وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی بجٹ 2026–27 کی جھلکیاں

प्रविष्टि तिथि: 01 FEB 2026 1:08PM by PIB Delhi

حصہ - اوّل

مرکزی وزیر برائے خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا  سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2026–27 پیش کیا۔ بجٹ کی اہم جھلکیاں درج ذیل ہیں:

کرتویہ بھون میں تیار کیا جانے والا یہ پہلا بجٹ تین بنیادی کرتویوں (فرائض) سے متاثر ہے:

  • پہلا کرتویہ پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ کر کے معاشی ترقی کو تیز رفتار اور پائیدار بنانا اور عالمی سطح پر غیر یقینی حالات کے مقابلے میں معیشت کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔
  • دوسرا کرتویہ عوامی امنگوں کو پورا کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ بھارت کے خوشحال مستقبل کے سفر میں مضبوط شراکت دار بن سکیں۔
  • تیسرا کرتویہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے وژن کے مطابق یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر خاندان، ہر برادری، ہر خطے اور ہر شعبے کو وسائل، سہولتوں اور مواقع تک مساوی رسائی حاصل ہو تاکہ سب بامعنی طور پر ترقی کے عمل میں شریک ہوسکیں۔

 

بجٹ تخمینہ

  • غیر قرضہ جاتی وصولیوں اور مجموعی اخراجات کا تخمینہ بالترتیب 36.5 لاکھ کروڑ روپے اور 53.5 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ مرکز کی خالص ٹیکس وصولیاں 28.7 لاکھ کروڑ روپے متوقع ہیں۔
  • مجموعی مارکیٹ قرض کا حصول   17.2 لاکھ کروڑ روپے جبکہ ڈیٹیڈ سکیورٹیز کے ذریعے خالص مارکیٹ قرض کا حصول 11.7 لاکھ کروڑ روپے اندازاً ہوگا۔
  • نظرثانی شدہ تخمینوں (آر ای) کے مطابق غیر قرضہ جاتی وصولیاں 34 لاکھ کروڑ روپے رہیں گی، جن میں مرکز کی خالص ٹیکس وصولیاں 26.7 لاکھ کروڑ روپے شامل ہیں۔
  • مجموعی اخراجات کا نظرثانی شدہ تخمینہ 49.6 لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں سے تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات ہیں۔
  • بجٹ تخمینہ (بی ای)  2026-27 میں مالیاتی خسارہ، جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔
  • نظرثانی شدہ تخمینے 2025-26 میں مالیاتی خسارہ،  2025-26 کے بجٹ تخمینے کے مطابق، 4.4 فیصد جی ڈی پی پر برقرار رہنے کا اندازہ ہے۔
  • قرض بمقابلہ جی ڈی پی شرح بی ای  2026-27 میں 55.6 فیصد متوقع ہے، جبکہ آر ای  2025-26 میں یہ 56.1 فیصد رہی ہے۔

 

پہلا کرتویہ (فرض) معاشی ترقی کو تیز اور پائیدار بنانا اور اس کے لیے 6 اقدامات کی تجویز ہے

1۔  سات اسٹریٹیجک اور جدید شعبوں میں مینوفیکچرنگ کو وسعت دینا

  1. بایوفارما شَکتی )یعنی علم، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے ذریعے صحت کے شعبے کی ترقی کی حکمت عملی) کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے تحت آئندہ 5 برسوں میں 10,000 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ بھارت کو عالمی سطح کا بایو فارما مینوفیکچرنگ مرکز بنایا جا سکے۔
  1. بایوفارما پر مرکوز ایک قومی نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس کے تحت فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے 3 نئے قومی ادارے (این آئی پی ای آر) قائم کیے جائیں گے اور 7 موجودہ اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
  2. ملک بھر میں 1,000 سے زائد منظور شدہ انڈیا کلینکل ٹرائلز سائٹس کا ایک جامع نیٹ ورک تیار کیا جائے گا۔
  1. انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم)  2.0 کا آغاز کیا جائے گا، جس کا مقصد آلات اور خام مواد کی تیاری، مکمل بھارتی انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) پر مبنی ڈیزائن اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مشن میں صنعت کی قیادت میں تحقیق اور تربیتی مراکز پر خاص توجہ دی جائے گی تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
  2. الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم کے لیے مختص رقم بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
  3. کان کنی ، پروسیسنگ ، تحقیق اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے معدنیات سے مالا مال ریاستوں اوڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی مدد کے لیے مخصوص ریئر ارتھ کوریڈور قائم کیے جائیں گے ۔
  4. حکومت ایک نئی اسکیم متعارف کرائے گی جس کے تحت ریاستوں کو  3 مخصوص کیمیکل پارکس قائم کرنے میں مدد دی جائے گی۔ یہ اسکیم چیلنج روٹ کے ذریعے اور کلسٹر پر مبنی پلگ اینڈ پلے ماڈل پر نافذ کی جائے گی۔
  5.  سرمایہ جاتی ساز و سامان کی صلاحیت میں اضافہ
  • مرکزی سرکاری اداروں (سی پی ایس ای) کے ذریعے دو مقامات پر ہائی ٹیک ٹول رومز قائم کیے جائیں گے، جو ڈیجیٹل طور پر فعال اور خودکار سروس بیورو کے طور پر کام کریں گے۔ یہ مراکز مقامی سطح پر انتہائی درست پرزہ جات کی ڈیزائننگ، جانچ اور بڑے پیمانے پر کم لاگت میں تیاری ممکن بنائیں گے۔
  • تعمیرات اور انفرا اسٹرکچر آلات  (سی آئی ای) کی بہتری کے لیے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی جائے گی، جس کا مقصد اعلیٰ قدر اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس آلات کی گھریلو مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنا ہے۔
  • کنٹینر مینوفیکچرنگ کے لیے ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا ہدف عالمی سطح پر مسابقتی کنٹینر مینوفیکچرنگ نظام قائم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پانچ برسوں میں 10,000 کروڑ روپے سے زائد کی بجٹ رقم مختص کی جائے گی۔
  1. ٹیکسٹائل شعبے کے لیے جامع پروگرام کا اعلان
  1. نیشنل فائبر اسکیم متعارف کرائی جائے گی، جس کا مقصد قدرتی ریشوں جیسے ریشم، اون اور جوٹ کے ساتھ ساتھ مصنوعی ریشوں اور نئی نسل کے ریشوں کے معاملے میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
  2. ٹیکسٹائل توسیع اور روزگار اسکیم کے تحت روایتی ٹیکسٹائل کلسٹرز کو جدید بنایا جائے گا۔ اس میں مشینری کے لیے سرمایہ جاتی مدد، ٹیکنالوجی کا اپ گریڈیشن اور مشترکہ جانچ و سرٹیفکیشن مراکز قائم کیے جائیں گے۔
  • میگا ٹیکسٹائل پارکس چیلنج موڈ میں قائم کیے جائیں گے، جن کی خاص توجہ ٹیکنیکل ٹیکسٹائلز میں ویلیو ایڈیشن بڑھانے پر ہوگی۔
  • مہاتما گاندھی گرام سوراج پہل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد کھادی، ہینڈلوم اور دستکاری کے شعبوں کو مضبوط بنانا ہے۔
  1. ایک خصوصی پہل کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی، برانڈنگ میں مدد فراہم کی جائے گی، اور ساتھ ہی تربیت، مہارت سازی، عمل اور پیداوار کے معیار کو آسان اور بہتر بنایا جائے گا۔

 

2۔ پرانے صنعتی شعبوں کو دوبارہ زندہ کرنا

  • 200 پرانے صنعتی کلسٹرز کو زندہ کرنے کی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا مقصد ان کی لاگت میں مسابقت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے اور اس کے لیے انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کا اپ گریڈیشن کیا جائے گا۔

 

3۔ ’’چمپئن ایس ایم ای‘‘بنانا اور خوردہ کاروبار کی حمایت کرنا

  • ایک خصوصی ایس ایم ای گروتھ فنڈ کا قیام، جس کے لئے 10,000 کروڑ روپے مختص ہوں گے، تاکہ مستقبل کے چمپئن بنائے جا سکیں۔ یہ فنڈ انتخاب کے معیار کی بنیاد پر کاروباری اداروں کو ترغیب و حوصلہ افزائی فراہم کرے گا۔
  • سیلف ریلائنٹ انڈیا فنڈ  کے لیے اضافی 2,000 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے تاکہ خوردہ کاروبار کی مسلسل حمایت کی جا سکے اور انہیں رسک کیپٹل تک رسائی فراہم کی جاسکے۔
  • حکومت پیشہ ورانہ اداروں جیسے آئی سی اے آئی، آئی سی ایس آئی، ا ٓئی سی ایم اے آئی کی مدد سے مختصر، ماڈیولر کورسز اور عملی اوزار (ٹولز) تیار کرے گی، تاکہ ’کارپوریٹ متروں‘ کی ایک ٹیم تیار کی جا سکے، خاص طور پر ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں میں۔

 

4۔ بنیادی ڈھانچے کو زبردست فروغ دینا

  • عوامی سرمایہ جاتی اخراجات  کو مالی سال 2026-27 میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے تک بڑھایا جائے گا۔
  • حکومت انفرااسٹرکچر رسک گارنٹی فنڈ قائم کرے گی تاکہ نجی ترقی دہندگان (ڈیولپرز) کو انفرا اسٹرکچر کی ترقی اور تعمیر کے دوران لاحق خطرات کے حوالے سے اعتماد فراہم کیا جا سکے۔
  • حکومت مخصوص آر ای آئی ٹی کے قیام کے ذریعے سی پی ایس ایز کے اہم ریئل اسٹیٹ اثاثوں کی ری سائیکلنگ میں تیزی لائے گی۔
  • ماحولیاتی طور پر پائیدار سامان کی نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں:

اے. نئے مخصوص فریٹ کوریڈورز قائم کیے جائیں گے، جو مشرقی دانکونی کو مغربی سورت سے جوڑیں گے۔

بی. اگلے پانچ سالوں میں 20 نئی قومی آبی گزرگاہیں (این ڈبلیو) فعال کی جائیں گی، جن کی شروعات این ڈبلیو- 5 سے ہوگی، جو اوڈیشہ میں واقع تلچر اور انگل کے معدنی علاقوں اور صنعتی مراکز جیسے کلنگا نگر کو پارادیپ اور دھمرہ کے بندرگاہوں سے جوڑے گا۔

  • انسانی وسائل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس قائم کیے جائیں گے، جو ریجنل سینٹرز آف ایکسیلنس کے طور پر کام کریں گے۔
  • اس کے علاوہ، ورانسی اور پٹنہ میں اندرونی آبی گزرگاہوں کے لیے شپ ریپئر ایکو سسٹم بھی قائم کیا جائے گا۔

سی. کوسٹل کارگو پروموشن اسکیم شروع کی جائے گی تاکہ ریل اور روڈ کی بجائے پانی اور ساحلی جہاز رانی کو فروغ دیا جا سکے اور اندرونی آبی گزرگاہوں اور 2047 تک ساحلی جہاز رانی کا حصہ 6 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد  تک پہنچایا جا سکے۔

  • اسکیم کے تحت سی پلینز کی مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا، آخری میل اور دور دراز علاقوں تک رسائی بہتر کی جائے گی اور سیاحت کو فروغ دیا جائے گا۔

اے. سی پلین وی جی ایف اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی تاکہ آپریشنز کے لیے مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔

 

5. طویل مدتی توانائی کے تحفظ اور استحکام کو یقینی بنانا

  • اگلے پانچ سالوں میں کاربن کیپچر یوٹیلائزیشن اینڈ اسٹوریج (سی سی یو ایس) ٹیکنالوجیز کے لیے 20,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

 

6. شہری اقتصادی خطوں کی ترقی

  • ہر شہری اقتصادی خطہ (سی ای آر) کے لیے اگلے پانچ سالوں میں 5,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ ان کے منصوبے چیلنج موڈ کے تحت نافذ کیے جائیں اور اصلاحات کے ساتھ نتائج کی بنیاد پر مالی معاونت دی جائے۔
  • حکومت شہروں کے درمیان سات ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور بھی قائم کرے گی، جو ’گروتھ کنیکٹرز‘  کے طور پر کام کریں گے تاکہ ماحول دوست مسافر نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ کوریڈور درج ذیل ہیں:
  1. ممبئی – پونے
  2. پونے – حیدرآباد
  3. حیدرآباد – بنگلورو
  4. حیدرآباد – چنئی
  5. چنئی – بنگلورو
  6. دہلی – وارانسی
  7. وارانسی – سلی گوڑی
  • حکومت ’’وِکست بھارت کے لیے بینکنگ پر ہائی لیول کمیٹی‘‘ قائم کرے گی، تاکہ بینکنگ شعبے کا جامع جائزہ لیا جا سکے اور اسے بھارت کے اگلے ترقیاتی مراحل کے مطابق ڈھالا جا سکے، جبکہ مالی استحکام، شمولیت اور صارفین کے حقوق کی حفاظت بھی کی جائے۔
  • حکومت پاور فنانس کارپوریشن اور رورل الیکٹری فکیشن کارپوریشن کو دوبارہ منظم کرے گی تاکہ پبلک سیکٹر این بی ایف سیز کی اسکیل اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
  • فارن ایکسچینج مینجمنٹ (نان ڈیبٹ انسٹرومنٹس) رولز کا جامع جائزہ لینے کی تجویز ہے، تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے جدید، صارف دوست اور بھارت کی بدلتی ہوئی اقتصادی ترجیحات کے مطابق فریم ورک بنایا جا سکے۔

 

میونسپل بانڈز

  • اگر کسی بڑے شہر کی جانب سے ایک 1000 کروڑ روپے سے زیادہ کی بانڈ ایشو کی جاتی ہے تو حکومت 100 کروڑ روپے کا انسینٹو دے گی، تاکہ بڑے شہروں میں اعلیٰ قدر کے میونسپل بانڈز کو فروغ دیا جا سکے۔

 

دوسرا ’کرتویہ‘  لوگوں کی خواہشات پوری کرنے اور صلاحیت بڑھانے کے لیے ہے

  • حکومت ایک ہائی پاورڈ ’ایجوکیشن ٹو ایمپلائمنٹ اینڈ انٹرپرائز‘اسٹینڈنگ کمیٹی قائم کرے گی، جو ایسے اقدامات کی سفارش کرے گی جو سروسز سیکٹر کو وِکست بھارت کی ترقی میں اہم محرک کے طور پر مضبوط بنائیں۔

وِکست بھارت کے لیے پیشہ ور افراد کی تیاری

  • موجودہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز (اے ایچ پی) کے تربیتی اداروں کو جدید بنایا جائے گا اور نئے اے ایچ پی ادارے سرکاری اور نجی شعبے میں قائم کیے جائیں گے۔

اے. اگلے پانچ سالوں میں 100,000 الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کا اضافہ کیا جائے گا۔

  • بھارت کو میڈیکل ٹورزم کا مرکز بنانے کے لیے پانچ علاقائی میڈیکل ہبز قائم کیے جائیں گے۔

آیوش

  • تین نئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹس آف آیوروید قائم کیے جائیں گے۔

مویشی پروری

  • حکومت 20,000 سے زیادہ ویٹرنری پروفیشنلز کی دستیابی کو بڑھائے گی۔

اے. لون لنکڈ کیپٹل سبسڈی اسکیم شروع کی جائے گی، تاکہ نجی شعبے میں ویٹرنری اور پیرا ویٹرنری کالجز، ویٹرنری ہسپتال، ڈائگناسٹک لیبارٹریز اور بریڈنگ فیسلٹیز قائم کی جا سکیں۔

تخلیقی معیشت (اورنج اکانومی )

  • انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کریٹیو ٹیکنالوجیز، ممبئی کو ویزوئل افیکٹس، گیمنگ اور کومکس (اے وی جی سی) کانٹینٹ کرئیٹر لیبز قائم کرنے میں مدد دی جائے گی، جو 15,000 سیکنڈری اسکولوں اور 500 کالجوں میں دستیاب ہوں گی۔

تعلیم

  • بڑے صنعتی اور لاجسٹک کوریڈورز کے نزدیک 5 یونیورسٹی ٹاؤن شپ قائم کی جائیں گی، جو چیلنج روٹ کے ذریعے ترقی پائیں گی۔

اے. وی جی ایف/کیپٹل سپورٹ کے ذریعے ہر ضلع میں لڑکیوں کا ایک ہاسٹل قائم کیا جائے گا۔

سیاحت

  • نیشنل کونسل فار ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹیکنالوجی کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہاسپیٹلٹی میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اے. 20 سیاحتی مقامات پر 10,000 گائیڈز کو اپ اسکل کرنے کے لیے ایک آئی آئی ایم کے تعاون سے ہائبرڈ موڈ میں 12 ہفتے کا معیاری تربیتی کورس متعارف کرایا جائے گا ۔

بی. نیشنل ڈسٹنیشن ڈیجیٹل نالج گرڈ قائم کیا جائے گا تاکہ تمام اہم مقامات جیسے ثقافتی، روحانی اور تاریخی کو ڈیجیٹل طور پر دستاویزی شکل دی جاسکے۔

وراثت اور ثقافتی سیاحت

  • 15 آثار قدیمہ کے مقامات جیسے لوتھل، دھولاویرہ، راکھی گڑھی، ادی چانلور، سارناتھ، ہستناپور اور لیہہ پیلس کو شاندار، تجرباتی ثقافتی مقامات کے طور پر ترقی دی جائے گی۔

کھیل

  • اگلے دس سالوں میں کھیلوں کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے کھیلو انڈیا مشن شروع کیا جائے گا۔

 

تیسرا ’کرتویہ‘سب کا ساتھ، سب کا وِکاس کے وژن کے مطابق ہے اور اس کے لیے چار اہم شعبوں میں ہدفی کوششیں ضروری ہیں:

1. کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا

  • نئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ

اے. 500 ذخائر اور امرت سروروں کی مربوط ترقی کی جاسکے۔

اعلیٰ قدر کی زرعی پیداوار

  • حکومت اعلیٰ قدر کی فصلوں کو فروغ دے گی جیسے

اے. ساحلی علاقوں میں ناریل، صندل کی لکڑی ،  کوکو اور کاجو

بی. ناریل پروموشن اسکیم شروع کی جائے گی تاکہ پیداوار بڑھائی جائے اور پیداوری کو بہتر بنایا جا سکے۔

بھارت-وستار (ورچوئلی انٹیگریٹیڈ سسٹم ٹو ایکسس ایگریکلچرل ریسورسیز – وی آئی ایس ٹی اے اے آر

  • حکومت بھارت – وستار متعارف کرائے گی، جو ایک کثیر لسانی اے آئی ٹول ہوگا۔ یہ ایگری اسٹیک پورٹلز اور آئی سی اے آر زرعی پیکیج کو اے آئی سسٹمز کے ساتھ مربوط کرے گا، تاکہ کسانوں کو جدید زرعی معلومات تک آسان رسائی حاصل ہو۔

2. معذور افراد کو بااختیار بنانا

  • دیویانگ جن کوشل یوجنا کے تحت معذور افراد کو آئی ٹی، اے وی جی سی، ہاسپیٹلٹی اور فوڈ اینڈ بیوریجز شعبوں میں ٹاسک اور پروسیس پر مبنی کردار فراہم کیے جائیں گے۔

3. ذہنی صحت اور صدمے کی دیکھ بھال پر توجہ

  • حکومت شمالی بھارت میں این آئی ایم ایچ اے این ایس- 2  قائم کرے گی۔

اے. رانچی اور تیزپور میں موجود نیشنل مینٹل ہیلتھ انسٹی ٹیوشنز کو ریجنل اپیکس انسٹی ٹیوشنز کے طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔

4. پوروودے ریاستوں اور شمال مشرقی خطہ پر توجہ

  • حکومت انٹیگریٹیڈ ایسٹ کوسٹ انڈسٹریل کوریڈور تیار کرے گی، جس کا ایک مضبوط نکتہ دُرگاپور ہوگا۔ پانچ پوروودے ریاستوں میں 5 سیاحتی مقامات قائم کیے جائیں گے اور 4,000 ای بسیں فراہم کی جائیں گی۔

اے. اروناچل پردیش، سکم، آسام، منی پور، میزورم اور تری پورہ میں بودھ سرکٹس کی ترقی کے لیے ایک اسکیم شروع کی جائے گی۔

سولہواں مالیاتی کمیشن

  • حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 16ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق ریاستوں کو 1.4 لاکھ کروڑ روپے بطور مالیاتی کمیشن گرانٹس فراہم کیے۔

 

حصہ –  دوم :

براہِ راست ٹیکسز

نیا انکم ٹیکس قانون

  • نیا انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 اپریل 2026 سے نافذ ہوگا۔
  • انکم ٹیکس کے آسان قواعد اور فارم جلد جاری کیے جائیں گے۔ فارم کو عام شہریوں کے لیے آسان اور سہل تعمیل کے لیے دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے۔

زندگی کو آسان بنانا

  • موٹر ایکسیڈنٹ کلیمز ٹریبونل کی جانب سے کسی فرد کو دی جانے والی سود کی رقم انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی اور اس پر ٹی ڈی ایس (ٹیکس کی کٹوتی) نہیں ہوگی۔
  • ٹی سی ایس کو معقول بنانا۔
  • اوورسیز ٹور پروگرام پیکیج کی فروخت پر ٹی سی ایس کی شرح 2 فیصد کر دی جائے گی (فی الحال  2-20 فیصد)۔
  • ایل آر ایس ترسیلات زر برائے تعلیم و میڈیکل پر ٹی سی ایس کی شرح 2 فیصد ہوگی (فی الحال  5 فیصد)۔
  • مین پاور سپلائی پر ٹی ڈی ایس کے آسان التزامات لیبر انٹینسیو کاروبار کو فائدہ دیں گے۔
  • چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے ایک اسکیم ہوگی جس میں کم یا صفر کٹوتی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا آٹومیٹڈ، اصول پر مبنی عمل کے ذریعے ہوگا اور اس کے لیے الگ سے اسیسسر کے پاس درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
  • منافع، سود وغیرہ پر فارم 15 جی یا ٹی ڈی ایس کے لیے 15 ایچ کے لیے ڈپازیٹریز کے ساتھ سنگل ونڈو فائلنگ ممکن ہوگی۔
  • ریٹرنز میں ترمیم کے لیے دستیاب وقت 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ تک کر دیا جائے گا، معمولی فیس کے ساتھ۔
  • ٹیکس ریٹرنز کی فائلنگ کا وقت مرحلہ وار مقرر کیا جائے گا۔
  • این آر آئی جائیداد کے لین دین کے لیے ٹی اے این (ٹین) کی بجائے رہائشی خریدار کے پی اے این (پین) کے تحت چالان استعمال ہوگا۔
  • چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے چھ ماہ کا یک وقتی فارن اَسیٹ ڈسکلوزر اسکیم ہوگی تاکہ وہ اپنی غیر ملکی آمدنی یا اثاثہ جات ظاہر کر سکیں۔

جرمانے اور قانونی کارروائی کو معقول بنانا

  • آئی ٹی اسیسمنٹ اور جرمانہ کے اقدامات کو ایک عمومی آرڈر کے ذریعے ضم کیا جائے گا۔
  • ٹیکس دہندگان کو ری اسیسمنٹ کے بعد بھی اضافی 10 فیصد ٹیکس کی شرح کے ساتھ ریٹرنز اپ ڈیٹ کرنے کی اجازت ہوگی، تاکہ قانونی چارہ جوئی کم ہوسکے۔
  • آمدنی کی غلط رپورٹنگ پر جرمانے کے معاملے میں بھی اضافی انکم ٹیکس کی ادائیگی کے ساتھ معافی ممکن ہوگی۔
  • انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے ڈھانچے کو بھی آسان اور مناسب بنایا جائے گا۔
  • اکاؤنٹ بکس اور دستاویزات پیش نہ کرپانے اور ٹی ڈی ایس ادائیگی کے لزوم، جہاں ادائیگی قسم میں کی جاتی ہے، کو جرم کے زمرے سے نکالا جائے گا۔
  • غیر منقولہ غیر ملکی اثاثوں کے عدم افشاء، جن کی کل قیمت 20 لاکھ روپے سے کم ہو، کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوگا، یکم اکتوبر 2024 سے مؤثر۔

امداد باہمی (کوآپریٹیوز)

  • دودھ، تلہن، پھل اور سبزیاں اگانے والے پرائمری کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے اراکین کو پہلے سے جو چھوٹ حاصل ہے وہ چھوٹ مویشیوں کے لیے چارہ اور کپاس اگانے والوں کو بھی اب حاصل ہوگی۔
  • نئی ٹیکس رجیم کے تحت بین الاقوامی کوآپریٹیو سوسائٹی کی آمدنی منافع (ڈیویڈنڈ) کو بھی چھوٹ دی جائے گی، بشرطیکہ یہ اپنے ارکان میں مزید تقسیم کی جائے۔
  • نوٹیفائیڈ نیشنل کوآپریٹیو فیڈریشن کو تین سال کی مدت کے لیے اس بات کی چھوٹ دی جائے گی کہ 31 جنوری 2026 تک کمپنیوں میں کی گئی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع (ڈیویڈنڈ) کو، جو مزید اس کے رکن کوآپریٹیو میں تقسیم کیا جائے، ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

ہندوستان کے گروتھ انجن کے طور پر آئی ٹی سیکٹر کی حمایت

  • سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سروسز، آئی ٹی انیبلڈ سروسز، نالج پروسیس آؤٹ سورسنگ سروسز اور کنٹریکٹ آر اینڈ ڈی سروسز کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسیز کے زمرے میں شامل کیا جائے گا، جس پر 15.5 فیصد کا عام سیف ہاربر مارجن لاگو ہوگا۔
  • آئی ٹی سروسز کے لیے سیف ہاربر حاصل کرنے کی حد 300 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2,000 کروڑ روپے کی جائے گی۔
  • آئی ٹی سروسز کے لیے سیف ہاربر کو خودکار رول ڈرائیوڈ پروسیس کے ذریعے منظور کیا جائے گا اور یہ 5 سال تک مسلسل جاری رہ سکتا ہے۔
  • آئی ٹی سروسز کے لیے یونیلٹرل ایڈوانسڈ پرائسنگ ایگریمنٹ (اے پی اے) کے عمل کو تیز کیا جائے گا، جس کا مقصد اسے 2 سال کے اندر مکمل کرنا ہے، اور ٹیکس دہندہ کی درخواست پر اسے 6 ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
  • اے پی اے میں شامل ہونے والے ادارے کے لیے موڈیفائیڈ ریٹرنز کی سہولت کو اس کے وابستہ اداروں تک بھی بڑھایا جائے گا۔

عالمی کاروبار اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا

  • جو بھی غیر ملکی کمپنی بھارت سے ڈیٹا سینٹر سروسز استعمال کر کے دنیا بھر میں کلاؤڈ سروسز فراہم کرے، اسے 2047 تک ٹیکس ہالی ڈے دیا جائے گا۔
  • اگر بھارت سے ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی متعلقہ ادارہ ہو، تو 15 فیصد سیف ہاربر فراہم کی جائے گی۔
  • بانڈ شدہ گودام میں کمپونینٹ ویئر ہاؤسنگ کے لیے نان ریزیڈنٹس کو 2 فیصد منافع کی شرح پر سیف ہاربر فراہم کی جائے گی۔ نتیجے میں ٹیکس تقریباً 0.7 فیصد ہوگا، جو کہ مقابلہ کرنے والے دیگر ممالک سے کم ہے۔
  • جو غیر ملکی ٹیکس دہندہ بانڈ زون میں کسی ٹول مینوفیکچرر کو کپیٹل گڈز، آلات یا ٹولنگ فراہم کرے، اسے 5 سال کے لیے انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا۔
  • نوٹیفائیڈ اسکیموں کے تحت غیر مقیم ماہر کے لیے عالمی (غیر بھارت سے حاصل شدہ) آمدنی پر پانچ سال کے قیام کی مدت کے لیے چھوٹ دی جائے گی۔
  • تمام غیر مقیم افراد جو اندازہ کے مطابق ٹیکس ادا کرتے ہیں، انہیں کم از کم متبادل ٹیکس (ایم اے ٹی) سے بھی چھوٹ دی جائے گی۔

ٹیکس انتظامیہ

  • منصوبہ ہے کہ کارپوریٹ امور کی وزارت اور مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ انکم کمپیوٹیشن اینڈ ڈسکلوزر اسٹینڈرڈز (آئی سی ڈی ایس) کی ضروریات کو براہِ راست بھارتی اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز (انڈ اے ایس) میں شامل کیا جا سکے۔ اس کے بعد الگ سے آئی سی ڈی ایس کی بنیاد پر اکاؤنٹنگ کی ضرورت ٹیکس سال 2027-28 سے ختم کر دی جائے گی۔
  • سیف ہاربر رولز کے لیے ’’اکاؤنٹنٹ‘‘ کی تعریف کو بھی منطقی اور آسان بنایا جائے گا۔

دیگر ٹیکس تجاویز

  • اب تمام قسم کے حصص داروں کے لیے بائی بیک پر کیپٹل گینز کے طور پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ پروموٹرز (کارپوریٹ پروموٹرز) پر اضافی بائی بیک ٹیکس ہوگا، جس سے کارپوریٹ پروموٹرز کے لیے مؤثر ٹیکس 22 فیصد اور غیر کارپوریٹ پروموٹرز کے لیے 30 فیصد ہو جائے گا۔
  • الکحل، اسکریپ اور معدنیات جیسی مخصوص اشیاء کے لیے ٹی سی ایس کی شرح 2 فیصد کر دی جائے گی۔ تیندو کے پتے پر ٹی سی ایس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کی جائے گی۔
  • فیوچرز پر ایس ٹی ٹی   0.05 فیصد کردی جائے گی، جو موجودہ 0.02 فیصد ہے۔ آپشنز پریمیم پر ایس ٹی ٹی 0.15 فیصد کر دی جائے گی (موجودہ 0.1 فیصد) اور آپشنز کے استعمال پر 0.15 فیصد کر دی جائے گی (موجودہ 0.125 فیصد)۔
  • پہلے سے موجود ایم اے ٹی کریڈٹ صرف نئی اسکیم میں کمپنیوں کے لیے سیٹ آف کرنے کی اجازت ہوگی۔ نئے نظام میں دستیاب ایم اے ٹی کریڈٹ کا استعمال ٹیکس واجب الادا کا صرف 1/4 حصہ سیٹ آف کرنے کے لیے کیا جا سکے گا۔
  • یکم اپریل 2026 کے بعد مزید ایم اے ٹی کریڈٹ جمع نہیں ہوگا۔ فائنل ٹیکس کی شرح موجودہ 15 فیصد سے کم کر کے 14 فیصد کی جائے گی۔ 31 مارچ 2026 تک جمع شدہ ایم اے ٹی کریڈٹ پہلے کی طرح سیٹ آف کے لیے دستیاب رہے گا۔

 

بالواسطہ ٹیکس:

ٹیرف شرحوں میں آسانی

سمندری، چمڑے اور ٹیکسٹائل مصنوعات:

  • وہ مخصوص خام مال جو سمندری مصنوعات (سی فوڈ) کی پروسیسنگ کے لیے درآمد کیے جاتے ہیں اور برآمد کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اب بغیر ڈیوٹی درآمد کرنے کی حد موجودہ 1 فیصد کے بجائے ایف او بی قیمت کا 3 فیصد ہو جائے گی۔
  • وہ مخصوص خام مال جو فی الحال چمڑے یا مصنوعی جوتے کی برآمد کے لیے بغیر ڈیوٹی درآمد کیے جا سکتے ہیں، اب مزید برآمدات کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔

توانائی کی منتقلی اور حفاظت:

  • وہ بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ جو لیتھیم-آئن بیٹری سیلز کی پیداوار کے لیے سرمایہ جاتی سازوسامان پر دی جاتی ہے، مزید بڑھا دی جائے گی۔
  • سولر گلاس کی تیاری میں استعمال ہونے والے سوڈیم انٹیمونیٹ کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی جائے گی۔

جوہری توانائی:

  • جوہری توانائی کے منصوبوں کے لیے ضروری اشیاء کی درآمد پر دی جانے والی موجودہ بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ اب 2035 تک بڑھا دی جائے گی۔

اہم معدنیات:

  • وہ سرمایہ جاتی سازوسامان جو اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے لیے درکار ہیں، ان کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی جائے گی۔

بایو گیس ملی ہوئی سی این جی:

  • بایو گیس ملی ہوئی سی این جی پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی کا حساب لگاتے وقت بایو گیس کی پوری قیمت کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

سول اور دفاعی ہوابازی:

  • سول، تربیتی اور دیگر ہوائی جہازوں کی تیاری کے لیے درکار کمپونینٹس اور پرزوں کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی معاف کی جائے گی۔
  • دفاعی شعبے میں یونٹس کے لیے جہازوں کے پرزوں کی منٹیننس، مرمت یا اوورہال کے استعمال کے لیے درآمد ہونے والے خام مال کی بنیادی کسٹم ڈیوٹی بھی معاف کی جائے گی۔

الیکٹرانکس :

  • مائیکروویو اوون  کی تیاری میں استعمال ہونے والے مخصوص پرزوں کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی جائے گی۔

خصوصی اقتصادی زون:

  • ایک خصوصی یک وقتی اقدام تجویز کیا گیا ہے، جس سے ایس ای زیڈ میں کام کرنے والی اہل مینوفیکچرنگ یونٹس کو رعایتی کسٹم ڈیوٹی پر ڈی ٹی اے میں اپنی مصنوعات بیچنے کی سہولت ملے گی۔
  • اس رعایتی فروخت کی مقدار ان کی برآمدات کے ایک مقررہ تناسب تک محدود رہے گی۔

زندگی کو آسان بنانے کے اقدامات :

  • ذاتی استعمال کے لیے درآمد ہونے والی تمام قابل ڈیوٹی اشیاء پر کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی جائے گی۔
  • 17 مخصوص ادویات  کی بنیادی کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی جائے گی۔
  • 7 مزید نایاب بیماریوں کے لیے ادویات اور خوراک کی ذاتی درآمد پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہوگی۔

کسٹم عمل کی آسانی:

  • کسٹم کے عمل میں کم سے کم مداخلت ہوگی تاکہ سامان کی روانگی تیز اور آسان ہو سکے۔

اعتماد پر مبنی نظام:

  • ٹیئر 2 اور ٹیئر 3  اتھارائزڈ اکانومک آپریٹرز  جنھیں اے ای او  کے نام سے جانا جاتا ہے، کے لیے ڈیوٹی مؤخر کرنے کی مدت 15 دن سے بڑھا کر 30 دن کی جائے گی۔ یہی سہولت اہل مینوفیکچرر-درآمد کنندگان پر بھی لاگو ہوگی۔
  • ایڈوانس رولنگ کی مدت، جو کسٹم پر لازم ہے، موجودہ 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی جائے گی۔
  • سرکاری اداروں کو حوصلہ دیا جائے گا کہ وہ اپنے کارگو کی کلیئرنس میں اے ای او کی منظوری کو ترجیحی سہولت کے لیے استعمال کریں۔
  • معتبر درآمد کنندگان کے لیے بل آف انٹری فائل کرنے اور سامان کی آمد پر کسٹم کو خودکار اطلاع ملے گی تاکہ کلیئرنس کا عمل مکمل کیا جا سکے (ان اشیاء کے لیے جنہیں کسی اضافی تقاضے کی ضرورت نہیں ہے)۔
  • کسٹم کے ویئر ہاؤسنگ کے نظام کو ویئر ہاؤس آپریٹر سینٹرک بنایا جائے گا، جس میں خود کے ذریعے اعلان، الیکٹرانک ٹریکنگ اور رسک بیسڈ آڈٹ شامل ہوں گے۔

کاروبار کرنے میں آسانی :

  • مختلف سرکاری اداروں سے کارگو کلیئرنس کی منظوری اب ایک ہی مربوط ڈیجیٹل ونڈو کے ذریعے فراہم کی جائے گی اور یہ سہولت مالی سال کے اختتام تک شروع ہو جائے گی۔
  • خوراک، ادویات، پودے، جانور اور جنگلی حیات کی مصنوعات کی کلیئرنس کے عمل کو، جو تقریباً 70 فیصد روکی گئی کارگو پر مشتمل ہے، اپریل 2026 تک اس نظام پر مکمل فعال کر دیا جائے گا۔
  • وہ اشیاء جن کے لیے کوئی اضافی تقاضے نہیں ہیں، ان کی کلیئرنس درآمد کنندہ کے آن لائن رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی فوری طور پر کسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔
  • کسٹم انٹیگریٹڈ سسٹم (سی آئی ایس) اگلے دو سالوں میں تمام کسٹم عمل کے لیے ایک یکجا، مربوط اور قابل توسیع پلیٹ فارم کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔
  • نان-انٹروزیو اسکیننگ کے ذریعے جدید امیجنگ اور اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال خطرے کے اندازے کے لیے بڑھایا جائے گا، جس کا مقصد تمام بڑے بندرگاہوں پر ہر کنٹینر کی اسکیننگ کرنا ہے اور یہ مرحلہ وار کیا جائے گا۔

نئے برآمدی مواقع:

  • بھارتی ماہی گیر کشتیوں کے ذریعے ایکسکلوسیو اکنامک زون (ای ای زیڈ) یا ہائی سیز میں پکڑی گئی مچھلی بغیر ڈیوٹی برآمد کی جا سکے گی۔ اگر یہ مچھلی غیر ملکی بندرگاہ پر اتاری جائے تو اسے مال کی برآمد کے طور پر شمار کیا جائے گا۔
  • موجودہ 10 لاکھ روپے کی حد کو ہر کوریئر کنسائنمنٹ پر مکمل طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ اس سے چھوٹے کاروبار، دستکار اور اسٹارٹ اپس کو عالمی مارکیٹ تک ای کامرس کے ذریعے رسائی میں آسانی ہوگی۔

زندگی کو آسان بنانے والے اقدامات:

  • بین الاقوامی سفر کے دوران بیگیج کلیئرنس کے ضابطوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔ نئے ضابطے موجودہ دور کے سفری حقائق کے مطابق ڈیوٹی فری الاؤنس بڑھائیں گے۔
  • وہ مخلص ٹیکس دہندگان جو اپنے تنازعات حل کرنا چاہتے ہیں، جرمانے کی بجائے اضافی رقم ادا کرکے اپنے کیسز بند کرسکیں گے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ م م ۔ م ر

UR-UB-25

                          


(रिलीज़ आईडी: 2221722) आगंतुक पटल : 18
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Malayalam , English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Assamese , Punjabi , Gujarati , Kannada