سائبر سے مربوط اہم ٹیکنالوجی تعاون کے فریم ورک 2020 اور دو دہائیوں پر محیط مشترکہ تحقیق، عملی ہم آہنگی اور پالیسی تعاون کی بنیاد پر سائبر اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ایک مضبوط اور پائیدار شراکت داری قائم کی ہے۔

اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ سپلائی چینز، اہم ٹیکنالوجیز اور سائبر سلامتی اقتصادی ترقی کو فروغ دیتی ہیں، قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور اقدار و عالمی معیارات کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں، آسٹریلیا اور بھارت اپنی موجودہ مضبوط بنیادوں پر مزید پیش رفت کرتے ہوئے سائبر، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز سے متعلق آسٹریلیا-بھارت شراکت داری (پی اے سی ٹی ایس) کے تحت اپنے دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، جو 2020 کے فریم ورک کی جگہ لے گی ۔

پی اے سی ٹی ایس کا مقصد قومی اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ مفادات کو تقویت دینا، شراکت دار ممالک کو ڈیجیٹل شعبے میں مزید متبادل فراہم کرنا، اہم سپلائی چینز کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانا اور عالمی سطح پر سائبر تحفظ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت کیے جانے والے ہر اقدام میں سلامتی، تحفظ، مضبوطی، سب کے لیے شمولیت اور مشترکہ جمہوری اقدار کو بنیادی حیثیت دی جائے گی، جو ذمہ دار ٹیکنالوجی قیادت کے لیے دونوں ممالک کے عزم کا مظہر ہے۔ ان تمام کوششوں کو ایک جامع اور متحد اسٹریٹجک وژن کے تحت مربوط کرنے سے دونوں ممالک تعاون کے پانچ بنیادی ستونوں کے تحت ہدفی اقدامات مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں گے۔

تعاون کے بنیادی ستون

باہمی طور پر مربوط ہر ستون کے تحت، بھارت اور آسٹریلیا نجی شعبے، جامعات، تحقیقی اداروں اور سرکاری ایجنسیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے مواقع اور مخصوص منصوبوں کی نشاندہی کریں گے۔ اس سے حکومتوں کے درمیان موجود تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دی جائے گی، نئی ٹیکنالوجیز میں دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، اور دانشمندانہ ملکیت کو ایسے عملی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو اقتصادی ترقی کو فروغ دیں۔

پہلا ستون: سپلائی چینز کی مضبوطی اور تنوع

آسٹریلیا اور بھارت اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی صنعتوں کی معاونت کے لیے محفوظ، مضبوط اور قابلِ اعتماد سپلائی چینز کے فروغ پر مل کر کام کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ڈیزائن ہی کے مرحلے سے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے، مؤثر ضابطہ جاتی فریم ورک کو فروغ دینے اور قواعد پر مبنی دوطرفہ ٹیکنالوجی تجارت اور سپلائی چینز کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

  • قابلِ اعتماد فراہم کنندگان کے فریم ورک کے حوالے سے تعاون کے لیے دوطرفہ نظام وضع کیا جائے گا۔
  • ہند-بحرالکاہل خطے میں محفوظ، قابلِ اعتماد، مستحکم اور لچکدار زیرِ سمندر کیبل رابطوں کے فروغ کے لیے بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا، جس میں کیبل رابطہ کاری اور مضبوطی سے متعلق کواڈ شراکت داری کے ذریعے تعاون بھی شامل ہوگا۔ اس مقصد کے لیے بہترین طریقۂ کار کے تبادلے، معلومات کے اشتراک اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے گا، نیز زیرِ سمندر کیبل انفراسٹرکچر کو درپیش خطرات، بشمول تخریب کاری سے نمٹنے کے لیے تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔
  • آسٹریلیا اور بھارت کے تحقیقی اداروں کے درمیان سیمی کنڈکٹر سپلائی چینز کے تحفظ پر مرکوز تعاون کو فروغ دیا جائے گا، نیز مشترکہ تحقیق اور مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری کے ذریعے ان کی کوششوں کو تقویت دی جائے گی۔
  • مربوط سرمایہ کاری، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور معدنیات کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ حصول کے ذریعے محفوظ اہم معدنیات کی سپلائی چینز کی ترقی میں تعاون کیا جائے گا۔
  • آسٹریلیا اور بھارت کے کاروباری اداروں کے درمیان تجارتی تعاون اور تجارت کے تنوع کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ متعلقہ اعلیٰ نمائندہ اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جس میں موجودہ اقدامات کو اس ستون کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا بھی شامل ہوگا۔

