وزارت دفاع
وزیر دفاع کے زیر صدارت مغربی ایشیا کی صورتحال اور بھارت پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے وزراء کے غیر رسمی گروپ کی پہلی میٹنگ کا انعقاد
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’ درمیانی سے طویل مدتی تیاری کا نقطۂ نظر اپنانے اور فوری فیصلہ سازی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے
وزیراعظم مودی کی قیادت میں حکومت بھارتی عوام کو کسی بھی اثر سے محفوظ رکھنے کے لیے پُرعزم ہے: وزیر دفاع
آئی جی او ایم نے ریاستوں اور ضلع انتظامیہ کے ساتھ قریبی تال میل کی اہمیت کا اعادہ کیا
وزارتوں اور محکموں کو افواہوں، غلط معلومات اور فرضی خبروں کے تدارک کے لیے معلومات شیئر کرنے کی ہدایت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 MAR 2026 9:11PM by PIB Delhi
وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 28 مارچ 2026 کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون-2 میں وزراء کے غیر رسمی گروپ (آئی جی او ایم) کی پہلی میٹنگ کی صدارت کی۔ اس گروپ کا قیام مغربی ایشیا کی ابھرتی ہوئی صورتحال کی نگرانی کرنے اور ان حالات کے پیشِ نظر پیشگی حفاظتی اقدامات کی سفارش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔اس میٹنگ میں خزانہ اور کارپوریٹ امور کی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن، پارلیمانی امور کے وزیر جناب کرن رجیجو، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری، بجلی کے وزیر جناب منوہر لال، کیمیکل اور کھاد کے وزیر جناب جگت پرکاش نڈا، صارفین کے امور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے وزیر جناب پرہلاد جوشی، شہری ہوابازی کے وزیر جناب کنجرپو رام موہن نائیڈو اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکت کی۔

آئی جی او ایم نے ابھرتی ہوئی صورتحال اور بھارت کے مختلف شعبوں پر اس کے اثرات کا مجموعی جائزہ لیا۔ وزیر دفاع نے فعال، مربوط اور مستقبل کے حوالے سے دور اندیشانہ نقطۂ نظر کی ضرورت پر زور دیا اور بدلتے ہوئے منظر نامے کے پیش نظر چوکنا رہنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

میٹنگ کے ایک حصے کے طور پر، سکریٹریوں کے سات بااختیار گروپوں (ای جی او ایس) کی جانب سے پریزنٹیشنز پیش کی گئیں، جن میں منتخب کردہ کلیدی شعبہ جاتی مسائل اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے نافذ کردہ پالیسی اقدامات کی وضاحت کی گئی۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے ای جی او ایس کو صورتحال کی قریبی نگرانی جاری رکھنے، درمیانی سے طویل مدتی تیاری کا طریقۂ کار اپنانے، اعلیٰ سطح کا تال میل برقرار رکھنے اور فوری فیصلہ سازی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام پالیسی کوششیں باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ہونی چاہئیں اور انہیں مقررہ وقت کے اندر نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام متعلقہ وزراء سے تعمیری تجاویز بھی طلب کیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بھارت مستحکم اور باخبر رہے۔

آئی جی او ایم نے ریاستوں اور ضلع انتظامیہ کے ساتھ قریبی تال میل اور اہم پالیسی اقدامات کی عوام تک بروقت ترسیل کی اہمیت پر از سر نو زور دیا۔ مختلف صنعتوں پر صورتحال کے اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی کہ تمام وزارتیں اور محکمے جاری صورتحال سے متعلق متعلقہ معلومات، پیش رفت اور ایڈوائزریز کو ایم آئی بی کے واٹس ایپ چینل کے ذریعے شیئر کریں تاکہ شہریوں تک درست معلومات کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے اور افواہوں، غلط معلومات اور فرضی خبروں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔

میٹنگ کے بعد ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت بھارتی عوام کو تنازع کے کسی بھی اثر سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
https://x.com/rajnathsingh/status/2037880943470313683?s=48
******
ش ح۔ک ح۔ ش ا
U. No. 5101
(ریلیز آئی ڈی: 2246782)
وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں:
Khasi
,
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Gujarati
,
Odia
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam