زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے 35 سالہ تجربات کی بنیاد پر کتاب ‘اپناپن’ تحریر کی ہے
سابق نائب صدرجمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو اور سابق وزیر اعظم جناب ایچ.ڈی. دیوگوڑا 26 مئی کو ‘اپناپن’ کی رسم اجراء کریں گے
وزیرِ اعظم مودی کی شخصیت، قیادت اور ملک کی تعمیر کیلئےان کی وابستگی کی قریبی جھلک پیش کرے گی یہ کتاب
ایکتا یاترا سے لے کر اب تک وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے تجربات کو شیوراج سنگھ چوہان نے الفاظ میں قلمبند کیا ہے
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ کتاب تنظیم، اچھی حکمرانی، حساسیت اور عزم کا ایک تاریخی ریکارڈ ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAY 2026 4:12PM by PIB Delhi
یہ کتاب ریاستوں میں پالیسی سازی، تنظیمی امور اور کابینہ اجلاس میں فیصلوں کے نفاذ سے متعلق مختلف موضوعات کا دلچسپ احاطہ کرتی ہے
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنے 35 سالہ تجربات پر مبنی کتاب ‘اپنا پن’ لکھی ہے۔ آج دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے اس کتاب کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ تین دہائیوں سے زائد قریبی تعاون، تنظیمی زندگی، عوامی خدمت، اچھی حکمرانی اور وطن سے وابستگی کے ان زندہ تجربات کا نچوڑ ہے جنہیں انہوں نے بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کی رسمِ اجراء 26 مئی 2026 کو صبح 10:30 بجے نئی دہلی کے این اے ایس سی کمپلیکس، پُوسا میں ہوگی، جس میں سابق نائب صدرجمہوریہ ایم۔ وینکیا نائیڈو اور سابق وزیرِ اعظم ایچ۔ ڈی۔ دیوگوڑا شرکت کرتے ہوئے اس کا اجرا کریں گے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ کتاب قارئین کو وزیرِ اعظم مودی کی شخصیت، قیادت، حساسیت اور طریقہ کارکو مزید قریب اور گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کرے گی۔

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کتاب ‘اپناپن’ میرے ان تجربات، جذبات، ترغیبات اور زندگی کی اقدار کو الفاظ دیتی ہے جو میں نے عوامی زندگی کے طویل سفر میں نریندر مودی کے ساتھ رہتے ہوئے محسوس کیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کا تعلق 35 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ 1991 کی ایکتا یاترا سے شروع ہونے والا یہ رشتہ ایک تنظیمی کارکن کے طور پر آغاز ہوا اور بعد میں وزیراعلیٰ اور پھر مرکزی وزیر کے طور پر مختلف ذمہ داریوں میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ دنیا وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک فیصلہ کن اور مؤثر رہنما کے طور پر دیکھتی ہے، لیکن انہوں نے ان کے اندر ایک سادھک، کرم یوگی اور مکمل طور پر وطن کے لیے وقف شخصیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی جی دیر رات تک کام کرنے کے باوجود اگلے دن اسی توانائی، اسی روشن بیانی اور اسی وابستگی کے ساتھ ملک کے لیے کھڑے نظر آتے ہیں۔
ایکتا یاترا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُس وقت کچھ لوگ اسے صرف ایک سیاسی سفر سمجھتے تھے، لیکن نریندر مودی نے اسے قومی بیداری کی تحریک میں بدل دیا۔ ان کی نظر صرف سری نگر کے لال چوک تک ترنگا پھہرانے تک محدود نہیں تھی بلکہ ملک کے نوجوانوں میں قومی فخر اور وابستگی کا جذبہ پیدا کرنا ان کا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی دور میں انہوں نے محسوس کیا کہ قیادت صرف تقاریر سے نہیں بنتی بلکہ ریاضت، نظم و ضبط، وابستگی اور اپنائیت سے تشکیل پاتی ہے اور یہی احساس بعد میں اس کتاب کی بنیاد بنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تنظیم کی توسیع، انتخابی حکمتِ عملی، نظریے کو عوام تک پہنچانے اور کارکنوں کو جوڑنے کی صلاحیت وزیرِ اعظم مودی کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ بطور وزیراعلیٰ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح پیچیدہ اور برسوں سے التوا کا شکار مسائل کو بات چیت، وضاحت اور مضبوط عزم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی جی کی شخصیت جتنی مضبوط ہے، اتنی ہی حساس بھی ہے۔ انہوں نے ایکتا یاترا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب لال چوک پر ترنگا لہرانے کے موقع پر کئی وقف شدہ کارکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہاں نہیں پہنچ سکے تو نریندر مودی جی نے ان کی تکلیف کو جس خلوص کے ساتھ محسوس کیا، وہ ان کے دل کی گہرائی اور کارکنوں کے ساتھ ان کے لگاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگ تنظیمی سختی کو ہی قیادت کا چہرہ سمجھ لیتے ہیں، لیکن نریندر مودی جی کے اندر کارکنوں، غریبوں، کسانوں، ماؤں، بہنوں اور آخری صف میں کھڑے فرد کے لیے گہری ہمدردی موجود ہے۔ یہی انسانی وژن ان کی قیادت کو منفرد اور وسیع بناتا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعظم مودی جی نے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو بہت پہلے سمجھ لیا تھا، جب عام سیاسی کارکن اور رہنما اس سمت میں سنجیدگی سے سوچ بھی نہیں رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعد کے برسوں میں ملک نے دیکھا کہ کس طرح ٹیکنالوجی کو اچھی حکمرانی، شفافیت، عوامی شمولیت اور خدمات کی مؤثر فراہمی کے لیے استعمال کیا گیا۔
کووڈ وبا کے مشکل دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت جب پورے ملک میں تشویش اور غیر یقینی کی فضا تھی، وزیرِ اعظم مودی نے تحمل، صبر اور دوراندیشی کے ساتھ فیصلے کیے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت قیادت کی اصل پہچان سامنے آتی ہے اور اس دور میں وزیرِ اعظم مودی نے قوم کو اعتماد اور سمت فراہم کی۔
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ‘اپنا پن’صرف واقعات کا بیان نہیں ہے بلکہ ایک فکر، ایک وژن، ایک طرزِ عمل اور قوم سازی کے اس جذبے کی دستاویز ہے جس نے بھارت کو بدلنے کا حوصلہ دیا۔ اس کتاب میں قارئین کو تنظیم سے حکومت تک، احساس سے فیصلے تک اور عزم سے کامیابی تک کے سفر کی قریبی جھلک ملے گی۔
شیوراج سنگھ چوہان نے یقین ظاہر کیا کہ یہ کتاب خصوصاً نوجوانوں کے لیے تحریک کا باعث بنے گی۔ ان کے مطابق یہ کتاب یہ پیغام دیتی ہے کہ ملک کو بدلنے کے لیے بڑے عہدے کی نہیں بلکہ بڑے عزم، نظم و ضبط، خدمت کے جذبے اور عوام سے گہرے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اپناپن’ کے ذریعے وہ اپنے کچھ ذاتی تجربات معاشرے کے سامنے پیش کر رہے ہیں تاکہ لوگ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی شخصیت کو مزید قریب سے سمجھ سکیں۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہوگی جو بھارت میں سماجی اور سیاسی تبدیلی کے عمل کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.7067
(ریلیز آئی ڈی: 2261121)
وزیٹر کاؤنٹر : 9