امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ نے نئی دہلی میں عالمی نوکار مہامنتر دِوس کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی


جب دنیا کے مختلف حصوں میں تنازعات کے حالات موجود ہیں، تو پورے عالم کی بھلائی کے لیے نوکار منتر کا اجتماعی جاپ انتہائی معنی خیز اور موزوں ہے

جب دنیا کو امن کی ضرورت ہے، تو نوکار منتر کا اجتماعی جاپ نہ صرف ماحول کو پاک کرے گا بلکہ ذہنی اضطراب کو بھی سکون پہنچائے گا

نوکار منتر ایک مکمل طور پر ہیئت سے مبرا، غیر جانبدار اور عالمی دعا ہے، جس میں وقت، ذات، علاقے یا مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے

جب لوگ ایک ہی منتر کو خلوص کے ساتھ اجتماعی طور پر پڑھتے ہیں، تو یہ صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے

بھارت مختلف فرقوں اور مذاہب کی سرزمین ہے، جہاں ہر روایت منتر کی خصوصی اہمیت اور روحانی قوت کو اجاگر کرتی ہے

جب کوئی شخص عقیدت کے ساتھ جھکتا ہے، تو یہ اس کےترک انا کی شروعات کی علامت ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 APR 2026 2:07PM by PIB Delhi

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیرجناب امت شاہ، نے نئی دہلی میں ‘عالمی نوکار مہامنتر دِوس’ کے موقع پر منعقدہ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

