امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امورِ داخلہ اور  امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر  جناب امت شاہ نے نئی دلّی  میں دلّی  پولیس کے 79ویں یومِ تاسیس کی  تقریب میں مہمان خصوصی  کے طور پر خطاب کیا


خواہ یہ منشیات کے گروہ ہوں، جعلی کرنسی کے ریکٹ ہوں، پیچیدہ سائبر جرائم ہوں، یا منظم جرائم، دلّی  پولیس نے امن و سلامتی قائم رکھنے کی خاطر ہر شعبے میں کامیابی کے ساتھ کام کیا ہے

سال  2014  ء سے  2026  ء تک کے 12 سال، وزیرِ  اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی داخلی سلامتی کی تاریخ میں ایک سنہرے  دور کے طور پر یاد کیے جائیں گے

نیائے   سنہیتا کے تینوں نئے  قوانین  کے مکمل نفاذ کے بعد، ملک بھر میں مجرموں کو سزا   تفویض کئے جانے کے تناسب میں نمایاں اضافہ ہوگا

نکسل ازم ، جو ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے اور 31 مارچ سے قبل ملک  ، مکمل طور پر نکسل ازم سے آزاد ہو جائے گا

ہمارا عزم ہے کہ ہم ایسا مضبوط حفاظتی نظام قائم کریں کہ ایک بھی  در اندازی کرنے والا سرحد میں داخل نہ ہو  سکے

دلّی  پولیس کے  خصوصی سیل کے مربوط ہیڈ کوارٹرز، جس کی لاگت  368 کروڑ  روپے ہے، دہشت گردی اور جرائم سے نمٹنے کا ایک مؤثر  وسیلہ بنیں گے

جدید  مربوط کمان ، کنٹرول،  مواصلات اور کمپیوٹر سینٹر  ( سی 4 آئی  )   کے قیام کے ساتھ، جس پر 857 کروڑ  روپے کی لاگت آئے گی، دلّی  پولیس اور بھی زیادہ جدید اور بااختیار بن جائے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 FEB 2026 3:31PM by PIB Delhi

امورِ داخلہ اور  امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر ، جناب امت شاہ نے آج نئی دلّی  میں  ، دلّی  پولیس کے 79ویں یومِ تاسیس کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر دلّی  پولیس کے کمشنر جناب ستیش گولچھا سمیت متعدد معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

امورِ داخلہ اور  امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر ، جناب امت شاہ نے کہا کہ دلّی  پولیس  کے قیام سے آج تک، دلّی  پولیس نے امن، خدمت اور انصاف کے اپنے عزم کو پورا کرنے میں کبھی بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ دلّی ، ملک کی راجدھانی ہونے کے علاوہ، قوم کی جمہوریت اور شناخت کا دل اور مرکز بھی ہے۔  ایک ملک کی راجدھانی  کے طور پر یہ انتہائی ضروری ہے کہ دلّی  کی سلامتی عالمی معیار کے بلند ترین سطح پر ہو۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ دلّی  میں منعقد ہونے والے کئی قومی اور بین الاقوامی مواقع، صدر اور وزیر اعظم کے دفاتر و رہائش گاہوں کی موجودگی کی وجہ سے، دلّی  پولیس کی ذمہ داریاں نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دلّی  پولیس ہمیشہ  صف اول پر رہی ہے اور اپنے فرائض کو شاندار طریقے  اور کامیابی کے ساتھ انجام دیتی رہی ہے۔

 

 

جناب امت شاہ نے کہا کہ دلّی  پولیس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آج اسپیشل سیل کے  مربوط ہیڈ کوارٹرز کا ای وسیلے سے  سنگِ بنیاد رکھا گیا ۔ تقریباً  368 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ  مربوط ہیڈ کوارٹر ملک کا سب سے جدید مرکز بنے گا  ، جو منشیات اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وقف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہیڈ کوارٹر جدید انڈور فائرنگ رینج، وار روم، سائبر لیب، تربیتی ہال اور دیگر جدید سہولیات سے  آراستہ ہوگا اور یہ ملک بھر کی پولیس فورسز کے لیے ایک ماڈل  خصوصی سیل ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرے گا۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ دلّی  پولیس کا اسپیشل سیل  ، نہ صرف دلّی  بلکہ پورے ملک میں منشیات کے گروہوں، جعلی بھارتی کرنسی نوٹس، پیچیدہ سائبر جرائم، منظم جرائم اور کئی بڑے دہشت گردانہ واقعات کی تحقیقات میں کامیاب اور اہم کردار ادا کر چکا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج دلّی  پولیس کے 10 نئے منصوبوں کے بھی سنگِ بنیاد  رکھے گئے اور تقریباً  857 کروڑ  روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے سیف سٹی پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا بھی افتتاح کیا گیا۔ اس کے تحت جدید  مربوط کمان، کنٹرول،  مواصلات اور کمپیوٹر سینٹر  ( سی 4 آئی ) دلّی  کے عوام کے لیے وقف کیا گیا ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ دلّی  کو  10,000 کیمروں سے مربوط کرنے کے پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت اب تک 2,100 کیمرے فعال ہو چکے ہیں اور 15,000 سے زیادہ موجودہ کیمروں کو اس نظام کے ساتھ مربوط کرنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ آنے والے دنوں میں دلّی  کی سلامتی کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گا۔

 

 

جناب امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، ملک نے متعدد اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں انصاف کی بات  ہو گی ، تو تین نئے نیائے سنہیتا  قوانین کا ذکر ضرور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے ذریعے 150 سال قبل بنائے گئے قوانین اب منسوخ کر دیے گئے ہیں اور ایک انصاف پر مرکوز قانونی نظام قائم کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ آئندہ دو سال کے اندر، ان قوانین کے مکمل نفاذ کے بعد، ملک میں کہیں بھی درج کی گئی کسی بھی ایف آئی آر کا سپریم کورٹ تک حتمی فیصلہ تین سال میں ہو  جائے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے نیائے  سنہیتا میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے لیے ایک الگ باب شامل کیا گیا ہے اور ای-ایف آئی آر اور زیرو ایف آئی آر کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔  آئی سی جی ایس (مربوط فوجداری  انصاف کا نظام ) کے تحت پولیس، عدلیہ، فارنسک سائنس، استغاثہ اور جیلوں کو مربوط کیا گیا ہے اور ان کی خدمات آن لائن دستیاب کر دی گئی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پہلی بار معمولی جرائم کے لیے کمیونٹی سروس کو قانونی سزا کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ سات سال سے زیادہ سزا والے جرائم میں فارنسک وزٹس لازمی قرار دی گئی ہیں۔ پہلی بار ملک کے قوانین میں دہشت گردی کی  وضاحت کی گئی ہے اور فرار ہونے والے مجرمین کے لیے غیر موجودگی میں مقدمہ چلانے کا  بندوبست  شامل ہے۔  انہوں نے کہا کہ غیر ملکی علاقوں میں موجود مجرمین کی جائداد  قرق کرنے کے لیے بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مزید برآں، نئے قوانین میں ڈائریکٹر آف پراسیکیوشن کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور دستاویزات کی  وضاحت  میں وسعت دی گئی ہے تاکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل ریکارڈز کو قانونی شناخت دی جا سکے۔

 

 

جناب امت شاہ نے کہا کہ نئے نیائے  سنہیتا  قوانین کے مکمل نفاذ کے بعد، ہمارا عدالتی نظام  ، دنیا کے سب سے جدید نظاموں میں شمار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے قوانین سے عدالتی نظام میں تاخیر کم ہوگی اور سزا  تفویض کئے جانے کے تناسب   میں بھی اضافہ ہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ آسام، ہریانہ اور گجرات جیسے ریاستوں میں سزا  تفویض کئے جانے کے تناسب میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

امورِ داخلہ اور  امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جی کی قیادت میں، 2014  ء سے  2026  ء تک کے 12 سال ملک کی  داخلی سلامتی کی تاریخ میں ایک سنہرے  دور کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا  کہ  2014  ء سے قبل ملک کو تین بڑے چیلنجوں   جموں و کشمیر، بائیں بازو کی شدت پسندی اور شمال مشرقی علاقے   سے متعلق مسائل کا سامنا تھا  ، جو دہائیوں سے داخلی سلامتی کے لیے مسئلہ بنے ہوئے تھے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ نکسل ازم، جو 11 ریاستوں میں پھیل  گیا تھا، ہمیشہ ملک کی داخلی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نکسل ازم کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بہت قریب ہیں اور 31 مارچ  ، 2026  ء تک پورے ملک کو نکسلی تشدد سے  نجات دلانے میں ہمیں یقیناً کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی علاقوں میں بھی 10,000 سے زیادہ نوجوانوں نے  خود سپردگی کر کے اصل دھارے میں شمولیت اختیار کی ہے اور 12 سے زیادہ امن معاہدوں کے ذریعے ہم نے شمال مشرق میں امن قائم کرنے میں بہت اہم کام کیا ہے۔

 

 

امورِ داخلہ اور  امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ آنے والے وقت میں  ، وزارت داخلہ  ( ایم ایچ اے )   ملک کے ہر حصے میں  سی سی ٹی وی   کیمروں کا ایک نیٹ ورک قائم کرے گی تاکہ ایک نیا حفاظتی نظام وضع کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کی مکمل  توجہ کا مرکز  ، ملک کی  سبھی زمینی سرحدوں پر حفاظتی نظام کو جدید بنانے، ملک کو در اندازی کرنے والوں سے  نجات دلانے اور تین نئے نیائے  سنہیتا کے مکمل نفاذ پر رہے گا۔

..................................................... ...................................................

) ش ح –   ش ب  -  ع ا )

U.No. 2526


(ریلیز آئی ڈی: 2228755) وزیٹر کاؤنٹر : 10