پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستانی گھریلو صارفین آج بھی دنیا میں سب سے کم قیمت پر گھریلو ایل پی جی حاصل کرنے والوں میں شامل


ہندوستان میں گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کم ہے اور امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسی ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی

پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے مستفیدین کو سال میں پہلی چار مرتبہ گیس بھرانے پر فی سلنڈر 300 روپے کی امداد دی جائے گی، یعنی ہر مستفید کو سالانہ 1,200 روپے کا فائدہ حاصل ہوگا، جبکہ اجولا یوجنا سے باہر کے گھریلو صارفین بھی ایل پی جی کی بازار قیمت کے مقابلے میں تقریباً 700 روپے کم ادا کر تے رہے گے

ایک گھریلو گیس سلنڈر کی فراہمی کی لاگت بڑھ کر 1,600 روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہر گھریلو سلنڈر پر تقریباً 700 روپے کی کمیابیِ وصولی (انڈر ریکوری) ہو رہی ہے۔ دوسری جانب فروری کے بعد سے ایل پی جی کے لیے سعودی کنٹریکٹ پرائس (سعودی سی پی) میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ہوا ہے

ہندوستان اُن چند ممالک میں شامل رہا جنہوں نے آبنائے ہرمز کے راستے اپنی توانائی کی ترسیل بلا تعطل جاری رکھی، ملک میں کسی بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہوئی

प्रविष्टि तिथि: 07 JUN 2026 8:02AM by PIB Delhi

ہندوستانی گھرانے آج بھی کسی بھی پڑوسی ملک کے گھرانوں کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر گھریلو کھانا پکانے والی گیس خریدتے ہیں، جبکہ یہ قیمت امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا جیسی ترقی یافتہ معیشتوں میں ادا کی جانے والی قیمتوں سے بھی بہت کم ہے۔

پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے ایک مستفید کو 14.2 کلوگرام کے ایک سلنڈر کے لیے مؤثر طور پر 642 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، جبکہ دہلی میں عام صارف اس کے لیے 942 روپے ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک سلنڈر کی فراہمی پر آنے والی لاگت اب بڑھ کر 1,600 روپے سے زیادہ ہو چکی ہے۔

اجولا صارفین کم ادائیگی کرتے ہیں

قیمت فی 14.2 کلوگرام سلنڈر (روپے)

بازار

642

ہندوستان (اجولا ، نظر ثانی کے بعد موثر)

تقریبا 39 فیصد

1,046

پاکستان

تقریبا 47 فیصد

1,207

نیپال

تقریبا 48  فیصد

تقریبا 1,225

بنگلہ دیش

تقریبا 48  فیصد

1, 241

سری لنکا

تقریبا 63 فیصد

تقریبا1,755

ریاستہائے متحدہ (امریکہ)

تقریبا 64  فیصد


تقریبا 1,765

آسٹریلیا

تقریبا 73 فیصد

تقریبا 2,411

کینیڈا

آخری ستون یہ ظاہر کرتا ہے کہ فی سلنڈر 642 روپے کی مؤثر اجولا قیمت ہر ملک یا بازار میں رائج قیمت کے مقابلے میں کتنی کم ہے۔  ماخذ: سرکاری ذرائع اور قومی ضابطہ کار ادارے۔

ہندوستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بین الاقوامی منڈی میں متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں سے منسلک ہیں۔ تاہم، حکومت گھریلو ایل پی جی کے لیے صارفین پر پڑنے والی مؤثر قیمت کو بدستور معتدل رکھے ہوئے ہے۔ ہر گھرانہ اپنی ضرورت کے مطابق 942 روپے فی سلنڈر کے حساب سے جتنے چاہے سلنڈر خرید سکتا ہے۔

پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے مستفیدین کو ہر سال پہلی چار مرتبہ گیس بھرانے پر فی سلنڈر 300 روپے کی براہِ راست مالی امداد (ڈی بی ٹی) فراہم کی جاتی ہے۔ یہ تعداد ایک عام اجولا گھرانے کی اوسط سالانہ کھپت، یعنی تقریباً چار ریفلز، کے برابر ہے۔ چنانچہ ان ریفلز پر مستفیدین کے لیے ایک سلنڈر کی مؤثر قیمت 642 روپے رہ جاتی ہے۔ یہ امداد بدستور برقرار ہے۔

اجولا یوجنا سے مستفید نہ ہونے والے گھرانے بھی ایک سلنڈر کی بازار سے منسلک لاگت کے مقابلے میں تقریباً 700 روپے کم ادا کرتے ہیں۔ تقسیم و ترسیل کے اخراجات کے باعث مختلف مقامات پر خردہ قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔

عام گھرانوں کو جس بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، وہ فی سلنڈر کئی 100 روپے کی وہ اضافی لاگت ہے جسے حکومت خود برداشت کر رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باوجود اس اضافی بوجھ کو صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے بالائی سطح پر جذب کیا گیا ہے تاکہ گھریلو صارفین کو مہنگائی کے اثرات سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

قیمتوں میں اضافہ، مگر صارفین تک مکمل منتقلی نہیں

ہوٹلوں اور کاروباری اداروں میں استعمال ہونے والے تجارتی گیس سلنڈروں کی قیمت ہر ماہ خودکار طور پر نظرِ ثانی کے تحت تبدیل ہوتی ہے، کیونکہ ان کی قیمت براہِ راست بین الاقوامی معیارِ قیمت (انٹرنیشنل بینچ مارک) کے مطابق طے ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، گھریلو استعمال کے کھانا پکانے والے گیس سلنڈروں کی قیمت اسی انداز میں براہِ راست بین الاقوامی قیمتوں سے منسلک نہیں ہوتی۔

ہندوستان اپنی ایل پی جی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے اور ان درآمدات کی لاگت سعودی کنٹریکٹ پرائس (سعودی سی پی) کے مطابق متعین ہوتی ہے، جس کا اعلان سعودی آرامکو ہر ماہ کے آغاز میں کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی بین الاقوامی قیمت ہے جس پر ہندوستانی صارف کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

مغربی ایشیا میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور بحران کے دوران اس بین الاقوامی معیارِ قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ہندوستان میں استعمال ہونے والے ایل پی جی کے 50:50 پروپین-بیوٹین آمیزے کی بنیاد پر سعودی سی پی فروری میں بحران سے قبل تقریباً 543 امریکی ڈالر فی ٹن تھی۔

فروری کے اواخر میں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اپریل کے معاہداتی نرخ — جو مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کی برآمدات میں رکاوٹ کے بعد طے کیے گئے پہلے نرخ تھے — بڑھ کر 775 امریکی ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئے، جن میں پروپین کی قیمت 750 امریکی ڈالر اور بیوٹین کی قیمت 800 امریکی ڈالر فی ٹن تھی۔

اس کے بعد جون میں یہ قیمت مزید بڑھ کر تقریباً 790 امریکی ڈالر فی ٹن ہو گئی۔ اس طرح ایل پی جی کے مرکب بینچ مارک کی قیمت بحران سے پہلے فروری کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 46 فیصد بڑھ چکی ہے۔ چنانچہ درآمد شدہ ایل پی جی کی لاگت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا۔

ایل پی جی کے لئے سعودی سی پی، 50:50 مرکب (امریکی ڈالر/ٹن)

پروپین CP (US $/t)

بیوٹین سی پی (امریکی ڈالر/ٹی)

مدت، 2026

542.50

545

540

فروری (خلل سے پہلے)

775.00

750

800

اپریل (ہرمز کے خلل کے بعد)

790.00

760

820

جون (تازہ ترین)

+247.50 (about +46%)

+215 (+39%)

+280 (+52%)

فروری سے جون تک اضافہ کریں

 

وہ لاگت جو صارف سے وصول نہیں کی جا رہی

جون کے معاہداتی نرخ (جون کنٹریکٹ پرائس) کے بعد اگر 14.2 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت درآمدی لاگت سے منسلک بنیاد پر مقرر کی جائے تو اس کی فراہمی کی لاگت 1,600 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس وقت ہر گھریلو سلنڈر پر تقریباً 700 روپے کی کمیابیِ وصولی (انڈر ریکوری) حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے برداشت کی جا رہی ہے۔

اس فرق کی وسعت کا اندازہ مکمل طور پر بازار کے مطابق قیمت رکھنے والے تجارتی سلنڈر سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں استعمال ہونے والا 19 کلوگرام کا تجارتی سلنڈر دہلی میں 3,113.50 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو مغربی ایشیا کے بحران کے دوران پانچ مرتبہ قیمتوں میں اضافے کے بعد تقریباً 164 روپے فی کلوگرام بنتا ہے۔

اس کے برعکس، حالیہ نظرِ ثانی کے بعد گھریلو صارف تقریباً 66 روپے فی کلوگرام کے حساب سے ایل پی جی حاصل کر رہا ہے۔ تجارتی گیس پر ٹیکسوں کی شرح زیادہ اور منافع کے مارجن بھی بلند ہوتے ہیں، اس لیے اس کی قیمت گھریلو صارف کے لیے لاگت پر مبنی سطح سے زیادہ رہتی ہے۔ اس کے باوجود درآمدی لاگت سے منسلک بنیاد پر ایک گھریلو سلنڈر کی قیمت 1,600 روپے سے زیادہ بنتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باوجود رسد برقرار رہی

جب تنازعے کے باعث آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوئی، جس راستے سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل اور ہندوستان کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ گزرتا ہے، تو اس آبی گزرگاہ میں زیادہ تر تجارتی نقل و حمل تقریباً معطل ہو گئی۔

ہندوستان کی ایل پی جی کھپت کا تقریباً 54 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آتا ہے، جس کے باعث گھریلو گیس کی رسد براہِ راست اس رکاوٹ سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار تھی۔ تاہم ہندوستان اُن چند ممالک میں شامل رہا جنہوں نے اپنے توانائی بردار جہازوں کی آمدورفت جاری رکھی۔

مؤثر رابطہ کاری اور مسلسل انتظامی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستانی پرچم بردار ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتے رہے اور ہندوستانی بندرگاہوں پر خام تیل اور ایل پی جی کی مسلسل کھیپیں اتارتے رہے۔ نتیجتاً ملک میں کسی بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہوئی اور بھرائی (بوٹلنگ) و تقسیم کا نظام پورے نیٹ ورک میں معمول کے مطابق جاری رہا۔

رسد کو برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات

بحران اور رسد میں رکاوٹ کے دوران ایل پی جی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔

رسد کے محاذ پر محدود درآمدات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ملک میں ایل پی جی کی گھریلو پیداوار میں 60 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا، جو تقریباً 32 ہزار میٹرک ٹن (ٹی ایم ٹی) سے بڑھا کر تقریباً 52 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی۔

مسلسل رابطہ کاری اور مؤثر انتظام کے نتیجے میں ایل پی جی سے لدے جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہوتے رہے۔ ہندوستان نے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں ایسے جہازوں کی سب سے زیادہ تعداد کو اس راستے سے گزارنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ کام کسی اضافی محصول یا ٹول کی ادائیگی کے بغیر انجام دیا گیا۔

اسی دوران ایل پی جی کی خریداری کے ذرائع کو بھی وسعت دی گئی اور اُن ممالک سے سپلائی حاصل کی گئی جو آبنائے ہرمز کے راستے پر انحصار نہیں کرتے، جیسے امریکہ، کینیڈا اور الجزائر۔ دستیاب ایل پی جی کو گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے ترجیحی شعبوں تک پہنچانے کو یقینی بنایا گیا۔

طلب کے محاذ پر جہاں ممکن ہو صارفین کو پائپ کے ذریعے فراہم کی جانے والی قدرتی گیس (پی این جی) اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی تاکہ سلنڈروں پر انحصار کم ہو۔ اس محدود گھریلو رسد کے تحفظ کے لیے ریاستی حکومتوں اور صنعتی انجمنوں کے تعاون سے غیر قانونی منتقلی اور غلط استعمال کے خلاف کارروائی مزید سخت کی گئی۔

او ٹی پی پر مبنی ترسیلی تصدیق کا تناسب تقریباً 90 فیصد تک بڑھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں سبسڈی یافتہ گھریلو ایل پی جی کے تجارتی منڈی میں غیر قانونی استعمال اور رساؤ کو مؤثر طور پر روکا جا سکا۔

حکومت کی جانب سے برداشت کیا جانے والا مالی بوجھ

صارفین کو فراہم کیے جانے والے تحفظ کا نظام دو الگ ذرائع کے ذریعے کام کرتا ہے اور کمیابیِ وصولی (انڈر ریکوری) سبسڈی سے الگ معاملہ ہے۔

کمیابیِ وصولی سے مراد بین الاقوامی قیمت اور حکومت کی مقرر کردہ خردہ فروشی قیمت کے درمیان فرق ہے۔ اس فرق کو سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیاں برداشت کرتی ہیں جبکہ اس کی جزوی تلافی سرکاری خزانے سے کی جاتی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے اختتام تک گھریلو ایل پی جی پر مجموعی کمیابیِ وصولی بڑھ کر 60,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ رقم 41,338 کروڑ روپے تھی۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر مرکزی کابینہ نے تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس مد میں 30,000 کروڑ روپے کے معاوضے کی منظوری دی ہے۔

یہ معاوضہ سبسڈی کے علاوہ ہے۔ اجولا یوجنا کے مستفیدین کو فی سلنڈر اضافی 300 روپے براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے جاتے ہیں اور یہ سہولت 10.58 کروڑ سے زیادہ گیس کنکشنز تک پہنچ رہی ہے۔

اس طرح گزشتہ کئی برسوں کے دوران تقریباً تمام ہندوستانی صارفین بین الاقوامی منڈی کی قیمتوں کے مقابلے میں کہیں کم نرخوں پر ایل پی جی حاصل کرتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومتِ ہند نے اپنے شہریوں کے لیے دنیا میں کھانا پکانے والی گیس کی کم ترین قیمتوں میں سے ایک کو برقرار رکھنے کو یقینی بنایا ہے۔

قیمت

میکانزم (صرف گھریلو ایل پی جی)

ونڈو

41,338  کروڑ روپے

گھریلو ایل پی جی پر مجموعی کم وصولی (ایک سال پہلے)

مالی سال 2024-25

60,000 کروڑ روپے

گھریلو ایل پی جی پر مجموعی کم وصولی (پچھلے مالی سال کے آخر تک)

مالی سال 2025-26

 30,000 روڑ روپے

کابینہ نے ایل پی جی کی کم وصولی پر مارکیٹنگ کمپنیوں کو معاوضے کی منظوری دی

مالی سال 2025-26

تقریبا 700 روپے

کم وصولی اب ہر گھریلو 14.2 کلوگرام سلنڈر پر جذب ہوتی ہے

فی سلنڈر

10.58 کروڑ کنکشن

پی ایم یو وائی کنکشن اور براہ راست فائدہ کی منتقلی (300 روپے فی سلنڈر)

2016 سے

سن 2026 کے فروری سے جون کے درمیان ایل پی جی کے لیے سعودی کنٹریکٹ پرائس (سعودی سی پی) کے بین الاقوامی معیارِ قیمت میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث خلیجی خطے سے رسد محدود ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں 14.2 کلوگرام کے ایک گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی فراہمی کی لاگت بڑھ کر 1,600 روپے سے زیادہ ہو گئی۔

اس کے باوجود خردہ قیمت عام صارف کے لیے 942 روپے اور پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے مستفید گھرانوں کے لیے مؤثر طور پر 642 روپے مقرر کی گئی ہے۔

کمیابیِ وصولی (انڈر ریکوری) سبسڈی سے الگ ہے۔ یہ بین الاقوامی لاگت اور حکومت کی مقرر کردہ خردہ قیمت کے درمیان فرق ہے، جسے سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اور سرکاری خزانہ برداشت کرتے ہیں۔ گزشتہ مکمل مالی سال کے دوران گھریلو ایل پی جی پر یہ رقم بڑھ کر تقریباً 60,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ 41,338 کروڑ روپے تھی۔ اس مد میں مرکزی کابینہ تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے 30,000 کروڑ روپے کے معاوضے کی منظوری دے چکی ہے۔

اس کے علاوہ اجولا یوجنا کے مستفیدین کو فی سلنڈر مزید 300 روپے کی مالی امداد براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے، جس سے 10.58 کروڑ سے زائد گیس کنکشن مستفید ہو رہے ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران تقریباً تمام ہندوستانی صارفین بین الاقوامی منڈی کی قیمتوں کے مقابلے میں کہیں کم نرخوں پر ایل پی جی حاصل کرتے رہے ہیں۔ آج بھی ہندوستانی گھرانے پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے گھرانوں کے مقابلے میں کم قیمت ادا کرتے ہیں، جبکہ امریکہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے مقابلے میں یہ فرق کہیں زیادہ نمایاں ہے۔

بحران کے دوران ہندوستان اُن چند ممالک میں شامل رہا جنہوں نے آبنائے ہرمز کے راستے اپنی توانائی کی کھیپوں کی آمدورفت برقرار رکھی اور ملک میں کسی بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔ بین الاقوامی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومتِ ہند نے گزشتہ کئی برسوں سے اپنے شہریوں کے لیے دنیا میں رسوئی گیس کی کم ترین قیمتوں میں سے ایک کو برقرار رکھنے کو یقینی بنایا ہے۔

اجولا یوجنا کے تحت پہلے چار سلنڈروں کے لیے 642 روپے کی مؤثر قیمت، ایک ایل پی جی سلنڈر کی حقیقی بین الاقوامی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد رعایت کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ غیر اجولا صارفین کے لیے 942 روپے کی قیمت بین الاقوامی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد کم ہے۔

صارفین سے درخواست ہے کہ اس قیمتی توانائی وسیلے کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور توانائی کی بچت پر مبنی کھانا پکانے کے طریقوں کو اپنائیں۔

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-8072


(रिलीज़ आईडी: 2269967) आगंतुक पटल : 19
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam