امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

داخلی امور اور امداد باہمی کےمرکزی وزیرجناب امت شاہ نے اتر پردیش کے غازی آباد میں این ڈی آر ایف کی پرسیڈنٹس کلر ایوارڈ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا


مودی حکومت گرمی کی لہر سے ہونے والی اموات کو صفر تک لانے کے لیے کام کر رہی ہے

این ڈی آر ایف کے ان تمام اہلکاروں کو مبارکباد جنہوں نے گذشتہ 20 برسوں میں اپنی ہمت ، لگن اور محنت کے ذریعے ملک کا اعتماد حاصل کیا اور صدر جمہوریہ کا اعزاز حاصل کیا

سی اے پی ایف کے اہلکاروں نے 7 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے ہیں ، جو ماحولیاتی تحفظ اور آب و ہوا کی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں اہم رول ادا کریں گے

ہندوستان آج آفات کے انتظام میں ایک عالمی رہنما اور پہلے جواب دہندہ کے طور پرسامنے آیا ہے ، جس نے ‘واسودھیو کٹمبکم’ کے جذبے کو عملی جامہ پہنایا ہے

آفات کے انتظام سے نمٹنے  میں ردعمل پہلے بنیادی طور پر ریلیف پر مبنی تھا ، لیکن مودی حکومت نے اسے ردعمل سے روک تھام اور نتیجہ خیز میں تبدیل کر دیا ہے

اس سے قبل آفات سے نمٹنے کا ردِعمل بنیادی طور پر امدادی نوعیت کا ہوتا تھا، لیکن مودی حکومت نے اسے ردِعمل سے تبدیل کرکے پیشگی حفاظتی اور نتیجہ خیز بنا دیا ہے

وزیر اعظم مودی کے10 نکاتی ایجنڈا اور آفات کے انتظام کے حوالے سے 360 درجے  کا جامع طریقۂ کارنے آفات سے متعلق خطرات کے انتظام کو ایک نئی سمت فراہم کی ہے

این ڈی آر ایف کے اہلکاروں کو دیکھ کر ایک مضبوط تحفظ کا احساس اور اعتماد پیدا ہوتا ہے جنہوں نے 1.5 لاکھ سے زیادہ جانیں بچائی ہیں اور 9 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 14 MAY 2026 1:40PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے آج اتر پردیش کے غازی آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کے پرسیڈنٹس کلر ایوارڈ کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کیا ۔  مرکزی داخلہ سکریٹری ، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل صاحبان اور کئی دیگر معززین شخصیات اس موقع پر موجود تھیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف کو ‘صدر کا رنگ’ عطا کرنا محض این ڈی آر ایف کی قابل ستائش خدمات کا اعتراف نہیں ہے ، بلکہ ایس ڈی آر ایف ، پنچایتوں سے لے کر ریاستوں تک کی پوری مشینری ، این سی سی ، این ایس ایس اور خدمات میں سرگرم عمل ہزاروں آفات سے متعلق رضاکاروں کے تعاون کا اعتراف بھی ہے ۔وزیر موصوف نے کہا کہ این ڈی آر ایف کے اہلکار ‘‘آپدا سیوا سدیو سروتر’’ کے نعرے کے ساتھ ملک میں کہیں بھی جاتے ہیں ۔ جناب شاہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف کے اہلکار جہاں بھی گئے ہیں ، ہندوستان میں یا بیرون ملک ، انہوں نے پیار اور اعتماد حاصل کیا ہے ۔  جب بھی ملک میں کہیں بھی کوئی آفت آتی ہے یا اس کی پیش گوئی کی جاتی ہے ،تب این ڈی آر ایف کے اہلکار اس یقین کے ساتھ و ہاں پہنچتے ہیں کہ اب بچاؤ سے متعلق کارروائیاں کامیاب ہو جائیں گی  اور لوگوں کو یہ یقین کا احساس  دلاتے ہیں ۔  جناب شاہ نے کہا کہ اپنے قیام کے بعد سے پچھلے 20 برسوں میں این ڈی آر ایف نے ملک بھر میں سیلاب ، زلزلے ، طوفان اور دیگر آفات کے دوران اپنی کامیاب کارروائیوں کے ذریعے 140 کروڑ شہریوں کا اعتماد  وبھروسہ حاصل کیا ہے ۔  وزیر موصوف نے کہا کہ این ڈی آر ایف کے ان تمام اہلکاروں کو مبارکباد جنہوں نے گذشتہ 20 برسوں میں اپنی ہمت ، لگن اور محنت کے ذریعے ملک کا اعتماد حاصل کیا اور صدر جمہوریہ کا اعزاز حاصل کیا اورجنہوں نے 1.5 لاکھ سے زیادہ جانیں بچائی ہیں اور 9 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے ، نیز سلامتی اور اعتماد کا ایک مضبوط احساس دلایا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ صدر جمہوریہ کا کلر ایوارڈ عطا کرنا پورے این ڈی آر ایف کی خدمات ، ہمت ، بہادری اور لگن کا اعتراف ہے ۔  انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور این ڈی آر ایف نے آفات سے نمٹنے کےمعاملے میں ہندوستان کو عالمی نقشے پر نمایاں طور پر قائم کیا ہے ، جو تمام شہریوں کے لیے فخر کی بات ہے اور ملک کے وزیر داخلہ کی حیثیت  سے ان کے لیے بھی  یہ نہایت فخر کی بات ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج 116 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کےپروجیکٹوں کا افتتاح  کیا گیا ہےاور سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ انہوں  اس یقین کا بھی ا ظہار کیا کہ مذکورہ پروجیکٹس ہر قسم کی آفات سے شہریوں کے تحفظ کے لیے این ڈی آر ایف کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ  اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ، 2014 سے ہندوستان نے نہ صرف آفات کے خطرے کو کم کرنے کی سمت میں کام کیا ہے ، بلکہ اب وہ ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گیا ہے جہاں ملک صفر جانی نقصان کے ہدف کی جانب بڑھ سکتا ہے ۔  جہاں بھی آفات کے بارے میں پیشگی معلومات پیش گوئی اور محکمہ موسمیات کے ذریعے دستیاب  معلومات ہیں ، اس کا مقصد جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ۔  انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے نے کئی پالیسی فیصلے کیے ہیں ، متعدد رہنما خطوط جاری کیے ہیں ، عوامی بیداری کو کامیابی کے ساتھ فروغ دیا ہے اور بتدریج آفات کی تیاری کو قومی کلچر بنایا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ این ڈی آر ایف نے نہ صرف شہریوں بلکہ ان کے ساتھ رہنے والے بےزبان جانوروں کو بچا کر ایک بہترین مثال قائم کی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد آفات کے دوران انسانی جانوں کے صفر نقصان اور املاک کےکم سے کم نقصان کو یقینی بنانا ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ بھی گرمی کی لہروں جیسے سنگین چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔  انہوں نے کہا کہ مودی حکومت گرمی کی لہر سے ہونے والی اموات کو صفر تک لانے کے لیے کام کر رہی ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ اور این ڈی آر ایف نے صلاحیت سازی اور کمیونٹی کی شرکت پر بہت زور دیا ہے ۔  این ڈی آر ایف نے 8500 سے زیادہ اہلکاروں ، 10,000 سے زیادہ شہری دفاعی کارکنوں اور 2.20 لاکھ سے زیادہ رضاکاروں کو تربیت دینے کا بے مثال کام انجام دیا ہے ۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں 10,500 سے زیادہ ملاحوں کو بھی تربیت دی گئی ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈیزاسٹر رضاکار ،کمیونٹی پر مبنی ڈیزاسٹر رسپانس کو مضبوط بنانے اور ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں انتہائی مفید ثابت ہوں  گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ، آفات کے انتظام سے نمٹنے کے دوران ردعمل بنیادی طور پر ریلیف پر مبنی تھا ، لیکن مودی حکومت نے اسے ردعمل سے روک تھام اور نتیجہ خیز میں تبدیل کر دیا ہے ۔   وزیر اعظم نریندر مودی نے آفات کی وجہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کرنے کا تصور ایک عالمی ماڈل کے طور پر قائم کیا ہے ۔  پچھلے 12 برسوں میں ، آفات کی تیاری محض ایک نظام سے ایک مکمل ماحولیاتی نظام میں تبدیل ہوئی ہے۔  گرام پنچایتوں سے لے کر حکومت ہند تک ، آئی ایم ڈی کے سائنسدانوں سے لے کر عام شہریوں تک ، ایک مشترکہ مقصد کی سمت مربوط کارروائی کا ایک نیا کلچر ابھرا ہے ۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان نے اڈیشہ سپر سائیکلون ، گجرات کے زلزلے اور بحر ہند کی سونامی جیسی کئی تباہ کن قدرتی آفات کا مشاہدہ کیا ہے ، جس نے ملک بھر میں لوگوں کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دیا اور  جس نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مضبوط فریم ورک کی ضرورت کوبھی اجاگر کیا ۔  اس کے بعد ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ کیا گیا ، اور این ڈی ایم اے اور این ڈی آر ایف قائم کیے گئے ۔  وزیر موصوف نے کہا کہ 16 بٹالین کے ساتھ این ڈی آر ایف آج ایک طاقتور فورس بن گئی ہے ۔  این ڈی آر ایف نے اپنے کام کرنے کے طریقوں ، ایس ڈی آر ایف کو تربیتی مدد اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے ۔  فعال تعیناتی اور پہلے سے پوزیشننگ جیسے اقدامات نقصان کو کم کرنے میں موثر ثابت ہوئے ہیں ۔  جناب امت شاہ نے یاد دلایا کہ بہار میں2008 کا کوسی سیلاب این ڈی آر ایف کے لیے ایک بڑا امتحان تھا ۔  اس کے بعد  این ڈی آر ایف نے دھارالی میں اچانک آنے والے سیلاب ، چسوتی میں بادل پھٹنے ، جموں ، پنجاب اور دہلی میں سیلاب ، طوفان مونتھا اور طوفان دتوا جیسی بہت سی آفات سے کامیابی کے ساتھ نمٹاہے ۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ این ڈی آر ایف نے امرناتھ یاترا ، مہاکمبھ ، چار دھام یاترا ، منی مہیش یاترا ، سبری مالا یاترا اور جگن ناتھ رتھ یاترا جیسے بڑے پروگراموں کے دوران بھی معاشرے کے ساتھ مؤثر طریقے سے کام کیا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں وزیر اعظم مودی کے 10 نکاتی ایجنڈے اور 360 ڈگری اپروچ نے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کو ایک نئی سمت عطا کی ہے ۔  اس نے رسک میپنگ ، ابتدائی انتباہی نظام ، کمیونٹی کی شرکت اور رہنما خطوط کی تشکیل جیسے شعبوں کو مضبوط کیا ہے۔   جناب امت شاہ نے کہا کہ عالمی سطح پر ہندوستان آفات کے انتظام میں ایک غیر متنازعہ رہنما اور پہلے جواب دہندہ کے طور پر سامنے آیا ہے ۔  ‘واسودھیو کٹمبکم’ کے اصول کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے اور اسے زمینی سطح پر نافذ کیا گیا ہے ۔  وزیر اعظم مودی سے متاثر ہوکر ہندوستان نے آفات سے نمٹنے والے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کی ہے ۔  آج 48 ممالک کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر (سی ڈی آر آئی) میں شامل ہو چکے ہیں اور اس سمت میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔

جناب امت شاہ نے ملک بھر میں مرکزی مصلح  پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے تمام اہلکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ 2021 سے سی اے پی ایف کے اہلکاروں نے ملک بھر میں 7 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے ہیں ۔وزیر موصوف نے کہا کہ یہ تمام نکات سی اے پی ایف کے انسانی نقطہ نظر اور ماحولیاتی بیداری کی عکاسی کرتے ہیں۔

***

 

 

ش ح۔ ش م۔اش ق

U- 7055


(रिलीज़ आईडी: 2260993) आगंतुक पटल : 38
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam