وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

اتر پردیش میں نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے پہلے مرحلے کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAR 2026 2:47PM by PIB Delhi

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

بھارت ماتا کی جے۔

 افتتاح ہو گیا؟ کیا افتتاح ہو گیا؟ نہیں، ابھی آدھا کام ہوا ہے۔ میں نے صرف پردہ ہٹایا ہے، لیکن آج میں چاہتا ہوں کہ اس ہوائی اڈّہ کا افتتاح یہاں موجود آپ سب کریں۔ اس لیے آپ اپنا موبائل فون نکالیے، اس کی فلیش لائٹ آن کیجیے، اور آپ ہی اس کا افتتاح کریں۔ آپ دیا جلا کر یہاں موجود ہر فرد آج اس ہوائی اڈّہ کا افتتاح کر رہا ہے۔ یہ آپ کی امانت ہے، یہ آپ کا مستقبل ہے، یہ آپ کی محنت کا نتیجہ ہے، اور اسی لیے اس کا افتتاح بھی آپ کے ہاتھوں سے ہو رہا ہے۔آپ سب "بھارت ماتا کی جے" کے نعرے لگاتے ہوئے ہاتھ اوپر اٹھائیں اور فلیش لائٹ دکھائیں۔بھارت ماتا کی جے۔ بھارت ماتا کی جے۔ بھارت ماتا کی جے۔بہت بہت شکریہ، اب افتتاح مکمل ہو گیا ہے۔

اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، یہاں کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی رام موہن نائیڈو جی، پنکج چودھری جی، جیورک ہوائی اڈّہ کے چیئرمین جوزف فیلڈر، دیگر وزراء، اراکینِ پارلیمنٹ، اراکینِ اسمبلی، معزز مہمانان اور میرے پیارے بھائیو اور بہنو

میں دیکھ رہا ہوں کہ آج جہاں بھی میری نظر جا رہی ہے، مجھے نوجوان ہی نوجوان نظر آ رہے ہیں—جوش اور جذبے سے بھرپور نوجوان۔ کیونکہ ان نوجوانوں کو معلوم ہے کہ یہ جو کام ہو رہا ہے، یہ ان کے مستقبل کو نئی پرواز دینے والا ہے۔ آج ہم "وکست یوپی، وکست بھارت ابھیان" کا ایک نیا باب شروع کر رہے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست آج ان ریاستوں میں شامل ہو گئی ہے جہاں سب سے زیادہ بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں۔میرے لیے آج فخر اور خوشی کے دو مواقع ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سب نے مجھے اس ہوائی اڈّہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کا موقع دیا تھا اور آج اس کا افتتاح کرنے کا اعزاز بھی دیا، لیکن میں نے اس اعزاز کو آپ کے ساتھ بانٹ دیا اور آپ کے ہاتھوں سے افتتاح کروایا۔ دوسرا یہ کہ جس اتر پردیش نے مجھے اپنا نمائندہ منتخب کیا، مجھے رکنِ پارلیمنٹ بنایا، اسی ریاست کی شناخت اب اس عظیم ہوائی اڈّہ کے ساتھ جڑ گئی ہے۔

ساتھیو،

نوئیڈا کا یہ ہوائی اڈّہ آگرہ، متھرا، علی گڑھ، غازی آباد، میرٹھ، اٹاوہ، بلند شہر اور فرید آباد سمیت پورے علاقے کو بڑا فائدہ پہنچائے گا۔ اس سے نہ صرف بھارت بلکہ اتر پردیش کو بھی فائدہ ہوگا۔ یہ ہوائی اڈّہ مغربی اتر پردیش کے کسانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع لے کر آئے گا۔ یہاں سے دنیا بھر کے لیے پروازیں روانہ ہوں گی اور یہ ترقی یافتہ اتر پردیش کی پرواز کی علامت بنے گا۔میں اتر پردیش، خاص طور پر مغربی اتر پردیش کے لوگوں کو اس شاندار ہوائی اڈّہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

آج کا یہ پروگرام بھارت کے نئے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج پوری دنیا کس قدر فکرمند ہے۔ مغربی ایشیا میں ایک ماہ سے جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک میں خوراک، پیٹرول، ڈیزل، گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ہر ملک اس بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، اور ہمارا بھارت بھی پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کر رہا ہے۔بھارت بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس اسی خطے سے درآمد کرتا رہا ہے، اس لیے حکومت ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے تاکہ اس بحران کا بوجھ عام لوگوں اور کسانوں پر نہ پڑے۔