دوسرا ستون: اہم ٹیکنالوجیز

آسٹریلیا اور بھارت ترجیحی اہم ٹیکنالوجیز کے تحفظ، مضبوطی اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کریں گے، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، خلائی ٹیکنالوجیز، مواصلات، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور جدید مواد جیسے اہم شعبوں میں نئی ٹیکنالوجیز کی جدت کو فروغ دیں گے۔ دونوں ممالک ضروری ڈیجیٹل اور طبعی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، جدت طرازی اور تحقیق کی رفتار تیز کرنے، اور باہمی مطابقت رکھنے والے، اتفاقِ رائے پر مبنی بین الاقوامی معیارات کی تشکیل کی کوشش کریں گے، تاکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں طویل مدتی اقتصادی سلامتی اور علاقائی استحکام کو تقویت دی جا سکے۔

  • جمہوری اقدار پر مبنی، اتفاقِ رائے سے تشکیل پانے والے اور کثیر فریقی شراکت داروں پر مشتمل فریم ورک تیار کرکے قابلِ اعتماد، محفوظ اور پُرامن مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے بین الاقوامی معیارات اور پیمانوں کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس میں بھارتی اور آسٹریلیائی جامعات اور نجی شعبے کے درمیان ایسے اقدامات کی حمایت بھی شامل ہوگی جو دونوں ممالک کے شہریوں کو فائدہ پہنچائیں، مصنوعی ذہانت کے محققین، ماہرین، پالیسی سازوں اور پیشہ ور افراد کو اے آئی ٹیکنالوجیز کی محفوظ تیاری اور استعمال کے لیے ہم آہنگ اصولوں اور بہترین طریقۂ کار سے متعلق علم اور مہارت فراہم کریں، نیز کمپیوٹنگ وسائل، بڑے لسانی ماڈلز ،مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے تک محفوظ رسائی کے حوالے سے باہمی تجربات کا تبادلہ کریں۔
  • آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان تحقیق، اختراع اور سرمایہ کاری سے متعلق شراکت داریوں کو ازسرِنو مرکوز اور تیز کیا جائے گا تاکہ جدید مواد، مواصلات اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی سمیت ترجیحی شعبوں پر توجہ دی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ انتظامات کے تحت قائم پروگراموں کو ازسرِنو ترتیب دے کر ایسے تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت کی جائے گی جو دوطرفہ سطح پر اور وسیع تر ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کریں۔
  • دونوں ممالک کے خلائی شعبوں میں تیز رفتار ترقی اور خلائی شراکت داری کے ارتقا کو مدنظر رکھتے ہوئے، مشترکہ تجارتی اور حکومتی قیادت میں خلائی شعبے کے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

تیسرا ستون: سائبر سلامتی

آسٹریلیا اور بھارت سائبر اور ڈیجیٹل شعبے کے تحفظ اور سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس میں سائبر جرائم کا مقابلہ کرنا، بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنا، سائبر سلامتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق حفاظتی معیارات کے بارے میں علم اور تجربات کا تبادلہ کرنا، اور قومی اہمیت کے حامل بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے۔

  • سائبر اور اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبوں میں ایک جامع اور منظم دوطرفہ نظام قائم کرنے کے لیے کام کیا جائے گا، تاکہ صلاحیت سازی کے اقدامات، علاقائی اور کثیر جہتی تعاون کے مواقع کو مؤثر بنایا جا سکے، پالیسی میں ہم آہنگی برقرار رہے اور مختلف ورکنگ گروپس میں کوششوں کے غیر ضروری تکرار سے بچا جا سکے۔
  • اقوامِ متحدہ کے تحت سائبر سے متعلق عمل میں تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ ڈیٹا گورننس کے ڈھانچے اور مواصلات کے شعبے میں سائبر سلامتی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون پر باہمی مذاکرات کو فروغ دیا جائے گا۔
  • سائبر سلامتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق منصوبوں میں آسٹریلیا اور بھارت کے کاروباری اداروں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی رسائی کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
  • سائبر سلامتی کے شعبے میں آسٹریلیا اور بھارت کی سرکاری ایجنسیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو یکجا کرنے کے لیے مشترکہ عملی ورکشاپس کا انعقاد آسان بنایا جائے گا۔
  • اہم تکنیکی مہارتوں کی ترقی اور باہمی تبادلے کے لیے سائبر ٹیکنالوجی مہارتوں کا ایک انکیوبیٹر مرکز قائم کیا جائے گا۔

چوتھا ستون: ڈیجیٹل مضبوطی

آسٹریلیا اور بھارت، ہند-بحرالکاہل خطے میں ڈیجیٹل معیشتوں کے فروغ کے لیے قابل اعتماد اور توسیع پذیر ٹیکنالوجی حل فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں ممالک مل کر ایسے حل تیار کریں گے جو ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ہوں اور اس مقصد کے لیے ایسے مخصوص پروجیکٹوں کی نشاندہی کریں گے جو خطے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

  • ہند-بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ بھارت کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے اصولوں پر مبنی نئی شراکت داریوں اور تبادلہ کے پروگراموں کی حمایت کی جائے گی۔
  • ہند-بحرالکاہل خطے میں کم لاگت والے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے حل کو وسعت دی جائے گی اور اسے مزید فروغ دیا جائے گا، جن میں صاف اور قابل تجدید توانائی، مضبوط اہم بنیادی ڈھانچہ، رابطہ کاری، ڈیجیٹل تبدیلی، صحت، سماجی تحفظ، مہارتوں کی ترقی، تعلیم وتربیت اور تحقیق جیسے شعبے شامل ہیں۔
  • ہند-بحرالکاہل خطے میں ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) کے مؤثر عملی نمونوں کو وسعت دے کر ڈیجیٹل مضبوطی کے حوالے سے بھارت اور آسٹریلیا کی مہارت کو فروغ دیا جائے گا اور مختلف صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے بنیادی ڈیجیٹل حل پر مرکوز ہند-بحرالکاہل کے آزمائشی منصوبوں کو آسان بنایا جائے گا، جن میں مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ڈیجیٹل نظاموں کی مشترکہ تیاری کے منصوبے بھی شامل ہوں گے۔

پانچواں ستون: دفاعی تحقیق میں تعاون

آسٹریلیا اور بھارت دفاعی تحقیق سے متعلق شراکت داریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں پر محیط دفاعی چیلنجز اور صلاحیتوں کے بارے میں مشترکہ مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ دونوں ممالک ماضی کی مشترکہ تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے مشترکہ مفادات کے مطابق مستقبل کے تحقیقی پروجیکٹ تیار کریں گے اور دفاعی تعاون سے متعلق مفاہمت کے یادداشت کے تحت دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون سے متعلق نفاذکے انتظام کے مطابق اپنی دفاعی سائنسی تنظیموں کے درمیان تبادلوں میں اضافہ کریں گے۔

  • وزراء دفاع کے مذاکرات، دفاعی پالیسی مذاکرات اور دفاعی صنعت، تحقیق اور عسکری سازوسامان سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے دفاعی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترجیحات پر باہمی مکالمے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
  • آسٹریلیا کے دفاعی سائنس و ٹیکنالوجی گروپ اور بھارت کے دفاعی تحقیق و ترقی کے ادارے کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مزیدفروغ دیا جائے گا اور تحقیقی تعاون کو تیز کرنے کے لیے عملی سطح پر باقاعدہ تبادلوں کا نظام قائم کیا جائے گا۔
  • دونوں ممالک کے دفاعی اختراع اور اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظاموں کے درمیان روابط کو مزید گہرا کیا جائے گا، جس میں کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون بھی شامل ہوگا۔
  • دفاعی مقاصد کے لیے جدید بحری سائنس اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں، بشمول بحری نگرانی اور جدید مواد کے شعبوں میں تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

تنظیمی ساخت اور نظم و نسق

دوطرفہ نگرانی

آسٹریلیا کے محکمۂ وزیراعظم و کابینہ کے بین الاقوامی اور سلامتی گروپ کے نائب سیکریٹری اور بھارت کے نائب قومی سلامتی مشیر اعلیٰ سطح پر اس شراکت داری کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ دونوں سربراہان سائبر اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں ترجیحی امور کا تعین کریں گے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع کی نشاندہی کریں گے۔

سینئر حکام کا سالانہ اجلاس ہر ستون کے تحت نامزد سینئر حکام باہمی رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں گے اور شراکت داری کے سربراہان کو رپورٹ پیش کریں گے۔ وہ ترجیحات کا جائزہ لیں گے اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے، سائبر اور اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں نئے اور ابھرتے ہوئے خطرات کا جائزہ لیں گے اور تعاون کے ہر ستون کے تحت مخصوص مشترکہ پروجیکٹوں کی نشاندہی کے لیے مل کر کام کریں گے۔

 

ستون

بھارتی قیادت

آسٹریلیائی قیادت

1

سپلائی چین لچک

قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ(این ایس سی ایس)

سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کے دفتر سے مربوط

2

اہم ٹیکنالوجی

قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ (این ایس سی ایس)

سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کا دفتر

3

سائبرسیکورٹی

سائبر ڈپلومیسی ڈویژن، وزارت خارجہ

سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کا دفتر

4

ڈیجیٹل لچک

اوشیانا ڈویژن، وزارت خارجہ

سائبر امور اور اہم ٹیکنالوجی کے سفیر کا دفتر

5

دفاعی تحقیق اور تعاون

وزارت دفاع

محکمۂ دفاع

 

****

ش ح۔ م م ع ۔ع د

UR No- 9742

 


(रिलीज़ आईडी: 2282765) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Assamese , Manipuri , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam