وزارت خزانہ
بھارت اور نیپال نے دوطرفہ مالیاتی میکانزم کو مزیدمستحکم بنانے کے لیے سرحد پار رقوم کی ترسیل کے نئے نظام کا آغاز کیا
اس اقدام کے تحت ہندوستان کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی) اور نیپال کے نیشنل پیمنٹس انٹرفیس کو براہِ راست منسلک کرکےدونوں ممالک کے افراد کے درمیان رقوم کی منتقلی نہایت آسان، محفوظ اور فوری طور پر ممکن ہو سکے گی
یہ پہل مالی شمولیت کو فروغ دینے، ڈیجیٹل اور اقتصادی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے افراد اور کاروباری حلقوں کے لیے مالی لین دین کو مزید سہل اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 3:47PM by PIB Delhi
ڈیجیٹل مالیاتی روابط اور ہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کے تحت ہندوستان اور نیپال نے 6 جون 2026 کو (فرد سے فرد) سرحد پار رقوم کی منتقلی کے نظام کا باضابطہ آغاز کیا۔
نئے نظام کے تحت ہندوستان کے یونیفائیڈپیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) اور نیپال کے نیشنل پیمنٹس انٹرفیس (این پی آئی) کو براہِ راست آپس میں منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس انضمام کے نتیجے میں دونوں ممالک کے شہری موبائل بینکنگ ایپلی کیشن اور ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے نہایت آسان، بروقت اور مکمل تحفظ کے ساتھ فوری رقوم کی منتقلی کر سکیں گے۔
یونیفائیڈپیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) اور نیشنل پیمنٹس انٹرفیس (این پی آئی) کے باہمی ربط کو مالی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو ہندوستان اور نیپال کے درمیان اقتصادی اور ڈیجیٹل تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔ یہ اقدام خطے میں سرحد پار ادائیگیوں کو زیادہ قابلِ عمل، محفوظ اور کفایتی بنانے کے مشترکہ اہداف سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سماجی و اقتصادی رشتوں کو مزید مستحکم کرے گا۔
اقتصادی اور ڈیجیٹل سالمیت کو فروغ دینے کی جانب اہم پیش رفت:
اس تکنیکی انضمام کو نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کے بین الاقوامی شعبے این پی سی آئی انٹرنیشنل پیمنٹس لمیٹڈ (این آئی پی ایل) اور نیپال کلیئرنگ ہاؤس لمیٹڈ (این سی ایچ ایل) کے باہمی اشتراک سے عملی جامہ پہنایا گیا۔
اسٹریٹجک اثرات: یونیفائیڈپیمنٹس انٹرفیس اور نیشنل پیمنٹس انٹرفیس کے درمیان رقوم کی منتقلی کے نظام کی اہم خصوصیات
یہ ڈیجیٹل ادائیگی کی راہداری دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور مالیاتی لین دین کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جس کے نتیجے میں فوری طور پر متعدد فوائد حاصل ہوں گے:
- مسافروں کے لیے اضافی سہولت:اس نظام کے ذریعے کرنسی کے تبادلے کی دشواری، زیادہ مقدار میں نقد رقم ساتھ رکھنے کی ضرورت اور نامعلوم زرمبادلہ کی فیس سے نمٹنے کی پیچیدگیاں ختم ہو جائیں گی۔
- مقامی تاجروں کے لیے اقتصادی فروغ:نیپال کے کاروباری اداروں کو ہندوستانی سیاحوں اور صارفین کے ایک وسیع اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے واقف طبقے تک فوری رسائی حاصل ہوگی، جس سے مالی لین دین کے حجم میں اضافہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔
- عملی کارکردگی میں بہتری:مقامی تاجر نقد رقم کے نظم کو زیادہ مؤثر بنا سکیں گے، نقدی کی جسمانی ترسیل و نگہداشت سے وابستہ اضافی اخراجات میں کمی آئے گی، جبکہ محفوظ اور بروقت لین دین کے تصفیے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
- براہِ راست اور بروقت رقوم کی منتقلی:اس سہولت کے ذریعے سرحد پار سفر کے دوران نقد رقم ساتھ رکھنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور روایتی بینکاری ذرائع کے ذریعے سست رفتار ترسیلاتِ زر پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔
دنیا بھر میں یو پی آئی کی پہنچ:
یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) اس وقت نو ممالک میں قابلِ قبول ہے، جن میں سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس، ماریشس، نیپال، بھوٹان، قطر، سری لنکا اور کمبوڈیا شامل ہیں۔ اس کے ذریعے ہندوستانی مسافر اپنے مانوس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال کرکے بیرونِ ملک بھی نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔
******
( ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا )
UR.No-8281
(रिलीज़ आईडी: 2271677)
आगंतुक पटल : 10