امور داخلہ وامداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصے اپنے نظریات کو منوانے کی کوششوں میں تنازعات کا شکار ہیں، یہاں پورے عالم کی بھلائی کے لیے نوکار منتر کا اجتماعی جاپ نہایت معنی خیز اور اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مختلف فرقوں اور مذاہب کی سرزمین ہے، جہاں ہر روایت منتر کی خصوصی اہمیت اور روحانی قوت کو اجاگر کرتی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ منتر انسانی زندگی کو بلند راہ کی طرف رہنمائی دیتے ہیں، ہمارے شعور کو بیدار کرتے ہیں اور نیک ارادوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب لوگ ایک ہی منتر کو خلوص کے ساتھ اجتماعی طور پر پڑھتے ہیں، تو یہ صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک اور دنیا کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہمارے دانشور صوفیوں نے صدیوں کی مسلسل تپسیا کے ذریعے یہ منتر تمام انسانیت کی بھلائی کے لیے مرتب کیے ہیں۔ ہمیں انہیں عقیدت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے اور عملی زندگی میں بھی اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوکار منتر ایک مکمل طور پر ہیئت سےپاک، غیر جانبدار اور عالمی دعا ہے، جس میں وقت، ذات، علاقے یا مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے۔ دنیا میں ایسی جامع اور سب کے لیے قابل قبول دعا بہت نایاب ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ دعا ان عظیم روحوں کی خوبیوں کا احترام ہے جنہوں نے اپنے کرما کو فتح کرکے خود شناسی اور آزادی کی راہ ہموار کی ہے ۔ اس مقدس منتر میں ، لفظ "نمو" مکمل طور پر خود کو سونپ دینے کی علامت ہے  جو متلاشی کو انا ترک کرنے اور خود کو پاک کرنے کی طرف بڑھنے کی رہنمائی کرتا ہے ۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب کوئی شخص عقیدت کے ساتھ جھکتا ہے، تو یہ اس کے ترک انا کی شروعات کی علامت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ “اریہنت” وہ ہستی ہے جو اندرونی دشمنوں (“اری”) کو ہلاک (“ہنت”) کرتی ہے۔ یہ دشمن جسم، ذہن، جذبات، فطرت اور مزاج میں موجود ناپاکیاں یا برائیاں ہیں، جو نجات (موکشیہ) کے حصول میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ جو متلاشی ان اندرونی دشمنوں پر قابو پاتا ہے، اسے اریہنت کہا جاتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو شخص کامل علم حاصل کر چکا ہو، غصہ، غرور، فریب اور لالچ پر مکمل غلبہ پا چکا ہواور جو جین متون میں بیان کردہ 12 روحانی صفات سے مزین ہو، اسے اریہنت کہا جاتا ہے، اور ہم ایسے اریہنتوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منتر سدھوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ وہ روح جو مکمل آزاد حالت حاصل کر چکی ہو، اسے سدھہ کہتے ہیں۔ جو لوگ آٹھ اقسام کے کرموں کو ختم کر چکے ہوں، جنم اور مرنے کے چکر سے اوپر اٹھ چکے ہوں  اور آٹھ پاکیزہ صفات حاصل کر چکے ہوں، وہ سدھہ کہلاتے ہیں۔ ہم ان لا تعداد سدھوں کو سلام پیش کرتے اور ان کاآشیرواد طلب کرتے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آچاریوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جو مٹھوں کے نظام کے سربراہ ہوتے ہیں۔ نظم و ضبط قائم کرنا، بڑے وعدوں کی پابندی کرنااور تمام متلاشیوں کی رہنمائی کرنا آچاریہ کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ جس کی زندگی اور کردار کو دیکھ کر نجات حاصل کی جا سکے، وہ آچاریہ کہلاتا ہے۔ جین متون کے مطابق، جو شخص 36 صفات سے مزین ہو، وہ آچاریہ کی حیثیت حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح، اپادھیائے یعنی استاد-سنت کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی ذمہ داری متون کا گہرا مطالعہ کرنا اور اس علم کو وسیع پیمانے پر پھیلانا ہے۔ مقرر کردہ 25 صفات حاصل کرنے کے بعد ہی وہ اپادھیائے بننے کے اہل ہوتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ راہب، عابد، اور متلاشی وہ ہیں جو نظم و ضبط، تیاگ، بڑے وعدے، اور تپسیا کی مشق کر کے بتدریج اپنے اندر 27 نیک اوصاف پیدا کرتے ہیں؛ ایسے صفات والے شخص کو سادھو کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منتر پانچ اعلیٰ ہستیوں (پنچ پرمیشٹھی) کی تعظیم کی علامت ہے۔ اس کے بنیادی فلسفے کے مطابق، یہ پانچ ہستیاں دو بڑے زمرے میں تقسیم ہیں۔ پہلا زمرہ “دیو” ہے، جس میں وہ عظیم ہستیاں شامل ہیں جو عام انسانی زندگی سے بلند ہو کر اریہنت اور سدھہ کی حالت تک پہنچ چکی ہیں۔ دوسرا زمرہ “گرو” ہے، جس میں آچاریہ، اپادھیائے اور سادھو شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوکار منتر کا جوہری مقصد یہ ہے کہ ان پانچ اقسام کی عظیم ہستیوں کو سلام پیش کیا جائے، ان کے نیک اوصاف اپنائے جائیں اور ان کاآشیرواد طلب کیا جائے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ہم اجتماعی طور پر اریہنت، سدھہ، آچاریہ، اپادھیائے، اور سادھو میں مجسم 108 اوصاف کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منتر ایک مختصر وقت میں ان سب کے اوصاف کو یاد کرنے اور ان کی تعظیم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ اگرچہ وہ اس منتر کے گہرے مفہوم کو فوری طور پر مکمل طور پر سمجھ نہ پائیں جس کی گہرائی صرف کسی آچاریہ، راہب، یا عالم سنت کی رہنمائی میں صحیح طور پر سمجھی جا سکتی ہے،تب بھی انہیں اس کی مشق جاری رکھنی چاہیے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نوکار منتر کی روایت ہزاروں سال سے جاری ہے، جس میں 24 تِرتھنکروں اور ان کے پیروکاروں کا نمایاں کردار ہے۔ ابتدا میں یہ منتر زبانی طور پر نسل در نسل منتقل ہوتا رہا؛ بعد میں اسے نقش و نگار کے ذریعے محفوظ کیا گیا اور بالآخر مختلف متون میں جگہ پائی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے اس منتر کی حفاظت اور فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ یہ کوششیں آنے والی نسلوں کو ایک روحانی اور مثبت زندگی کی طرف رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کو امن کی ضرورت ہے، نوکار منتر کا اجتماعی جاپ نہ صرف ماحول کو پاک کرے گا بلکہ ذہنی اضطراب کو بھی سکون پہنچائے گا اور باہمی سمجھ، ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے تئیں حساسیت کو بھی مضبوط کرے گا۔

 

********

 (ش ح ۔م م ۔ف ر)

U. No. 5611


(ریلیز آئی ڈی: 2250442) وزیٹر کاؤنٹر : 17