پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مغربی ایشیا میں پیش رفت کے تناظر میں اہم شعبوں سے متعلق تازہ معلومات

ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ افواہوں کے تدارک کے لیے پریس بریفنگ کے ذریعے درست معلومات عام کریں

سی جی ڈی اداروں کو ڈی-پی این جی کنکشن کی رفتار بڑھانے کی ہدایت؛ نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 کی مدت 30.06.2026 تک بڑھا دی گئی ہے

مارچ میں 3.1 لاکھ سے زائد کنکشن گیس فراہم کیے گئے؛ 2.7 لاکھ سے زائد نئے کنکشن شامل کیے جا رہے ہیں اور انہیں گیس فراہم کی جا رہی ہے

یکم مارچ 2026 سے روزانہ اوسطاً 50 لاکھ سے زائد گھریلو ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے گئے

تیئیس مارچ سے اب تک مہاجر مزدوروں کو 5 کلو کے 3.2 لاکھ سے زائد ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے؛ کُل 63,000 سے زائد سلنڈر فروخت ہوئے

اب تک 959 سے زائد بھارتی ملاحوں کی محفوظ واپسی ممکن بنائی گئی؛ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9 ملاح واپس آئے

پورے بھارت میں بندرگاہوں کی سرگرمیاں معمول کے مطابق ہیں؛ کسی قسم کی بھیڑ یا رکاوٹ کی اطلاع نہیں ہے

اٹھائیس فروری سے اب تک 5.72 لاکھ سے زائد مسافر بھارت واپس آ چکے ہیں؛ سہولت کاری کی کوششیں جاری ہیں

خطے بھر میں مشن اور سفارتی مراکز چوبیس گھنٹے فعال ہیں اور پورے ہفتے چوبیس گھنٹے ہیلپ لائن فراہم کر رہے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 MAR 2026 2:55PM by PIB Delhi

جیسے جیسے مغربی ایشیا میں پیش رفت جاری ہے، حکومتِ ہند مختلف اہم شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فعال طور پر مربوط اقدامات کر رہی ہے۔ کوششیں بلا تعطل توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے، بحری سرگرمیوں کے تحفظ، اور خطے میں موجود بھارتی شہریوں کو ضروری معاونت فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ ان اقدامات کی موجودہ صورتحال درج ذیل ہے:

 

توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی

 

آبنائے ہرمز کی بندش کے پیشِ نظر ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال درج ذیل ہے:

 

خام تیل/ریفائنریاں

 

· تمام ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور خام تیل کے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھی مناسب ذخائر موجود ہیں۔

· گھریلو کھپت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ریفائنریز سے ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔

 

ریٹیل آؤٹ لیٹ

 

· ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

· مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس اثر سے صارفین کو بچانے کے لیے حکومتِ ہند نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کر کے اس بوجھ کا ایک حصہ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

· اس کے علاوہ، حکومتِ ہند نے ڈیزل پر 21.5 روپے فی لیٹر اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر 29.5 روپے فی لیٹر ایکسپورٹ لیوی عائد کی ہے تاکہ ان مصنوعات کی ملکی مارکیٹ میں دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

· بعض علاقوں میں افواہوں کے باعث گھبراہٹ میں خریداری (پینک بائنگ) کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں، جس کے نتیجے میں فروخت میں غیر معمولی اضافہ اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر زیادہ رش دیکھنے کو ملا ہے۔ تاہم، یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپ پر پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔

· حکومت نے دوبارہ تاکید کی ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کیا جائے۔ افواہوں کی روک تھام کے لیے ریاستی حکومتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ پریس بریفنگ کے ذریعے درست معلومات فراہم کریں۔

 

قدرتی گیس

 

· صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے ڈی-پی این جی اور سی این جی-ٹرانسپورٹ کے لیے 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

· گرڈ سے منسلک صنعتی اور کمرشل صارفین کو ان کی اوسط کھپت کے تقریباً 80 فیصد کے مطابق گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔

· حکومتِ ہند نے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے تمام جغرافیائی علاقوں میں کمرشل اداروں جیسے ریسٹورنٹ، ہوٹل اور کینٹین کے لیے پی این جی کنکشنز کو ترجیح دیں، تاکہ کمرشل ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کو دور کیا جا سکے۔

· یوریا بنانے والے فعال کارخانوں کو گیس کی فراہمی اب گزشتہ 6 ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 70-75 فیصد پر مستحکم ہے۔ فراہمی برقرار رکھنے اور پائپ لائن کے دباؤ (ہائیڈرالکس) کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی ایل این جی کارگوز اور ری-گیسیفائیڈ ایل این جی (آر ایل این جی) بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔

· تمام صنعتی صارفین بشمول کھاد کے کارخانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی اضافی ضرورت فوری بنیاد پر فراہم کریں تاکہ گیس مارکیٹنگ کمپنیاں اس کا بندوبست کر سکیں۔

· سی جی ڈی کمپنیاں جیسے آئی جی ایل، ایم جی ایل، گیل گیس اور بی پی سی ایل نے گھریلو اور کمرشل پی این جی کنکشن لینے کے لیے مراعات پیش کی ہیں۔

· حکومتِ ہند نے ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز کریں۔

· حکومتِ ہند نے 18.03.2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کو کمرشل ایل پی جی کی اضافی 10 فیصد فراہمی کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ طویل مدتی بنیادوں پر ایل پی جی سے پی این جی کی طرف منتقلی میں معاونت کریں۔ اس کے بعد وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس (ایم او پی این جی) کو متعدد ریاستوں سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں جنہوں نے سی جی ڈی نیٹ ورک کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔ اسی کے مطابق بعض ریاستوں کے لیے اضافی فراہمی کی سفارش کی گئی ہے۔

· پی این جی آر بی (پی این جی آر بی) نے اپنے مورخہ 23.03.2026 کے حکم کے ذریعے تمام سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں بھی قریبی علاقے میں پائپ لائن کا انفراسٹرکچر موجود ہو، وہاں رہائشی اسکولوں و کالجوں، ہاسٹل، کمیونٹی کچنز، آنگن واڑی کچنز وغیرہ کو 5 دن کے اندر پی این جی سے منسلک کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں۔

· وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں نے 24.03.2026 کے خط کے ذریعے بتایا ہے کہ انہوں نے 3 ماہ کے لیے ایک خصوصی اقدام کے طور پر ”سی جی ڈی انفراسٹرکچر کے لیے تیز رفتار منظوری کا فریم ورک (کم مدت کے ساتھ)“ اختیار کیا ہے، جس کے تحت سی جی ڈی انفراسٹرکچر سے متعلق درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔

· حکومتِ ہند نے 24.03.2026 کے گزٹ کے ذریعے لازمی اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت ”قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنز اور دیگر سہولیات کی فراہمی، تعمیر، آپریشن اور توسیع کے ذریعے) آرڈر، 2026“ نافذ کیا ہے۔ یہ آرڈر ملک بھر میں پائپ لائن بچھانے اور ان کی توسیع کے لیے ایک سادہ اور وقت کی پابندی پر مبنی فریم ورک فراہم کرتا ہے، منظوریوں میں تاخیر اور زمین تک رسائی کے مسائل کو حل کرتا ہے، اور قدرتی گیس کے انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بناتا ہے، بشمول رہائشی علاقوں میں۔ توقع ہے کہ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی توسیع میں تیزی آئے گی، آخری مرحلے تک رسائی بہتر ہوگی، صاف ایندھن کی جانب منتقلی کو فروغ ملے گا، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنایا جائے گا اور بھارت کی گیس پر مبنی معیشت کو آگے بڑھایا جائے گا۔

· وزارتِ دفاع نے 27.03.2026 کے خط کے ذریعے ایک قلیل مدتی پالیسی ترمیم جاری کی ہے، جو 30 جون 2026 تک مؤثر رہے گی، تاکہ دفاعی رہائشی علاقوں/یونٹ لائنز میں پی این جی انفراسٹرکچر کی تنصیب کو تیز کیا جا سکے۔

· چیئرپرسن پی این جی آر بی نے 30.03.2026 کو ویڈیو کانفرنس منعقد کی اور سی جی ڈی اداروں کو ڈی-پی این جی کنکشنز میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ، نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 (01.01.2026 تا 31.03.2026) کو اب 30.06.2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ پی این جی کی توسیع کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔

· مارچ کے مہینے کے دوران 3.1 لاکھ سے زائد کنکشن، جن میں گھریلو، کمرشل، ہاسٹل، میس، کینٹین وغیرہ شامل ہیں، کو گیس فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ، 2.7 لاکھ سے زائد نئے کنکشن بھی دیے جا چکے ہیں اور انہیں گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

 

ایل پی جی

 

• موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

 

گھریلو ایل پی جی کی فراہمی:

 

• ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز پر گیس ختم ہونے (ڈرائی آؤٹ) کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

• آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ میں اضافہ ہوا ہے اور کل کے اعداد و شمار کے مطابق یہ صنعت کی سطح پر 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

• ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر غیر قانونی منتقلی (ڈائیورژن) کو روکنے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی) پر مبنی ترسیل کو فروری 2026 کے 53 فیصد سے بڑھا کر کل 83 فیصد کر دیا گیا ہے۔

• یکم مارچ 2026 سے سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے روزانہ اوسطاً 50 لاکھ سے زائد گھریلو ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے جا رہے ہیں۔

 

کمرشل ایل پی جی کی فراہمی:

 

• حکومت پہلے ہی صارفین کے لیے کمرشل ایل پی جی کی جزوی فراہمی (20 فیصد) بحال کر چکی تھی۔ اس کے علاوہ، حکومتِ ہند نے 18.03.2026 کے خط کے ذریعے ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کو پی این جی توسیع کے لیے کاروبار میں آسانی کی اصلاحات کی بنیاد پر کمرشل ایل پی جی کی اضافی 10 فیصد فراہمی کی تجویز دی تھی۔

• حکومتِ ہند نے 21.03.2026 کے خط کے ذریعے ریاستوں کو کمرشل ایل پی جی کی مزید 20 فیصد فراہمی کی اجازت دی، جس کے بعد مجموعی فراہمی 50 فیصد (بشمول 10 فیصد اصلاحات پر مبنی) ہو گئی۔ یہ اضافی 20 فیصد فراہمی ترجیحی بنیادوں پر ریسٹورنٹ، ڈھابوں، ہوٹلوں، صنعتی کینٹین، فوڈ پروسیسنگ/ ڈیری، ریاستی حکومت یا مقامی اداروں کے زیر انتظام سبسڈی شدہ کینٹین/ آؤٹ لیٹ، کمیونٹی کچن اور مہاجر مزدوروں کے لیے 5 کلو کے ایف ٹی ایل سلنڈر کو دی جائے گی۔

• حکومتِ ہند نے 27.03.2026 کے خط کے ذریعے کمرشل ایل پی جی کے لیے مزید 20 فیصد فراہمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد کل کمرشل فراہمی بحران سے پہلے کی سطح کے 70 فیصد تک پہنچ جائے گی (بشمول 10 فیصد اصلاحات پر مبنی حصہ)۔ یہ اضافی 20 فیصد فراہمی صنعتوں کو دی جائے گی، جس میں اسٹیل، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، ڈائی، کیمیکل اور پلاسٹک کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ان میں بھی ان پروسیس انڈسٹریز کو ترجیح دی جائے گی یا وہ صنعتیں جنہیں خصوصی حرارتی مقاصد کے لیے ایل پی جی درکار ہو اور جسے قدرتی گیس سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

• 23 مارچ 2026 سے اب تک ملک بھر میں مہاجر مزدوروں کو 5 کلو کے 3.2 لاکھ سے زائد ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے جا چکے ہیں۔

• صرف گزشتہ روز مہاجر مزدوروں کو 63,000 سے زائد 5 کلو کے ایف ٹی ایل سلنڈرز فروخت کیے گئے۔

• زیادہ تر ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں نے حکومتِ ہند کی ہدایات کے مطابق نان ڈومیسٹک ایل پی جی کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ 14 مارچ 2026 سے اب تک ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں میں کمرشل اداروں کے ذریعے مجموعی طور پر 47,928 میٹرک ٹن ایل پی جی اٹھائی جا چکی ہے۔

 

مٹی کا تیل (کیروسین):

 

· تمام ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کو معمول کی فراہمی کے علاوہ 48,000 کلو لیٹر مٹی کے تیل کی اضافی مقدار مختص کی گئی ہے۔

· حکومت ہند نے 29.03.2026 کی گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے پی ڈی ایس ایس کے او سے مستثنیٰ ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں میں صرف کھانا پکانے اور روشنی کے مقاصد کے لیے اس کی تقسیم کی سہولت فراہم کی ہے۔

· ہر ضلع میں زیادہ سے زیادہ دو سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے سروس اسٹیشن (ترجیحاً کمپنی کی ملکیت اور آپریٹڈ) کو 5,000 لیٹر تک پی ڈی ایس ایس کے او ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

· ان سروس اسٹیشنوں کو ہر ضلع میں ریاستی حکومت یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی انتظامیہ نامزد کرے گی۔

· 17 ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں نے ایس کے او کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہماچل پردیش اور لداخ نے اطلاع دی ہے کہ ان کے ہاں ایس کے او کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

 

ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کا کردار

 

· لازمی اشیاء ایکٹ 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر 2000 کے تحت ریاستی حکومتیں ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی کرنے کی مجاز ہیں۔ ریاستی/ مرکز زیر انتظام حکومتوں کو پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیاء کی فراہمی کی صورتحال کی نگرانی اور ضابطہ کاری میں بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت ہند نے متعدد خطوط اور ویڈیو کانفرنسز کے ذریعے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس کی یاد دہانی کرائی ہے۔

· تمام ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز، ایڈیشنل چیف سیکریٹری/ پرنسپل سیکریٹری/ سیکریٹری برائے خوراک و شہری رسد سے درخواست کی گئی ہے کہ:

 

• ریاست/ ضلع کی سطح پر روزانہ پریس بریفنگ کو باقاعدہ بنایا جائے اور عوامی مشورے باقاعدگی سے جاری کیے جائیں۔

• مخصوص کنٹرول رومز اور ہیلپ لائن قائم کی جائیں۔

• سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور غلط معلومات کی فعال نگرانی اور تدارک کیا جائے۔

• ضلعی انتظامیہ کے ذریعے روزانہ نفاذی مہمات کو تیز کیا جائے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے ساتھ مل کر چھاپے اور معائنہ جاری رکھا جائے۔

• اپنی ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں میں کمرشل ایل پی جی کی تقسیم کے احکامات جاری کیے جائیں۔

• ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کو دی گئی اضافی ایس کے او (مٹی کے تیل) کی تقسیم کے احکامات جاری کیے جائیں۔

• سی جی ڈی کی توسیع کو تیز کیا جائے، بشمول رائٹ آف وے/رائٹ آف یو کی منظوریوں اور چوبیس گھنٹے کام کی اجازتوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

• پی این جی کے استعمال اور متبادل ایندھن کو فروغ دیا جائے۔

• وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس (ایم او پی این جی) کے ساتھ رابطے کے لیے سینئر نوڈل افسران نامزد کیے جائیں۔

 

· حکومت ہند نے 27.03.2026 کے خط کے ذریعے ایک بار پھر تمام ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹری سے درخواست کی ہے کہ وہ روزانہ پریس بریفنگ کریں اور سوشل میڈیا/ الیکٹرانک میڈیا پر فعال اپڈیٹس جاری کریں تاکہ درست معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں اور افواہوں کا خاتمہ ہو۔

· اس وقت 16 ریاستیں/ مرکز زیر انتظام علاقے، جن میں آندھرا پردیش، بہار، گجرات، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشہ، راجستھان، تلنگانہ، اتر پردیش، اتراکھنڈ، تمل ناڈو اور اروناچل پردیش شامل ہیں، پریس بریفنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

نفاذی کارروائیاں

 

· ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے کئی ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں میں چھاپے جاری ہیں۔ کل 3000 سے زائد چھاپے مارے گئے اور 500 سے زائد سلنڈرز ضبط کیے گئے۔

· سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اہلکاروں نے بھی کل ملک بھر میں 1200 سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹ اور ایل پی جی ڈسٹری بیوشن پر اچانک معائنے کیے تاکہ ہموار فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی/ بلیک مارکیٹنگ کے کسی بھی کیس کی جانچ کی جا سکے۔

· سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اب تک ایل پی جی ڈسٹری بیوشن کو 540 سے زائد شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔

 

دیگر حکومتی اقدامات

 

· جنگی صورتحال کے باوجود حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے، جبکہ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی اعلیٰ ترجیح دی جا رہی ہے۔

· حکومت پہلے ہی فراہمی اور طلب دونوں پہلوؤں پر کئی اصلاحی اقدامات نافذ کر چکی ہے، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ کا وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا، اور مختلف شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہمی شامل ہے۔

· ایل پی جی کی طلب پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن جیسے مٹی کا تیل (کیرسین) اور کوئلہ فراہم کیے گئے ہیں۔

· وزارت کوئلہ پہلے ہی کول انڈیا اور سنگارینی کولیئریز کو ہدایت جاری کر چکی ہے کہ وہ ریاستوں کو زیادہ مقدار میں کوئلہ فراہم کریں تاکہ اسے چھوٹے، درمیانے اور دیگر صارفین میں تقسیم کیا جا سکے۔

· ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو اور کمرشل صارفین دونوں کے لیے نئے پی این جی کنکشن کی سہولت فراہم کریں۔

 

عوامی ہدایات

 

· حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ پیٹرول، ڈیزل کی گھبراہٹ میں خریداری اور ایل پی جی کی غیر ضروری بکنگ سے گریز کریں۔

· افواہوں سے ہوشیار رہیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔

· ایل پی جی کے لیے شہریوں سے درخواست ہے کہ:

 

• بکنگ کے لیے ڈیجیٹل طریقہ استعمال کریں

• ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں

 

· شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ متبادل ایندھن جیسے پی این جی، انڈکشن/ برقی چولہے وغیرہ استعمال کریں۔

 

· موجودہ صورتحال میں تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ اپنی روزمرہ استعمال میں توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

 

بحری سلامتی اور جہاز رانی کے آپریشن

 

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے مطابق خطے میں کام کرنے والے بھارتی جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق:

 

· بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت جہازوں کی نقل و حرکت، بندرگاہی سرگرمیوں اور بھارتی ملاحوں کی حفاظت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، جبکہ سمندری تجارت کے تسلسل کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

· خطے میں موجود تمام بھارتی ملاح محفوظ ہیں؛ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھارتی پرچم بردار جہازوں سے متعلق کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

· مغربی خلیجِ فارس کے علاقے میں 18 بھارتی پرچم بردار جہاز موجود ہیں جن پر 485 بھارتی ملاح سوار ہیں؛ ڈی جی شپنگ، جہاز مالکان، آر پی ایس ایل ایجنسیوں اور بھارتی مشنز کے ساتھ مل کر صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔

· ڈی جی شپنگ کا کنٹرول روم چوبیس گھنٹے فعال ہے اور اس کے قیام کے بعد سے اب تک 4699 کالز اور 9364 ای میلز موصول ہو چکی ہیں؛ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 144 کالز اور 290 ای میل موصول ہوئیں۔

· ڈی جی شپنگ اب تک 959 سے زائد بھارتی ملاحوں کی محفوظ وطن واپسی میں مدد فراہم کر چکا ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9 ملاح شامل ہیں۔

· پورے بھارت میں بندرگاہی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کہیں بھی رش یا رکاوٹ کی اطلاع نہیں؛ گجرات، مہاراشٹر، گوا، کیرالہ، آندھرا پردیش اور پڈوچیری کے اسٹیٹ میری ٹائم بورڈ نے ہموار آپریشنز کی تصدیق کی ہے۔

· وزارت، وزارتِ خارجہ، بھارتی مشن اور سمندری شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملاحوں کی فلاح و بہبود اور بلا تعطل سمندری سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔

 

خطے میں بھارتی شہریوں کی حفاظت

 

خطے میں موجود بھارتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے، انہیں ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے رہنما ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق:

 

· وزیر اعظم نریندر مودی نے نیدرلینڈ کے وزیر اعظم راب جیٹن سے گفتگو کی اور بھارت-نیدرلینڈ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے سیمی کنڈکٹرز، بڑے آبی منصوبوں، گرین ہائیڈروجن اور ٹیلنٹ موبیلٹی میں تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور جلد امن و استحکام کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

· وزارت خارجہ خلیجی اور مغربی ایشیا کے خطے میں پیش رفت کی قریبی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی برادری کی حفاظت، سلامتی اور فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔

· خصوصی کنٹرول روم مسلسل فعال ہے۔ وزارت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہے تاکہ معلومات کا تبادلہ اور کوششوں میں ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔

· خطے بھر میں بھارتی مشن اور سفارتی مراکز چوبیس گھنٹے فعال ہیں، چوبیس گھنٹے ہیلپ لائن چلا رہے ہیں اور بھارتی برادری، انجمنوں، تنظیموں اور کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ تازہ ترین ہدایات باقاعدگی سے جاری کی جا رہی ہیں۔

· مشن مقامی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ملاحوں، طلبہ اور دیگر بھارتی شہریوں کو ویزا سہولت، قونصلر خدمات اور لاجسٹک معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

· 28 فروری سے اب تک تقریباً 5,72,000 مسافر خطے سے بھارت واپس آ چکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں آج تقریباً 85 پروازوں کے آپریشن کی توقع ہے۔ محدود غیر شیڈولڈ پروازیں آپریشنل اور حفاظتی امور کے مطابق جاری ہیں۔

عمان اور سعودی عرب سے بھارت کے لیے پروازیں جاری ہیں۔

قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد آج تقریباً 8 سے 10 غیر شیڈولڈ کمرشل پروازیں بھارت کے لیے متوقع ہیں۔

کویت اور بحرین کی فضائی حدود بند ہیں۔ سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ سے بھارت کے مختلف مقامات کے لیے خصوصی غیر شیڈولڈ کمرشل پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔

ایران میں فضائی حدود کی بندش کے پیش نظر بھارتی شہریوں کے سفر کو آرمینیا اور آذربائیجان کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

اسرائیل میں فضائی پابندیوں کے باعث بھارتی شہریوں کے سفر کو مصر اور اردن کے ذریعے ممکن بنایا جا رہا ہے۔

عراق میں فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی شہریوں کے سفر کو اردن اور سعودی عرب کے ذریعے سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

                                               **************

 

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                                                            U: 5181

 

 

 

 

 

 

 

                                                          

 

 

 

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2247393) وزیٹر کاؤنٹر : 11