وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم نے مغربی ایشیا کے بحران کےپیش نظر ابھرتی ہوئی صورتحال میں تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی


وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ’ٹیم انڈیا‘کے طور پر مل کر کام کرتے ہوئے ملک اس صورتحال پر کامیابی سے قابو پا لے گا

وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ حکومت کی ترجیح معاشی اور تجارتی استحکام کو برقرار رکھنا، توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانا، شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور صنعت و سپلائی چینز کو مضبوط بنانا ہے

وزیراعظم نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ سپلائی چینز کے ہموار عمل کو یقینی بنائیں اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات کریں

وزیر اعظم کا کھاد کے ذخیرہ اور تقسیم کی نگرانی سمیت زرعی شعبے میں پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور

وزیر اعظم کا بدلتی ہوئی صورتحال پر فوری  ردعمل کےلیے تمام سطحوں پر مضبوط رابطہ کاری کے نظام کی ضرورت پر زور

وزیر اعظم کی جہاز رانی، ضروری اشیاء کی فراہمی اور سمندری سرگرمیوں سے متعلق ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرحدی اور ساحلی ریاستوں پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل

وزیر اعظم نے غلط معلومات کے پھیلاؤ اور افواہوں کے حوالے سے محتاط رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے درست اور مستند معلومات کے فروغ پر زور دیا

وزرائے اعلیٰ نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم کی قیادت میں مرکز کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا

وزرائے اعلیٰ نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی اور ریاستوں کے لیے کمرشل ایل پی جی کی فراہمی میں اضافے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا

وزرائے اعلیٰ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کی ریاستوں میں پٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی مناسب دستیابی کے ساتھ صورتحال مستحکم ہے

وزرائے اعلیٰ نے صورتحال کے مؤثر انتظام کے لیے مرکز کے ساتھ قریبی تال میل کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAR 2026 9:22PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنرز کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے ہندوستان پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم نے تمام وزرائے اعلیٰ کی جانب سے دی گئی قیمتی تجاویز کی ستائش کی اور کہا کہ یہ آراء بدلتی ہوئی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے میں نہایت مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے آئندہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چاق و چوبند، تیاری برقرار رکھنے اور مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نےمغربی ایشیا کی جاری صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو اس نوعیت کی عالمی رکاوٹوں سے نمٹنے کا پیشگی تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے کووڈ-19 وبا کے دوران مشترکہ ردعمل کو یاد کیا، جب مرکز اور ریاستوں نے ’’ٹیم انڈیا‘‘ کے طور پر مل کر سپلائی چینز، تجارت اور روزمرہ  کی زندگی پر اثرات کو کم کرنے کے لیے کام کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا یہی جذبہ موجودہ حالات سے نمٹنے میں  ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حالات مسلسل بدل رہے ہیں، جس کے پیش نظر مسلسل نگرانی اور لچکدار حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3 مارچ سے ایک بین وزارتی گروپ فعال ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور بروقت فیصلے کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی ترجیحات میں معاشی و تجارتی استحکام کو برقرار رکھنا، توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانا، شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور صنعت و سپلائی چینز کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔

وزیراعظم نے ریاستوں کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فیصلوں کا مؤثر نفاذ ریاستی سطح پر ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مسلسل رابطے اور ہم آہنگی، بروقت معلومات کے تبادلے اور مشترکہ فیصلہ سازی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ردعمل تیز اورتال میل پر مبنی ہو۔

وزیراعظم نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ سپلائی چینز کے ہموار عمل کو یقینی بنائیں اور ذخیرہ اندوزی و منافع خوری کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ انہوں نے ریاستی اور ضلعی سطح پر کنٹرول رومز کو فعال کرنے اور رکاوٹوں سے بچاؤ کے لیے انتظامی چوکسی برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے زرعی شعبے میں پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر کھاد کے ذخیرہ اور تقسیم کی نگرانی کے حوالے سے، تاکہ آنے والے خریف موسم میں کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیراعظم نے غلط معلومات اور افواہوں کے پھیلاؤ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بروقت درست اور مستند معلومات کی ترسیل گھبراہٹ سے بچاؤ کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے آن لائن فراڈ اور جعلی ایجنٹوں سے ہوشیار رہنے کی بھی ہدایت دی۔وزیراعظم نے جہاز رانی، ضروری اشیاء کی فراہمی اور سمندری سرگرمیوں سے متعلق ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سرحدی اور ساحلی ریاستوں پر خصوصی توجہ دینے کی بھی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضروری اشیاء کی دستیابی کے بارے میں یقین دہانی شہریوں میں غیر ضروری گھبراہٹ کو روکنے میں مدد گار ہوگی۔ انہوں نے مزید تجویز دی کہ وہ ریاستیں جن کے شہری مغربی ایشیا میں موجود ہیں، ہیلپ لائنز فعال کریں، نوڈل افسران مقرر کریں اور ضلعی سطح پر معاونتی نظام قائم کریں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے اور معلومات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ برسوں میں  ہندوستان کے معاشی اور سپلائی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات موجودہ حالات میں مفید ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے صنعت اور ایم ایس ایم ایز کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی اپیل کی ،تاکہ ان کے مسائل کا حل نکالا جا سکے اور پیداوار و روزگار میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے تمام سطحوں پر مضبوط رابطہ کاری کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں چیف سکریٹریز کی سطح پر باقاعدہ جائزے اور ضلعی سطح پر مسلسل نگرانی شامل ہے، تاکہ بدلتے ہوئےحالات کا مناسب انداز میں سامنا کیا سکے۔

وزیراعظم نے فوری ردعمل کے ساتھ ساتھ طویل مدتی تیاری پر بیک وقت توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ بایو فیولز، شمسی توانائی، گوبردھن اقدام، برقی نقل و حمل کے فروغ اور پائپڈ نیچرل گیس کے کنکشنز کی توسیع کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے ریاستوں کے فعال تعاون کے ساتھ تیل اور قدرتی گیس کی میں تلاش کو بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے اس بات کو دوہرایا کہ اس چیلنج سے نمٹنا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس یقین کا اظہار کیا کہ ’’ٹیم انڈیا‘‘ کے طور پر مل کر کام کرتے ہوئے ملک اس صورتحال پر کامیابی سے قابو پا لے گا۔

اجلاس کے دوران وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت وزیر اعظم کی قیادت میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے اور ایل پی جی کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانے اور پٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی جیسے مثبت اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے امر پر مزید زور دیا کہ جاری صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی حکومت کی جانب سے مشترکہ اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ کابینہ سکریٹری جناب ٹی وی سوماناتھن نے موجودہ صورتحال پر ایک پریزنٹیشن دی اور ریاستوں کے لیے اس صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات اور سفارشات بیان کیے۔

وزرائے اعلیٰ نے وزیراعظم کی قیادت میں مرکز کی جانب سے صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نےاس بحران کے دوران بیرون ملک مقیم  ہندوستانی شہریوں کی فلاح و بہبود کو یقینی کےلیے مختلف ممالک کے ساتھ وزیراعظم کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔

مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ صورتحال مستحکم ہے، پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی وافر دستیابی موجود ہے اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کا نظام قائم ہے۔ انہوں نے ایندھن پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران شہریوں کو خاطر خواہ راحت فراہم کرے گا۔ وزرائے اعلیٰ نے کمرشل ایل پی جی کی فراہمی کو بحران سے قبل کی سطح کے 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد کرنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کیا۔ انہوں نے بدلتی ہوئی صورتحال کے مؤثر انتظام اور شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مرکز کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

***

(ش ح۔م ع ن۔م ش)

Urdu-5097

 


(ریلیز آئی ڈی: 2246790) وزیٹر کاؤنٹر : 8