وزارت اطلاعات ونشریات
آئی آئی ایم سی نے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ہندوستانی میڈیا کو اے آئی کی صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے مقصد سے میڈیا اور انٹرٹنمنٹ کے شعبے میں مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) اکیڈمی کا آغاز کیا
اگرچہ اے آئی سے رفتار اور تخلیقی صلاحیتوں میں بہتر ی آسکتی ہے لیکن انسانی فیصلہ، درستگی اور ادارتی ذمہ داری کا مرکزی کردار اے آئی کے دور میں بھی برقرار رہنا چاہیے: سکریٹری وزارت اطلاعات و نشریات
گریجویشن کی تقریب میں اے آئی اسکلز ٹریننگ پروگرام کی کامیاب تکمیل کے جشن کا اہتمام، جس میں 23 شہروں کے 110 سے زائد نیوز روم اور میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کرکے اپنی تربیت مکمل کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAY 2026 5:16PM by PIB Delhi
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن ( آئی آئی ایم سی ) ، نئی دہلی نے آج اے آئی ایم ای اکیڈمی ( اے آئی اکیڈمی فار میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ ) کا باضابطہ آغاز کیا، جس کا مقصد ملک میں میڈیاکی تعلیم اور صلاحیت سازی کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس اکیڈمی کا افتتاح وزارت اطلاعات و نشریات کے سکریٹری جناب چندل کمار نے کیا، جبکہ اس موقع پر آئی آئی ایم سی کی وائس چانسلر ڈاکٹر پرگیہ پلیوال گور اور گوگل ڈیپ مائنڈ انڈیا کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر منیش گپتا بھی موجود تھے۔ یہ تقریب آئی آئی ایم سی کیمپس، نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔
اسی موقع پر 10 ہفتے کے ہائبرڈ اے آئی اسکلز ٹریننگ پروگرام کی کامیاب تکمیل کا بھی جشن منایا گیا، جس میں 23 شہروں سے تعلق رکھنے والے 110 سے زائد نیوز روم پروفیشنلز، میڈیا کے اساتذہ اور طلبہ نے حصہ لیا۔ اس پروگرام میں 100 سے زائد نیوز روم اور میڈیا کالجوں کی نمائندگی شامل تھی، جبکہ شرکاء کا تعلق 10 سے زیادہ ہندوستانی زبانوں سے تھا۔

اے آئی ایم ای اکیڈمی: ایک ادارہ جاتی سنگ میل
اے آئی ایم ای اکیڈمی کو میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ایک قومی مرکزِ امتیاز کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ یہ اکیڈمی ایک پانچ نکاتی فریم ورک پر قائم ہے، جس میں صلاحیت سازی، تحقیق، جدت اور انکیوبیشن، ذمہ دار انہ اے آئی پالیسی سازی، اور اسٹریٹجک تعاون شامل ہیں۔ اس کا مقصد آئی آئی ایم سی کو روایتی میڈیا کی تربیت سے آگے بڑھا کر مستقبل رخی میڈیا کی صلاحیتوں کے ادارے میں تبدیل کرنا ہے۔
اکیڈمی کا ہدف ایسے مخصوص ہندوستانی تربیتی ماڈیولز تیار کرنا ہے جو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں، صحافت میں اے آئی کے عملی استعمال پر تحقیق کو فروغ دیں، نیوز روم کے اندر اے آئی کو اپنانے کے طریقوں کو دستاویزی شکل دیں، اور ہندوستانی میڈیا ایکو سسٹم میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں۔
آئی آئی ایم سی اپنے چھ مراکز—نئی دہلی، دھنکانل، جموں، ایزول، امراؤتی اور کوٹایم—کے ذریعے پورے ہندوستان میں لسانی تنوع کے مطابق اے آئی کی صلاحیت سازی کے لیے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اکیڈمی ہندوستانی حقائق جیسے کثیر لسانی ابلاغ، عوامی خدمت پر مبنی نشریات، دیہی سامعین اور جمہوری تنوع کو بھی یکساں اے آئی اور میڈیا مباحثے میں شامل کرنے میں معاون ہوگی۔
تقسیم اسناد کی تقریب: اے آئی کی مہارت رکھنے والوں کا اعزاز
گریجویشن ڈے کے ضمن میں سرٹیفکیٹ تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں دوردرشن، آکاشوانی (آل انڈیا ریڈیو)، پریس انفارمیشن بیورو ( پی آئی بی ) ، پبلیکیشنز ڈویژن اور آئی آئی ایم سی سے تعلق رکھنے والے شرکاء کو اے آئی اسکلز ٹریننگ پروگرام مکمل کرنے پر باضابطہ طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔

یہ پروگرام سرکاری، عوامی خدمت کے اداروں اور پرائیویٹ نیوز روم سے تعلق رکھنے والے شرکاء کو بنیادی سطح کی اے آئی لٹریسی اور گوگل کے اے آئی ٹولز—جیسے نوٹ بُک ایل ایم ، جیمینی ، اے آئی اسٹوڈیو اور پِن پوائنٹ میں عملی مہارت فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
سکریٹری کا خطاب: اے آئی بطور معاون، نہ کہ متبادل
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سکریٹری جناب چنچل کمار نے تمام شرکاء کو مبارکباد پیش کی اور ہندوستانی میڈیا کے لیے اس اقدام کی انقلاب آفریں اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ آج کا یہ موقع محض سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب نہیں ہے۔ یہ اس بڑے سفر کی علامت ہے جس میں ہندوستان کے میڈیا ادارے اپنے مستقبل کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہمارے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کیا اے آئی میڈیا پر اثر انداز ہوگا—یہ عمل تو پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ اصل اور اہم سوال یہ ہے کہ آیا ہمارے صحافی، ایڈیٹر، میڈیا کے اساتذہ اور عوامی رابطے کے پیشہ ور افراد اے آئی کو اعتماد، ذمہ داری اور ہندوستان پر مرکوز نقطۂ نظر کے ساتھ تشکیل دے سکیں گے یا نہیں۔ ‘‘

معزز سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے پبلک سروس میڈیا ادارے—دوردرشن، آکاشوانی، پریس انفارمیشن بیورو ( پی آئی بی ) اور پبلیکیشنز ڈویژن—ملک بھر میں مختلف زبانوں اور خطوں میں بڑے پیمانے پر ابلاغ کی ایک منفرد ذمہ داری نبھاتے ہیں، جس کے باعث ان کی اے آئی تیاری نہایت اہم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اے آئی کو بطور معاون استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے ادارتی ذمہ داری کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ یہ رفتار میں اضافہ کر سکتی ہے، مگر درستگی کی قیمت پر نہیں۔ یہ تخلیقی صلاحیت میں مدد دے سکتی ہے، مگر اصلیت کے نقصان پر نہیں۔ اے آئی کے دور میں انسانی فہم و ادراک کا کردار پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو جائے گا۔ ‘‘
سکریٹری نے اے آئی کے حوالے سے حکومت کے مجموعی نقطۂ نظر کو بھی بیان کیا، جسے انہوں نے “مثبت، معاون اور ذمہ دارانہ” قرار دیا۔ یہ وژن وزیرِ اعظم کی قومی ہدایت “میک اے آئی اِن انڈیا” اور “میک اے آئی ورک فار انڈیا ” پر مبنی ہے۔
اے آئی اسکلز ٹریننگ پروگرام کے بارے میں
گوگل نیوز انیشی ایٹو اے آئی اسکلز پروگرام ایک 10 ہفتوں تک چلنے والا ہائبرڈ پروگرام تھا جس کا آغاز آئی آئی ایم سی نے گوگل کے اشتراک اور ہاؤ انڈیا لیِوز کی تربیتی معاونت کے ساتھ کیا تھا۔ اس میں پرنٹ، ڈیجیٹل، براڈکاسٹ، علاقائی اور مقامی نیوز روم سے تعلق رکھنے والے شرکاء کو شامل کیا گیا، جن میں پرائیویٹ اور سرکاری دونوں شعبوں کی نمائندگی تھی۔
پروگرام کی اہم جھلکیاں:
- 23 شہروں اور 10 سے زائد زبانوں سے تعلق رکھنے والے 110+ شرکاء کی شرکت
- 100+ نیوز روم، میڈیا کالجوں اور عوامی ابلاغ کے اداروں کی نمائندگی
- فی شرکاء 40+ گھنٹے کی اے آئی تربیت اور ون آن ون مینٹرنگ
- 170+ اے آئی سے آراستہ پروجیکٹس اور شائع شدہ کام
- 50+ وائب کوڈنگ ایپلی کیشنز (شرکاء کے تیار کردہ ایپس)
- ملک بھر میں آئی آئی ایم سی کے 6 مراکز میں کیمپس آؤٹ ریچ کی سرگرمیاں
**********
) ش ح – م ش ع - ع ا )
U.No. 7721
(ریلیز آئی ڈی: 2266744)
وزیٹر کاؤنٹر : 13