وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

پریس سیوا پورٹل کے ذریعے تمام پریس رجسٹریشن خدمات اب آن لائن؛ ڈیڑھ لاکھ سے زائد جرائد کے ریکارڈ ڈیجیٹلائز


پریس سیوا پورٹل سے 780 اضلاع منسلک؛ 5 کروڑ روپے سے زائد جرمانے عائد اور 88,315 اشاعتیں منسوخ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAR 2026 5:59PM by PIB Delhi

پریس اور رجسٹریشن آف پیریاڈیکلز (پی آر پی) ایکٹ، 2023 کے مطابق تمام جرائد کی رجسٹریشن سے متعلق درخواستیں اب پریس سیوا پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر کارروائی کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ اس کے تحت پریس اینڈ رجسٹریشن آف بکس (پی آر بی) ایکٹ، 1867 (جو اب منسوخ ہو چکا ہے) کے تحت تیار کیے گئے اخبارات کی رجسٹریشن کے تمام جسمانی ریکارڈ (ڈیڑھ لاکھ سے زائد) کو ڈیجیٹلائز کر کے پریس سیوا پورٹل کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

فی الحال نئے جرائد کی رجسٹریشن، موجودہ جرائد کی رجسٹریشن میں ترمیم، ملکیت کی منتقلی، سالانہ بیان داخل کرنا، آن لائن جرمانہ ادا کرنا اور جرائد کی سرکولیشن کی تصدیق جیسی خدمات پریس سیوا پورٹل کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ ایکٹ کے نفاذ کے حصے کے طور پر 780 اضلاع کے نامزد حکام کو بھی پریس سیوا پورٹل سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ یکم مارچ 2024 سے اب تک 11,081 درخواستوں پر کارروائی کی جا چکی ہے اور متعلقہ زمروں کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔

پریس سیوا پورٹل کے ذریعے عائد اور ادا کیے گئے جرمانوں کی تفصیلی فہرست ضمیمہ-1 میں جبکہ منسوخ کیے گئے جرائد کی ریاست وار تفصیل ضمیمہ-2 میں شامل ہے۔ حکومت اپنی مختلف اسکیموں اور اقدامات کے اثرات کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہے۔ پریس رجسٹرار جنرل آف انڈیا (پی آر جی آئی) پورٹل کے ذریعے بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے مسلسل فیڈبیک حاصل کر کے ضروری اقدامات کرتا رہتا ہے۔

رجسٹرڈ اخبارات اور جرائد کی فہرست پی آر جی آئی کی ویب سائٹ https://prgi.gov.in/ پر "ہماری خدمات"  (اوور سروس) کے تحت " رجسٹرڈ ٹائٹلز " ٹیب میں دستیاب ہے۔

یہ معلومات آج لوک سبھا میں ڈاکٹر ایل۔ مروگن، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور نے جناب دامودر اگروال کے سوال کے تحریری جواب میں پیش کی۔

منسلک-1 جیسا کہ 'پریس سیوا پورٹل' کے حوالے سے لوک سبھا کے غیر ستارہ نشان والے سوال نمبر 3028 کے جواب میں ذکر کیا گیا ہے، جس کا جواب 11.03.2026 کو دیا جانا ہے۔

27.02.2026 تک پریس سیوا پورٹل کے ذریعے عائد کردہ اور ادا کردہ جرمانے کی تفصیلات:

نمبر شمار

اشاعت ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

جرمانے کی کل وصول شدہ رقم (روپے)

1

کرناٹک

52,74,000

2

اوڈیشہ

9,20,000

3

تمل ناڈو

44,17,000

4

ہریانہ

4,72,000

5

مہاراشٹر

99,60,000

6

مغربی بنگال

13,87,000

7

دہلی

37,92,000

8

گجرات

37,59,000

9

اتر پردیش

44,08,000

10

آندھرا پردیش

30,72,000

11

چھتیس گڑھ

8,44,000

12

مدھیہ پردیش

82,84,000

13

کیرالہ

17,39,000

14

تلنگانہ

12,61,000

15

پنجاب

8,33,000

16

جموں و کشمیر

6,63,000

17

راجستھان

26,77,000

18

اتراکھنڈ

8,68,000

19

جھارکھنڈ

2,02,000

20

بہار

5,09,000

21

ہماچل پردیش

1,12,000

22

تریپورہ

1,42,000

23

چندی گڑھ

1,50,000

24

انڈمان اور نکوبار جزائر

18,000

25

آسام

2,55,000

26

ناگالینڈ

9,000

27

سکم

1,59,000

28

گوا

33,000

29

میزورم

50,000

30

پڈوچیری

45,000

31

منی پور

51,000

32

دادرہ اور نگر حویلی

9,000

33

میگھالیہ

9,000

34

اروناچل پردیش

0

 

کل میزان

5,63,83,000

 

ضمیمہ-2 جیسا کہ 'پریس سیوا پورٹل' کے حوالے سے لوک سبھا کے غیر ستارہ نشان والے سوال نمبر 3028 کے جواب میں ذکر کیا گیا ہے، جس کا جواب 11.03.2026 کو دیا جانا ہے۔

ریاست وار منسوخ شدہ اشاعتوں کی تعداد کی تفصیلات:

نمبر شمار

اشاعت ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

منسوخی کا شمار

1

انڈمان اور نکوبار جزائر

69

2

آندھرا پردیش

2485

3

اروناچل پردیش

12

4

آسام

612

5

بہار

1703

6

چندی گڑھ

534

7

چھتیس گڑھ

817

8

دادرہ اور نگر حویلی

5

9

دہلی

11920

10

گوا

131

11

گجرات

3539

12

ہریانہ

1854

13

ہماچل پردیش

289

14

جموں و کشمیر

582

15

جھارکھنڈ

325

16

کرناٹک

5059

17

کیرالہ

3541

18

لکشدیپ

7

19

مدھیہ پردیش

4806

20

مہاراشٹر

12403

21

منی پور

226

22

میگھالیہ

87

23

میزورم

163

24

ناگالینڈ

17

25

اوڈیشہ

1723

26

پڈوچیری

125

27

پنجاب

2481

28

راجستھان

4851

29

سکم

51

30

تمل ناڈو

6443

31

تلنگانہ

1962

32

تریپورہ

88

33

اتر پردیش

11987

34

اتراکھنڈ

1096

35

مغربی بنگال

6322

 

میزان

88,315

 

************

 

ش ح ۔    ا م  ۔  م  ص

(U :3729    )


(ریلیز آئی ڈی: 2238519) وزیٹر کاؤنٹر : 7