پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی ریفائننگ میں اضافی صلاحیت پٹرول اور ڈیزل کی مکمل ملکی فراہمی کو یقینی بناتی ہے، حکومت نے ریٹیل فیول چینلز کے استعمال میں نظم و ضبط کی اپیل کی


پی ایس یو او ایم سیز ریٹیل صارفین کے تحفظ کے لیے نقصانات برداشت کر رہی ہیں، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ریٹیل فیول سپلائی کے رخ موڑنے اور غیر مجاز ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 8:14PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ ریکارڈ پر لانا چاہتی ہے کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی اتنی وافر سپلائی موجود ہے کہ ہر قسم کی ملکی ضرورت، خواہ ریٹیل ہو یا صنعتی، پوری کی جا سکتی ہے۔ بھارت دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریفائنر ہے، جس کی 22 فعال ریفائنریوں میں مجموعی نصب شدہ صلاحیت 258.1 ملین ٹن سالانہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ملکی کھپت 243.2 ملین ٹن رہی، اسی سال پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 61.5 ملین ٹن تھیں، جس کے ساتھ بھارت عالمی سطح پر ریفائنڈ مصنوعات کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک بن گیا۔ کسی بھی نوعیت کا کوئی سپلائی مسئلہ موجود نہیں ہے۔

یونین منسٹر برائے پٹرولیم و قدرتی گیس، جناب ہردیپ سنگھ پوری، تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، جن میں پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، ریاستی حکومتیں اور صنعت سے وابستہ ادارے شامل ہیں، تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت صورتِ حال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ سیکرٹری (پی اینڈ جی) نے آج ریاستوں/یو ٹییز کے چیف سیکرٹریز، فکی (FICCI) اور سی آئی (CII) کے ساتھ صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ زمینی صورتِ حال سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یکساں ہے۔ کسی بھی پیٹرولیم مصنوعات کی کمی نہیں ہے۔ البتہ بعض علاقوں میں ایک ایسی اربیٹریج صورتِ حال موجود ہے جو کمی کا تاثر پیدا کر رہی ہے۔

اس کا طریقۂ کار سادہ ہے۔ حکومت کی ہدایت پر، اور جاری مغربی ایشیا کی خلل انگیز صورتِ حال کے دوران صارفین کے تحفظ کی ایک دانستہ کارروائی کے طور پر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بین الاقوامی قیمت کو مکمل طور پر ملکی ریٹیل فروخت میں منتقل کرنے سے گریز کیا ہے۔ پی ایس یو او ایم سیز اس وقت پٹرول، ڈیزل اور گھریلو ایل پی جی کی فروخت پر تقریباً 550 کروڑ روپے یومیہ کے نقصانات برداشت کر رہی ہیں۔ یہ سہارا ریٹیل صارفین کے لیے ہے: یعنی گھرانوں، دو پہیہ سوار مسافروں اور پمپ پر آنے والے کسانوں کے لیے۔ یہ صنعتی خریداری کے لیے نہیں ہے، جہاں پالیسی کے مطابق قیمتیں بین الاقوامی اصل نرخوں کے مطابق رہتی ہیں۔

جو صنعتی صارفین اپنی خریداری صنعتی چینل سے ہٹا کر ریٹیل پمپ سے کرتے ہیں، وہ اس سہولت کو عام شہری کے نقصان پر حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے پمپ پر طلب بھی غیر معمولی طور پر مرکوز ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں مقامی قلت پیدا ہوتی ہے جہاں ورنہ کوئی قلت موجود نہ ہوتی۔

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے موجودہ ماہ میں ایچ ایس ڈی کی آفٹیک ریٹیل آؤٹ لیٹس اور بلک صارفین، دونوں میں، تقریباً 38 فیصد کم ہوئی ہے، جس کی وجہ ان کی طرف سے مقرر کردہ بلند قیمتیں ہیں۔ یہ حجم مکمل طور پر پی ایس یو آئل مارکیٹنگ ریٹیل آؤٹ لیٹس کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پی ایس یو بلک صارفین کے حجم میں بھی تقریباً 29 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جو بھی ریٹیل آؤٹ لیٹس کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

حکومت نے مندرجہ بالا صورتِ حال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے صنعت سے وابستہ اداروں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اراکین کو خلاف ورزیوں کے اصول اور نتیجے، دونوں سے آگاہ کریں۔

حکومت نے ریاستوں/یو ٹییز سے درخواست کی ہے کہ وہ خصوصی اسکواڈ تشکیل دیں اور بلک صارفین اور ذخیرہ اندوزوں کی طرف سے ریٹیل صارفین کے لیے مخصوص سپلائی کے غلط استعمال، بلیک مارکیٹنگ، غیر مجاز ذخیرہ اندوزی اور پیٹرولیم مصنوعات کے رخ موڑنے کے خلاف ای سی ایکٹ اور اس کے تحت جاری کردہ کنٹرول آرڈرز کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت کارروائی کریں۔

حکومت بین الاقوامی صورتِ حال سے پوری طرح باخبر ہے۔ بھارت کی ریفائننگ قوت، پبلک سیکٹر او ایم سیز کی منظم کارکردگی، اور مرکز، ریاستوں اور صنعت کے درمیان فعال رابطہ کاری اس دور میں توانائی کی سلامتی کا عملی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہے۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ سرکاری ابلاغ پر بھروسا کریں اور ان افواہوں کو نظر انداز کریں جو اربیٹریج کے مسئلے کو سپلائی کے مسئلے سے خلط ملط کرتی ہیں۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 7644


(ریلیز آئی ڈی: 2266071) وزیٹر کاؤنٹر : 10