صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ ہند نے پی ڈی ہندوجا ہسپتال کی مہم’زندگیوں کو بچانا اور ایک صحت مند بھارت کی تعمیر‘کا آغاز کیا


شہریوں کی صحت ایک اجتماعی ذمہ داری ہے؛ تمام تر متعلقہ فریقوں کو مل کر کام  کرنا ہوگا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ غریب سے غریب تر کو بروقت اور مناسب طبی نگہداشت حاصل ہو: صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 FEB 2026 6:33PM by PIB Delhi

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (24 فروری 2026 کو)ممبئی کے لوک بھون میں ایک ملک گیر مہم ’زندگیوں کو بچانا اور ایک صحت مند بھارت کی تعمیر‘ کا آغاز کیا جس کا اہتمام پی ڈی ہندوجا ہسپتال کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PR124022026HH6R.JPG

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت ہند نے گذشتہ دہائی کے دوران اس امر کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں کہ تمام شہری صحت مند رہیں اور انہیں معیاری حفظانِ صحت سہولتوں تک رسائی حاصل ہو۔ 180,000 سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر پورے ملک میں حفظانِ صحت خدمات فراہم کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ انشورنس اسکیم، آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت، تقریباً 12 کروڑ خاندانوں کو ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے فی کنبہ 5 لاکھ روپے کا ہیلتھ کوریج ملتا ہے۔ مشن اندر دھنش، ٹی بی فری انڈیا مہم، اور سکل سیل انیمیا کے خاتمے کے مشن جیسے قومی پروگرام شہریوں کو بیماریوں سے بچانے میں تعاون کر رہے ہیں۔ معیاری ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل پیشہ واران کی دستیابی میں اضافے کے لیے ایم بی بی ایس اور پوسٹ گریجویٹ نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ معیاری حفظانِ صحت تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کئی ریاستوں میں نئے ایمس اور میڈیکل کالج قائم کیے گئے ہیں۔ ان کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ تاہم، ایک صحت مند ہندوستان کی تعمیر میں، حکومت کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز کا کردار اہم ہے۔ معیاری حفظانِ صحت ہر شہری تک پہنچے، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ "زندگی بچانا اور ایک صحت مند ہندوستان کی تعمیر" مہم اس سمت میں ایک ایسی ہی کوشش ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PR224022026DPL0.JPG

صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ کسی کی جان بچانا سب سے بڑا فلاحی کام ہے۔ جان بچانے کے لیے ہنگامی طبی نگہداشت تک رسائی بہت ضروری ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صحیح وقت پر مناسب طبی نگہداشت فراہم کرنے سے زیادہ تر زندگیاں بچ سکتی ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فوری طبی امداد کی کمی کی وجہ سے کسی کی جان نہ جائے، پی ایم ریلیف اسکیم حادثے کے متاثرین کو 1.5 لاکھ روپے تک غیر نقدی علاج فراہم کرتی ہے۔ ایمبولینسوں  اور ٹراما سینٹرز کے ساتھ ساتھ، سنگین حادثات اور طبی ہنگامی حالات میں جان بچانے کے لیے آگاہی بھی بہت ضروری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PR324022026OLX2.JPG

صدر مملکت نے کہا کہ صحت مند شہری مضبوط ملک کی بنیاد ہیں۔ لوگوں کو بیماریوں سے بچانا اور انہیں بروقت اور مناسب طبی امداد فراہم کرنا انہیں صحت مند رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ حفظانِ صحت ملک کی تعمیر کا ایک لازمی حصہ ہے۔ شہریوں کی صحت اجتماعی ذمہ داری ہے۔ تمام تر متعلقہ فریقوں کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے کہ غریب سے غریب ترین کو بھی بروقت اور مناسب طبی امداد مل سکے۔ 'سب کے لیے قابل استطاعت عالمی درجے کی حفظانِ صحت خدمات' ہر ایک کا مشن ہونا چاہیے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PR42402202613L7.JPG

صدر نے کہا کہ تکنالوجی اور اے آئی، دیگر شعبوں کی طرح حفظانِ صحت شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کردار مستقبل میں مزید بڑھنے والا ہے اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ حکومت ہند جدت طرازی اور نئی ٹکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے سازگار ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہے۔ انڈیا اے آئی مشن اے آئی کے تابع حفظانِ صحت میں اختراع کی حمایت کر رہا ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان ایک سرکردہ دوا ساز ملک ہے۔ ہمارے ملک میں تیار ہونے والی ادویات دنیا بھر میں لوگوں کے علاج میں اپنا تعاون دے رہی ہیں۔ تاہم، ہم اب بھی بہت سے طبی آلات اور اہم ادویات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ درآمداتی آلات اور ادویات عام لوگوں کے لیے ایک خاص مالی بوجھ ہیں۔ ہمارے شہریوں کو قابل استطاعت حفظانِ صحت فراہم کرنے کے لیے ملک میں ادویات اور آلات کی تیاری بہت ضروری ہے۔ میک ان انڈیا اور پی ایل آئی جیسے اقدامات اس سمت میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے طبی برادری اور کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ اس شعبے میں تحقیق، اختراعات اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کرکے قومی تعمیر میں اپنا تعاون دیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PR5240220264E1G.JPG

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہم سال 2047 تک 'وکست بھارت' کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صحت مند شہری ایک بنیادی ضرورت ہے۔ شہری صحت مند تب ہی رہیں گے جب انہیں معیاری صحت کی سہولیات بروقت میسر ہوں گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ہماری اجتماعی کوششوں سے ہمارے شہری بہترین حفظانِ صحت خدمات حاصل کر سکیں گے اور ہندوستان کو حفظانِ صحت کی عالمی منزل کے طور پر مزید پہچان ملے گی۔

صدر جمہوریہ کی تقریر ملاحظہ کرنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں-

 

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:2996


(ریلیز آئی ڈی: 2232355) وزیٹر کاؤنٹر : 11