امور داخلہ کی وزارت
امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے گجرات کے بُھج میں بھارت-پاکستان سرحد پر واقع جی-7 بارڈر آؤٹ پوسٹ پر جوانوں سے بات چیت کی اور جی-7 اور جی-13 بارڈر آؤٹ پوسٹس کا افتتاح کیا
منفی 45 سے 45 ڈگری سے زیادہ درجہ ٔحرارت تک، بی ایس ایف فرسٹ لائن آف ڈیفینس کے طور پر تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے— 2ہزار سے زائد شہیدوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت
جی-7 اور جی-13 بارڈر آؤٹ پوسٹس انجینئرنگ کی شاندار مثالیں ہیں، جہاں بی ایس ایف نے ایک ناہموار اور ناقابلِ رسائی علاقے میں مضبوط سکیورٹی بنیادی ڈھانچہ قائم کیا ہے
’چہار جہتی سکیورٹی گرڈ‘کا نیا منتر: عوام، سول انتظامیہ، فوج اور بی ایس ایف ایک ساتھ کھڑے ہوں گے؛ اب یہ محض ’سرحدی سکیورٹی‘ نہیں، بلکہ جامع ’علاقائی سکیورٹی‘ ہوگی
مودی حکومت ہر لحاظ سے ایک ’لیک پروف سکیورٹی گرڈ‘ تعمیر کر رہی ہے؛ جہاں مادی باڑ لگانا مشکل ہے، وہاں تکنیکی باڑ لگا کر ایک ناقابلِ تسخیر سکیورٹی گھیرا قائم کیا جا رہا ہے
واچ ٹاورز، رابطہ سڑکیں، پینے کا پانی، طبی سہولیات اور جدید ترین باڑ — مودی حکومت سرحدی سکیورٹی کے منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہے
مغربی بنگال میں ہماری حکومت بنتے ہی برسوں پرانا تعطل ختم ہو گیا مقررہ وقت سے پہلے — اور صرف ایک ہفتے میں — باڑ لگانے کے لیے زمین بی ایس ایف کے حوالے کر دی گئی
سر کریک اور حرامی نالا — جو کبھی سکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس تھے — اب ناقابلِ تسخیر بن چکے ہیں، دو سال کے اندر یہ خطہ مستقل طور پر محفوظ ہو جائے گا
عوام کے سامنے بی ایس ایف کی بہادری کو اجاگر کرنے کے لیے گجرات میں ایک مرکز قائم کیا گیا ہے، کئی ماؤں نے لکھا ہے، ’’ہمیں فخر ہوگا اگر ہمارے بچے بی ایس ایف میں شامل ہوں‘‘
بی ایس ایف کے آپریشنل دائرہ اختیار میں اضافی علاقوں کو شامل کرنے کے لیے غور و خوض جاری ہے، حکومت ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اہلکاروں کے لیے سہولیات کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAY 2026 4:53PM by PIB Delhi
امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے آج گجرات کے بُھج میں دو بارڈر آؤٹ پوسٹس کا افتتاح کیا اور سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں سے بات چیت کی۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، نائب وزیر اعلیٰ جناب ہرش سنگھوی، مرکزی ہوم سکریٹری، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، سکریٹری بارڈر مینجمنٹ، ڈائریکٹر جنرل بی ایس ایف اور کئی سینئر حکام موجود تھے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف کے اہلکار انتہائی سخت موسمی اور مشکل جغرافیائی حالات میں رہتے ہیں، تاہم اس جگہ کا دورہ کرنے اور انہیں مسکراتے چہروں کے ساتھ بھارت کی سرحدوں پر پہرہ دیتے ہوئے دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے مقابلے میں ہمارا اپنا کام کافی آسان ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی ایس ایف کے جوان نہیں تھکتے، تو ہمیں بھی تھکن محسوس کرنے کا بالکل کوئی حق نہیں ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اپنے قیام کے بعد سے گزشتہ 60 برس کے دوران، بی ایس ایف نے ملک کی دو سب سے زیادہ چیلنجنگ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان سرحدوں پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کو ہر ممکنہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں وہ منفی 45 ڈگری سے لے کر45 ڈگری سے زیادہ درجۂ حرارت برداشت کرتے ہیں۔ کچھ خطوں میں کَچھ کا ناہموار صحرا اور سر کریک اور حرامی نالا کے دلدلی علاقے ہیں، تو کہیں بی ایس ایف کے جوانوں کو راجستھان کے ریت کے ٹیلوں کے درمیان شدید تپش اور جھلسا دینے والے درجۂ حرارت میں اپنے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ — کشمیر کی برفانی چوٹیوں اور سندر بن کے جنگلات سے لے کر گنگا ساگر کے ساحلوں تک اور میگھالیہ اور آسام کے پہاڑی و جنگلاتی علاقوں تک — بی ایس ایف نے گزشتہ چھ دہائیوں میں ’فرسٹ لائن آف ڈیفنس کے طور پر اپنی ذمہ داری کو شاندار طریقے سے نبھایا ہے۔ اس فورس کے دو ہزار اہلکاروں نے ملک کے لیے اپنی عظیم ترین قربانی پیش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتِ ہند اور ملک کے 1.4 ارب (140 کروڑ) شہری بی ایس ایف کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور چین کی نیند سو سکتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے بتایا کہ بناس کانٹھا میں ایک مرکز قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد عام لوگوں کو بی ایس ایف اہلکاروں کی طرف سے انجام دیے جانے والے مشکل ترین فرائض سے واقف کرانا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران، 2.50 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اس مرکز کا دورہ کیا ہے تاکہ بی ایس ایف کے فرائض کی نوعیت کو دیکھ اور سمجھ سکیں۔ جناب شاہ نے ذکر کیا کہ ابتدائی طور پر بی ایس ایف کے کام کے بارے میں عوام کی رائے جاننے کے لیے فیڈ بیک فارمز کے ذریعے ایک سروے کیا گیا تھا۔ اس وقت بہت سی خواتین نے لکھا تھا کہ اگر ان کے بیٹے اور بیٹیاں بڑے ہو کر بی ایس ایف میں شامل ہوں تو انہیں بے پناہ فخر محسوس ہوگا۔ ملک کی خاطر اس طرح کی مشکل زندگی گزارنا بلاشبہ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اب یہ فیڈ بیک فارم ملک کے شہریوں کے لیے آن لائن بھی دستیاب کرا دیا گیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جب بی ایس ایف کا جائزہ لیا گیا، تو یہ بات سامنے آئی کہ حرامی نالا اور سر کریک کا خطہ سکیورٹی کی تیاریوں کے لحاظ سے کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔ وزیر داخلہ نے نوٹ کیا کہ ہر لحاظ سے ایک ’لیک پروف‘ سکیورٹی گرڈ قائم کرنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا گیا — جس کے تحت واچ ٹاورز، رابطہ سڑکوں، پینے کے پانی کی فراہمی، طبی سہولیات، رہائشی انتظامات اور نئی باڑ لگانے پر کام شروع کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے دو سال کے اندر ہمارا یہ خطہ دشمن کی بدنیتی پر مبنی نظروں سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بی ایس ایف کے اہلکار سر کریک اور بُھج سیکٹرز میں چٹان کی طرح مضبوط کھڑے ہیں اور بُھج کے لوگوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایسی سہولیات فراہم کریں گے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جوانوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ اس مقصد کے لیے مودی حکومت دن رات کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہ تو بجٹ کی کمی آڑے آئی ہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر چھوڑی گئی ہے؛ نتیجتاً، ہم اس خطے میں بتدریج ایک مضبوط سکیورٹی گرڈ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہم نے یہاں کامیابی کے ساتھ واچ ٹاورز تعمیر کیے ہیں اور پورے بی او پی علاقے کو زمین کی سطح سے اوپر اٹھایا ہے۔
جناب امت شاہ نے بتایا کہ بی ایس ایف کے قیام کے 60 ویں سال میں، بی ایس ایف کے سرحدی سکیورٹی کے تصور کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں، ہم ایک چہار جہتی سکیورٹی گرڈ قائم کریں گے اور محض روایتی سرحدی سکیورٹی کی جگہ ’علاقائی سکیورٹی‘کا ایک نیا تصور متعارف کرائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے تحت بی ایس ایف جوانوں کے ساتھ ساتھ عوام، سول انتظامیہ، مقامی پولیس اور فوج کے درمیان ایک بنیادی مشترکہ ذمہ داری شامل ہوگی۔ جناب شاہ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اسمارٹ بارڈر سکیورٹی پروجیکٹ کے تحت سرحدوں کے ساتھ سکیورٹی گرڈز کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس کام میں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے اور انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ڈرونز، راڈارز، واچ ٹاورز، جدید ترین ٹیکنالوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے نتیجے میں ایک مضبوط سکیورٹی گرڈ تیار ہوگا۔ ایک بار جب یہ قائم ہو گیا، تو کوئی بھی ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ہم بی ایس ایف کو اضافی علاقوں کی ذمہ داری سونپنے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہمارے سکیورٹی گرڈ میں سب سے بڑی کمی مغربی بنگال کی سرحد کے ساتھ ادھوری باڑکی وجہ سے تھی۔ اگرچہ جغرافیائی حالات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس سے پہلے ہمیں ان علاقوں میں بھی زمین حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا جہاں کا علاقہ سرحدی باڑ لگانے کی اجازت دیتا تھا۔ تاہم، حال ہی میں — مغربی بنگال کے عوام کے آشیرواد سے — ہماری پارٹی نے ریاست میں حکومت بنائی ہے، عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتے کے اندر، وزیر اعلیٰ نے سرحدی باڑ کے لیے زمین مختص کرنے کا اصولی فیصلہ کیا اور کچھ زمین پہلے ہی حوالے کی جا چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ باڑ کا کام مکمل ہونے کے بعد ہم دراندازی کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مزید برآں، جنگلاتی علاقوں اور ندی نالوں والے راستوں کے ساتھ تکنیکی باڑ لگانے کے کام میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ ان راستوں سے ہونے والی دراندازی کو روکا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں، بی ایس ایف اہلکاروں کی بہادری، جرأت اور فرض شناسی کے تئیں غیر متزلزل لگن کی بدولت پوری سرحد محفوظ ہو جائے گی۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ پورا ملک بی ایس ایف اہلکاروں کے جذبے کا احترام کرتا ہے اور انہیں سلام پیش کرتا ہے۔ ان ہی کی بدولت آج گجرات کے اس خطے میں امن قائم ہے۔
*****
ش ح۔ ک ح
U. No. 7718
(ریلیز آئی ڈی: 2266696)
وزیٹر کاؤنٹر : 14