پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
مغربی ایشیا میں واقعات کے پیشِ نظر اہم شعبوں سے متعلق تازہ اپڈیٹس
پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس دستیاب، درست شناختی دستاویز پر حاصل کیے جا سکتے ہیں، پتے کے ثبوت کی ضرورت نہیں
گزشتہ روز 71,000 سے زائد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت ہوئے؛ 23 مارچ سے اب تک 5.7 لاکھ تقسیم کیے جا چکے ہیں
مارچ 2026 سے اب تک 3.5 لاکھ سے زائد پی این جی کنکشنز کو گیس فراہم کی جا چکی ہے
مورخہ 6 اپریل سے کھاد کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 90 فیصد تک بڑھائی جائے گی
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی جاری؛ گزشتہ روز 3700 سے زائد چھاپے مارے گئے
جہاز ’’گرین سانوی‘‘ آبنائے ہرمز کو پار کرتے ہوئے 46,650 میٹرک ٹن ایل پی جی کارگو لے جا رہا ہے
اب تک 1,320 سے زائد بھارتی ملاحوں کی وطن واپسی میں سہولت فراہم کی جا چکی ہے
بھارتی مشنز 24 گھنٹے ہیلپ لائنز چلا رہے ہیں اور پورے خطے میں اپنے شہریوں کو معاونت فراہم کر رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
04 APR 2026 3:06PM by PIB Delhi
حکومت ہند کلیدی شعبوں میں تیاری اور ہموار انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ مغربی ایشیا میں بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر، درج ذیل اپڈیٹ توانائی کی فراہمی، بحری آپریشنز اور خطے میں بھارتی شہریوں کی معاونت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل فراہم کرتی ہے:
توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے کہ ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی فراہمی خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حالیہ بند ہونے کے پس منظر میں ،بلارکاوٹ کے جاری رہے۔ وزارت کے مطابق:
پبلک ایڈوائزری اور شہریوں میں بیداری
- حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اور شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پیٹرول اور ڈیزل کی غیر ضروری خریداری اور ایل پی جی کی غیر ضروری بکنگ سے گریز کریں۔
- شہریوں کو افواہوں سے محتاط رہنے اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- ایل پی جی کے لیے شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ سلنڈر بکنگ کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کریں اور صرف ضروری ہونے پر ہی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جائیں۔
- شہریوں کو جہاں بھی ممکن ہو متبادل ایندھن جیسے پی این جی، انڈکشن اور الیکٹرک کُک ٹاپس استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- موجودہ صورتحال میں، تمام شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ روزمرہ کے استعمال میں توانائی کی بچت کے لیے مناسب اقدامات کریں۔
حکومتی تیاری اور فراہمی کے انتظامات
- جنگ کی اس صورتحال کے باوجود، حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے، ساتھ ہی اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے۔
- حکومت نے پہلے ہی سپلائی اور مانگ دونوں جانب کئی اقدامات نافذ کیے ہیں، جن میں ریفائنری کی پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ وقفہ 21 سے 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک بڑھانا، اور سپلائی کے شعبوں کو ترجیح دینا شامل ہے۔
- ایل پی جی پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن کے اختیارات جیسے کہ مٹی کا تیل اور کوئلہ بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
- کوئلہ کی وزارت نے پہلے ہی کوئلہ انڈیا اور سنگارنی کولیریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستوں کو زیادہ مقدار میں کوئلہ فراہم کریں تاکہ چھوٹے، درمیانے اور دیگر صارفین کو تقسیم کیا جا سکے۔
- ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشنز کو فروغ دیں۔
- حال ہی میں، وزارت (ایم او پی این جی) کے سکریٹری نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اضافی چیف سیکرٹریز اور پرنسپل سیکرٹریز (خوراک و شہری سپلائز) کے ساتھ ملاقات کی، جہاں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایل پی جی کی تقسیم کو ترجیح دیں، خاص طور پر گھریلو اور ضروری ضروریات کے لیے، اور ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ری ڈائریکشن اور غلط معلومات کے خلاف سخت نگرانی رکھیں۔مائی گرینٹ ورکروں کو ایف ٹی ایل ایل پی جی سپلائی کے حوالے سے رپورٹس پر ریاستوں نے وضاحت کی کہ مہاجرین پر اثر ڈالنے والی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور فراہمی مستحکم ہے۔ سکریٹری نے ریاستوں کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی ضروریات اور تیل کی کمپنیوں (ایم سی سیز) کے ساتھ مل کر 5 کلوگرام ایف ٹی ایل ایل پی جی سلنڈرز کی ہدفی تقسیم کو منظم کرنے پر غور کریں۔
ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ ہم آہنگ اقدامات اور ادارہ جاتی میکانزم
- ضروری اشیاء ایکٹ، 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر، 2000 کے تحت ریاستی حکومتیں کسی بھی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہیں۔ ریاستوں/یوٹیزکی حکومتیں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیاء کی فراہمی کی نگرانی اور ریگولیشن میں بنیادی کردار ادا کریں۔ حکومت ہند نے اس بات کو متعدد خطوط اور ویڈیو کانفرنسز کے ذریعے تمام ریاستوں/یوٹیز کو دوبارہ یاد دلایا ہے۔
- تمام چیف سیکرٹریز، اے سی ایس/پرنسپل سیکرٹری/سیکرٹری خوراک و شہری سپلائی سے درخواست کی گئی ہے کہ:
Ø ریاست/ضلع سطح پر روزانہ پریس بریفنگ کو ادارہ جاتی شکل دی جائے اور باقاعدہ عوامی مشورے جاری کیے جائیں۔
Ø مخصوص کنٹرول رومز اور ہیلپ لائنز قائم کی جائیں۔
Ø سوشل میڈیا پرفرضی خبروں اور غلط معلومات کی نگرانی اور ان کا فوری مقابلہ کیا جائے۔
Ø ضلع انتظامیہ کی جانب سے روزانہ نفاذی کارروائیوں کو تیز کیا جائے اور او ایم سیز کے ساتھ ہم آہنگی میں چھاپے اور معائنہ جاری رکھے جائیں۔
Ø ریاستوں/یوٹیز میں کمرشل ایل پی جی کے مختص احکامات جاری کیے جائیں۔
Ø اضافی ایس کے اوکے مختص احکامات جاری کیے جائیں۔
Ø سی جی ڈی توسیع کو تیز کیا جائے، بشمول آر او ڈبلیو/ آر او یواجازت نامے، 24 گھنٹے ساتوں دن کام کرنے کی اجازت وغیرہ۔
Ø پی این جی اپنانے اور متبادل ایندھن کو فروغ دیا جائے۔
Ø ایم او پی این جی کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے سینئر نوڈل افسران کو نامزد کیا جائے۔
- حکومت ہند نے 27 مارچ اور 2 اپریل 2026 کے خطوط کے ذریعے تمام ریاستوں/یو ٹیزکے چیف سیکرٹریز سے درخواست کی ہے کہ وہ فعال اور باقاعدہ عوامی رابطوں کو بڑھائیں، مناسب سطح پر روزانہ پریس بریفنگ کریں، اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بروقت اور درست معلومات فراہم کریں تاکہ افواہوں سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے اور شہریوں کو ایل پی جی کی مناسب دستیابی اور ہموار تقسیم کے بارے میں یقین دہانی کروائی جا سکے۔
- فی الحال، 21 ریاستیں/یوٹیز پریس بریفنگ جاری کر رہی ہیں۔
نفاذ اور نگرانی کے اقدامات
- ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی نگرانی کے لیے کئی ریاستوں/یوٹیز میں چھاپے جاری ہیں؛ گزشتہ روز 3700 سے زائد چھاپے مارے گئے۔
- پی ایس یواو ایم سیز کے حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سرپرائز انسپیکشن کے نظام کو مضبوط کریں تاکہ ذخیرہ اندوزی/بلیک مارکیٹنگ کے کسی بھی واقعے کو روکا جا سکے۔
