وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے جھوٹی خبروں کی روک تھام  کے لیے کثیر سطحی نظام نافذ کیا؛ ایف سی یو، آئی ٹی قوانین اور میڈیا کے ضوابط کا مقصد معلومات کی صداقت بہتر بنانا ہے


پی آئی بی کی حقائق کا پتہ لگانے والی یونٹ (ایف سی یو) بروقت اور درست عوامی معلومات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہے

 

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 APR 2026 4:09PM by PIB Delhi

حقائق کا پتہ لگانے والی یونٹ (ایف سی یو)، اطلاعات و نشریات کی وزارت کے تحت پریس انفارمیشن بیورو کے ما تحت کام کرتی ہے۔ ایف سی یو مرکزی حکومت سے متعلق غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کی نشاندہی کرتی ہے۔ مستند ذرائع سے خبروں کی تصدیق کے بعد، ایف سی یو صحیح معلومات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کرتی ہے تاکہ انہیں سرحدی اضلاع سمیت وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچائی جا سکیں۔

آپریشن سندور کے دوران، ایف سی یو نے آن لائن گردش کرتی غلط معلومات اور فرضی خبروں کی فعال طریقہ سے نشاندہی کی۔ اس نے فوری طور پر جھوٹے دعووں کی تصدیق کی، مستند معلومات فراہم کی اور عوام تک درست معلومات کی ترسیل کو یقینی بنایا۔ وزارت نے آپریشن سندور کے دوران 1,400 سے زیادہ یو آر ایل کو ڈیجیٹل میڈیا پر بلاک کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ ان یو آر ایل کے مواد میں جھوٹی، گمراہ کن، بھارت مخالف خبریں، مذہبی  طور پر حساس مواد (زیادہ تر پاکستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے) اور بھارتی مسلح افواج کے خلاف اشتعال انگیز مواد شامل تھا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کی دفعہ69اےکے تحت، حکومت ضروری احکامات جاری کرتی ہے تاکہ ویب سائٹس، سوشل میڈیا ہینڈلز اور پوسٹس کو بھارت کے اقتدار اعلیٰ اور سالمیت، وطن کے دفاع، ملک کی سلامتی اور عوامی نظم و نسق کے مفاد میں بلاک کیا جا سکے۔

مندرجہ بالا امور کے علاوہ، حکومت دستیاب قانونی اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی خبروں کو روکنے کے تمام ممکنہ اقدامات کرتی ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  • پرنٹ میڈیا: اخبارات کو پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کی جانب سے جاری کردہ "صحافتی ضابطہ عمل" کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ یہ ضابطے، دیگر باتوں کے علاوہ، جعلی، بدنام کن یا گمراہ کن خبریں شائع کرنے سے روکتے ہیں۔ کونسل کے پاس ضابطہ عمل کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے کا اختیار ہے (دفعہ 14 کے مطابق) اور یہ اخبارات ، مدیران، صحافیوں وغیرہ کو تنبیہ، ملامت یا سرزنش کر سکتی ہے۔
  • ٹیلی ویژن: ٹی وی چینلز کو کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ضوابط) ایکٹ، 1995 کے تحت پروگرام سے متعلق ضابطوں کی پابندی کرنا ضروری ہے، جو کہ ایسے مواد کی نشریات سے روکتا ہے جس میں فحش، بدنام کن، جان بوجھ کر جھوٹا یا مشکوک اشارات اور ادھورے حقائق شامل ہوں۔ کیبل ٹی وی نیٹ ورک (ترمیمی) ضوابط 2021 کے تحت، ٹی وی چینلز کی جانب سے پروگرام کوڈ کی خلاف ورزی کے شکایات کے لیے تین سطحی شکایتی نظام موجود ہے اور خلاف ورزی پائی جانے پر مناسب کارروائی کی جاتی ہے۔
  • ڈیجیٹل میڈیا: ڈیجیٹل میڈیا پر خبریں اور موجودہ امور شائع کرنے والے ناشرین اور آن لائن کیوریٹڈ مواد کے شائع کرنے والے پبلشرز کے لیے، انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈلائنز اور ڈیجیٹل میڈیا اخلاقیات کوڈ) رولز، 2021 (آئی ٹی رولز, 2021) میں ضابطہ عمل کے ساتھ تین سطحی ادارہ جاتی شکایتی نظام فراہم کیا گیا ہے تاکہ ضابطہ عمل کی خلاف ورزی پر شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔

وزارت اطلاعات و نشریات وقتاً فوقتاً پرائیویٹ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورکس (ضوابط) ایکٹ، 1995 کے تحت پروگرام سے متعلق  اور اشتہارات سے متعلق ضابطوں کی پابندی کے لیے ہدایات جاری کرتی ہے۔

کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنز (سی آر ایس) مستند، بروقت اور مقامی طور پر بشمول سرحدی اضلاع متعلقہ معلومات کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پروگرامز کا مقصد مقامی کمیونٹی کے لیے فوری اہمیت رکھنا چاہیے تاکہ مقامی مسائل کو اجاگر کیا جا سکے اور غلط معلومات کا مؤثر طور پر ازالہ ہو سکے۔ کمیونٹی ریڈیو اسٹیشنز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک ایڈوائزری اور مواد کمیٹی قائم کریں، جس میں مقامی کمیونٹی کے اراکین شامل ہوں، تاکہ کمیونٹی ریڈیو پر نشر ہونے والے مواد کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔

پروگرامز کو ترجیحاً مقامی زبانوں اور بولیوں میں نشر کیا جانا چاہیے تاکہ  مخاطب سامعین تک بہتر پہنچ اور سمجھ بوجھ ممکن ہو۔

یہ معلومات اطلاعات و نشریات  کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایل. مروگن نے لوک سبھا میں جناب اُمید رام بینیوال کے ذریعہ پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں فراہم کیں۔

*************

(ش ح ۔م  ع  ۔اک م (

U. NO. 5318


(ریلیز آئی ڈی: 2248473) وزیٹر کاؤنٹر : 16