امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ کا نئی دہلی میں 26ویں آل انڈیا فنگر پرنٹ کانفرنس 2026 کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب
آج لانچ ہونے والی این سی آر بی-ابھگیاں،سی آر پی آئی، ای-پراسی کیوشن 2.0 اور ای-فارنزکس 2.0 ایپلی کیشنز زیر التوا مقدمات کے تیز تر تصفیے میں سہولت اور بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد گار ثابت ہو گی
ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر سزا تک تین سال کے اندر انصاف کی فراہمی مودی حکومت کی فوجداری انصاف کی اصلاحات کا ایک اہم اور بنیادی مقصد
وزارت داخلہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ساتھ مل کرزیر التوا مقدمات کمی کے لیے ایک جامع خاکہ تیار کرنے پر کام کر رہی ہے
کوئی بھی مجرم چاہے کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو، وہ قانون اور سائنس کی مشترکہ طاقت سے بچ نہیں سکتا
این اے ایف آئی ایس، سی آر پی آئی، ای -پراسی کیوشن اور ای-فارنزکس سینٹر نے ٹیکنالوجی کو فوجداری نظام انصاف کے پورے سلسلے میں مربوط کیا ہے اور اب ڈیٹا کو قابلِ عمل انٹیلیجنس میں تبدیل کیا جا رہا ہے
روایتی طاقت پر مبنی پولیسنگ کے ماڈل سے آگے بڑھتے ہوئے، سائنسی شواہد پر مبنی تفتیش جرائم پر قابو پانے کا سب سے مؤثر طریقہ بن رہا ہے
ایک نیا فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے ،جس میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور پیٹرن اینالیسز کے ذریعے سنگین مجرموں اور بین اریاستی مجرمانہ نیٹ ورکس کی نشاندہی کر کے جرائم کے ارتکاب سے پہلے ہی انہیں روکا جا سکے گا
این سی آر بی اوبی پی آر اینڈ ڈی اب محض ریکارڈ رکھنے والے ادارے نہیں رہیں گے، بلکہ ڈیٹا اور انٹیلیجنس پر مبنی جرائم کی روک تھام کرنے والی تنظیموں میں تبدیل ہو رہے ہیں
ایک ایسے نظام کی طرف پیش رفت جاری ہے ،جو صرف جرم کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے جرائم کو پیشگی طور پر روکنے کے لیے پیش گوئی پر مبنی پولیسنگ فریم ورک پر کام کرے گا
ایک کروڑ 29 لاکھ فنگر پرنٹ ریکارڈز، 9 لاکھ منشیات کے مجرموں کے ریکارڈز اور 3 لاکھ 65 ہزار انسانی اسمگلنگ کے ریکارڈز کو مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ذریعے قابلِ عمل انٹیلیجنس میں تبدیل کیا جائے گا
سی سی ٹی این ایس ملک بھر کے 17,840 پولیس اسٹیشنز تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 37 کروڑ 68 لاکھ ڈیجیٹل ریکارڈز کا اے آئی پر مبنی تجزیہ مجرموں کی شناخت اور گرفتاری میں ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا
प्रविष्टि तिथि:
19 JUN 2026 5:46PM by PIB Delhi
امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دہلی میں 26ویں آل انڈیا فنگر پرنٹ کانفرنس 2026 کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا۔ وزیر داخلہ نے اس موقع پر نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) کی ابھگیاں،سی آر پی آئی، ای-پراسی کیوشن 2.0 اور ای-فارنزکس 2.0 ایپلی کیشنز کو بھی لانچ کیا ، جو زیر التوا مقدمات کے تیز تر تصفیے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ثا بت ہو ں گی۔اس تقریب میں ڈائریکٹر انٹیلیجنس بیورو(آئی بی)، ڈائریکٹر نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) اور ڈائریکٹر سینٹرل فارنزک سائنس لیبارٹری (سی ایف ایس ایل ) سمیت متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان اس وقت اپنے فوجداری انصاف کے نظام میں ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ فوجداری انصاف کے نظام کو شہریوں کو آئین کے تحت دیے گئے حقوق کے مؤثر اور مناسب تحفظ کے لیے ایک فعال اور مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اگست 2019 سے مودی حکومت نے فوجداری قوانین میں بنیادی اصلاحات کے لیے ایک جامع مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد نہ صرف فوجداری انصاف کے نظام کو جدید بنانا ہے ،بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اس کا لازمی حصہ بنانا بھی ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر سزا تک تین سال کے اندر انصاف کی فراہمی ،مودی حکومت کی فوجداری انصاف میں اصلاحات کا ایک اہم ہدف ہے۔جناب شاہ نے کہا کہ حکومت ایک مضبوط نظام قائم کر رہی ہے تاکہ تین سال کے اندر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں ملک اس اہم ہدف کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور اس سفر میں نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے 24 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزرائے داخلہ کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی ہے ،تاکہ نئے فوجداری قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزارت داخلہ کے ساتھ ساتھ بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ(بی پی آر اینڈ ڈی) اور نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی) اس کوشش میں کلیدی ستون کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ این سی آر بی نے ایک ماں کی طرح تمام ریاستوں کی پولیس فورسز کی رہنمائی اور معاونت کی ہے۔ اس نے نہ صرف ان کی استعداد کار بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی ،بلکہ انہیں ضروری تربیت بھی فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے بعد ملک بھر کے تھانوں میں ان پر ہموار عمل درآمد ہو رہا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ جرائم کے خلاف مؤثر جدوجہد میں سائنسی شواہد سب سے طاقتور ہتھیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرم کے مقام سے شروع ہی میں سائنسی شواہد کو محفوظ رکھنا سزا یقینی بنانے کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنگر پرنٹس سائنسی شواہد کی اہم ترین اقسام میں سے ایک ہیں۔ فنگر پرنٹ ریکارڈز کا مؤثر حصول اور استعمال انتہائی اہم ہے اور اس سلسلے میں نیشنل آٹومیٹڈ فنگر پرنٹ آئیڈنٹیفکیشن سسٹم(این اے ایف آئی ایس) ایک کلیدی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این اے ایف آئی ایس نے انتہائی پیچیدہ مقدمات کے حل میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این اے ایف آئی ایس کو محض مجرموں کی شناخت کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کی مؤثریت اس بات پر منحصر ہے کہ اسے مسلسل بہتر بنایا جائے اور ہر جرم کے مقام سے حاصل ہونے والے فنگر پرنٹس کو باقاعدگی سے ڈیٹا بیس میں اپ لوڈ کیا جائے۔ انہوں نے این اے ایف آئی ایس کو ایک دو طرفہ نظام قرار دیا ،جو نہ صرف جرائم کو ثابت کرنے میں نہایت اہم ہے، بلکہ اس کے لیے مسلسل اعدادوشمار کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ اس لیے تربیتی پروگراموں میں صرف ڈیٹا بیس میں تلاش کے طریقے نہیں، بلکہ جرم کے جائے وقوع سے فنگر پرنٹس کو منظم طریقے سے اپ لوڈ کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے، تاکہ اس نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد واضح ہے: کوئی بھی مجرم، خواہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو، قانون اور سائنس کی مشترکہ طاقت سے بچ نہ سکے۔ سائنسی تفتیش، وقت مقررہ کے اندر مقدمے کی پیروی اور مربوط فوجداری نظام انصاف کے مؤثر استعمال کے ذریعے جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مجرموں کو گرفتار کرنا کافی نہیں ہے، کیونکہ دیرپا جرائم کی روک تھام اسی وقت ممکن ہے ،جب معاشرے میں یہ اعتماد پیدا ہو جائے کہ مجرمانہ عمل کا نتیجہ لازماً سزا کی صورت میں نکلے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مسلسل اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ نہ صرف مجرموں کو گرفتار کیا جائے، بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ جرائم کا بروقت اور مقررہ مدت کے اندر ثبوت کے ساتھ فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ توجہ صرف مجرموں کی گرفتاری تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جناب امت شاہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر جرائم کو ثابت کرنا اور بروقت انصاف کی فراہمی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تاہم آج صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ آج فوجداری نظام انصاف سے وابستہ تمام فریقین، جن میں پولیس، جیل انتظامیہ، استغاثہ ادارے، عدالتیں اور فارنزک لیبارٹریاں شامل ہیں، نہ صرف ان اصلاحات کو اپنا چکے ہیں، بلکہ ان کی مزید بہتری میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان اصلاحات کی کامیابی کو عوام تک پہنچایا جائے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کے بعد متعدد مقدمات میں 90 دن کے اندر سزائیں سنائی گئی ہیں، جن میں عمر قید بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگراموں کو صرف ایپلی کیشنز کے استعمال تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ان میں سائنسی شواہد کی تیاری اور چالان (چارج شیٹ) داخل کرنے کے مکمل عمل کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قوانین میں ایسے متعدد شقیں شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد استغاثہ اور عدلیہ دونوں کے کام کو آسان بنانا ہے۔ پرانے اور فرسودہ طریقۂ کار کو ختم کرکے سائنسی شواہد پر مبنی متحرک نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس سے مقدمات کی کارروائی کے وقت میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بامعنی نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب پولیس، استغاثہ، فارنزک ماہرین اور عدلیہ سب تربیتی پروگراموں کا لازمی حصہ بن جائیں۔
افتتاحی اجلاس میں ورچوئل طور پر شریک ریاستوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف پولیس پرمرکزی وزیر داخلہ نے زور دیا کہ وہ ان اہم امور کی تربیت کے لیے ہر ہفتے کم از کم ایک دن وقف کریں اور یہ عمل کم از کم ایک سال تک جاری رکھیں۔ انہوں نے معلومات کو انٹیلیجنس میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نظام تیزی سے اس سمت میں بڑھ رہا ہے کہ وسیع ڈیٹا ذخائر کو قابل عمل انٹیلیجنس میں بدلا جائے، تاکہ سزاؤں کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ این اے ایف آئی ایس اور سی آر پی آئی جیسے ڈیٹا بیسز کے معیار اور تحفظ کو یقینی بنانا بنیادی طور پر ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مجرم کا ڈی این اے نمونہ درست طریقے سے محفوظ کیا جائے تو اسے دیگر جرائم کی تفتیش میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ان نمونوں کے درست حصول اور محفوظ اسٹوریج کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ اسی طرح این اے ایف آئی ایس کے اعدادوشمار کے حصول، تحفظ اور استعمال کو بھی انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔
جناب امت شاہ نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ڈیٹا بیس کے معیار اور تحفظ کو اولین ترجیح دیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو ڈیٹا صرف محفوظ رہ جائے وہ ایک اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن جاتا ہے۔ حقیقی قدر صرف اسی وقت حاصل ہوتی ہے ،جب ڈیٹا کو انٹیلیجنس میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے ہر ریاست میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کی اپیل کی جو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور ڈیٹا اینالٹکس کے ذریعے جرائم کے رجحانات کا تجزیہ کریں، عادی مجرموں کی نشاندہی کریں اور مجرموں کی پروفائلنگ تیار کریں۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ بعض مجرم ریاستوں کے درمیان دائرۂ اختیار کی حدود کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ڈیٹا بیسز کو بین ریاستی اور بین الاقوامی مجرموں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیے اور جدید سافٹ ویئر سسٹمز کے ذریعے قابل عمل انٹیلیجنس میں تبدیل کیا جانا چاہیے، جو درست اور مؤثر معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیٹا بیس کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات نافذ کیے جائیں، جن میں جوابدہی کے نظام، سائبر سیکورٹی تحفظات، رسائی کے لاگز، ایس او پی پر مبنی استعمال، تھرڈ پارٹی آڈٹس اور غلط استعمال پر سزائیں شامل ہوں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تربیت کو زیادہ عملی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چالان (چارج شیٹس) کو مختصر رکھا جائے اور ان میں صرف متعلقہ شواہد شامل کیے جائیں۔ جناب شاہ نے زور دیا کہ نئے قوانین کی دفعات کو بروئے کار لا کر مقدمات کو مقررہ مدت میں نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی ماڈیولز میں مختصر اور مؤثر چارج شیٹس کی تیاری کے فن کے ساتھ ساتھ سائنسی شواہد کے درست حصول، تحفظ اور اپ لوڈنگ کے مکمل طریقۂ کار کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ماڈیولز تجربہ کار پراسیکیوٹرز کے ذریعے تیار کیے جانے چاہئیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اگر فنگر پرنٹس، ٹیلی فون ٹاور ڈیٹا، چہرے کی شناخت، آئرس اور ڈی این اے میچنگ کے باوجود عدالتوں کے سامنے پھر بھی 250 شواہد پیش کیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ریاستی پولیس فورسز کی کوششوں کے نتیجے میں کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک اینڈ سسٹمز(سی سی ٹی این ایس) اب ملک کے تمام 17,840 تھانوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت وسیع لیگیسی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے، جس میں 37 کروڑ 68 لاکھ ایف آئی آرز شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 22,000 عدالتیں ای-کورٹس نظام سے منسلک ہو چکی ہیں اور پرانے عدالتی استغاثہ ریکارڈز کو ڈیجیٹائز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ای-پریزنز نظام میں 2 کروڑ 29 لاکھ قیدیوں کا ڈیٹا موجود ہے، جبکہ ای-فارنزکس ڈیٹا بیس میں 34 لاکھ 48 ہزار مقدمات کی معلومات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کرائم ملٹی ایجنسی سینٹر (Cri-MAC) میں 43 لاکھ 16 ہزار الرٹ ریکارڈز موجود ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ تمام ڈیٹا ایک ایسے الماری کی مانند ہے، جو کمرے میں بند ہو اور جب تک اسے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کر کے قابلِ عمل انٹیلیجنس میں تبدیل نہیں کیا جاتا، یہ ایک اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ ہی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اس سمت میں پہلے ہی کام شروع کر دیا ہے اور بڑی تعداد میں نوجوان پیشہ ور افراد کو اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کے پاس اس وقت تقریباً 1 کروڑ 29 لاکھ فنگر پرنٹس کا ریکارڈ، تقریباً 9 لاکھ 91 ہزار منشیات کے مجرموں کا ڈیٹا، 3 لاکھ 65 ہزار انسانی اسمگلنگ کیسز سے متعلق معلومات اور وسیع جیلوں کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ یہ سب مل کر ایک قیمتی قومی اثاثہ ہیں۔ اگلا مرحلہ یہ یقینی بنانا ہے کہ پورا فوجداری انصاف کا نظام اس طاقت سے فائدہ اٹھائے اور ڈیٹا کو عملی صلاحیت میں تبدیل کرے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں فوجداری انصاف کے نظام سے وابستہ ہر فریق کو اس بات پر توجہ دینی ہوگی کہ ڈیٹا کو قابل عمل بنایا جائے، ڈیٹا بیسز کو باہمی طور پر مربوط کیا جائے، مضبوط تجزیاتی طریقۂ کار تیار کیے جائیں اور نوجوان پیشہ ور افراد کو جدید جرائم کی روک تھام کے ماڈیولز کی تیاری میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ این سی آر بی اوربی پی آر اینڈ ڈی اب محض ریکارڈ رکھنے والے ادارے نہیں رہے ،بلکہ انٹیلیجنس پر مبنی جرائم کی روک تھام کرنے والی تنظیموں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ این سی آر بی نے چار سال قبل موڈس آپریندی بیورو قائم کیا تھا۔ اس کانفرنس کے بعد یہ بیورو ڈیٹا کے مؤثر استعمال کے عمل کو مزید آگے بڑھائے گا۔ اس سے نہ صرف سزاؤں کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی، بلکہ حکام کو جرائم کے وقوع سے پہلے ہی ان کی روک تھام کرنے میں بھی مدد حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جرائم کے کنٹرول کے دو پہلو ہیں: ایک جرم کے بعد سزا کو یقینی بنانا اور دوسرا جرائم کو پیشگی طور پر روکنا، جس کے لیے پیٹرنز، عادی اور سنگین مجرموں اور بین ریاستی یا بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس کی پیش گوئی پر مبنی شناخت ضروری ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ نئے فوجداری انصاف کے ضابطوں کا مقصد واضح ہے: ملک میں جہاں بھی کوئی جرم درج ہو، وہاں پورا عدالتی عمل، بشمول سپریم کورٹ تک اپیلیں، تین سال کے اندر مکمل ہو اور جرم ثابت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ساتھ مل کر مقدمات کے التوا میں کمی کے لیے ایک جامع خاکہ تیار کرنے پر کام کر رہی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں زیر التوا فوجداری مقدمات کے جلد تصفیے کے لیے ایوننگ کورٹس کے قیام اور نئے نظام متعارف کرانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کسی بھی صورت میں تاخیر کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ چالان (چارج شیٹس)، مؤثر استغاثہ اور عدالتوں کا مکمل تعاون اس مقصد کے حصول کے لیے نہایت ضروری ہوگا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جناب امت شاہ نے کہا کہ این سی آر بی کو اسی وژن کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہیے، جس کے تحت اسے قائم کیا گیا تھا۔ انہوں نے بی پی آر اینڈ ڈی اور این سی آر بی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مؤثر جرائم پر قابو پانا ان اداروں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے این سی آر بی کے افسران اور عملے کو ان کی محنت اور لگن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے برسوں میں اس ادارے کا کردار مزید اہم ہو جائے گا۔
وزیر داخلہ نے فنگر پرنٹ بیورو کو فوجداری انصاف کے نظام کا ایک ناگزیر اور لازمی ذریعہ قرار دیا اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ عملی مسائل پر توجہ مرکوز کریں، جن میں ڈیٹا کے سائنسی طریقوں سے حصول، جائے وقوعہ سے شواہد کے تحفظ، ڈیٹا بیس کی حفاظت اور تھانوں سے این اے ایف آئی ایس کی فوری تلاش شامل ہیں۔
***
) ش ح – م ع ن- ن ع )
U.No. 8906
(रिलीज़ आईडी: 2275373)
आगंतुक पटल : 13