- اب تک پی ایس یواو ایم سیز نے ایل پی جی ڈسٹری بیوشن شپ پر 1000 شو کاز نوٹس جاری کیے ہیں اور 27 ایل پی جی ڈسٹری بیوشن شپز معطل کی جا چکی ہیں۔
ایل پی جی کی فراہمی
گھریلو ایل پی جی کی فراہمی:
- موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہے، تاہم ڈسٹری بیوشن شپز پر ایل پی جی بالکل ہی ختم ہونے کی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔
- آن لائن ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ گزشتہ روز صنعت کی بنیاد پر 95فیصد ہو گئی۔
- ڈسٹری بیوٹر سطح پر کسی بھی ری ڈائریکشن کو روکنے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (پی اے سی)پر مبنی ڈیلیوریز 53فیصد (فروری 2026) سے بڑھ کر گزشتہ روز 89فیصد ہو گئی۔
- گزشتہ روز تقریباً 51 لاکھ گھریلو ایل پی جی سلنڈرز تقسیم کیے گئے۔
کمرشل ایل پی جی کی فراہمی اورمتعلقہ اقدامات:
- حکومت ہند نے 1 اپریل 2026 کے حکم کے ذریعے ملک میں ریفائننگ کمپنیوں بشمول پیٹرو کیمیکل کمپلیکسز کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ سی3 اور سی4 اسٹریمز کی کم از کم مقدار مخصوص شعبوں (ڈپارٹمنٹ آف فارماسیوٹیکلز، ڈپارٹمنٹ آف فوڈ اینڈ پبلک ڈسٹری بیوشن، ڈپارٹمنٹ آف کیمیکلز اینڈ پیٹرو کیمیکلز وغیرہ) کے لیے فراہم کریں، جیسا کہ سینٹر فار ہائی ٹیکنالوجی (سی ایچ ٹی) کے ذریعہ مقرر کیا گیا ہے۔
- حکومت نے کل کمرشل مختص کی 70فیصد پیش از بحران سطح پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں 10فیصد اصلاحی حصہ شامل ہے۔
- گزشتہ روز 71,000 سے زائد 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت ہوئے۔
- مورخہ23 مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 5.7 لاکھ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں۔
- پانچ کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر قریبی ایل پی جی ڈسٹری بیوشن شپز پر دستیاب ہیں اور کسی بھی درست شناختی دستاویز دکھا کر خریدے جا سکتے ہیں، پتے کے ثبوت کی ضرورت نہیں۔
- آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کی تین رکنی کمیٹی ریاستی حکام اور صنعتی اداروں کے مشورے سے ریاستوں/یوٹیز میں کمرشل ایل پی جی کی فروخت کا منصوبہ حتمی شکل دیتی ہے۔
- 14 مارچ 2026 سے اب تک مجموعی طور پر 72,047 میٹرک ٹن کمرشل ایل پی جی فروخت کی جا چکی ہے۔
قدرتی گیس کی فراہمی اور پی این جی توسیعی اقدامات
- صارفین کو ترجیح دی گئی ہے اور گھریلو پی این جی(ڈی-پی این جی)اور سی این جی ٹرانسپورٹ کو 100فیصد سپلائی فراہم کی گئی ہے۔
- صنعتی اور تجارتی صارفین جو گرڈ سے منسلک ہیں، ان کو اوسط کھپت کے 80فیصد کے حساب سے سپلائی دی جا رہی ہے۔
- چلنے والے یوریا پلانٹس کو اب پچھلے چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 70-75فیصد کی مستحکم سپلائی حاصل ہو رہی ہے۔ دستیاب اسٹاک اور شیڈول ایل این جی کارگو کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے، کھاد کے پلانٹس کے لیے مجموعی گیس کی فراہمی 6 اپریل 2026 سے پچھلے چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 90فیصد تک بڑھا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں کو، بشمول سی جی ڈی نیٹ ورکس کے ذریعے سپلائی، 6 اپریل 2026 سے مزید 10فیصد بڑھائی جائے گی۔
- تمام صنعتی صارفین بشمول یوریا پلانٹس کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اضافی ضروریات فوری طور پر فراہم کریں تاکہ گیس مارکیٹنگ کمپنیز اس کا بندوبست کر سکیں۔
- سی جی ڈی اداروں کو حکومت ہند کی طرف سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تجارتی اداروں جیسے ریستوران، ہوٹل اور کینٹینز کے لیے پی این جی کنکشنز کو ترجیح دیں تاکہ کمرشل ایل پی جی کی دستیابی کے مسائل حل ہوں۔
- سی جی ڈی کمپنیاں جیسے آئی جی ایل، ایم جی ایل، جی اے آئی ایل گیس اور بی پی سی ایل نے گھریلو اور کمرشل پی این جی کنکشنز لینے پر مراعات فراہم کی ہیں۔
- حکومت ہند نے ریاستوں/یوٹیز اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار درخواستوں کی منظوری میں تیزی لائیں۔
- مورخہ18 مارچ 2026 کے گزٹ کے ذریعےحکومت ہند نے تمام ریاستوں/یوٹیز کو اضافی 10فیصد کمرشل ایل پی جی مختص کرنے کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ ایل پی جی سے پی این جی میں طویل مدتی منتقلی میں مدد کریں۔ 12 ریاستیں پی این جی توسیعی اصلاحات کے تحت اضافی کمرشل ایل پی جی حاصل کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک یو ٹی کی درخواست موصول ہوئی ہے اور جانچ کے مراحل میں ہے۔
- پی این جی آر بی نے 23 مارچ 2026 کے آرڈر کے ذریعے تمام سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ رہائشی اسکول، کالجز، ہوسٹلز، کمیونٹی کچنز، آنگن وادی کچنز وغیرہ کو پی این جی کے ذریعے پانچ دن کے اندر منسلک کریں، جہاں قریبی پائپ لائن بنیادی ڈھانچہ دستیاب ہو۔
- سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے 24 مارچ 2026 کے خط میں کہا کہ انہوں نے “سی جی ڈی بنیادی ڈھانچہ کے لیے تیز منظوری فریم ورک کم وقت میں” کو خصوصی اقدام کے طور پر تین ماہ کے لیے اپنایا ہے، جس میں سی جی ڈی انفراسٹرکچر کی درخواستوں کو ترجیحی بنیاد پر پروسیس کیا جائے گا۔
- حکومت ہند نے 24 مارچ 2026 کو گزیٹ کے ذریعے نیچورل گیس اور پیٹرولیم پروڈکٹس ڈسٹریبیوشن ( تھرو لینگ، بلڈنگ، آپریشن اینڈ ایکسپنشن آف پائڈ لائن آف ادر فیسیلٹی) آرڈر، 2026 کو لازمی اشیاء سے متعلق ایکٹ 1955 کے تحت نوٹیفائی کیا ہے۔ یہ آرڈر ملک بھر میں پائپ لائن بچھانے اور توسیع کے لیے وقت سے متعلق اور ہموار فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس سے منظوری اور زمین تک رسائی میں تاخیر کو کم کیا جا سکے اور رہائشی علاقوں میں بھی قدرتی گیس کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سےفروغ حاصل کرسکے۔ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی ترقی تیز ہوگی، ہر کسی تک کنیکٹیویٹی بہتر ہوگی، ماحول کے لیے سازگار ایندھن کی طرف منتقلی کو فروغ ملے گا اور بھارت کی گیس پر مبنی معیشت مضبوط ہوگی۔
- وزارت دفاع نے 27 مارچ 2026 کے خط کے ذریعے 30 جون 2026 تک مختصر مدتی پالیسی ترمیم جاری کی ہے تاکہ دفاعی رہائشی علاقوں/یونٹ لائنز میں پی این جی بنیادی ڈھانچہ کی تنصیب کو تیز کیا جا سکے۔
- پی این جی آر بی نے سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ڈی-پی این جی کنکشنز کی رفتار بڑھائیں۔ نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 ( یکم جنوری2026-31مارچ2026) کو 30 جون 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ پی این جی توسیع میں رفتار برقرار رہے۔
- مارچ 2026 سے اب تک 3.5 لاکھ سے زائد پی این جی کنکشنز کو گیس فراہم کی جا چکی ہے۔ مزید 3.8 لاکھ سے زائد صارفین نئے کنکشنز کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
خام تیل کی صورتحال اور ریفائنری آپریشنز
- تمام ریفائنریز اعلیٰ پیداواری صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور مناسب خام تیل کے ذخائر دستیاب ہیں۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھی کافی ذخائر موجود ہیں۔
- گھریلو صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریفائنریز سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار بڑھا دی گئی ہے۔