ساتھیو،

اس مشکل وقت میں بھی بھارت نے اپنی تیز رفتار ترقی کو جاری رکھا ہے۔ اگر صرف مغربی اتر پردیش کی بات کریں تو پچھلے چند ہفتوں میں یہ چوتھا بڑا منصوبہ ہے جس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا یا افتتاح ہوا ہے۔ ان دنوں میں نوئیڈا میں ایک بڑی سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، دلّی-میرٹھ نمو بھارت ٹرین نے رفتار پکڑی، میرٹھ میٹرو کو وسعت دی گئی، اوراتنے کم وقت میں آج نوئیڈا انٹرنیشنل ہوائی اڈّہ کا افتتاح بھی آپ سب کے ہاتھوں سے ہو گیا۔

ساتھیو،

یہ تمام منصوبے اتر پردیش کی ترقی کے لیے "ڈبل انجن حکومت" کی کوششوں کی بہترین مثال ہیں۔ سیمی کنڈکٹر فیکٹری بھارت کو ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا رہی ہے۔ میرٹھ میٹرو اور نمو بھارت ریل تیز اور جدید رابطہ فراہم کر رہی ہیں، اور جیور ہوائی اڈہ  پورے شمالی بھارت کو دنیا سے جوڑ رہا ہے۔آپ نے ویڈیو میں دیکھا ہوگا کہ یہ ایسا ہوائی اڈّہ  بن رہا ہے جہاں ہر دو منٹ میں ایک جہاز پرواز بھرے گا۔ پہلے سپا والوں نے نوئیڈا کو اپنی لوٹ کا اے ٹی ایم بنالیا تھا لیکن آج بی جے پی سرکار میں وہی نوئیڈا یوپی کی ترقی کا مضبوط انجن بن رہا ہے۔

ساتھیو،

جیور ایئرپورٹ، ڈبل انجن حکومت کے کام کرنے کے انداز کی بھی ایک بہترین مثال ہے۔ اب آپ سوچیں، اس ایئرپورٹ کو اٹل  بہاری واجپئی کی حکومت نے 2003 میں ہی فائل میں منظوری دے دی تھی۔ 2003 میں، آپ میں سے بہت سے لوگ شاید پیدا نہیں ہوئے تھے، کچھ 25-30 یا 35 سال کے تھے اور آج ریٹائر بھی ہو گئے ہیں، لیکن ایئرپورٹ نہیں بنا۔ لیکن مرکز میں کانگریس اور یہاں کی سابقہ حکومتوں نے برسوں تک اس ایئرپورٹ کی بنیاد تک نہیں رکھی۔ 2004 سے 2014 تک یہ ایئرپورٹ صرف فائلوں میں دبا رہا۔ جب ہماری حکومت بنی تو اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی  کی حکومت تھی۔ شروع کے دو-تین سالوں میں سماجوادی پارٹی والوں نے اس پر کام نہیں ہونے دیا۔ لیکن جیسے ہی یہاں بی جے پی- این ڈی اے کی حکومت بنی، دہلی میں بھی بی جے پی- این ڈی اے کی حکومت بنی، تو جیور ایئرپورٹ کی بنیاد رکھی گئی، تعمیر شروع ہوئی اور اب یہ فعال بھی ہو گیا ہے۔

ساتھیو،

ایئرپورٹ کے علاوہ یہ خطہ ملک کے دو بڑے فریٹ کوریڈورز کا بھی مرکز  بنتا جا رہا ہے۔ یہ فریٹ کوریڈور مال گاڑیوں کے لیے بچھائی گئی خصوصی پٹریاں ہیں۔ اس سے شمالی بھارت کی بنگال اور گجرات کے سمندر سے کنیکٹیویٹی بہتر ہو گئی ہے۔ اوردادری  وہ مقام ہے جہاں یہ دونوں کوریڈورز آپس میں ملتے ہیں۔ یعنی یہاں کسان جو اُگاتے ہیں، یہاں صنعت جو کچھ بناتی ہے، وہ زمین اور ہوائی راستے سے دنیا کے کونے کونے تک تیزی سے پہنچ سکے گا۔ اس طرح کی ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی کی وجہ سے، اتر پردیش دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے بہت بڑاپر کشش مقام  بن رہا ہے۔

ساتھیو،

جس نوئیڈا کو پہلے اندھ وشواس  کے باعث اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا تھا، کرسی جانے کے ڈر سے سابق حکمران یہاں آنے سے ڈرتے تھے۔ مجھے یاد ہے یہاں کی سماجوادی پارٹی  کی حکومت تھی اور جب میں نے نوئیڈا آنے کا پروگرام بنایا، تو وزیراعلیٰ اتنے ڈرے ہوئے تھے کہ وہ اس پروگرام میں نہیں آئے، اور مجھے بھی ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ "نوئیڈا مت جاؤ، مودی جی، ابھی ابھی وزیراعظم بنے ہو"۔ میں نے کہا کہ میں اس دھرتی  کا آشیرواد لینے جا رہا ہوں، جو مجھے طویل عرصے تک خدمت کرنے کا موقع دے گا۔ اب وہی علاقہ پوری دنیا کے استقبال کے لیے تیار ہے۔ یہ پورا خطہ، آتم  نربھر بھارت کے عزم کو مضبوط کر رہا ہے۔

ساتھیو،

اس خطے کی معیشت میں زراعت اور کاشتکاری کی بہت اہمیت ہے۔ میں آج اپنے کسان بھائی بہنوں کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے اس پروجیکٹ کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی زمینیں دی ہیں۔ ان کسانوں کے لیے زور دار تالیاں بجایئے دوستوں، میرے کسان بھائی بہنوں کے لیے زور دار تالیاں بجایئے۔ میرے کسان بھائی بہن، آپ کے اس تعاون سے ہی اس پورے خطے میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ جدید کنیکٹیویٹی کی جو توسیع یہاں ہو رہی ہے، اس سے مغربی اتر پردیش میں فوڈ پروسیسنگ کے امکانات  کو اور قوت ملے گی۔ اب یہاں کے زرعی مصنوعات دنیا کی بازاروں میں بہتر طریقے سے پہنچ سکیں گی۔

ساتھیو،

میں یہاں اپنے کسان ساتھیوں کا ایک اور پہلو کے لیے بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے گنے سے جو ایتھانول بنایا گیا ہے، اس سے خام تیل پر ملک کا انحصار کم ہوا ہے۔ اگر ایتھانول کی پیداوار نہ بڑھتی، پیٹرول میں اس کی آمیزش نہ ہوتی ، تو ملک کو ہر سال ساڑھے چار کروڑ بیرل، یعنی تقریباً 700 کروڑ لیٹر خام تیل بیرون ملک سے منگوانا پڑتا۔ کسانوں کی محنت نے ملک کو اس بحران کے وقت میں اتنی بڑی راحت دی ہے۔

ساتھیو،

ایتھانول سے ملک کو تو فائدہ ہوا ہی ہے، کسانوں کو بھی بہت بڑا فائدہ ہوا ہے۔ اس سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کی غیر ملکی کرنسی بچی ہے۔ یعنی اگر ایتھانول نہ بنتا تو یہ پیسہ بیرون ملک جاتا۔ گزشتہ برسوں میں اتنی ساری رقم ملک کے کسانوں، گنے کے کسانوں کو ملی ہے۔

ساتھیو،

یہاں کے گنے کے کسانوں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب کئی کئی سالوں تک گنے کا بقایا لٹکا رہتا تھا۔ لیکن آج بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت کی کوششوں سے گنے کے کسانوں کی حالت بہتر ہوئی ہے۔

ساتھیو،

کسی بھی ملک میں ایئرپورٹ صرف ایک عام سہولت نہیں ہوتا۔ یہ ہوائی اڈّے  ترقی کو بھی پرواز دیتے ہیں۔ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 74 ہوائی اڈّے تھے۔ آج ملک میں 160 سے زیادہ ہوائی اڈّے ہیں۔ اب بڑے شہروں کے علاوہ، ملک کے چھوٹے اور درمیانے شہروں میں بھی ہوائی رابطہ پہنچ رہا ہے۔ پہلے جو حکومتیں تھیں، وہ یہ مانتی تھیں کہ ہوائی سفر صرف امیروں کے لیے ہونا چاہیے۔ لیکن بی جے پی حکومت نے عام بھارتی شہریوں کے لیے ہوائی سفر آسان بنا دیا ہے۔ ہماری حکومت نے اتر پردیش میں ہوائی اڈوں کے نیٹ ورک کا تیزی سے پھیلاؤ کرتے ہوئے ان کی تعداد سترہ تک بڑھا دی ہے۔

ساتھیو،

بی جے پی حکومت کی مستقل کوشش رہی ہے کہ ہوائی اڈّے بھی بنیں اور کرایہ بھی عام کنبوں کی پہنچ میں رہے۔ اسی لیے ہم نے اڑان  اسکیم شروع کی تھی۔ اس اسکیم کے سبب، پچھلے چند سالوں میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ شہریوں نے اس کے تحت سستے کرایے پر ہوائی سفر کیا ہے۔ اور میں آپ کو ایک اور معلومات دینا چاہتا ہوں۔ حال ہی میں مرکزی حکومت نے اس اسکیم کو مزید وسعت دی ہے۔ اس کے لیے تقریباً 29 ہزار کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ آنے والے سالوں میں اس کے تحت چھوٹے شہروں میں 100 نئے ہوائی اڈّے اور 200 نئے ہیلی پیڈ بنانے کی منصوبہ بندی ہے۔ اتر پردیش کو بھی اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

ساتھیو،

بھارت کا شہری ہوا بازی کا شعبہ  بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ جیسے جیسے بھارت میں نئے ہوائی اڈّے بن رہے ہیں، ویسے ویسے نئے ہوائی جہازوں کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی لیے ملک کی مختلف ایئرلائنز نے سینکڑوں نئے جہازوں کے آرڈر دیے ہیں۔ یہ جو نئی سہولیات ہیں، نئے جہاز آ رہے ہیں، ان کو اُڑانے والے، ان میں سروس دینے والے، رکھ رکھاؤ سے وابستہ افراد ، ہر کام کے لیے بہت بڑی تعداد میں  افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔ یہ نوجوانوں کے لیے بہت بڑا موقع ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت شہری ہوا بازی کے شعبے میں تربیتی سہولیات کا بھی وسعت دے رہی ہے۔

ساتھیو،

جب آپ اپنی کوئی گاڑی خریدتے ہیں، تو آپ یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ اس گاڑی بنانے والی کمپنی کا سروس سینٹر آس پاس ہے یا نہیں۔ آپ جان کر حیران ہوں گے کہ ہمارے ملک میں ہوائی جہازوں کی سروسنگ، یعنی ان کے رکھ رکھاؤ، ریپیر اینڈ اوور ہال (ایم آر او) کے مکمل انتظامات نہیں تھے۔ بھارت کے 85 فیصد ہوائی جہاز آج بھی ایم آر او کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔ اسی لیے ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایم آر او سیکٹر میں بھی بھارت کو خودمختار بنایا جائے۔ اب بھارت میں ہی بڑے پیمانے پر ایم آر او سہولیات تیار کی جا رہی ہیں۔ آج یہاں جیور  میں بھی ایم آر او سہولت کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ یہ سہولت جب مکمل ہو جائے گی، تو ملک اور بیرون ملک کے ہوائی جہازوں کو خدمات فراہم کرے  گی۔ اس سے ملک کو آمدنی ہوگی، ہمارا پیسہ ملک میں رہے گا، اور نوجوانوں کو متعدد روزگار کے مواقع ملیں گے۔

ساتھیو،

آج ہماری حکومت کی اولین ترجیح ملک کے شہریوں کی سہولت ہے۔ ملک کے شہری کا وقت بچے اور اس کی جیب پر زیادہ بوجھ نہ پڑے، یہ ہمارا مقصد ہے۔ اسی جذبے کے تحت میٹرو اور وندے بھارت جیسی جدید ریلوے خدمات کو وسعت دی جارہی ہے۔ دلّی-میرٹھ نموبھارت ریل کا کتنا فائدہ ہو رہا ہے، یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ اب تک نموبھارت سے ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ سفر کر چکے ہیں۔ دلّی-میرٹھ کے اس سفر میں جو پہلے کئی گھنٹے لگتے تھے، اب وہ سفر منٹوں میں مکمل ہو رہا ہے۔

ساتھیو،

ہماری حکومت ترقی یافتہ بھارت کے جدید بنیادی ڈھانچہ پر بے مثال سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ پچھلے 11 سالوں میں بنیادی ڈھانچہ کے بجٹ کو چھ گنا سے زیادہ بڑھایا گیا ہے۔ ان سالوں میں 17 لاکھ کروڑ روپے ہائی ویز اور ایکسپریس ویز پر خرچ کیے گئے، ایک لاکھ کلومیٹر سے زیادہ شاہراہیں  تعمیر کی گئی۔ 2014 تک ریلوے میں صرف 20 ہزار کلومیٹر روٹ کا بجلی کاری ہوئی تھی، جبکہ 2014 کے بعد سے 40 ہزار کلومیٹر سے زیادہ ریلوے ٹریک کا بجلی کاری کی گئی۔ آج براڈگیج نیٹ ورک کی تقریباً 100 فیصد بجلی کاری مکمل ہو چکی ہے۔ آج کشمیر وادی ہو یا شمال مشرق کے دارالحکومت، یہ پہلی بار ریلوے نیٹ ورک سے جڑ رہے ہیں۔ بندرگاہوں کی صلاحیت گزشتہ دہائی میں دوگنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ملک میں دریائی راستوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ترقی یافتہ بھارت کے قیام کے لیے ضروری ہر شعبے میں بھارت تیزی سے کام کر رہا ہے۔

ساتھیو،

ترقی یافتہ بھارت بنانے کے لیے سب کا تعاون بہت ضروری ہے۔ یہ لازمی ہے کہ 140 کروڑ شہری سخت محنت کریں اور عالمی بحرانوں کا متحدہوکر سامنا کریں۔ ابھی جو جنگ چل رہی ہے، اس سے پیدا ہونے والے بحران کا سامنا کیسے کرنا ہے، اس کے بارے میں میں نے پارلیمنٹ میں بھی تفصیل سے بتایا ہے۔ میری کل ملک کے تمام وزیراعلیٰ حضرات سے بھی لمبی اور مثبت بات چیت ہوئی۔میں آج دوبارہ آپ سب عوام سے کہوں گا، ملک کے شہریوں سے کہوں گا کہ ہمیں پرسکون دماغ، صبر اور یکجہتی کے ساتھ مل کر اس بحران کا سامنا کرنا ہے۔ یہ عالمی سطح پر پریشانی پیدا کرنے والا بحران ہے، لیکن ہمیں اپنے ملک کی سب سے زیادہ فکر کرنی ہے۔ یہی ہم بھارتیوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔میں اتر پردیش اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے بھی مؤدبانہ درخواست کرتا ہوں کہ ایسے بحران کے دوران ایسی باتوں سے گریز کریں جو ملک کے لیے نقصان دہ ہوں۔ جو بھارت کے عوام کے حق میں ہے، جو بھارت کے مفاد میں ہے، وہی بھارت حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی ہے۔ سیاست کے لیے غلط بیانات دینے والے شاید سیاسی بحث میں کچھ نمبر حاصل کر لیں، لیکن ملک کو نقصان پہنچانے والی حرکتوں کو عوام کبھی معاف نہیں کرتے۔ کورونا کے بڑے بحران کے دوران بھی کچھ لوگوں نے افواہیں پھیلائیں، ویکسین کے بارے میں جھوٹ بولا تاکہ حکومت کا کام مشکل ہو اور ملک کو نقصان پہنچے۔ نتیجہ کیا ہوا؟ عوام نے انتخابات کے دوران ایسی سیاست کو رد کر دیا۔مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس سے سبق سیکھیں گی اور ملک کے جامع اقدامات کو وہ طاقت دیں گی۔ اسی درخواست کے ساتھ ایک بار پھر اتر پردیش کو اس شاندار ایئرپورٹ کے لیے بہت بہت مبارکباد۔

میرے ساتھ بولیے

بھارت ماتا کی جے!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

وندے ماترم!

بہت بہت شکریہ۔

*****

ش ح-ا ع خ   ۔ر  ا

U-No- 5067


(ریلیز آئی ڈی: 2246497) وزیٹر کاؤنٹر : 6