ریلوے کی وزارت
کازی پیٹ ریل مینوفیکچرنگ یونٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل، جلد ہی انٹر سٹی ٹرینوں کی تیاری شروع ہوگی: وزیرِ ریلوے جناب اشونی ویشنو
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 MAY 2026 3:59PM by PIB Delhi
ہندوستانی ریلوے کی کازی پیٹ ریل مینوفیکچرنگ یونٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ یہ ہمہ جہت ریلوے رولنگ اسٹاک مینوفیکچرنگ یونٹ ہے۔ ابتدائی مرحلے میں کازی پیٹ آئندہ پانچ برسوں کے دوران 200 انٹر سٹی ٹرینیں تیار کرے گی۔ مرکزی وزیرِ ریلوے جناب اشونی ویشنو اور مرکزی وزیرِ مملکت برائے ریلوے رونیت سنگھ بٹو نے آج سینئر افسران کے ہمراہ کازی پیٹ ریل مینوفیکچرنگ یونٹ کو آپریشنل بنانے کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔
یہ ٹرینیں مختصر فاصلے کے سفر کے لیے ملک بھر میں چلائی جائیں گی۔ ان میں متعدد اسٹاپ ہوں گے اور یہ عموماً تقریباً 300 کلومیٹر تک کا سفر طے کریں گی۔ ہر سفر کے دوران کئی مقامات پر ٹھہرنے کی سہولت ہوگی تاکہ مقامی باشندے آسانی کے ساتھ قصبوں اور شہروں کے درمیان آمد و رفت کر سکیں۔ خواہ طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے قریبی شہروں کا سفر کریں یا عام لوگ علاج اور روزگار کی ضروریات کے لیے سفر کریں، یہ ٹرینیں ان کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔

یہ ٹرینیں عوام کو بین شہری سفر کے لیے نئی اور کم خرچ کی سہولت فراہم کریں گی۔ یہ انٹر سٹی ٹرینیں ملک بھر میں ایک شہر سے دوسرے قریبی شہروں اور قصبوں کو جوڑنے والی شٹل سروس کی طرح کام کریں گی۔ ان ٹرینوں کی تیاری کے بعد مقامی سطح کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر ہونے والی آمد و رفت کے ریل کی جانب منتقل ہونے کا امکان ہے۔
انٹر سٹی ٹرینوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا، جن میں خودکار طور پر دروازہ بند ہونے کا نظام، بہتر ہوا داری اور محفوظ کوچ ڈیزائن کے ساتھ 20 کوچز پر مشتمل ترتیب شامل ہوگی۔ ہر کوچ کے دونوں سرے پر ایک ایک بیت الخلا موجود ہوگا، یعنی ہر کوچ میں دو بیت الخلا کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ان انٹر سٹی ٹرینوں میں جدید کپلرز اور بوگیاں نصب کی جائیں گی۔ ان ٹرینوں کو 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کے لیے تیار کیا جائے گا۔
ان ٹرینوں میں ری جنریٹو بریکنگ نظام بھی موجود ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ٹرین بریک لگائے گی تو وہ بجلی پیدا کرنے والے نظام میں تبدیل ہو جائے گی اور پیدا ہونے والی بجلی دوبارہ گرڈ میں واپس بھیج دی جائے گی۔ اس طرح یہ نظام توانائی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائے گا۔ یہ نقل و حمل کے لیے ماحول کے موافق ذریعہ ہوگا اور سڑک ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں اس سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی۔
ریلوے کی جانب سے اس بڑے بیڑے کو متعارف کرانے سے ملک بھر میں ماحولیاتی موافق اور صاف ستھری نقل و حمل کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
***
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-7662
(ریلیز آئی ڈی: 2266322)
وزیٹر کاؤنٹر : 10