خردہ ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق اقدامات
- ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
- مغربی ایشیا جنگ کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کو اس کے اثر سے بچانے کے لیے حکومت ہند نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں فی لٹر 10 روپے کی کمی کر کے اس بوجھ کا ایک حصہ خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
- مزید برآں،حکومت ہند نے ڈیزل پر فی لٹر 21.5 روپے اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف)پر 29.5 روپے برآمدی محصول عائد کیا ہے تاکہ یہ مصنوعات گھریلو مارکیٹ میں دستیاب رہیں۔
- افواہوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں افراتفری میں خریداری کے واقعات دیکھے گئے، جس سے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر غیر معمولی بھیڑ اور ضرورت سےزیادہ فروخت ہوئی، تاہم تمام پٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کے کافی ذخائر موجود ہیں۔
- پیٹرول اور ڈیزل کی انضباطی ریٹیل قیمتیں بغیر تبدیلی کے برقرار ہیں۔
- حکومت نے شہریوں کو دوبارہ مشورہ دیا ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور ریاستی حکومتوں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ پریس بریفنگ کے ذریعے درست معلومات فراہم کریں۔
مٹی کے تیل کی دستیابی اور تقسیم کے اقدامات
- تمام ریاستوں/یوٹیز کو باقاعدہ مختص مقدار کے علاوہ 48,000 کلومیٹر اضافی کیروسین مختص کیا گیا ہے۔
- حکومت ہند نے 29 مارچ 2026 کے گزیٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے پی ڈی ایس ایس کے اوکے تقسیم کو ان ریاستوں/ یوٹیز میں ممکن بنایا ہے جہاں پی ڈی ایس ایس کے او سےآزاد ہے، صرف پکانے اور روشنی کے مقاصد کے لیے:
- ہر ضلع میں زیادہ سے زیادہ دو پی ایس یو او ایم سی سروس اسٹیشن (ترجیحاً کمپنی کے ملکیتی اور چلائے جانے والے) 5,000 لیٹر پی ڈی ایس ایس کے او ذخیرہ کر سکتے ہیں۔
- یہ سروس اسٹیشن ہر ضلع میں ریاستی حکومت یا یو ٹی انتظامیہ کے ذریعہ نامزد کیے جائیں گے۔
- اٹھارہ ریاستوں /یوٹیز نے ایس کے اومختص کے احکامات جاری کیے ہیں۔ مزید برآں، ہماچل پردیش اور لداخ نے اطلاع دی ہے کہ ریاست میں ایس کے اوکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بحری تحفظ اور جہاز رانی کی سرگرمیاں
خطے میں کام کرنے والے بھارتی جہازوں اور ملاحوں کے تحفظ کے لیے بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے ضروری اقدامات کیے ہیں:
- وزارت کی جانب سے جہاز رانی کی سرگرم نگرانی کے تحت شپنگ حرکات، بندرگاہوں کی کارروائی اور بھارتی ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، اور بحری تجارت کی روانی برقرار رکھی جا رہی ہے۔
- خطے میں تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں اور پچھلے 24 گھنٹوں میں بھارتی پرچم بردار جہازوں کے ساتھ کوئی حادثہ رپورٹ نہیں ہوا۔
- ایل پی جی جہاز گرین سانوی نے 46,650 میٹرک ٹن ایل پی جی کارگو لے کر آبنائے ہرمز کو بحفاظت پار کیا، جس پر 25 ملاح سوار تھے۔
-
- کل 17 بھارتی پرچم بردار جہاز، جن پر 460 بھارتی ملاح موجود ہیں، مغربی خلیج فارس کے علاقے میں موجود ہیں؛ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ، شپ مالکان، آر پی ایس ایل ایجنسیز اور بھارتی مشنز کے ساتھ مل کر صورتحال کی سرگرم نگرانی کر رہا ہے۔
- ڈی جی شپنگ کنٹرول روم 24 گھنٹے ساتوں دن فعال ہے اور اب تک 5,015 کالز اور 10,425 ای میلز ہینڈل کی جا چکی ہیں؛ پچھلے 24 گھنٹوں میں 31 کالز اور 129 ای میلز موصول ہوئیں۔
- ڈی جی شپنگ نے اب تک 1,320 سے زائد بھارتی ملاحوں کی محفوظ وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 190 شامل ہیں، جو مختلف ہوائی اڈوں اور خطے کے مقامات سے واپس آئے۔
- بھارت بھر میں بندرگاہی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، کسی قسم کی بھیڑ بھاڑ کی اطلاع نہیں ہے؛ گجرات، مہاراشٹر، گوا، کیرالہ، آندھرا پردیش اور پڈوچیری کے اسٹیٹ میری ٹائم بورڈز نے ہموار کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
- وزارت خارجی امور، بھارتی مشنز اور بحری متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھ کر ملاحوں کی فلاح و بہبود اور بحری آپریشنز کی تسلسل کو یقینی بنا رہی ہے۔
خطے میں بھارتی شہریوں کی سلامتی
پورے خطے میں بھارتی مشنز اور دفاتر بھارتی کمیونٹی کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں، جبکہ ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہدایات اور معاونت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق:
- ایران میں پھنسے ہوئے بھارتی ماہی گیر آج آرمینیا کے راستے واپس بھارت پہنچ رہے ہیں؛ ان کی پرواز آج شام بھارت پہنچنے کی توقع ہے۔
- وزارت خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا کے حالات پر قریبی نگرانی رکھ رہی ہے، اور بھارتی کمیونٹی کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو سب سے اعلیٰ ترجیح دی جا رہی ہے۔
- وزارت میں ایک مخصوص اسپیشل کنٹرول روم فعال ہے؛ ریاستی حکومتوں اور یو ٹیزکے ساتھ ساتھ بھارتی مشنز کے ساتھ باقاعدہ ہم آہنگی برقرار رکھی جا رہی ہے۔
- مشنز اور دفاتر 24 گھنٹے ہیلپ لائنز چلا رہے ہیں، باقاعدہ ہدایات جاری کر رہے ہیں اور بھارتی کمیونٹی ایسوسی ایشنز، کمپنیوں اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
- مشنز ویزا، قونصلر خدمات، پڑوسی ممالک کے راستے ٹرانزٹ کی سہولت اور جہاں ضرور ی ہو لوجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔
- بھارتی طلبہ کی فلاح کو ترجیح دی جا رہی ہے؛ مشنز مقامی حکام، بھارتی اسکولوں، بورڈز اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ساتھ ہم آہنگی کر کے ان کے مسائل حل کر رہے ہیں۔
- مشنز جہازوں پر موجود بھارتی عملے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، قونصلر مدد، فیملی کمیونیکیشن سپورٹ فراہم کر رہے ہیں اور واپسی کی درخواستیں آسان بنا رہے ہیں۔
- پروازوں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے؛ 28 فروری سے تقریباً 6,75,000 مسافر اس خطے سے بھارت پہنچ چکے ہیں۔
Ø یو اے اے:محدود غیر شیڈول پروازیں جاری؛ تقریباً 90 پروازیں بھارت کی جانب متوقع۔
Ø سعودی عرب اور عمان: مختلف ہوائی اڈوں سے بھارت کے لیے پروازیں جاری۔
Ø قطر: ہوائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد آج تقریباً 8–10 پروازیں بھارت کی جانب متوقع۔
Ø کویت اور بحرین: ہوائی حدود بند؛ متعلقہ ایئرلائنز کی پروازیں دمام (سعودی عرب) کے راستے۔
Ø ایران: ہوائی حدود بند ہونے کی وجہ سے آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے سفر ممکن بنایا گیا۔
Ø اسرائیل: مصر اور اردن کے راستے سفر کی سہولت۔
Ø عراق: اردن اور سعودی عرب کے راستے سفر کی سہولت۔
Ø کویت اور بحرین میں بندش کے پیش نظر، سعودی عرب کے راستے سفر کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
- ابوظہبی میں ایک حملے کے دوران پانچ بھارتی شہری زخمی ہوئے؛ چار کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا، ایک زیر علاج ہے۔ مشن مکمل معاونت فراہم کر رہا ہے اور مقامی حکام کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
****
ش ح-ا ع خ ۔ر ا
U-No- 5387
(ریلیز آئی ڈی: 2248994)
وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Assamese
,
Bengali
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam